🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

naziya Parveen
07 Jun 2026
۱۔تمہید:
انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر عدل، محبت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا امین بنایا گیا تھا۔ لیکن افسوس! وقت کی دھول نے انسان کی بصیرت کو دھندلا دیا اور معاشرے میں ایسی جاہلانہ رسومات نے جڑ پکڑ لی جنہوں نے شرافت اور انسانیت کا جنازہ نکال دیا۔ انھی مہلک اور روح فرسا رسومات میں سے ایک "جہیز" کی رسم ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے رگ و پے میں سرائیت کر چکا یہ وہ خطرناک ناسور ہے جس نے غریب اور متوسط خاندانوں کا چین، سکون اور عزتِ نفس مٹی میں ملا کر رکھ دی ہے۔

بیٹی—جو کائنات کی سب سے خوبصورت رحمت، گھر کی برکت اور آنکھوں کا نور ہوتی ہے—اس ظالمانہ اور سفاکانہ رسم کی وجہ سے والدین کے لیے ایک سنگین اور ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ بن کر رہ گئی ہے۔ جب ایک سفید پوش باپ اپنی لختِ جگر کے روشن مستقبل کے لیے دن رات اپنا خون پسینہ بہاتا ہے اور پھر بھی معاشرے کے مادی ترازو پر پورا نہیں اتر پاتا، تو بیٹی کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔
ایسے میں میرے دلی جذبات میری شاعری کے اس شعر کی شکل میں قلمبند ہوتے ہیں:
سرِ بازار کھلتا ہے جب اس کی سفید پوشی کا بھرم
تو بیٹی باپ کے کاندھے پہ رو کر کہتی ہے
بابا، مجھے بوڑھا کر دیا تمہاری غربتوں نے!
۲۔جہیز کیا ہے؟
عربی زبان کے قواعد کی رو سے لفظ جہیز "تجہیز" سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی "سفر کا ضروری سامان مہیا کرنے" کے ہیں۔ اصطلاحی مفہوم میں، جہیز سے مراد وہ سامان، نقدی، زیورات اور ملبوسات ہیں جو لڑکی کے والدین شادی کے نازک موقع پر اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت دیتے ہیں۔ اگر یہ سامان والدین اپنی دلی خوشی، مالی استطاعت اور بغیر کسی بیرونی دباؤ یا نمود و نمائش کے، بیٹی کو بطورِ ہدیہ دیں تو یہ ایک فطری اور جذباتی امر ہے۔ لیکن جب یہی عمل ایک سماجی مجبوری، قانونی یا روایتی تقاضا اور دکھاوے کی شکل اختیار کر لے، تو یہ ہدیہ نہیں رہتا بلکہ ایک بدترین سماجی لعنت اور معاشی بھتہ بن جاتا ہے٬جو غریب کی غیرت کا سودا کرتا ہے۔
۳۔جہیز کی اسلامی اور شرعی حیثیت: قرآن و حدیث کی روشنی میں
اسلام وہ آفاقی اور پاکیزہ دین ہے جس نے عورت کو کفر و جہالت کے اندھیروں سے نکال کر عزت، تحفظ اور معاشی خودمختاری کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا۔ اسلام نے نکاح کو ایک مقدس سماجی معاہدہ اور عبادت قرار دیا ہے٬ جسے انتہائی آسان، سادہ اور کم خرچ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ معاشرہ برائیوں سے پاک رہ سکے۔
٭ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً"(ترجمہ: "سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم بوجھ یعنی اخراجات ہوں اور وہ آسان ہو۔") (مسند احمد)
٭ قرآنِ مجید نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں مرد کو عورت کا نگران اور معاشی کفیل مقرر کیا ہے۔ سورہ النساء میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"الرِّجَالُ قوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ"(ترجمہ: "مرد عورتوں پر نگران (قوام) ہیں اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر دی ہے اور اس وجہ سے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔") (سورہ النساء: 34)
جب خالقِ کائنات نے زندگی کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی بھاری ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ڈالی ہے، تو پھر لڑکی والوں سے گھر بسانے کے لیے فرنیچر، الیکٹرانکس کا سامان اور پرتعیش گاڑیاں مانگنا شریعت کی روح ٬اسلامی تعلیمات اور مرد کی ذمہ داری کے تصور کے منافی عمل ہے۔
٭ اسلام نے لڑکی کے معاشی تحفظ اور اس کی قدر و منزلت بڑھانے کے لیے "مہر" کا قانون مقرر کیا ہے، جو لڑکا اپنی حیثیت کے مطابق لڑکی کو تحفے کے طور پر ادا کرتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے:"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"(ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو۔") (سورہ النساء: 4)
افسوس صد افسوس! موجودہ معاشرے نے اللہ کے اس حکم کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ مرد کو مہر دینا چاہیے تھا لیکن یہاں الٹا مرد کے گھر والے لڑکی والوں سے جہیز کی شکل میں تاوان وصول کر رہے ہوتے ہیں۔
٭شریعت میں تحفہ (ہدیہ) دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ محبت بڑھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تَهَادَوْا تَحَابُّوا" (ترجمہ: "ایک دوسرے کو تحفے دیا کرو اس سے محبت بڑھے گی")۔ لیکن تحفے کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے دیا جائے۔ اگر تحفہ نہ دینے پر طعنے ملنے کا ڈر ہو یا معاشرے میں ناک کٹنے کا خوف ہو تو وہ تحفہ نہیں بلکہ زبردستی چھینا ہوا مال ہے۔ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے: "لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منہ" (ترجمہ: "کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لینا جائز نہیں۔")
٭جہیز کے حق میں اکثر لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو بھی جہیز دیا تھا۔یہ استدلال تاریخی حقائق اور سیرتِ نبوی ﷺ کے تناظر میں مکمل طور پر درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کی شادی کے وقت حضرت علیؓ حضور ﷺ کے ہی زیرِ کفالت تھے اور ان کا اپنا کوئی الگ گھر نہ تھا۔ روایات کے مطابق حضور ﷺ نے اپنے گھر کے ایک فرد (حضرت علیؓ) کی زرہ بیچ کر جو رقم حاصل ہوئی اسی رقم سے ان کے گھر کی ضرورت کا بنیادی سامان (جیسے ایک مشکیزہ، چمڑے کا گدا، دو چکیاں اور مٹی کے برتن) خرید کر دیا۔اس واقعے کو موجودہ دور کے رائج اور مطالباتی جہیز پر منطبق کرنا درست معلوم نہیں ہوتا بلکہ لڑکے کے پیسوں سے دولہا اور دلہن کا گھر بسانے کا انتظام تھا۔ اسے آج کے پرتعیش اور فرمائشی جہیز کا جواز بنانا صریحاً غلط ہے۔
۴۔جہیز ایک معاشرتی ناسور کیوں؟
جب کوئی سوسائٹی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتی ہے اور رشتوں کے تقدس کو مادی ترازو میں تولنے لگتی ہے تو وہ زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتی ہے۔ جہیز کی وجہ سے ہمارے معاشرے کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے۔
؞ سفید پوش خاندانوں کی معاشی اور ذہنی بربادی :
ایک غریب یا متوسط درجے کا ملازم پیشہ باپ اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی، اپنی ہڈیوں کا گودا بیچ کر بیٹی کے جہیز کی نذر کر دیتا ہے۔ اکثر والدین کو اپنے سر چھپانے کے مکان اور زمینیں اونے پونے داموں بیچنی پڑتی ہیں یا سود خوروں سے بھاری قرضے لینے پڑتے ہیں۔ شادی کی شہنائیاں تو خاموش ہو جاتی ہیں لیکن وہ بوڑھا باپ اور اس کا خاندان عمر بھر اس قرض کی دلدل میں سسکتا رہتا ہے۔
؞معصوم خواتین پر ظلم و ستم کا بازار :
شادی کے بعد اگر سسرال والوں کی ہوس کا گھڑا نہ بھرے تو معصوم لڑکی کو طعنوں کے تیروں سے چھلنی کیا جاتا ہے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی ہے۔ اخبارات اور میڈیا ایسی دل دہلا دینے والی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جہاں جہیز کم لانے پر دلہن پر تیزاب پھینک دیا گیا یا اسے زندہ جلا کر "سلنڈر پھٹنے" کا حادثہ قرار دے دیا گیا۔اس روزمرہ کے جہنم سے تنگ آ کر کئی معصوم لڑکیاں موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
؞لاکھوں کلیوں کا مرجھا جانا:
معاشرے میں ایسے ہزاروں گھرانے ہیں جہاں جوان باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لڑکیاں صرف اس لیے گھروں کی چاردیواری میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کہ ان کے مفلس والدین کے پاس دینے کے لیے بھاری بھرکم فرنیچر، سونا اور نقد رقم موجود نہیں ہے۔ یہ لڑکیاں والدین کے گھر پر ایک خاموش ماتم بن کر زندگی گزار رہی ہیں جو کہ پورے معاشرے کی غیرت کے لیے ایک تازیانہ ہے۔
؞رشتوں کا تجارتی سودا:
آج کل شادی دو خاندانوں کا پاکیزہ اور قلبی ملاپ نہیں رہی بلکہ ایک تجارتی سودے میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ لڑکے کی تعلیم اور نوکری کا اشتہار لگایا جاتا ہے اور لڑکی والوں سے اس کی بولی لگوائی جاتی ہے۔سیرت، کردار، حیاء اور تعلیم جیسے سچے موتی پیچھے رہ جاتے ہیں اور فرنیچر کی لکڑی، گاڑی کا ماڈل اور سونے کے تولے دیکھے جاتے ہیں۔ معاشرے کے ان لالچی اور بے حس سوداگروں پر میرا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے:
ترازو لے کے بیٹھے ہیں یہاں رشتوں کے سوداگر
بہو لانی ہے ان کو یا کوئی بازار لانا ہے؟
۵۔اس ناسور کا سدِباب: ہمارا حقیقی کردار:
اس سماجی کینسر کو صرف کاغذی قوانین یا پولیس کے ڈنڈے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنی سوچ کے دھارے کو نہیں بدلے گا یہ لعنت ختم نہیں ہوگی۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔
*نوجوان نسل کا انقلابی عزم :
تبدیلی کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں خاص طور پر لڑکوں کو اپنی غیرت اور خودداری کو بیدار کرنا ہوگا۔ انہیں اپنے والدین کے سامنے ڈٹ جانا ہوگا اور صاف لفظوں میں کہنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا ہمسفر لائیں گے کسی مجبور باپ کا سامان نہیں۔ جب نوجوان لڑکے جہیز لینے سے انکار کر دیں گےتو یہ رسم خود بخود اپنی موت آپ مر جائے گی۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے لختِ جگر کا سودا کرنا بند کریں
* نمائش اور فرسودہ رسومات کا سماجی بائیکاٹ :
ہمیں ایک زندہ معاشرے کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جہاں جہیز کی نمائش کر کے غریبوں کی غربت کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ جب تک ہم ایسی تقاریب کا بائیکاٹ نہیں کریں گےتب تک لوگوں میں نمود و نمائش کا یہ بھوت ختم نہیں ہوگا۔ نکاح کو مسجد میں انتہائی سادگی سے منعقد کرنے کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
*جہیز کے متبادل: شرعی وراثت کا قیام :
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بیٹی کو جہیز کی شکل میں لاکھوں روپے کا فرنیچر اور برتن دے کر وراثت کے شرعی حق سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا جاتا ہےجو کہ صریحاً ظلم اور گناہِ کبیرہ ہے۔ فرنیچر اور الیکٹرانکس کا سامان چند سالوں میں پرانا ہو کر مٹی ہو جاتا ہےجس سے لڑکی کو کوئی مستقل معاشی تحفظ نہیں ملتا۔ اس کے برعکس، والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹی کو اللہ کا حکم مانتے ہوئے جائیداد اور زمین میں اس کا پورا شرعی حصہ دیں تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم اور باوقار زندگی گزار سکے۔
*تعلیم اور ہنر کی شمع جلانا:
جہیز کی مادی اور فانی اشیاء دینے کے بجائے بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم اور بہترین تربیت پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔ تعلیم اور کوئی اچھا ہنر بیٹی کا وہ حقیقی اور لازوال زیور ہے جو زندگی کے کسی بھی کٹھن موڑ پر اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ ایک پڑھی لکھی اور ہنرمند عورت نہ صرف ایک مضبوط ڈھال بن سکتی ہے بلکہ وہ ایک بہترین اور غیور نسل کی آبیاری بھی کر سکتی ہے۔
*علماءِ کرام اور میڈیا کا جہاد:
مساجد کے ائمہ اور خطباء کو اپنے روایتی خطبات سے ہٹ کر اس زندہ موضوع پر آواز اٹھانی ہوگی اورجہیز کے مطالبے، اسراف اور نمود و نمائش کی قباحت کو کھول کر بیان کرنا ہوگا۔ اسی طرح میڈیا، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس ناسور کے خلاف ایک منظم مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں مادی اشیاء کی جگہ انسانی اخلاق کی اہمیت اجاگر ہو سکے۔
۶۔ حاصلِ کلام: ایک فکر انگیز عزمِ نو
قصہ مختصر٬ جہیز ایک ایسا سماجی زہر ہے جو ہماری تہذیب، اقدار اور اسلامی سوسائٹی کے ڈھانچے کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ رسمِ بد اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہم محض لفظی تسلیوں اور نعروں کی دنیا سے نکل کر عملی میدان میں قدم نہیں رکھیں گے۔ ہمیں ایک ایسے پاکیزہ اور مثالی معاشرے کی بنیاد رکھنی ہوگی جہاں کسی انسان کی قدر و قیمت اس کے تقویٰ، سیرت اور اخلاق سے لگائی جائے نہ کہ اس کے لائے ہوئے سامان کی مالیت سے۔اگر ہم نے آج اس آگ کو نہ بجھایاتو ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی جہنم کا ایندھن بنتی رہیں گی۔ ہمیں اپنی شرافت، غیرت اور اسلامی اقدار کا ثبوت دیتے ہوئے اس بوسیدہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم شادی کو ایک پاکیزہ رشتہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک خوبصورت عبادت ہی رہنے دیں گے۔ اسے مادی نفع اور نقصان کا کوئی کاروبار نہیں بننے دیں گے۔ ہماری تحریک اور ہمارے مباحثوں کا حقیقی مقصد یہی ہونا چاہیےجس کا آغاز خود احتسابی اور ذاتی اصلاح سے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زندگی کے کٹھن راستوں پر ہمت، توکل اور صبر کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔اسی اصلاحی عزم کے ساتھ میں اپنے مضمون کا اختتام اپنے اس شعر پر کرتی ہوں:
بدل دو یہ نظامِ کہنہ اب اپنی شرافت سے
شادی کو اک عبادت رہنے دو، اسے کاروبار نہ بناؤ
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.