تمہید:
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ خصوصاً عورت کے حوالے سے اسلام نے وہ عظیم تعلیمات پیش کیں جنہوں نے اسے عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔ جس دور میں عورت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اسلام نے اسے ماں کی صورت میں جنت، بیٹی کی صورت میں رحمت، بہن کی صورت میں محبت اور بیوی کی صورت میں سکونِ قلب قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت کا محافظ اور ذمہ دار بناتے ہوئے فرمایا:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"
(سورۃ النساء: ۳۴)
ترجمہ: "مرد عورتوں کے محافظ اور کفیل ہیں۔۔"
اسی طرح نکاح کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(سورۃ الروم:۲۱)
ترجمہ:
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
(سورۃ الروم:۲۱)
اسلام کی ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح محبت، رحمت، ذمہ داری اور باہمی احترام کا رشتہ ہے۔ مگر افسوس! وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے اس مقدس عبادت کو بے شمار رسم و رواج، فضول اخراجات اور غیر اسلامی توقعات میں الجھا دیا ہے۔ انہی فرسودہ رسومات میں ایک خطرناک رسم "جہیز" بھی ہے، جو آج ایک معاشرتی ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے...
ایک باپ، جس نے اپنی عمرِ عزیز کا حاصل، اپنی محنت و مشقت کی تمام کمائی اور اپنی بے شمار آرزوؤں کا نچوڑ اولاد کی خوشیوں پر نثار کر دیا، آج اپنی بیٹی کی رخصتی کے موقع پر مسرت سے زیادہ اندیشوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر زمانے کی سختیوں کے نقوش نمایاں ہیں اور دل میں یہ اضطراب موجزن ہے کہ کہیں اس کی عمر بھر کی جمع پونجی بھی معاشرے کے بے جا تقاضوں کے سامنے ناکافی نہ ٹھہرے۔ ایک ماں، جس نے برسوں اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈالے رکھا، اپنی ضروریات پر صبر کیا اور خاموشی سے ایک ایک شے جمع کرتی رہی، صرف اس امید پر کہ اس کی بیٹی کو کل کسی تحقیر یا ملامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور ایک بیٹی، جو اپنے والدین کی پریشانیوں، بے بسیوں اور قربانیوں کو دیکھ کر کرب و اضطراب کی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے، رخصتی کے وقت اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو محض جدائی کے نہیں ہوتے بلکہ ان میں والدین کی مشقتوں اور محرومیوں کا درد بھی شامل ہوتا ہے۔
افسوس! جس نکاح کو اسلام نے مودّت، رحمت اور سکون کا سرچشمہ قرار دیا تھا، اسے ہمارے معاشرے نے رسم و رواج، تفاخر، نمود و نمائش اور مادی مفادات کی نذر کر دیا ہے۔ آج بعض اوقات ایک لڑکی کے علم، کردار، دیانت، شرافت اور دینی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر اس کے ساتھ آنے والے سامان کو معیارِ فضیلت بنا لیا جاتا ہے۔ گویا ایک زندہ اور باوقار انسان کی قدر و قیمت چند بے جان اشیاء کے ترازو میں تولی جا رہی ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ مقام و مرتبہ ہے جو اسلام نے عورت کو عطا فرمایا تھا؟ کیا ایک بیٹی کی عظمت و حرمت چند مادی اشیاء کی محتاج ہو سکتی ہے؟
اسلام نے عورت کو عزت و تکریم سے نوازا، اسے حقوق عطا کیے، اس کی عصمت و وقار کی حفاظت کی اور مرد کو اس کا نگہبان اور ذمہ دار قرار دیا۔ مگر افسوس کہ اسلامی تعلیمات سے دوری نے ہمارے معاشرے کو ایسی فرسودہ رسومات کا اسیر بنا دیا ہے جو نہ صرف شریعت کی روح کے منافی ہیں بلکہ انسانی اقدار کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ چنانچہ آج بے شمار والدین قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ہزاروں بیٹیاں جہیز کی لعنت کے باعث سنِ نکاح گزر جانے کے باوجود اپنے گھروں میں بیٹھی ہیں، اور نہ جانے کتنی خواتین شادی کے بعد طعن و تشنیع، ذہنی اذیت اور ناروا سلوک کا شکار بن رہی ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے عورت کی عظمت و رفعت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
جب عورت کائنات کی رونق، معاشرے کی بنیاد اور نسلِ انسانی کی معمار ہے تو پھر یہ کس قدر افسوس ناک حقیقت ہے کہ اسی عورت کی عزت و وقار کو سامانِ جہیز سے وابستہ کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہیز محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے جو والدین کی مسرتوں کو سلب کر رہا ہے، بیٹیوں کے خوابوں کو پامال کر رہا ہے اور معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو دیمک
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ رسم ہمارے معاشرے میں کیوں پروان چڑھی؟
دینی تعلیمات سے دوری:
قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةًؕ-فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓــٴًـا مَّرِیْٓــٴًـا
(سورۃ النساء ۴.۴)
ترجمہ: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوش دلی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے پاکیزہ، خوشگوار (سمجھ کر) کھاؤ۔
اسلام نے مہر کو عورت کا حق قرار دیا، مگر ہم نے مہر کو معمولی اور جہیز کو ضروری سمجھ لیا۔
نمود و نمائش:
شادی کو عبادت کے بجائے حیثیت دکھانے کا ذریعہ بنا دیا گیا۔
معاشرتی دباؤ:
لوگ اپنی استطاعت نہیں بلکہ دوسروں کی نقل کرتے ہیں۔
بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی سوچ
یہ سوچ جہیز کے ناسور کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ جہیز کے نقصانات کیا ہیں؟
(الف) دینی نقصانات:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔"
جہیز نے نکاح کی سادگی کو ختم کر دیا اور رشتوں کو مادیت سے جوڑ دیا۔
(ب) معاشی نقصانات:
ہزاروں والدین قرض لیتے ہیں، زیورات بیچتے ہیں اور برسوں کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔
(ت) سماجی نقصانات:
بہت سی لڑکیوں کی شادیاں صرف اس لیے مؤخر ہو جاتی ہیں کہ والدین مطلوبہ جہیز فراہم نہیں کر سکتے۔
(ث)نفسیاتی نقصانات:
طعن و تشنیع، احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ بے شمار خواتین کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
کیا واقعی جہیز صرف ایک رسم ہے؟
اگر جہیز صرف ایک رسم ہوتی تو اتنے گھر برباد نہ ہوتے۔
قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق ۲۰۲۴ میں بھارت میں جہیز سے متعلق ۱۵,۴۸۹ مقدمات درج ہوئے اور ۶,۱۵۶ سے زائد خواتین جہیز سے جڑے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
چند برس قبل مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک مسلمان خاتون فضیلۃ کی المناک موت نے پورے علاقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ الزام تھا کہ شادی کے بعد اسے مسلسل جہیز کے مطالبات، ذہنی اذیت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ یہ سب کچھ ایک ایسے خاندان میں ہوا جو خود کو مسلمان کہتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام نے عورت کو عزت دی، اس کے حقوق متعین کیے اور مرد کو اس کا محافظ بنایا تو پھر ایک مسلمان کس طرح اپنی ہی بیوی کو سامان اور دولت کی خاطر اذیت پہنچا سکتا ہے؟
حال ہی میں ناگپور میں ایک خاتون نے مبینہ جہیز ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی، جس کے بعد شوہر اور ساس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ جہیز محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی المیہ ہے۔
اسلام جہیز کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟
قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ" (النساء: ۳۴)
یعنی مرد عورتوں کے نگہبان اور ذمہ دار ہیں۔
جب مرد کو کفالت کا ذمہ دار بنایا گیا تو عورت یا اس کے والدین پر مالی بوجھ ڈالنا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
مہر اور جہیز میں فرق:
مہر مرد کی ذمہ داری ہے جبکہ جہیز عورت یا اس کے والدین پر ڈالا جانے والا بوجھ بن چکا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی
رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی اور تکلفات سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
علامہ اقبالؒ نے ضرب کلیم میں کیا خوب بیان کیا ہے ۔
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد
اقبال کے نزدیک عورت عزت، احترام اور تحفظ کی مستحق ہے، نہ کہ سامانِ جہیز کے ترازو میں تولے جانے کی۔
اگر اسلام جہیز کا حکم نہیں دیتا تو پھر ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
نوجوانوں کا کردار:
جہیز نہ لینے کا عہد کریں۔ ایک صحیح سوچ آنے والی نسلیں بچا سکتی۔ شریک حیات پسند کرتے وقت بجائے مالی حیثیت کے اخلاق،کردار ،دینداری کو ترجیح دیں ۔
والدین کا کردار:
بیٹیوں کو تعلیم، تربیت اور اعتماد دیں۔ بیٹوں کو قرآن کی تعلیم ،عورت کے حقوق ،عورت کی عزت ،وقار سکھائے،مہر کے تعلق سمجھائے ۔
- *اس قوم کی جہالت کیسے ختم ہوگی؛ جو اپنی اولاد کی تعلیم سے زیادہ اُس کی شادی پر خرچ کرنا فخر سمجھتی ہے۔
علماء کا کردار:
منبروں سے اس ناسور کے خلاف آواز بلند کریں۔
میڈیا کا کردار:
میڈیا معاشرے کی سوچ تشکیل دینے میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا فضول رسم و رواج، اسراف اور نمود و نمائش کو فروغ دینے کے بجائے سادگی، اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اصلاح کو اجاگر کرے تو جہیز جیسے ناسور کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خصوصاً ادبی، علمی اور اصلاحی پلیٹ فارمز اس حوالے سے قابلِ تحسین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر "صدائے قلم" جیسے ادبی و فکری پلیٹ فارمز مضامین، تحریری مقابلوں اور اصلاحی مہمات کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور بیدار کر رہے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز نہ صرف قلم کی طاقت سے معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کی طرف بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ بلاشبہ ایک بیدار قلم اور مثبت میڈیا معاشرے میں فکری انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس ناسور کے خاتمے کے لیے عملی حل
جہیز نہ لینے اور نہ دینے کا عہد۔
سادہ شادیوں کا فروغ۔
مہر کو آسان نہ سمجھنا بلکہ اس کی اہمیت اجاگر کرنا۔
تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات۔
معاشرتی دباؤ کے خلاف اجتماعی شعور۔
بیٹیوں کی تعلیم اور معاشی خودمختاری پر توجہ۔
جہیز کے مطالبے کو سماجی برائی سمجھنا۔
اختتامیہ:
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ بیٹی سامان کا صندوق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ رحمت ہے۔ جس دن کسی باپ کو بیٹی کی پیدائش پر جہیز کے اخراجات نہیں بلکہ اس کی تعلیم و تربیت کی فکر ہوگی، جس دن کسی نوجوان کو سامان نہیں بلکہ نیک سیرت شریکِ حیات درکار ہوگی، اور جس دن معاشرہ دولت کے بجائے کردار کو معیارِ فضیلت بنائے گا، اسی دن جہیز کا ناسور دم توڑنا شروع کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق سادہ نکاح کو فروغ دینے، جہیز جیسی لعنت سے معاشرے کو پاک کرنے اور اپنی بیٹیوں کو عزت، تحفظ اور وقار دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔