🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

محمد احمد اسلمی
09 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
حامدا ومصليا ومسلما اما بعد! فقد قال النبي صلى الله عليه وسلم  "أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
کل آگن میں ایک لاڈلی جل رہی تھی
ابھی جس کے ہاتھوں پہ مہندی رچی تھی
خطاؤں میں خطا اس کی یہی تھی
جہیز کی فہرست میں ابھی کچھ کمی تھی

شادی کی مروجہ رسمیں اور ان کے مفاسد
--------------------
دین اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دوسرے تمام ادیان کے مقابلے میں نہایت سہل اور آسان ہے اور ہر معاملے میں وہ سہولت ، میانہ روی اور سادگی کو پسند کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إن الدِّين َيُسرٌ. (بخاري:٣٩) بے شک دین اسلام بہت آسان ہے۔
اور ایک حدیث میں ہے: إني بُعِثْتُ بالحنِيْفِيَّةِ السَّمْحَةِ.(مسند احمد) کہ میں ایسا دین و شریعت دے کر بھیجا گیا ہوں جو بالکل سیدھی ہے اور جس کی بنیاد سہولت اور آسانی پر رکھی گئی ہے۔
لیکن آج کے دور میں غیر شرعی رسوم مختلف قسم کے مطالبات اور حد سے زیادہ تکلفات کے انتظام میں نکاح کو انتہائی مشکل ؛ بلکہ عذاب بنا دیا ہے جس سے غریب تو غریب مالداروں کی زندگیاں بھی تلخ ہو چکی ہیں ۔
ان رسوم کی بدولت ایک طرف معاشرے کا فساد بہت بڑھ رہا ہے اور شہوت رانی کے غلط طور طریق عام ہو رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی املاک تباہ ہو رہی ہیں، کتنوں کا تو دیوالا ہی نکل جاتا ہے ۔اگر یہ رسم موقوف ہو جائیں تو سالانہ کروڑوں بلکہ اربوں روپے بیکار ضائع ہونے سے بچ جائیں ہزاروں آدمیوں کو سود کی لعنت سے نجات مل جائے اور سینکڑوں آدمیوں کی جائیدادیں نیلام اور گروی ہونے سے بچ جائیں اور ہزاروں غیر مسلم اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ؛کیونکہ تلک اور جہیز جیسی رسوم سے تنگ آکر ہر سال سینکڑوں دلہن خودکشی کر لیتی ہیں ۔
افسوس آج دور جاہلیت پھر لوٹ آیا
اسلام نے اپنے ظہور و آغاز کے ساتھ ہی عورتوں پر اس طرح کے مظالم کا سد باب کیا یہاں تک کہ اس رسم بد کا بالکلیہ خاتمہ اور صفایہ کر دیا اور لڑکیوں کو راحت کی زندگی اور عزت کا مقام عطا کیا لیکن افسوس ہماری شامت اعمال کے نتیجے میں آج وہ دور دوبارہ لوٹ آیا، اسلام سے پہلے جو حالت عرب کے کفار و مشرکین کی تھی اس کے قریب قریب آج کی حالت ہو گئی ہے اس وقت اس طرح کے افعال وہ لوگ کرتے تھے جو کفار اور مشرک ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن سے کوسوں و دور اور جہالت و گمراہی کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور اب یہ حرکات ایسے لوگ بھی کرتے ہیں جو پڑھے لکھے مہذب اور مسلمان کہلاتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بچہ پیدا ہونے کے بعد یہ مظالم ہوتے تھے جس سے اوروں کو بھی پتہ چل جاتا تھا اور اب حمل کے زمانے ہی میں سب کچھ ہو جاتا ہے اس لیے کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔
اور یہ سب محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ لڑکی ہوگی تو اس کی شادی کی فکر ہوگی، آج کل کی شادی دراصل خانہ بربادی ہے لڑکی کے لیے لڑکے کا انتخاب اور اس کا خود ساختہ معیار، پھر لڑکی کے جہیز کی فکر، خاندان اور برادری کے افراد کی خوشامد اور ان کی دعوت کا اہتمام، نیز رسم و رواج کی حد سے زیادہ پابندی اور اس میں پانی کی طرح روپیہ پیسہ بہانا آج کل کی شادیوں کے لوازمات میں سے ہو گیا ہے جس سے غریب تو غریب مالدار لوگوں کی زندگی بھی تلخ ہو چکی ہے اور وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ شادی سے متعلق اسلام نے جو ہم کو ہدایات دی تھیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جو نمونہ پیش فرمایا تھا اور صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم کا جو طرز عمل تھا افسوس کہ ہم ان سب کو بھول گئے، شادی وغیرہ کے موقع پر کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ شریعت کے مطابق شادی کرنے کا کیا طریقہ ہے اور اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا کیا دستور العمل رہا ہے؟

جہیز کی حقیقت
جہیز سے مراد وہ سامان ہے جو لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر دیتے ہیں۔ اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق بیٹی کو کچھ دینا چاہیں تو اس کی اجازت ہے، لیکن جب اسے معاشرتی دباؤ، رسم یا لڑکے والوں کا حق سمجھ لیا جائے تو یہ ایک ناجائز اور قابلِ مذمت عمل بن جاتا ہے۔
قرآن مجید میں نکاح کے موقع پر مرد کو عورت کا مہر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ عورت یا اس کے والدین سے مال و سامان لینے کا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً(سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مالی ذمہ داری مرد پر رکھی گئی ہے، جبکہ جہیز کا مطالبہ اس اسلامی اصول کے بالکل برعکس ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
(مسند احمد، حدیث:۲۴۴۱۰)
ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔"
لہذا معلوم ہوا کہ نکاح کا معیار دین اور اخلاق ہے، نہ کہ جہیز اور دنیاوی مال و دولت۔

جہیز کے نقصانات
اسی طرح ان رسموں میں جو مفاسد پائے جاتے ہیں اور جن گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہے یا جان بوجھ کر ان کو کیا جاتا ہے وہ بھی بے شمار ہیں، جن میں سے چند موٹے موٹے گناہ درج ذیل ہیں:
(۱) اسراف اور فضول خرچی؛ یعنی مال کو بے فائدہ اڑانا ۔ آج کل شادی بیاہ کے موقع پر اس کے وہ مناظر سامنے آتے ہیں جن کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ (۲) نام و نمودار فخر و مباہات ۔ (۳) بے اصل اور غیر شرعی رسومات پر اصرار اور حد سے زیادہ ان کی پابندی (۴) کفار اور ہنود ( ہندوؤں) سے مشابہت اور ان کے طور طریقوں کو اختیار کرنا۔ (۵) شادی کی فضول رسموں کو پورا کرنے کے لیے سودی قرض لینا۔ (۶) انعام کے نام پر یا رواج کی بنیاد پر زبردستی روپیہ وغیرہ حاصل کرنا۔ (۷) بے حیائی اور بے پردگی کا مظاہرہ کرنا۔ (۸) شرکیہ اعمال و عقا ئد اختیار کرنا۔ (۹) نمازوں سے لا پرواہی برتنا یہاں تک کہ ان کو قضا کر دیا یا مکروہ وقت میں ادا کرنا۔ (۱۰) گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا ۔

ہمارا کردار
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایسے حالات میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟
1. نکاح کو سادہ اور سنت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔
2. جہیز کے مطالبے سے مکمل اجتناب کریں۔
3. اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ جہیز کو حق نہ سمجھیں۔
4. علماء، ائمہ اور سماجی رہنما اس برائی کے خلاف عوام میں شعور بیدار کریں۔
5. ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو بغیر جہیز کے نکاح کرتے ہیں۔
6. معاشرے میں سادگی اور تقویٰ کو عزت کا معیار بنایا جائے۔


ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے
اللہ تعالی جملہ مسلمانوں کو توفیق و ہمت عطا فرمائے اور اس کو ہمارے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔  آمین
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.