🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Ahmed Fazil
09 Jun 2026
جہیز ایک لعنت ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ اس کا سدِباب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے......جہیز جیسی رسم نے بالکل ایسے جڑیں پکڑیں ہیں جیسے آکاس بیل کسی بھی پودے پر چھا جاتی ہے اور ہمارے معاشرے کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے وہ علماء کرام جو سودی نظام ، اسلامی معاشرت کے نفاذ اور توہین مذہب جیسی باتوں پر سڑکیں بند کر دیتے ہیں کیوں آج تک اسلامی معاشرے کے منافی اس رسم کے خلاف جمع نہیں ہوئے؟ کیوں لوگوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ شادی ایک بندھن ہے تجارت نہیں؟ بدقسمتی سے ان منبروں سے صرف ایسی صدائیں بلند ہوئی کہ شادی پر بے دریغ خرچ مت کریں، ناچ گانا گناہ ہے مگر غریب آدمی کی بیٹیاں جہیز نا ہونے پر بن بیاہی گھر بیٹھی رہتی ہیں..تب یہ خاموش رہتے ہیں۔۔۔۔۔

آج کے دور میں جہیز ایک متنازع رسم ہے، جسے بعض حلقے ظالمانہ اور غیر منصفانہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ غریب والدین کے لیے مشکل بن چکی ہے۔ پنجاب میں ایک کہاوت ہے کہ ''ماں باپ کا گھر بکے تو بیٹی کا گھر بسے۔‘‘ بس یہ کہاوت والدین کی غفلت زار کی بہترین عکاس ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسی رسموں کو حاصل حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے، علماء کی خاموشی اور میڈیا انڈسٹری کی جانب سے اشتہارات اس معاشرتی بگاڑ میں مزید بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسلام میں جبری جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لڑکی والوں سے سامان یا نقد رقم کا مطالبہ کرنا یا اس کے بغیر رشتہ نہ دینا حرام اور رشوت کے مترادف ہے۔ شریعت میں اس عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے جو معاشرے میں بگاڑ اور ظلم کا سبب بنتا ہے۔۔۔۔شریعت کی رو سے نکاح کے موقع پر لڑکے یا اس کے گھر والوں کا نقد روپیہ، موٹر سائیکل، گاڑی یا دیگر سامان کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔ ایسی وصولی رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرماتا ہے۔"
سسرالیوں نے نئی نویلی دلہن کو جہیز کے لیے جلا کر مار ڈالا۔جہیز میں گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے دولھے نےکیا نکاح سے انکار۔اس طرح کے ہیڈ لائنز ہم ہر روز ٹی وی پراور اخبار میںپڑھتے اور سنتے آرہے ہیں۔ ہم 5جی کے دور میں جینے والے لوگ ہیں ۔ چیزوں کی تمیز رکھتے ہیں، این آر سی کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں ۔ ہمیں پتہ ہے کہ جہیز ہمارے سماج کا ناسور ہے،پھر اس کےلیے کوئی سخت قدم کیوں نہیں اٹھایاجاتا ؟؟؟
ہمارا پڑھا لکھا سماج تو یہ دلیل دیتا ہے کہ ہماری حیثیت تھی ،اس لیے ہم نے بیٹی کو اتنا کچھ دیا، لیکن یہ ان کی کم ظرفی ہے ،یہ ان غریب بچیوں کا نہیں سوچتے، جنھیں رات دن طعنہ زنی میں جینا ہوتا ہے ۔یہ ماڈرن طبقہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس دقیانوسی رواج کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ’’ ہم دولھن سے پہلے ہی سامان اس کے سسرال میں سیٹ کردیتےہیں ۔‘‘
اسی کو وہ لوگ اپنی حیثیت کے ترازو میں تولتے ہیں ، لیکن دوسری طرف ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی خوشی کے لیے اپنی عمر بھر کی کمائی لگادیتا ہے ،اور نت نئے چونچلوں کو پورا کرنے کےلیےجو قرض لیتا ہے ، اس کوچکانے میں اس کی بچی کھچی زندگی صرف ہو جاتی ہے ۔کئی لڑکیاں ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہیں ،کئی جان بحق ہوجاتی ہیں،اس کا اثر میری پر بھی ہوتاہے ، وہ اپنی ازدواجی زندگی میں سکون نہیں پاتے، وہ بھی کہیں نہ کہیں اس کرب سے گزرتے ہیں ،صحیح اور غلط کے درمیان لٹک کر رہ جاتے ہیں ۔
حضرت میر تقی میرؔ کا یہ قصہ مشہور ہے کہ جب ان کی بیٹی کی شادی ہوئی تو انھوں نے اپنا سب کچھ بیچ کر جہیز اکٹھا کیا ،اور خود فٹ پاتھ پر رہنے لگے۔ یہ بات جب ان کی بیٹی کو پتہ چلی تو اسے گہرا صدمہ لگا اور انتقال کر گئی ۔تب میرؔ صاحب کےمنہ سے جو الفاظ نکلے وہ یوں تھے:

اب آیا خیال اے آرام جاں اس نا مرادی میں
کفن دینا ہی بھول گئے ہم اسباب شادی میں

یہ ان کا آخری شعر مانا جاتا ہے ۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جہیز کی لعنت اچھے اچھوں کو لے ڈوبی ہے،بڑے غضبناک قصے ہیں ۔
کچھ پڑھے لکھے جاہل تو نبی پاک ﷺ کا حیلہ لگواتے ہیں کہ ہمارے نبی نے بھی بی بی فاطمہ ؓکو جہیز دیا تھا ، جو آدھا سچ لیے بیٹھے ہیں ، جنھیں یہ نہیں پتہ کہ آپﷺ نے حضرت علیؓ سے ہی رقم لے کر اسباب ضرورت خریدا تھا۔
دراصل ہم نے اپنادین سیکھنا ہی ضروری نہیں سمجھا ، ہم نے واہیات فلمیں اور ڈراموں کو دیکھ کر اپنی زندگیوں کو ان ہی کی طرح بے ڈھنگ بنا دیا۔۔۔۔۔اسی ناسورنے جب مزید برا رخ اختیار کیا توتقریبا ًدو ڈھائی سال قبل عائشہ نے عارف کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی اور تقريبا ًدوماہ قبل اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک لخت جگر وحشت و درندگی کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلی گئی۔
یہ قصے ابھی خیالوں میں زندہ اور لبوں پر متحرک تھے کہ 2022 ءکے اختتام پر 31 دسمبر کو ایک پرسوز اور دردناک واقعہ پیش آیا، جب ایک نوشین نامی شہزادی درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے ۔ سوا سال قبل یہ دوشیزہ مہاراشٹرکے بھیونڈی میں اپنی زندگی کا سفر طے کرتے ہوئے 5 اگست 2021 ءکو ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بمہور میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے، اور اپنے پیدائشی گھر کو خیر باد کہہ کر ایک نئے ہم سفر کی ہم رکاب بن کر زندگی کے سنہرے خواب سجاتی ہے۔ مگر کسے معلوم تھا کہ سنہری زندگی کا یہ خواب کبھی شرمندہ ٔتعبیر نہیں ہو سکے گا اور یہ شہزادی محض خواب دیکھتے دیکھتے اس درندہ صفت بھیڑیے کا شکار ہو جائے گی، جس نے مکاری کا خول چڑھا کرخود کو ایک مخلص شوہر ثابت کرنے کی کوشش کی ۔

متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے والدین سوا سال قبل جہیز کا سامان تیار کرکے اپنی عزیز متاع حیات کو غیروں میں سونپنے کے بعد سکون کی سانس تلاش کرتے ہیں، اور ابھی وہ وقت آتا بھی نہیں کہ پے در پے قیمتی گاڑی اور گھر کے مطالبات سامنے آنےلگتے ہیں ،جس پر دلبرداشتہ ہوکر وہ رحمت کی گڑیا شدید ردعمل کا اظہار کرتی ہے اور بالآخر وحشی درندوں کی درندگی کا شکار ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔ بالخصوص! جہیز کے ان حریصوں کو جو مانگ کر جہیز لینے سے باز نہیں آتے وہ روز محشر کے اس ہولناک، کرب انگیز اور قبر کی تباہ کن ظلمت و تاریکی کا فکری جائزہ لیں جس دن یہی جبرا اور قہرا لیا گیا جہیز ان کے لئے باعثِ ذلت ورسوائی اور گناہ عظیم کا سبب بنے گا-
اب ایسے ماحول میں ائمۂ مساجد، خطباء جمعہ اور تحریکی انجمنوں کے سربراہان کی ذمہ داری مزید دو چند ہوجاتی ہے کہ وہ جہیز کی قباحت، عورتوں کے حق میراث، حقوق العباد، بالخصوص بہوؤں کے حقوق جیسےموضوعات کو اپنے منبروں کی آواز بنائیں ۔ یہی نہیں بلکہ اصلاح معاشرہ کی مہم شروع کرکے گھر گھر جہیز کی قباحت، نیز شادی کے بعد بہوؤں کے حقوق سے متعارف کروائیں اور ان پر یہ واضح کریں کہ شادی کے بعد ایک لڑکی کا مکمل خرچ شوہر اور اس کے گھر والوں کے ذمہ ہوتا ہے۔ لہذا، جہیز کا مطالبہ سرا سر ناجائز ہے،اور اگر کوئی باپ یا بھائی محض اپنی بیٹی یا بہن کی سہولت کے پیش نظر کچھ اثاثہ اپنی بیٹی یا بہن کو بطور ہدیہ دیتاہے تو اس کی گنجائش ہے، مگر جہیز کا مطالبہ کسی بھی طور پر جائز نہیں۔
ائمہ ٔمساجد اور سربراہان ملت اس بات کو اس فتوی کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کوشش کریں کہ حج کے ایام میں جس طرح جان کو محترم قرار دیتے ہوئے رمی جمرات کی صبح سے شام تک کی تقیید ختم کرکے چوبیس گھنٹے کے لیے رمی کی اجازت عام کر دی گئی، نیز جمرات کی تین منزلہ توسیعی عمارت کی بنیاد ڈالی گئی تاکہ انسانی جانوں کا تقدس پامال نہ ہوسکے؛اسی طرح وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ائمۂ وقت اس فتوے کو عام کریں کہ جہیز کا لین دین جائز ہی نہیں کیونکہ جب گنجائش کی بات کی جاتی ہے تو امیر ترین طبقہ اپنی بیٹی کو قیمتی جہیز دے کر معاشرے میں جہیز کی راہ کھولتا ہے ،اور جہیز کے لالچی کتے اسے اپنا حق سمجھنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے ،اور عدم ادائیگی کی صورت میں ایک غریب مگر اپنے باپ کی شہزادی بیٹی اپنی زندگی سے محروم ہوجاتی ہے۔
قائدین ملت اور ائمۂ مساجد ’’ المسلم من سلم المسلمون من یدہ و لسانہ ‘‘ کی سچی تشریح امت کے سامنے پیش کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور یہ اجاگر کرنے کی کوشش کریں کہ وہ بہو جسے وہ اپنی نوکرانی سے بھی بدتر گمان کرتے ہیں ،وہ اپنے والدین کی شہزادی ہے، جسےانھوں نے محض فرمان خدا اور سنت نبوی پر لبیک کہتے ہوئے خود سے جدا کیاہے۔
ائمۂ مساجد’’ الرجال قوامون علی النساء‘‘ کی تفسیر میں ’’بما فضل اللہ بعضھم علی بعض‘‘ کے ساتھ’’ و بما انفقوا من اموالھم ‘‘ کی وضاحت پرزور انداز میں کریں اورحدیث ’’کلکم مسؤول عن رعیتہ‘‘ کے تناظر میں یہ باور کرائیں کہ شوہر اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہے، اور شوہر کی معاشی حالت بہتر نہ ہونے کی صورت میں شوہر کے والدین اس کے ذمہ دار ہیں ، نہ کہ لڑکی کے والدین۔
شوہر کے ذمہ بیوی کے حقوق سے متعلق فرمان باری تعالیٰ ہے:
لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اتٰـہُ اللّٰہُ (الطلاق: 7)
(خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔)
نیز فرمایا:
عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ (البقرہ:236 )
(خوش حال آدمی اپنی قدرت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی قدرت کے مطابق (عورت کو کچھ دے)۔)
اور حجة الوداع کے موقع پر عورتوں کے حقوق سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک کی توضیح عوام الناس کے سامنے پیش کریں:
وَ لَھُنَّ عَلَیْکُمْ رِزقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (ابوداو‘د: 1905)
(عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم معروف طریقے کے مطابق ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کرو۔)
خطباء دین ’’و عاشروھن بالمعروف ‘‘کی سچی تصویر سیرت نبوی اور حیات صحابہ کے آئینے میں پیش کرنے کی کوشش کریں۔
علاوہ ازیں
’’ للرجال مما ترک الوالدان و الأقربون و للنساء مما ترک الوالدان والاقربون‘‘
کی روشنی میں عورتوں کے حق میراث کی تاکید کریں تاکہ خواتین اپنے حق سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو پر سکون طریقے سے گزارنے کی متحمل ہوسکیں۔
ائمۂ مساجد مندرجہ بالا آیات و حدیث کی روشنی میں شوہر کے ذمہ بیوی کے حقوق سے متعارف کروائیں، تاکہ سماج سے اس کھوکھلی سوچ کا خاتمہ ہوسکے، جہاں سسرال والے یہ سوچتے ہیں کہ ماں باپ نے اپنی بیٹی کو قیمتی جہیز نہ دے کر اپنی بیٹی نیز سسرال والوں کی حق تلفی کی، اور اپنی اسی اندھی سوچ کے مطابق وہ بہو کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں یا پھر زدو کوب کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔


ایک رسم ہے جو کھائے ہوئے سماج کو
جس نے بدل دیا ہمارے مزاج کو
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.