🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

محمد معصوم ارریاوی
07 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

"بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، مگر بعض اوقات معاشرے کی ظالمانہ رسمیں اسے بوجھ بنا دیتی ہیں۔"
انسانی معاشرہ اخلاق، محبت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ جب عدل، رحم دلی اور انسانیت کو فروغ دیا جائے تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن جب خود ساختہ رسم و رواج کو دین اور اخلاق پر فوقیت حاصل ہو جائے تو وہی معاشرہ ظلم، ناانصافی اور بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رائج رسمِ جہیز بھی ایک ایسا ہی ناسور ہے، جس نے نکاح جیسی مقدس سنت کو مشکل، مہنگا اور بوجھل بنا دیا ہے۔
آج ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے برسوں محنت کرتا ہے، قرض لیتا ہے، اپنی جمع پونجی اور کبھی اپنی زمین تک فروخت کر دیتا ہے، صرف اس لیے کہ معاشرہ اسے باعزت سمجھے۔ راقم نے اپنے اطراف میں ایسے کئی والدین کو دیکھا ہے جو جہیز کی فکر میں وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ ان کی بے بسی دیکھ کر دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ایک اسلامی معاشرے میں نکاح کو اتنا دشوار کیوں بنا دیا گیا ہے؟
اسلام کا تصورِ نکاح
اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت اور سکونِ قلب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾ (سورۃ النور: 32)
ترجمہ: "تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو۔"
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾ (سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔"
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلام نے مرد کو مہر ادا کرنے کا پابند بنایا، لیکن کہیں بھی عورت یا اس کے والدین پر جہیز کا بوجھ نہیں ڈالا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً»
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ ہو۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سادگی، قناعت اور تقویٰ کا حسین نمونہ تھا۔ بعض روایات میں چند گھریلو ضروریات کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن وہ نہ کسی لازمی مطالبے کا نتیجہ تھیں اور نہ ہی کوئی سماجی جبر؛ بلکہ ایک باپ کی محبت اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کا اظہار تھا۔
جہیز: ایک خطرناک معاشرتی ناسور
جہیز صرف چند اشیاء کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی ذہنیت کا نام ہے جس نے رشتوں کو تجارت میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج بعض لوگ لڑکے کی تعلیم، ملازمت اور معاشی حیثیت کے مطابق جہیز کی قیمت متعین کرتے ہیں۔ گویا انسان کی قدر اس کے اخلاق، کردار اور دینداری سے نہیں بلکہ اس کے بدلے ملنے والے سامان سے کی جا رہی ہے۔
اس رسم کے نتیجے میں:
غریب والدین قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
بے شمار بچیاں صرف مالی مجبوری کی وجہ سے شادی سے محروم رہ جاتی ہیں۔
کم جہیز لانے والی بہوؤں کو طعنوں اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فضول خرچی، نمود و نمائش اور معاشرتی تفاخر کو فروغ ملتا ہے۔
نکاح، جو رحمت اور عبادت تھا، ایک معاشی بوجھ بن جاتا ہے۔
خصوصاً ہمارے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ مسئلہ ایک سنگین سماجی المیہ بن چکا ہے، جہاں ایک غریب مزدور اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی صرف ایک شادی پر خرچ کر دیتا ہے۔
جہیز کا تاریخی پس منظر
قدیم ہندوستانی معاشرے میں بعض اوقات والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق بیٹی کو چند ضروری اشیاء دے دیا کرتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ محبت کا تحفہ ایک لازمی مطالبے میں تبدیل ہو گیا۔ لالچ، تفاخر اور سماجی دباؤ نے اس رسم کو ایک ظالمانہ روایت بنا دیا، حالانکہ اسلام نے تقویٰ، حسنِ اخلاق اور دینداری کو رشتہ داری کا اصل معیار قرار دیا ہے۔
ہمارا کردار
کسی بھی سماجی برائی کے خاتمے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہوتے، بلکہ افراد کی سوچ اور کردار میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ اپنی ذات اور اپنے خاندان سے ہوتا ہے۔
سب سے پہلے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شادی میں جہیز لینے سے صاف انکار کریں۔ جو نوجوان یہ اعلان کرتا ہے کہ "مجھے جہیز نہیں چاہیے"، وہ درحقیقت ایک غریب باپ کی عزت اور ایک بیٹی کے مستقبل کی حفاظت کرتا ہے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ دولت اور سامان کے بجائے کردار، دینداری اور حسنِ اخلاق کو ترجیح دیں۔
علمائے کرام، اساتذہ، اہلِ قلم اور سماجی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات، دروس، مضامین اور تقاریر کے ذریعے اس ناسور کے خلاف مسلسل شعور بیدار کریں۔
ہمیں اجتماعی طور پر یہ چار عہد کرنے چاہییں:
1۔ ہم جہیز نہیں لیں گے۔
2۔ ہم جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے۔
3۔ ہم اس رسم کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔
4۔ ہم غریب بچیوں کی سادہ اور باوقار شادی میں حتیٰ المقدور تعاون کریں گے۔
اگر ہر گھر سے یہ آواز بلند ہو جائے کہ "ہمیں جہیز نہیں چاہیے"، تو یقیناً یہ ظالمانہ رسم زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔
نتیجہ
قوموں کی عظمت دولت کے انباروں یا بلند عمارتوں سے نہیں، بلکہ ان کے اخلاق، کردار اور انسان دوستی سے پہچانی جاتی ہے۔ جہیز ایک ایسی سماجی بیماری ہے جو ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے خلاف عملی قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں بھی اسی بوجھ کو اٹھانے پر مجبور ہوں گی۔
آئیے! ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ نکاح کو سنت کے مطابق آسان بنائیں گے، فضول رسومات کا خاتمہ کریں گے اور اپنے معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
بیٹی رحمت ہے، تجارت کا سامان نہیں؛
نکاح عبادت ہے، لین دین کی دکان نہیں۔
اور شاید اسی دن ایک غریب باپ کے چہرے پر حقیقی مسکراہٹ لوٹ آئے گی، جب کوئی نوجوان فخر سے یہ کہے گا:
"مجھے جہیز نہیں، ایک بااخلاق، دیندار اور نیک سیرت شریکِ حیات چاہیے۔"
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.