🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

پروازِ قلم
08 Jun 2026
پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ اکی اس دنیا میں بعثت کا مقصد جہاں مخلوق کو اس کے خالق سے جوڑنا تھا ، وہیں یہ بھی تھا کہ انسان نے اپنے آپ پر خود ساختہ رسم و رواج کا جو بوجھ رکھ لیا ہے، اس کو اس سے آزاد کیا جائے : ’’ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمُ‘‘( الاعراف : ۱۵۷) چناچہ اسلام سے پہلے لوگوں نے بہ طور خود جو مشکل قوانین اپنے آپ پر مسلط کر لئے تھے، قرآن نے ان کو دور فرمایا، اور ایسے احکام دیئے جو انسانی مصلحت سے ہم آہنگ بھی ہیں اور ان کے لئے قابل برداشت بھی، اسی لئے قرآن نے بہ طور اُصول یہ بات کہہ دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو اس کی قوت اور گنجائش کے لحاظ سے ہی احکام کامکلف بناتے ہیں : ’’ لَا یُکَلِّفَ اﷲُ نَفْسٰا اِلَّا وُسْعَھَا‘‘ (البقرۃ:۲۸۶) نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ اپنے بندوں کو حرج اور تنگی میں مبتلا کرے؛ بلکہ وہ تو سہولت و آسانی اور کشائش و فراخی چاہتا ہے : ’’ یُرِیْدُ اﷲُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ‘‘ ۔(البقرۃ:۱۸۵)جیسے اللہ تعالیٰ نے عبادات کو آسان رکھا ہے، اور اللہ کی بندگی کے سیدھے سادھے بے خرچ کے اور کم خرچ کے طریقے رکھے ہیں ، معاملات کو اللہ نے اس سے بھی زیادہ آسان رکھا ہے اور جیسے اللہ نے اپنے تکوینی نظام میں ایسی چیزوں کو جو مخلوق کے لئے ناگزیر ہیں،وافر مقدار میں رکھا ہے اور بے قیمت و محنت فراہم کی ہیں، جیسے پانی اور ہوا ، اسی طرح نظامِ شریعت میں بھی انسانی زندگی کی فطری ضروریات کو آسان رکھا گیا ہے، ان ہی ضروریات میں ایک نکاح ہے ، نکاح انسان کی فطری ضرورت ہے ، جس سے ایک طرف نسل انسانی کی افزائش متعلق ہے اور دوسری طرف اخلاق و کردار اور قلب ونگاہ کی حفاظت ؛ اسی لئے اسلام میں نکاح کی بڑی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، آپ انے نوجوانوں کو تلقین فرمائی کہ بہ شرطِ قدرت وہ جلد نکاح کر لیا کریں، لڑکیوں کے اولیاء سے فرمایا کہ مناسب رشتے ہاتھ آجائیں تو شادی میں تاخیر نہ کی جائے، آپ انے نکاح کو اپنی اور انبیاء سابقین کی سنت قرار دیا، اور تجرد کی زندگی کو ناپسند فرمایا۔ نکاح کو آسان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حلال کو آسان کیا جائے تو حرام سے بچنا بھی آسان ہوگا اور اگر حلال کو دشوار کر دیا جائے تو حرام سے بچنا بھی دشوار ہوگا؛ چنانچہ جن ممالک میں نکاح کی شرح کم ہے اور تجرد کی زندگی گذارنے والوں کا اوسط زیادہ ہے ، وہاں زنا اورفواحش کی کثرت ہے، وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے منشیات کا استعمال عام ہے، خاندانی نظام بکھر چکا ہے اور برائیاں ایک سیلابِ بلابن کر سماج کے رگ و ریشہ میں سماگئی ہیں، اس لئے کوئی بھی ایسی بات جو نکاح کا راستہ روکنے والی ہو اور لڑکوں یا لڑکیوں کو تجرد کی زندگی پر مجبور کرتی ہو سماج کے لئے سمِ قاتل ہے۔ آج جو چیزیں شادی بیاہ کے معاملہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، ان میں سرفہرست جہیز کا مسئلہ ہے ،
جہیز کیا ہے؟
جہیز عربی زبان کا لفظ ہے، جس کی لغوی اور اصطلاحی تعریف درج ذیل ہے:
لغوی معنی (Literal Meaning)
لغت (ڈکشنری) کے اعتبار سے جہیز کے معنی "سامان"، "اسباب" یا "تیاری کے سامان" کے ہیں۔
یہ لفظ "تجهيز" سے نکلا ہے، جس کے معنی کسی کو رخصت کرنے کے لیے سامان تیار کرنا یا اسے لیس کرنا ہے۔
عربی میں مسافر کے سامانِ سفر یا میت کے کفن دفن کے سامان (تجہیز و تکفین) کے لیے بھی یہی مادہ استعمال ہوتا ہے۔
اصطلاحی معنی (Islamic/Cultural Meaning)
اصطلاح میں جہیز سے مراد وہ گھریلو سامان، کپڑے، زیورات اور دیگر اشیاء ہیں جو لڑکی کے گھر والے (والدین یا سرپرست) شادی کے وقت اسے رخصت کرتے ہوئے اس کے نئے گھر (سسرال) کے لیے دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنی نئی زندگی شروع کر سکے۔
*جہیز کی حقیقت*
جہیز معاشرتی زندگی میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی اصل تو اس قدر ہے کہ والدین از راہ محبت اور صلہ رحمی اپنی بیٹی کو اس کی شادی کے موقع پر دیتے ہیں تاکہ نئے گھر میں جا کر والدین کے اس تحفے کو یاد رکھے۔ اسے یہ والدین کی محبت یاد دلاتا رہے اور ساتھ ہی اسے نیا گھر بسانے میں سہولت بھی ہو جائے۔
لیکن پھر لوگوں نے اسکو بوجھ بنا دیا۔اب یہ محبت نہیں رہا،بلکہ ایک ایسی لعنت بن گیا ہے ،جس نے غریب باپ کی کمر توڑ دی ہے۔اور بیٹی کو رحمت کے بجائے زحمت بنا دیا
*رسم جہیز کی شرعی حیثیت*
لڑکے یا اس کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی والوں کے سرپرستوں سے جہیز (خواہ سامان کی شکل میں ہو یا جائیداد اور نقدی وغیرہ کی شکل میں) کا مطالبہ کرنا یا جہیز کو شادی کی بنیادی شرط سمجھنا بالکل نا جائز، سراسر باطل اور شریعت کی خلاف ورزی ہے کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے یا کسی صحابی کے کسی نکاح پر ایسی شرائط لگوا کر نکاح نہیں کیا اور حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی قابل اطاعت ہے۔ چنانچہ ایمان کی پہلی سیڑھی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾
"تم میں سے ہر شخص جو اللہ اور یوم آخرت کی امید (ایمان) رکھتا ہے، اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی بہترین نمونہ ہے"۔ (الاحزاب...۲۱)
چونکہ سنت رسول میں کہیں بھی جہیز کی شرط نظر نہیں آتی، اس لیے یہ باطل شرط ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس شخص نے کوئی ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہے تو اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں، خواہ ایسی سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں"۔ (صحیح بخاری٤٥٦)
اس لیے اگر بالفرض کوئی نکاح کسی بے علمی کی وجہ سے جہیز کی شرط پر منعقد ہو بھی جائے تو مندرجہ بالا حدیث کی رو سے اس شرط کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی شادیوں میں کہیں جہیز کو لازمی شرط یا شادی کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ اکثر و بیشتر جہیز کا تذکرہ تو کتب احادیث میں مذکور نہیں لہٰذا ہمیں بھی اسی دین پر عمل پیرا ہونا چاہیے جو حضور اور آپ کے جانثاروں کا تھا۔
شادی بیاہ کے جملہ مسائل اور شادی کے بعد بیوی اور اولاد کے نان و نفقہ کے تمام مسائل کا بوجھ اور ذمہ داری خاوند پر ہے بیوی کے ذمہ نہیں۔ اگر چہ بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾* (النساء...۳۴)
"مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔"

اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ حق مہر کا مسئلہ ہو یا گھر کی ضروریات و پیش ہوں یا نان و نفقہ کا بوجھ ہو...... یہ سب بوجھ اور ذمہ داریاں شرعی طور پر خاوند کے کندھوں پر ہیں۔ اس لیے بیوی یا سسرال سے اس طرح کا کوئی مطالبہ خواہ "جہیز" کی شکل میں ہو یا کسی اور روپ میں۔۔ دینی و اخلاقی ہر لحاظ سے ناروا اور غیر مناسب ہے۔

البتہ بیوی یا سسرال مالدار ہوں اور اپنی خوشی سے کوئی تحفہ دیں یا خاوند صاحب احتیاج ہو اور سسرال والے بطور اعانت کچھ دینا چاہیں، تو اس میں بحر حال گنجائش موجود ہے

علاوہ ازیں جہیز ایک ہندووانہ رسم ہے جس میں لڑکی کو وراثت سے محروم کر کے شادی کے موقع پر ہی حسب حیثیت سامان مہیا کر دیا جاتا ہے اور لڑکی کو بھی علم ہوتا ہے کہ اب میں حق وراثت سے محروم ہوں۔ حالانکہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں تجاوز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ..... تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾* [النساء... ۱۰ تا ١٤]
**یہ رسم معاشرےکےلئےناسورکیوں؟ **
*رسم جہیز کے معاشرتی نقصانات*

1۔ جہیز ایک ایسی معاشرتی رسم کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ اس کے بغیر شادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا! حتیٰ کہ خود لڑکی والے بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر بچی کی شادی تک جہیز کا سامان تیار نہ ہوا تو ہم بیٹی کے ہاتھ پیلے نہیں کر پائیں گے چنانچہ بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کو جہیز کی فکر کھانے لگتی ہے اور وہ پیٹ کاٹ کر بچی کے جہیز کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ والدین ایک بچی کے فرائض سے ابھی سبکدوش نہیں ہوتے کہ انہیں دوسری بچی کے جہیز کی فکر کھانے لگتی ہے۔ یقیناً یہ غریب والدین پر ظلم ہے، اور اللہ تعالیٰ ظلم کو پسند نہیں کرتے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿وَمَا يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ﴾* (غافر...۳۱)
"اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتے"۔

حدیث قدسی ہے کہ "اے میرے بندو! بلا شبہ میں نے اپنے لیے ظلم حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا آپس میں ظلم نہ کرو۔"

2۔ جہیز کی وجہ سے معاشرے میں نمود و نمائش کی ایک ریت چل نکلی ہے۔ جو والدین اپنی بچی کی شادی کے موقع پر خوب جہیز تیار کرنے میں فتح حاصل کر لیتے ہیں وہ عین شادی کے موقع پر رشتہ داروں کو جمع کر کے جہیز کا سامان بڑے فخر و مان کے ساتھ دکھاتے ہیں کہ دیکھیے جی! ہم نے بچی کے لیے فرنیچر کا انتظام کیا ہے، فریج، کولر، ٹی وی، بیڈ، صوفہ سیٹ بھی خرید کر دیا ہے۔ آخر بچی پر ائے گھر جا رہی ہے اس کے لیے کرا کری اور شیشے کے سیٹ، برتن، بستر، کپڑے، وغیرہ سب کچھ خرید لیا ہے حتی کہ برات سے پہلے ہی محلے کی عورتیں جہیز دیکھنے کا بھر پور انتظام کرتی ہیں حالانکہ اسلام اس طرح کی نمود و نمائش اور فخر و ریا کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ﴾*
"ان نمازیوں کے لیے ہلاکت (اور ہلاکت کی وادی) ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور جو ریا کاری کرتے ہیں"۔ [الماعون... ۶،۴]

3۔ حدیث نبوی ہے کہ "بے شک میں تمہارے بارے میں جن چیزوں کا خوف کھاتا ہوں ان میں سب سے زیادہ شرک اصغر یعنی ریا کاری کا خوف کھاتا ہوں"۔ (۲)

3۔ بہت سے باپ اور بھائی اپنی بیٹی اور بہن کی ڈولی رخصت کرنے اور معاشرے کی جھوٹی انا و عزت کے لیے ناجائز ہتھکنڈے اختیار کر کے کسی نہ کسی طرح جہیز کا سامان پورا کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں، اسے خواہ ان کی مجبوری کہیے یا معاشرے میں زندہ رہنے کی ضرورت! لیکن اس کی بنیادی وجہ "جہیز" ہے جو انسان کے ڈاکو بننے، رشوت لینے، خیانت کرنے، جھوٹ بولنے، سود لینے اور ہر طرح کے حرام کاروبار کرنے پر ابھارنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے حالانکہ کوئی بھی سلیم الفطرت آدمی مذکورہ جرائم کی قباحت سے انکار نہیں کر سکتا اور مال کمانے کے مذکورہ بالا طریقوں کی اسلام بھی سخت مذمت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ﴾* [البقرۃ...۱۸۸]
"ایک دوسرے کے مال ناجائز نہ کھایا کرو اور نہ ہی حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے ہتھیا لو"۔

اسی طرح حکم خداوندی ہے:
*﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ... يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾* [البقرۃ... ۲۷۵ تا ۲۷۹]
5۔ جن لوگوں کے پاس بچی کو جہیز دینے کی استطاعت نہ ہو، یا وہ جہیز کو ہندوانہ رسم سمجھ کر جہیز نہ دینے کا اعلان کر دیں تو لوگ اس گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں......! ان کی بچیوں کی شادی ایک المیہ بن جاتی ہے......! بلکہ بسا اوقات تو وہ مظلوم زندگی بھر شادی کے بندھن سے محروم رہ جاتی ہیں حالانکہ ایک فطری اور معاشرتی ضرورت ہونے کی وجہ سے جوان بچی کی شادی والدین کا فریضہ ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾* [النور... ۳۲]
"تم میں سے جو مرد و زن بے نکاح ہیں ان کا نکاح کر دو"۔

لہٰذا بے نکاح بالغ افراد کا نکاح ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے لیکن اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ یہ رسم جہیز اس فریضے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے!

6۔ اولاد اللہ کی نعمت ہے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کیونکہ لڑکا یا لڑکی دینے کا اختیار صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ﴾* [الشوری... ۴۹، ۵۰]
"اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے (صرف) بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا انہیں جمع کر دیتا ہے۔ (یعنی) بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے"۔

لیکن بہت سے والدین بچیوں کو صرف اس لیے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ان کے جہیز کے لیے والدین رقم کا بندوبست کیسے کریں گے! اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچیاں شفقت پوری سے محروم ہوتی ہیں اور تعلیم و تربیت کے معاملے میں انہیں وہ توجہ نہیں دی جاتی جو از کم ان کا ضروری حق ہے۔ اگرچہ ایسے والدین اللہ کے ہاں مجرم ہیں لیکن سوچیے کہ اس جرم کا سب سے بڑا محرک کون ہے؟ کیا اس کا جواب 'جہیز' نہیں ہے!......؟
**﴿سب سے شرمناک پہلو﴾**
اس رواج نے سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، اس کا سب سے شرمناک پہلو محض جہیز کے لئے شادی شدہ عورتوں کو جلانے اور ہلاک کرنے کے واقعات ہیں ، یکم اگست ۱۹۹۱ء کی بی ، بی ، سی کے ایک نشریہ کے مطابق ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۹ء میں گیارہ ہزار سے زیادہ ہندوستان میں جہیزی اموات کے واقعات ہوئے ہیں، ۱۹۹۴ء میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر دن جہیز کے مسئلہ کی وجہ سے سترہ اموات واقع ہوئی ہیں، ۱۹۹۷ء میں چھ ہزار سے زیادہ جہیزی اموات کے واقعات ہوئے، ۱۹۴۷ء سے چالیس سال کے عرصہ میں بہتر ہزار نوجوان عورتیں ہندوستان میں جہیز کی نزاع کی وجہ سے مار ڈالی گئیں۔ (دیکھئے : ماہنامہ ہدایت، جے پور ، جلد : ۸ ، شمارہ : ۹، صفحہ : ۲۵- ۲۶) جہیز کے اس ناروا رسم و رواج نے جسم فروشی کو بھی بڑھاوا دیا ہے، ایک سروے کے مطابق ملک میں گیارہ سو ایسے علاقے ہیں جو جسم فروش کے لئے بد نام ہیں، ۲۳ لاکھ عورتیں پیشہ ورانہ طور پر اس بُرائی میں مبتلا ہیں اور ان کے بچوں کی تعداد اکیاون لاکھ ہے ، سروے کے مطابق ہر سال ۲۵ ہزار لڑکیاں اس حیا سوز پیشہ میں داخل ہورہی ہیں ، ( سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ۱۶ ؍ اپریل ۱۹۹۹ء) — اسی طرح لڑکیوں کی قبل از پیدائش قتل کا سلسلہ بھی روز افرزوں ہے، اسی لئے جنوری ۱۹۹۶ء میں دورانِ حمل جنس کی شناخت کی غرض سے الٹراسونو گرافی پر پابندی عائد کی گئی؛ لیکن کتنے ہی جوڑے ہیں، جو اس پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے؛ چنانچہ ہندوستان میں ہر سال ایک کروڑ بارہ لاکھ اسقاطِ حمل کے واقعات ہوتے ہیں، اور ان واقعات میں ہر سال بیس ہزار عورتیں موت کا شکار ہوجاتی ہیں، ( اسلامی نظام معاشرت اور جہیز کی رسم ، عمر حیات غوری ، صفحہ : ۵۲) یہ اسقاطِ حمل کے واقعات زیادہ تر ناجائز حمل اور قبل از وقت لڑکیوں کی شناخت سے متعلق ہیں۔ راجستھان کے اضلاع باڑمیر ، جیسلمیر نیز ملک کے بعض دوسرے علاقوں میں پیدائش کے بعد بھی ہفتہ دس روز کے اندر لڑکیوں کو زہر کھلا کر یا کسی اور طرح مار ڈالنے کا رواج ہے ؛ چنانچہ راجستھان کے ضلع باڑ میر کے دیوارا گاؤں میں ایک عجیب واقعہ یہ پیش آیا کہ ۱۹۹۹ء میں وہاں ایک سو دس برسوں کے بعد ایک بارات آئی، ( سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ، ۴ ؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء )کیا اس جدید جاہلیت نے قدیم جاہلیت کو بھی شرمسار نہیں کردیا ہے، ؟ یہ فحاشی ، تجرد کا رجحان، اور لڑ کیوں کے قتل وغیرہ کے واقعات کے لئے ایک اہم محرک یہی جہیز اور گھوڑے جوڑے کی بلا ہے، ایک طرف ملک میں غریبوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، اور دوسری طرف ایک طبقہ داد عیش دینے اور اس عیش کے اظہار و نمائش میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہے،بمبئی کے وان کھیڑے اسٹیڈیم میں ۱۹۹۰ء میں ایک تقریب ِشادی منعقد ہوئی، جس میں تیس ہزار لوگوں نے شرکت کی اور بتایا جاتا ہے کہ ہیرے جواہرات کے ایک تاجر نے اسی بمبئی میں اپنی بیٹی کی شادی پر تیس کرروڑ روپے خرچ کئے، ( سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ، ۱۶ ؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء)ممتاز قائد جے للیتا کے منھ بولے بیٹے کی شادی کی مدہوش کر دینے والی تقریبات اور روشنی اور آواز کا سیلاب شاید ابھی تک لوگوں کو یاد ہو ، بعض ایسی شادیاں بھی اخبارات کے صفحات پر آچکی ہیں جن میں پورا ہوائی جہاز شادی کے لئے ریزرو کیا گیا — ایک ایسا ملک جس میں لاکھوں انسان بھوکوں پیٹ سو جاتے ہوں اور ہر روز ہزاروں مریض اپنی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اس لئے جان دے دیتے ہوں کہ ان کے پاس دوا وعلاج کے لئے کوئی پیسہ نہیں ، ایسے سماج میں ایک طبقہ کا اس طرح داد عیش دینا انسانیت کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟؟
اس کے علاوہ جہیز کے نقصانات لاتعداد ہیں جن میں سے چند ایک سنگین نقصانات کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ کی نزاکت کا صحیح احساس ہو سکے۔
﴾رسم جہیز کے دینی نقصانات ﴿

*1۔* رسم جہیز کو رواج بخشنے والے گھرانے سب سے پہلے سنت رسول کی حرمت و عظمت کو تار تار کر کے ایک بدعت اور ہندوانہ رسم کی طرح رواج دے لیتے ہیں اور یقیناً یہ کوئی معمولی گناہ نہیں!

*2۔* حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تنکح المرأۃ لاربع لمالھا و لحسبھا و لجمالھا و لدینھا فاظفر بذات الدین تربت یدک۔" ( [بخاری (ح ۵۰۹۰)، مسلم (۶۶/۱۰/۲)، ابوداؤد (۴/۲/۲۰۴)، ابن ماجہ (۱/۱۸۵۸)])
نبی کریم ﷺ کے حکم اور نصیحت کے مطابق دیندار و باخلاق عورت سے شادی کرنی چاہیے تاکہ رفیقہ حیات اخروی نجات کے لیے دنیوی زندگی کو حکم الٰہی کے پابند رکھنے میں صحیح معاون ثابت ہو اور میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی صحیح راستے پر گامزن ہو۔ جبکہ جہیز کی رسم کی وجہ سے اس حکم رسول کو بالاے طاق رکھتے ہوئے ایسی لڑکی کا انتخاب بھی برداشت کر لیا جاتا ہے جو دین و اخلاق سے عاری، تعلیم و تربیت سے کو ری، تہذیب و تمدن سے ناآشنا اور شکل و صورت سے ناقابل التفات ہی کیوں نہ ہو، یہ سب قباحتیں صرف اس لیے برداشت کر لی جاتی ہیں کہ لڑکی کے جہیز کی فہرست بڑی لمبی چوڑی ہے۔
*3۔* جہیز چونکہ ہندووانہ رسم ہے اور ہندوؤں نے یہ رسم اس لیے جاری کی کہ ان کے ہاں لڑکی وراثت کی حقدار نہیں بن سکتی لہٰذا اس حق وراثت کی تلافی کسی طرح سے شادی کے موقع پر جہیز کی شکل میں کی جاتی ہے اور اب مسلمانوں نے بھی اس رسم کی بھا آوری میں ہندو کی خوب 'تابع داری' فرمائی کہ لڑکیوں کو حق وراثت سے محروم کر دیا اور اس کے بدلے جہیز کو رواج دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو بھی وراثت کا حقدار بنایا ہے اور عورت کے اس خداوندی عطیہ (یعنی حق وراثت) کو ختم کرنا اللہ کی حدود کی کھلی خلاف ورزی ہے
*سورۃ النساء، آیت 13*
*تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ*
*جہیز کے طبی نقصانات*

1۔ جہیز کی وجہ سے والدین بچیوں کو گھروں میں بٹھائے رکھتے ہیں اور وہ بچیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی صرف اس لیے بڑھاپے تک جا پہنچتی ہیں کہ بد قسمتی سے وہ ایسے ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئی ہیں جو ان کے لیے جہیز فراہم نہیں کر سکتے۔ بے شمار بچیاں ساری عمر کنواری رہ جاتی ہیں جس سے ان کے جسم کو طبی طور پر نہایت مضر اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً 'اختناق الرحم'، جنون، مرگی اور برصام کے امراض بھی اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، رعشہ، وضع المفاصل اور تشنج جیسی مہلک امراض بھی بعض دفعہ جنسی تقاضے کے حبس کرنے سے جنم لے لیتے ہیں"۔
2۔ بچی کے بالغ ہونے کے بعد جلد از جلد اس کی شادی کر دینا اس کے لیے طبی اصولوں کے مطابق نہایت مفید رہتا ہے لیکن جس قدر شادی میں تاخیر کی جاتی ہے اسی قدر لڑکی کی خانگی زندگی کا سکون درہم برہم ہوتا جاتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾* [الروم... ۲۱]
"اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی"۔
*جہیز کے اخلاقی نقصانات*

انسانی زندگی میں ایک خاص موقع پر انسان کے اندر شہوانی خیالات انگڑائیاں لینے لگتے ہیں جو فی الحقیقت جسد خاکی کا ایک فطری خاصہ ہے اور خالق قدرت نے ان شہوانی جذبات کی تسکین کے لیے باضابطہ شادی کی صرف گنجائش ہی نہیں بلکہ قابل استطاعت مردوزن پر اسے فرض ٹھہرایا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾* [النساء... ۳]
"جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو"۔

اسی طرح حدیث نبوی ہے:
"یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء"۔ (۱)
"اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزوں کی پابندی کرے کیونکہ یہ روزے اس کے لیے (گناہ سے) ڈھال بن جائیں گے"۔

عورتوں کے نگران چونکہ مرد حضرات یعنی باپ اور بھائی وغیرہ ہیں اس لیے بالغ عورتوں کی شادی کے متعلق سرپرستوں اور نگرانوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ
*﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ﴾* [النور... ۳۲]
"اور تم میں سے جو مرد و زن بے نکاح ہیں ان کا نکاح کرو"۔

لیکن اگر لڑکیوں کے سر پرست جہیز کے سامان جمع کرنے کی وجہ سے بالغ لڑکیوں کے نکاح میں خاصی تاخیر کرنے لگیں یا مجبوری عدم دستیابی کی وجہ سے بچیوں کا نکاح کرنے سے گریز کی راہیں تلاش کر یں تو اس سے بے شمار اخلاقی نقصانات جنم لیتے ہیں مثلاً:

1۔ انسانی خواہشات سے مغلوب ہو کر زنا کا ارتکاب جو معمولی گناہ نہیں! اس کی سنگینی کا اندازہ اس کی سزا سے خوب ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ جس قدر گناہ سنگین ہو گا اسی قدر اس کی سزا شدید ہو گی اور زنا کی سزا کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ
*﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ**فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ* [النور... ۲]
2۔ یہ بات بھی نظر انداز نہ رہے کہ شہوانی جذبات سے مغلوب ہو کر بے شمار لڑکیاں (زنا کے علاوہ بھی) ان گنت برے طریقوں سے اپنی خواہش بجھانے کی کوشش کرتی ہیں حالانکہ ایسے فحش اور گندے کاموں کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾* [النور... ۱۹]
3۔ بعض جوان لڑکیاں بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے کبھی فحش لٹریچر دیکھ کر اپنی طبی ضرورت کو دبانے کی لا حاصل کرتی ہیں۔ بعض بے ہودہ گانے سن کر اپنی خواہش پوری کرنے کی جدو جہد کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لا تعداد غیر اخلاقی افعال کے ذریعے 'گناہ' مول لیے جاتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اور یہ بات یاد رہے کہ انسان کا ہر عضو بدن، زنا جیسے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"ان اللہ کتب علی ابن آدم حظہ من الزنا ادرک ذالک لا محالۃ فزنا العین النظر و زنا اللسان المنطق والنفس تمنی و تشتهی والفرج یصدق ذالک کلہ او یکذبه
**اس مہلک مرض کو ختم کرنے میں ہمارا کردار؟**
جہیز جیسے خطرناک سماجی مرض کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے صرف قوانین یا حکومت پر تکیہ کرنا کافی نہیں ہے۔ یہ ایک ذہنی اور معاشرتی بیماری ہے، اس لیے اس کا علاج بھی ہمیں **بطور فرد اور بطور معاشرہ خود کرنا ہوگا۔
ہم اس مرض کو روکنے میں درج ذیل طریقوں سے اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں:
1۔ بطورِ نوجوان (لڑکے اور لڑکیاں)
کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔
* **لڑکوں کا دوٹوک مؤقف: نوجوان لڑکوں کو شادی سے پہلے اپنے والدین کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ ایک باعزت انسان سے شادی کر رہے ہیں، کسی فرنیچر یا گاڑی کے شوروم سے نہیں۔ انہیں سسرال کی کسی بھی مادی چیز کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دینا چاہیے۔
* **لڑکیوں کا خود اعتمادی کا مظاہرہ: لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم اور ہنر پر توجہ دیں تاکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل بن سکیں۔ انہیں بھی ایسے خاندانوں میں شادی کرنے سے انکار کر دینا چاہیے جہاں ان کی ذات سے زیادہ ان کے والدین کے بینک بیلنس یا جہیز میں دلچسپی لی جا رہی ہو۔
2۔ بطورِ والدین
والدین اپنی سوچ بدل کر اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔
* **بیٹوں کے والدین کا کردار: اگر آپ کے گھر میں بیٹا ہے، تو اس کی شادی کو "کمائی کا ذریعہ" نہ بنائیں۔ لڑکی والوں سے کسی قسم کی فرمائش کرنا تو دور، ان کی طرف سے دی جانے والی چیزوں کو بھی احسن طریقے سے منع کر دیں۔
* **بیٹیوں کے والدین کا کردار: اپنی بیٹی کو جہیز کے نام پر کروڑوں روپے کا سامان دینے کے بجائے، وہی پیسہ اس کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت پر لگائیں۔ بیٹی کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں تاکہ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہ رہے، اور شادی کے وقت دکھاوے اور نمائش سے مکمل پرہیز کریں۔
* 3۔ سماجی بائیکاٹ (Social Boycott)
جب تک معاشرہ اس برائی کو عزت دینا بند نہیں کرے گا، یہ ختم نہیں ہوگی۔
* **نمائش پر لعنت بھیجیں: اگر آپ کو کسی ایسی شادی میں بلایا جائے جہاں جہیز کا سامان سجا کر رکھا گیا ہو یا اس کی نمائش کی جا رہی ہو، تو وہاں جانے سے گریز کریں یا کم از کم اس کی تعریف ہرگز نہ کریں۔
* **سادگی کی تعریف کریں: جو لوگ سادگی سے اور بغیر جہیز کے نکاح کرتے ہیں، انہیں معاشرے میں رول ماڈل (Role Model) کے طور پر پیش کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
4۔ میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال
آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔
* **آگاہی مہم: ہم اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس (فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب) کے ذریعے جہیز کے خلاف ویڈیوز، پوسٹس اور بلاگز شیئر کر کے لوگوں کی ذہن سازی کر سکتے ہیں۔
* **ڈراموں اور فلموں پر تنقید: ایسے ڈراموں یا اشتہارات کی مذمت کی جائے جوindirectly بھاری شادیوں اور جہیز کے کلچر کو گلیمرائز (Glamorize) کرتے ہیں۔
5۔ مذہبی رہنماؤں اور علماء کا کردار
ہمارے معاشرے میں علماءِ کرام کی بات کو بہت وزن دیا جاتا ہے۔
* **جمعہ کے خطبات: علماء کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور مذہبی محافل میں باقاعدگی سے جہیز کی مذمت کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالنا غیر اسلامی اور گناہ ہے۔
* **بغیر جہیز کے نکاح پڑھانا:نکاح پڑھانے والے مساجد کے ائمہ یہ عہد کر سکتے ہیں کہ وہ ایسی کسی شادی کا نکاح نہیں پڑھائیں گے جہاں جہیز کا مطالبہ کیا گیا ہو یا اس کی نمائش کی جا رہی ہو۔
جہیز کا خاتمہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن اگر ہم میں سے ہر شخص صرف اپنے گھر سے شروعات کر دے—یعنی نہ ہم جہیز دیں گے اور نہ ہم جہیز لیں گے—تو یہ خطرناک مرض چند ہی سالوں میں ہمارے معاشرے سے ہمیشہ کے لیے دم توڑ دے گا۔ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ خود سے ہوتا ہے۔
**اب تک اس پر قابو کیوں نہیں ؟**
اتنی مہمات، قوانین اور مذہبی تعلیمات کے باوجود اب تک اس مرض پر قابو نہ پائے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ایک "رسم" نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے نفسیاتی، معاشی اور طبقاتی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔
اس پر قابو پانے میں ناکامی کی چند گہری اور تلخ وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔ مادہ پرستی اور اسٹیٹس سمبل (Status Symbol)
آج کے دور میں انسان کی قیمت اس کے اخلاق یا تعلیم سے نہیں، بلکہ اس کی دولت سے لگائی جاتی ہے۔
* جہیز اب لڑکی کی ضرورت نہیں، بلکہ والدین کے لیے اپنی سماجی حیثیت اور ناک اونچی رکھنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ امیر لوگ جان بوجھ کر کروڑوں کا جہیز دیتے ہیں تاکہ برادری میں ان کی واہ واہ ہو۔ جب تک معاشرے میں امیروں کی اس مادہ پرستی اور دکھاوے کو عزت ملتی رہے گی، غریب اس کی آگ میں جلتا رہے گا۔
2۔ قانون پر عمل درآمد کا فقدان (Weak Law Enforcement)
کاغذوں کی حد تک تو جہیز کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن عملی طور پر وہ بالکل بے اثر ہیں۔
* *ملبہ لڑکی والوں پر قانون تب حرکت میں آتا ہے جب کوئی شکایت کرے۔ لیکن کوئی بھی باپ شادی سے پہلے سسرال کے خلاف پولیس میں نہیں جاتا، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اس کی بیٹی کا رشتہ ٹوٹ جائے گا اور وہ عمر بھر گھر بیٹھی رہے گی۔
* **سست عدالتی نظام: اگر کوئی شادی کے بعد ظلم کا شکار ہو کر عدالت جائے، تو فیصلہ آنے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں، جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔
3۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینا
یہ ایک بہت بڑا معاشی سبب ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خاندان لڑکیوں کو قرآن اور قانون کے مطابق جائیداد (Inheritance) میں ان کا شرعی حصہ نہیں دیتے۔
* اس کے متبادل کے طور پر والدین یہ سوچتے ہیں کہ "ہم بیٹی کو زندگی میں ہی جہیز کی صورت میں اس کا حصہ دے رہے ہیں"۔ لڑکے والے بھی اسی سوچ کے تحت بھاری جہیز کا مطالبہ اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں کہ لڑکی کو باپ کی جائیداد سے تو کچھ ملنا نہیں، جو لینا ہے ابھی لے لو۔
4۔ خاندانی اور برادری کا دباؤ ("لوگ کیا کہیں گے؟")
اگر کوئی لڑکا یا اس کے والدین نیک نیتی کے تحت جہیز لینے سے انکار کر دیں، تو معاشرہ انہیں جینے نہیں دیتا۔
* برادری کے لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں: "لڑکے میں ہی کوئی عیب ہوگا تبھی تو بنا کچھ لیے شادی کر رہے ہیں" یا "لڑکی والوں نے ضرور کچھ چھپایا ہے"۔ اس طعنے بازی اور سماجی دباؤ سے بچنے کے لیے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس گھناؤنے کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
5۔ تعلیم کا شعور سے خالی ہونا
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ پڑھ لکھ گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری ڈگریاں صرف نوکری حاصل کرنے کے لیے ہیں، کردار سازی کے لیے نہیں۔
آج کے دور میں جتنا زیادہ پڑھا لکھا اور اچھے عہدے پر فائز لڑکا ہوتا ہے، اس کے جہیز کی قیمت اتنی ہی زیادہ لگائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر اور سرکاری افسران کے والدین اپنے بیٹوں کی پڑھائی پر ہونے والے خرچ کو لڑکی والوں سے جہیز اور نقدی کی صورت میں "وصول" کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
6۔ منبر و محراب کی کمزور آواز
اگرچہ علماء کرام جہیز کو غلط کہتے ہیں، لیکن اس کے خلاف ویسی شدید اور فیصلہ کن مہم نہیں چلائی گئی جیسی دیگر معاملات میں نظر آتی ہے۔
* جب تک مساجد اور مذہبی پلیٹ فارمز سے جہیز خوروں کا سماجی بائیکاٹ کرنے اور ان کا نکاح نہ پڑھانے کا سخت اعلان نہیں ہوگا، تب تک لوگوں کے دلوں میں اس گناہ کا خوف پیدا نہیں ہوگا۔
ہم اس پر اس لیے قابو نہیں پا سکے کیونکہ ہم نے برائی کو **"محبت اور روایت"** کا خوبصورت نام دے کر گلے سے لگا رکھا ہے۔ جب تک ہم بطور معاشرہ اپنی منافقت ختم نہیں کریں گے اور قانون مجرموں کو عبرت کا نشان نہیں بنائے گا، یہ ناسور اسی طرح ہماری بیٹیوں کا خون چوستا رہے گا۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.