جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
تفصیلی مضمون
*تمہید*
معاشرہ انسانوں کا مجموعہ ہے، اور ہر معاشرے میں کچھ رسوم و رواج پائے جاتے ہیں۔ کچھ رسوم سماج کو جوڑتی ہیں، اور کچھ اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ جہیز بھی انہی رسوم میں سے ایک ہے جو محبت کے نام پر شروع ہوئی، مگر آج لالچ، مقابلے بازی اور ظلم کی علامت بن چکی ہے۔ جہیز کو اگر ایک ناسور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ یہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو کھا رہا ہے۔
*جہیز کا لغوی اور شرعی مفہوم*
لغت میں جہیز کا مطلب ہے وہ سامان جو دلہن کو رخصتی کے وقت دیا جائے۔ اسلام میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا اور مرد پر مہر ادا کرنا فرض کیا تاکہ عورت کو مالی تحفظ ملے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے انتہائی سادگی سے کیا۔ مہر ادا کیا گیا، لیکن لڑکی والوں سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو بوجھ نہیں، عزت دیتا ہے۔
*تاریخی پس منظر*
ہندو معاشرے میں “داج” کا رواج تھا، جہاں لڑکی کو وراثت میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے شادی پر کچھ مال دیا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ رسم مسلمانوں میں بھی سرایت کر گئی۔ انگریز دور میں جب جاگیرداری نظام مضبوط ہوا تو جہیز ایک “اسٹیٹس سمبل” بن گیا۔ آج یہ رواج اتنا بڑھ چکا ہے کہ غریب والدین کے لیے بیٹی کی شادی ایک قرض کا بوجھ بن گئی ہے۔
*جہیز کی موجودہ شکل*
آج جہیز صرف برتن، کپڑے یا زیورات تک محدود نہیں رہا۔ اب تو فرنیچر، گاڑی، فریج، ایل سی ڈی، اور لاکھوں روپے نقد بھی مانگے جاتے ہیں۔ شادی ہال، فوٹوگرافر، ڈیکوریشن پر لاکھوں خرچ کیے جاتے ہیں تاکہ “لوگ کیا کہیں گے” کا جواب دیا جا سکے۔ یوں ایک دن کی خوشی کے لیے پورا خاندان سالوں مقروض رہتا ہے۔
*جہیز کے بھیانک نتائج*
1. *تعلیم کا قتل*
: غریب والدین بیٹی کو اسکول بھیجنے کے بجائے اس کے جہیز کے لیے پیسے جوڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہماری آدھی آبادی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے۔
2. *تاخیر سے شادی اور نفسیاتی مسائل*: جن گھروں میں جہیز کا بندوبست نہیں ہو پاتا، وہاں لڑکیاں 30، 35 سال کی عمر تک کنواری رہتی ہیں۔ اس سے ان میں احساسِ کمتری، ڈپریشن اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
3. *گھریلو تشدد اور قتل*
: شادی کے بعد بھی جہیز کا مطالبہ ختم نہیں ہوتا۔ “فریج نہیں لائی”، “موٹر سائیکل نہیں دی” جیسے طعنے روز کا معمول بن جاتے ہیں۔ کئی لڑکیاں جلائی جاتی ہیں، زہر کھا لیتی ہیں یا خودکشی کر لیتی ہیں۔ پولیس رپورٹوں میں ہر سال ہزاروں ایسے کیس درج ہوتے ہیں۔
4.*معاشی تباہی*
: ایک متوسط گھرانہ بیٹی کی شادی پر اپنی جمع پونجی لگا دیتا ہے۔ قرض لیتا ہے، زیور بیچتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ باقی بچوں کی تعلیم اور مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔
5. *معاشرتی تفریق*
: جہیز نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھا دی ہے۔ غریب گھرانے کی پڑھی لکھی لڑکی بھی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے رشتے سے محروم رہ جاتی ہے۔
*میڈیا اور ڈراموں کا کردار*
آج کے ڈرامے اور فلمیں بھی جہیز کو ہوا دیتے ہیں۔ دلہن کو سونے سے لدا ہوا دکھایا جاتا ہے، شادی ہال کو جنت کا منظر بنایا جاتا ہے۔ نوجوان نسل یہ سب دیکھ کر یہی سمجھتی ہے کہ شادی کا مطلب دھوم دھام اور جہیز ہے۔ سادگی کو “گھٹیا” سمجھا جاتا ہے۔
*قانون کیا کہتا ہے؟*
ہمارے ملک میں “جہیز کی روک تھام کا قانون” موجود ہے جس کے مطابق جہیز کا مطالبہ کرنا جرم ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ لڑکیاں اور ان کے والدین سماجی بدنامی کے ڈر سے آواز نہیں اٹھاتے۔ قانون تبھی کام کرے گا جب معاشرہ اسے اپنائے گا۔
*اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل*
اسلام نکاح کو عبادت کہتا ہے، کاروبار نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ سب سے کم ہو۔” اگر ہم سنت پر عمل کریں تو آدھے مسائل خود حل ہو جائیں۔ مہر کو علامتی رکھا جائے، ولیمہ میں سادگی ہو، اور جہیز کا نام و نشان نہ ہو۔
*ہمارا انفرادی اور اجتماعی کردار*
- *والدین*:
بیٹی کو بوجھ نہ سمجھیں۔ اس پر اتنا خرچ کریں جتنا بیٹے کی تعلیم پر کرتے ہیں۔ جہیز کے بجائے اسے ہنر سکھائیں، ڈگری دلوائیں۔ شادی میں “لوگ کیا کہیں گے” کی پرواہ نہ کریں۔
- *نوجوان لڑکے*
: وہ مردانگی نہیں کہ جہیز مانگو۔ اصل مرد وہ ہے جو کہے: “مجھے جہیز نہیں، نیک بیوی چاہیے۔” جو لڑکا جہیز سے انکار کرتا ہے، وہ عورت کی عزت کرتا ہے۔
- *لڑکیاں*
: تعلیم حاصل کریں، خود مختار بنیں۔ ایسی جگہ شادی سے انکار کریں جہاں جہیز شرط ہو۔ یاد رکھیں، عزت جہیز سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔
- *علماء اور اساتذہ*
: جمعہ کے خطبوں، اسکولوں اور کالجوں میں جہیز کے خلاف آواز اٹھائیں۔ لوگوں کو سنت کا طریقہ نکاح سمجھائیں۔
- *میڈیا اور سوشل میڈیا
*: سادگی سے شادی کرنے والوں کو ہیرو بنائیں۔ جہیز کی نمائش کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔
- *حکومت اور عدلیہ*: قانون پر سختی سے عمل کرائیں۔ جہیز کے کیسوں کو جلد نمٹائیں تاکہ لوگوں کو انصاف ملے۔
*ایک مثالی معاشرے کا خواب*
تصور کریں ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش پر والدین پریشان نہ ہوں، جہاں شادی محبت سے ہو، مقابلے سے نہیں۔ جہاں لڑکا یہ کہے کہ “مجھے جہیز نہیں چاہیے، بس آپ کی دعا چاہیے۔” یہ خواب تبھی پورا ہوگا جب ہم سب مل کر جہیز کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
*خاتمہ*
جہیز ایک ناسور ہے، اور ناسور کو جڑ سے کاٹنا پڑتا ہے۔ اگر آج ہم نے ہمت نہ کی تو کل ہماری اپنی بیٹیاں، بہنیں اس آگ میں جلیں گی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے، نہ جہیز کی شادی میں شرکت کریں گے۔ نکاح کو آسان بنائیں گے، تاکہ ہمارا معاشرہ پاکیزہ، خوشحال اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بن سکے۔
“آسانیاں پیدا کرو، مشکلات نہ پیدا کرو” – یہ نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہے۔ آئیے اس پر عمل کرکے جہیز جیسے ناسور کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں۔