🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

مصعب پالنپوری
07 Jun 2026
جہیز، جسے انگریزی زبان میں Dowry کہا جاتا ہے، برصغیر کے معاشرے میں ان سامانوں، اشیائے خانہ داری اور دنیاوی ساز و سامان کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ایک لڑکی اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے ساتھ سسرال لے جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک رسم اور روایت معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا ناسورِ جاں گداز، ایک ایسی بلائے بے درماں اور ایک ایسا زخمِ کہنہ ہے جس نے ہزاروں خاندانوں کی خوشیوں کو نگل لیا، لاکھوں والدین کی زندگیوں کو رنج و الم کا استعارہ بنا دیا اور بے شمار معصوم بیٹیوں کے خوابوں کو حسرت و یاس کی چادر میں لپیٹ دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ یہ رسم صدیوں قبل برادرانِ وطن کے معاشرے میں زور و شور کے ساتھ رائج تھی۔ بعض علاقوں میں جہیز نہ لانے والی لڑکیوں کو زندہ جلا دیا جاتا، ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا یا انہیں ایسی اذیتوں سے دوچار کیا جاتا کہ زندگی خود ان کے لیے ایک عذاب بن جاتی۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قبیح رسم مسلم معاشرے میں بھی سرایت کر گئی۔ علماء، مصلحین اور اہلِ دانش نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی، خطبے دیے، کتابیں لکھیں، تحریکیں چلائیں، مگر اس رسمِ بد نے ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلی جس کی جڑیں معاشرے کے اندر دور تک پھیلتی چلی گئیں۔
جب یہ ناسور سماج کا حصہ بن گیا تو اس کے تباہ کن اثرات بھی نمایاں ہونے لگے۔ ماں باپ کے گھروں میں رحمت بن کر آنے والی بیٹیاں بعض لوگوں کی نگاہ میں زحمت تصور کی جانے لگیں۔ کہیں باپ اپنی بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے کے بجائے فکر و اندوہ میں مبتلا ہوگیا، کہیں مائیں اپنی بچیوں کے مستقبل کی سوچ میں راتوں کی نیند گنوا بیٹھیں، اور کہیں غریب گھرانوں کی جوان بیٹیاں صرف اس لیے رشتۂ ازدواج سے محروم رہ گئیں کہ ان کے والدین جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ بعض مقامات پر نکاح مکمل طور پر معطل تو نہیں ہوا، لیکن اس میں اس قدر تاخیر کی گئی کہ عمرِ عزیز کا ایک بڑا حصہ اسی انتظار کی نذر ہوگیا۔ کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جو آج بھی اپنے گھروں کی دہلیز پر بیٹھی اس دن کی منتظر ہیں جب کوئی ایسا رشتہ آئے گا جو ان کے کردار اور دیانت کو دیکھے گا، ان کے ساتھ آنے والے سامان کو نہیں۔
یہ صورتِ حال صرف معاشرتی اعتبار سے ہی افسوسناک نہیں بلکہ دینی اعتبار سے بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے اور عفت و پاکدامنی کی حفاظت کے لیے اس کی ترغیب دی ہے۔ عام حالات میں نکاح سنتِ مؤکدہ ہے اور اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو فقہائے امت نے اسے واجب قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ"
"اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
سوچیے! جو رسم نکاح جیسے مسنون اور بابرکت عمل میں تاخیر کا سبب بن جائے، جو جوان نسل کو بے راہ روی کے خطرات سے دوچار کر دے، جو عفت و عصمت کے قلعے کو کمزور کر دے، وہ رسم آخر کس طرح قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟
قرآنِ حکیم نے مرد کو خاندان کا ذمہ دار اور کفیل قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ﴾
"مرد عورتوں کے نگہبان اور ذمہ دار ہیں۔" (النساء: 34)
اسلام نے تمام مالی ذمہ داریاں مرد پر عائد کی ہیں۔ مہر اس کے ذمہ ہے، نفقہ اس کے ذمہ ہے، رہائش کا انتظام اس کے ذمہ ہے، اولاد کی کفالت اس کے ذمہ ہے، حتیٰ کہ شادی کے بعد پورے گھر کی ضروریات پوری کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ پھر آخر کس دلیل سے یہ تصور پیدا کر لیا گیا کہ لڑکی کے والدین مرد کے لیے گھر کا سامان، نقد رقم یا دیگر اشیاء فراہم کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر مرد کا عورت سے یا اس کے والدین سے کچھ لینا اسلامی مزاج کے خلاف اور شرم و عار کی بات ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے متعدد نکاح فرمائے، اپنی چاروں صاحبزادیوں کے نکاح کیے اور آپ کے سامنے بے شمار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نکاح ہوئے، مگر کسی ایک واقعے میں بھی فرمائشی جہیز کا ثبوت نہیں ملتا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے سلسلے میں جو سامان ذکر کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت بھی یہی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ فروخت کی تھی اور اسی رقم سے چند ضروری گھریلو اشیاء خریدی گئی تھیں۔ سیرت و حدیث کی معتبر کتابوں میں اس کی صراحت موجود ہے۔ لہٰذا اس واقعے کو موجودہ رسمِ جہیز کے جواز کے طور پر پیش کرنا علمی اور تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔
قرآنِ کریم نے عورت کو وراثت میں باقاعدہ حق عطا کیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
﴿لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾
"مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس مال میں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔"
(النساء: 7)
بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ چونکہ عورتوں کو وراثت نہیں دی جاتی، اس لیے جہیز اس کا بدل ہے۔ مگر یہ استدلال حقیقت میں ظلم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ وراثت ایک شرعی حق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے، جبکہ جہیز ایک غیر شرعی رسم ہے۔ ایک حق کا بدل ایک رسم نہیں بن سکتی۔ اگر عورت کو وراثت نہیں دی جاتی تو یہ ایک الگ گناہ ہے، اور جہیز کو اس کا متبادل قرار دینا ایک دوسرے گناہ کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
فقہائے امت نے یہاں تک لکھا ہے کہ نکاح کے موقع پر عورت یا اس کے اہلِ خانہ سے مال حاصل کرنا رشوت کے مشابہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَعَنَ اللّٰهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ"
"اللہ تعالیٰ نے رشوت دینے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔"
(سنن ابی داؤد، ترمذی)
یہ کتنی بڑی محرومی ہے کہ ایک شخص سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کے نام پر نکاح تو کرے، مگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بوجھ بھی اپنے سر لے لے۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرزِ عمل پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی جہیز کا کوئی تصور دکھائی نہیں دیتا۔ امام غزالیؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ایک قبیلے کے پاس رشتہ لے کر گئے۔ انہوں نے اپنی دینی و اخلاقی حیثیت بیان کی، مگر نہ جہیز کا ذکر کیا اور نہ ہی لڑکی والوں نے اس کا مطالبہ کیا۔ امام غزالیؒ اس واقعے سے یہی استنباط کرتے ہیں کہ گھر کے ضروری سامان کی ذمہ داری شوہر پر ہے، لڑکی والوں پر نہیں۔
اسی طرح مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا واقعہ تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے درج ہے۔ ایک غریب شاگرد کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔ اس نے اپنی تنگ دستی کا ذکر کیا تو حضرت سعید بن مسیبؒ نے دو درہم مہر کے عوض اپنی صاحبزادی کا نکاح اسی سے کردیا اور شام کے وقت خود اپنی بیٹی کو اس کے گھر پہنچا آئے۔ نہ جہیز کا مطالبہ، نہ ساز و سامان کی فہرست اور نہ مال و دولت کی نمائش؛ صرف دین، کردار اور اخلاص کو معیار بنایا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی شرافت اور فطرتِ سلیمہ کے بھی منافی ہے۔ اس نے معاشرے میں ایسی بے شمار الم ناک داستانیں جنم دی ہیں جنہیں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مشہور شاعر حضرت میر تقی میرؔ کا واقعہ اس سلسلے میں نہایت عبرت انگیز ہے۔ روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے اپنا سب کچھ فروخت کردیا، حتیٰ کہ خود فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے لگے۔ جب ان کی بیٹی کو اس حقیقت کا علم ہوا تو صدمے سے اس کا انتقال ہوگیا۔ اس موقع پر میرؔ کے دل سے جو آہ نکلی، وہ تاریخ کا حصہ بن گئی:
اب آیا خیال اے آرامِ جاں اس نامرادی میں
کفن دینا ہی بھول گئے ہم اسبابِ شادی میں
یہ شعر دراصل ایک باپ کے ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے، ایک ایسے معاشرے کے خلاف احتجاج ہے جس نے شادی کو رحمت کے بجائے مصیبت بنا دیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اس مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ جس طرح ایک زمانے میں بیوہ عورتوں کے نکاح کے لیے تحریکیں چلائی گئی تھیں، اسی طرح آج جہیز کے خاتمے کے لیے ایک ہمہ گیر مہم کی ضرورت ہے۔ علماء، دانشور، اساتذہ، طلبہ، نوجوان اور معاشرے کے تمام باشعور طبقات کو مل کر اس رسمِ بد کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ جو لوگ سادگی سے شادی کریں، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور جو لوگ جہیز کی لعنت کو فروغ دیں، ان کے طرزِ عمل کی حکمت اور اعتدال کے ساتھ حوصلہ شکنی کی جائے۔
آج اگر اقبالؒ کی یہ صدا ہمارے کانوں میں گونجتی ہے:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ آخر ہم نے قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر دوسروں کی فرسودہ رسموں کو کیوں اختیار کر لیا؟ کیا ہماری شناخت محمد عربی ﷺ کی امت ہونا ہے یا رسم و رواج کی غلامی؟
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، جہیز کو معاشرتی عزت کا معیار بنانے کے بجائے اسے ایک قبیح رسم قرار دیا جائے، اور بیٹیوں کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھا جائے۔ جس دن ہمارے معاشرے میں رشتوں کا معیار دولت کے بجائے دیانت، سامان کے بجائے سیرت اور جہیز کے بجائے تقویٰ بن جائے گا، اس دن نہ کوئی باپ قرض کے بوجھ تلے دبے گا، نہ کوئی ماں آنسو بہائے گی اور نہ کوئی بیٹی اپنی جوانی انتظار کی دہلیز پر گزارنے پر مجبور ہوگی۔ تب واقعی ہمارا معاشرہ قرآن و سنت کی خوشبو سے معطر، عدل و انصاف سے مزین اور انسانیت و شرافت کا گہوارہ بن سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.