*جَہِیز: ایک مَعاشَرَتی ناسُور اور ہَمارا کِردار*
*بِــــسْــــمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ*
*خُــــطْــــبَــــه*
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
أَمَّا بَعْدُ !
*تــــمــــہــــیــــد*
قَالَ اللّٰه تَبَارَکْ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ :
﴿ وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴾
ترجمہ:
"اور تم میں جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو، اور تمہارے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللّٰه اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللّٰه بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔"
(سورۃ النور: 32)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور غربت کو نکاح میں رکاوٹ نہ سمجھنے کی تعلیم دی ہے، جبکہ جہیز جیسی رسمیں نکاح کو مشکل بناکر اسلامی تعلیمات کے منافی راستہ اختیار کرتی ہیں۔
اِسلام میں نکاح ایک بامقصد پاکیزہ اور پُروقار عمل ہے، خود حضور ﷺ نے نکاح کو انبیاء علیہم السلام کی سنّت قرار دیا ہے۔
(جامع ترمذی، ج 1، ص 306، حدیث 1089)
اسی لیے ضروری ہے کہ نکاح کی تقریبات میں شرعی حدود و آداب کا مکمل لحاظ رکھا جائے۔
مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ بے شمار رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑ چکا ہے۔ انہی تباہ کن رسموں میں ایک خطرناک رسم "جہیز" بھی ہے، جو آہستہ آہستہ ایک ایسے ناسور کی شکل اختیار کرچکی ہے جس نے نہ صرف غریب والدین کی زندگی اَجیرن بنادی ہے بلکہ بے شمار بیٹیوں کے ارمانوں، خوشیوں اور عزتِ نفس کو بھی روند کر رکھ دیا ہے۔
نکاح جیسا مقدس رشتہ، جو محبت، اخلاص اور رحمت کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے تھا، آج دولت، سامان اور نمود و نمائش کی بھینٹ چڑھتا جا رہا ہے۔
جہیز کی لعنت نے معاشرے میں بےسکونی، قرض، ظلم، احساسِ محرومی اور گھریلو ناچاقیوں کو جنم دیا ہے۔ غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا دیتا ہے، بعض اوقات قرض کے بوجھ تلے دَب جاتا ہے، جبکہ کئی بیٹیاں صرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے عمر بھر گھر کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ یہ رسم نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، بلکہ انسانی ہمدردی اور معاشرتی انصاف کے بھی منافی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ناسور کے خلاف آواز بلند کریں، اسلامی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے کردار و عمل سے اس برائی کے خاتمے کی کوشش کریں۔ معاشرے سے یہ جہیز کا ناسور اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب ہم نکاح کو آسان بنائیں اور جہیز جیسی ظالمانہ رسم کا خاتمہ کریں۔
نبی ﷺ نے فرمايا: "إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
(مشکوٰۃ المصابیح، ج: 2، ص: 268)
یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت اور خرچ ہو۔
؏ طلبِ جہیز نے چھین لیں اُن کی تمام شوخیاں،
دیکھو! اُداس بیٹھی ہیں حوّا کی بیٹیاں؎
*جَــــہِــــیــــز: ایــــک مَــــعــــاشَــــرَتــــی نــــاسُــــور*
*جہیز کے نقصانات* :
الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ ۔
(صحیح مسلم، ج: 2، ص: 317 )
ترجمہ: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔"
جہیز ایک ایسی معاشرتی لعنت ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ اس کے چند بڑے نقصانات درج ذیل ہیں:
➀ .*معاشی بوجھ اور قرض داری* :
غریب اور متوسِّط طبقے کے والدین معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز کا سامان تیار کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں اکثر اپنی جمع پونجی خرچ کرنا پڑتی ہے یا بھاری قرض لینا پڑتا ہے، جس کی ادائیگی میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں اسراف و تبذیر کی صراحتاً ممانعت وارد ہے۔
ارشادِ خداوندی ہے:﴿ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ﴾
ترجمہ:
"اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔"
(سورۃ بنی اسرائیل: 26-27)
➁ .*گھریلو تشدّد اور طلاق* :
بعض گھرانوں میں جہیز کو محبت اور تعاون کے بجائے لالچ اور استحصال کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کم جہیز لانے کی صورت میں لڑکی کو طعنے دیے جاتے ہیں، ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور بعض اوقات معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے۔
➂ .*جہیزی اموات اور خودکشیاں* :
بعض اوقات کم جہیز کی وجہ سے عورتوں کو زندہ جلایا جاتا ہے یا انہیں اس قدر ذہنی اذیت دی جاتی ہے کہ وہ خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ ظلم انسانیت کے ماتھے پر ایک سیاہ داغ ہے۔
➃ .*تاخیرِ شادی* :
غریب خاندان جو جہیز کا انتظام نہیں کر پاتے، ان کی بیٹیوں کی شادیاں وقت پر نہیں ہو پاتیں۔ اس وجہ سے کئی لڑکیاں ذہنی پریشانی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
➄ .*عورت کے حقِ وراثت کی پامالی* :
بعض والدین جہیز کو ہی بیٹی کی وراثت قرار دے کر ان کا شرعی حق دبا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں وراثت کا حصہ الگ مقرر کیا گیا ہے اور اسے ادا کرنا ضروری ہے۔
➅ .*معاشرتی برائیاں اور احساسِ کمتری:*
جہیز کی نمائش معاشرے میں طبقاتی فرق کو بڑھاتی ہے۔ غریب طبقہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور شادی جیسے مقدس عمل کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔
*جَہِیز کے مُطالبے کا شَرعی حُکم:*
الأحكام الشرعية میں ہے:
لَيْسَ الْمَالُ بِمَقْصُودٍ فِي النِّكَاحِ، فَلَا تُجْبَرُ الْمَرْأَةُ عَلَى تَجْهِيزِ نَفْسِهَا مِنْ مَهْرِهَا وَلَا مِنْ غَيْرِهِ، وَلَا يُجْبَرُ أَبُوهَا عَلَى تَجْهِيزِهَا۔
(لجنة إحياء التراث العربي، الأحكام الشرعية في الأحوال الشخصية على مذهب أبي حنيفة، ص: 39، 1400ھ)
فتاوى عالمگيري میں ہے:
الصَّحِيحُ أَنَّهُ لَا يَرْجِعُ عَلَى أَبِي الْمَرْأَةِ بِشَيْءٍ؛ لِأَنَّ الْمَالَ فِي النِّكَاحِ غَيْرُ مَقْصُودٍ۔
(ج: 1، ص: 328)
(4) اگر لڑکا یا اس کے اولیاء کے مطالبہ کے بعد لڑکی کے اولیاء نے جہیز و تلک دیا ہے تو یہ سامان اور رقم شرعاً رشوت کے درجہ میں ہے جس کا لینا دینا اور اس کے لئے واسطہ بننا سب حرام ہے۔ اور ازروئے حدیث ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ اس رقم و سامان کا سب واپس کرنا شرعاً واجب ہے۔
جیسا کہ" قنیہ " کے حوالہ سے علامہ شامی نے نقل کیا ہے۔
وَفِي الْقُنْيَةِ: الرِّشْوَةُ يَجِبُ رَدُّهَا وَلَا تُمْلَكُ۔
( رد المختار۔ ج: 4۔ ص: 304۔ مطبوعہ دیوبند)
" قنیہ " فقہِ حنفی کی مشہور کتاب میں ہے: "رشوت کا واپس کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کا لینے والا مالک نہیں بنتا۔"
( قنیہ: ج: 2 ۔ ص: 329)
اور ترمذی شریف میں ہے۔
قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ
۔(ج: 1۔ ص:200)
*اِسلام کی تعلیمات*:
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کے لیے آسانی، عدل اور رحمت کا پیغام لے کر آیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے نکاح کو نہایت آسان، پاکیزہ اور بابرکت عمل قرار دیا ہے تاکہ انسان گناہوں سے محفوظ رہے اور معاشرہ پاکیزگی و سکون کا گہوارہ بنے۔
قرآنِ مجید میں اللّٰه تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ﴾
“اللّٰه تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا۔”
اسلام نے نکاح میں تمام مالی ذمہ داریاں مرد پر رکھی ہیں۔
﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ﴾
“اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔”
(سورۃ النساء: 19)
اسلام شوہر کو حسنِ سلوک، محبت اور عدل کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ عورت پر مالی دباؤ ڈالنے کی۔
مہر ادا کرنا، بیوی کے اخراجات برداشت کرنا اور گھر کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے عورت یا اس کے والدین سے جہیز کا مطالبہ کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سادہ نکاح کی تلقین فرمائی اور فضول رسم و رواج سے بچنے کا حکم دیا۔
حضور علیہ السلام نے فرمایا:
“سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔”
رسول اللّٰه ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے نکاح میں بھی سادگی کو اختیار فرمایا، ہمارے معاشرے میں آج بہت سے لوگ جہیز کے جواز کے لیے رسول اللّٰه ﷺ کا اسوہ پیش کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه ﷺ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو جہیز دیا تھا۔
حالانکہ اس واقعہ سے جواز کا پہلو نکالنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کو رخصتی کے وقت جن گھریلو سامان کا انتظام کیا گیا تھا ان کو جہیز کہنا ہی درست نہیں ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اللّٰه ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں۔ آپؐ نے ان کو کوئی سامان نہیں دیا۔ حضرت فاطمہؓ کے لیے سامان کا انتظام اس غرض سے کیا گیا تھا کہ حضرت علیؓ آپؐ ہی کی پرورش میں تھے۔ ان کی مستقل علیحدہ سکونت کا انتظام نہ تھا اور حضرت علیؓ کے سرپرست بھی آنحضرت ﷺ تھے۔ اسی لیے آپ نے بحق ولایت ان کی ہی زرہ فروخت کرکے گھر کے ضروری سامان کا نظم و نسق کیا تھا اپنی طرف سے کچھ نہیں دیا تھا۔ جس کی صراحت سیرت کی کتابوں میں ملتی ہے۔
جس سے اُمّت کو یہ پیغام ملتا ہے کہ نکاح آسان ہونا چاہیے، نہ کہ بوجھ۔
اسلام میں جہیز کی کوئی لازمی شرط نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی رسم ہے جس نے نکاح جیسے مقدّس عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سادگی کو اپنائیں اور جہیز جیسی لعنت سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
*ہمارا کردار* :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ (المائدہ: 2)
ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
نبی آخر الزماں ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ"۔
( صحیح مسلم، ج:1)
ترجمہ:
"جو شخص تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اس سے نفرت کرے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"
امتِ محمدیہ کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے عظیم فریضے سے مشرف کیا گیا ہے۔ لہٰذا جہیز جیسی معاشرتی برائی کے خاتمے کے لیے صرف خاموش تماشائی بن جانا کافی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ کار میں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور معاشرے میں سادگیِ نکاح کو فروغ دینا چاہیے۔
جہیز جیسی لعنت کے خاتمے کے لیے صرف قانون بنانا کافی نہیں، بلکہ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر معاشرے کا ہر فرد اس برائی کے خلاف کھڑا ہو جائے تو اس ناسور کو آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے نوجوانوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ شادی کے لیے جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے اور سادگی کو اختیار کریں گے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں پر جہیز کے نام پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق سادہ نکاح کو فروغ دیں۔
علماء، اساتذہ، دانشوروں اور میڈیا کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں شعور بیدار کریں اور جہیز کی تباہ کاریوں سے آگاہ کریں۔ اگر معاشرہ مل کر اس رسم کا بائیکاٹ کرے تو بے شمار بیٹیوں کی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکتی ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ شادی کو آسان بنائیں، نمود و نمائش سے بچیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ عزت انسان کے اخلاق میں ہے، نہ کہ جہیز کے سامان میں۔
اس ناسور کو ختم کرنے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں "ہمارا کردار" درج ذیل نکات پر مشتمل ہونا چاہیے۔
➀ . *ذاتی عمل اور سادگی (شروعات اپنے گھر سے)*:
اپنے گھر کی شادیوں میں جہیز کا مطالبہ کرنے کے بجائے اسے سختی سے منع کریں۔
شادیوں کو شریعت کے اصولوں کے مطابق سادہ، پروقار اور بے تکلف بنائیں۔
➁. *سماجی بیداری اور شعور (آواز اٹھانا)*:
اپنے حلقۂ احباب اور رشتہ داروں میں جہیز کے نقصانات پر کھلے عام بات کریں۔
لوگوں کو سمجھائیں کہ جہیز کی لعنت کی وجہ سے کتنی ہی غریب بچیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور کئی خاندان قرضوں تلے دب جاتے ہیں۔
➂. *جہیز کا بائیکاٹ*:
اگر کسی جگہ جہیز کا مطالبہ یا کھلی نمائش ہو رہی ہو تو بطورِ احتجاج ایسی شادیوں میں شرکت سے گریز کریں۔ معاشرتی دباؤ کو مسترد (نامنظور) کریں اور ایسے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کریں جو بغیر جہیز کے شادیاں کرتے ہیں۔
➃.*قانونی اور سماجی اداروں کا تعاون*:
جہیز کے خلاف موجودہ حکومتی اور سماجی قوانین کا ساتھ دیں۔ اگر کہیں جہیز کے نام پر ہراساں یا تشدّد کیا جائے، تو مقامی حکام یا فلاحی اداروں سے رجوع کریں۔ متاثرہ خاندانوں کی قانونی اور سماجی مدد کی جانی چاہیے تاکہ مظلوم کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں انصاف و تحفظ کا احساس پیدا ہو۔
➄.*تعلیم اور تربیت (نوجوان نسل کا کردار)*:
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عہد کریں کہ وہ شادی کے موقع پر اپنے والدین پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خود کفیل بنائیں تاکہ ان کی عزت اور وقار جہیز کے مال و اسباب پر منحصر نہ ہو۔
؏ مطلب نہ رکھو بیٹیوں سے جہیز کا،
یہ معصوم دعاؤں سے گھر آباد کرتی ہیں؎
بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہمارے معاشرے کو جہیز جیسی ظالمانہ اور فرسودہ رسم سے مکمل نجات عطا فرمائے، نکاح کو آسان، بابرکت اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنانے کی توفیق مرحمت فرمائے، اور ہمیں ہر اس عمل سے محفوظ رکھے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔
*آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ*۔
*وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ*۔
*وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ أَجْمَعِیْنَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ*۔
═✤╬ تَــمَّــتْ بِــالْــخَــيْــرِ ╬✤═