🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Mubashira Fateen
07 Jun 2026
جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

1) تعارف :- جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "سامانِ سفر" کے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں یہ بیٹی کو رخصت کرتے وقت والدین کی طرف سے محبت کا ایک سادہ سا تحفہ تھا۔ مگر افسوس! آج کا مادی پرست معاشرہ اس پاکیزہ روایت کو مسخ کر چکا ہے۔
اب یہ ایک سنگین معاشرتی لعنت بن چکا ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بقول شاعر:
جہیز مانگنے والوں کو یہ بتا دینا
وہ ایک باپ تھا جو اپنی جان لایا تھا

2) غریب والدین پر ظلم

ہمارے معاشرے میں شادیاں اب میاں بیوی کے پاکیزہ رشتے کے بجائے، ایک تجارتی معاہدہ بن چکی ہیں۔ لڑکے والے سرِعام یا بالواسطہ طور پر قیمتی گاڑیوں، بنگلوں اور نقدی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس لالچ کا سب سے ہولناک اثر غریب والدین پر پڑتا ہے جو بیٹیوں کی شادی کے لیے سود پر قرضے لیتے ہیں یا زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دوسروں کا مال ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے:

{وَلَا تَاْكُلُوٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ}
"اور ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو۔" (سورۃ البقرہ: 188)

نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ظلم کے بارے میں فرمایا:
{اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ}
"ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔" (صحیح مسلم 6576)

3) جہیز کا دوسرا رخ: سسرال پر دباؤ اور بلیک میلنگ

اس ناسور کا ایک دوسرا رخ یہ ہے کہ امیر گھرانوں کی لڑکیاں اپنے ساتھ درجنوں ساز و سامان لے کر آتی ہیں، اور بعد میں اسی جہیز کو سسرال والوں پر رعب جمانے کا ہتھیار بنا لیتی ہیں۔

ایسی لڑکیاں بات بات پر اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں پر یہ دباؤ ڈالتی ہیں کہ: "میں نے جہیز میں یہ یہ اور فلاں قیمتی چیزیں لائی ہیں، آپ کی کیا اوقات ہے؟"۔ حد تو یہ ہے کہ اگر سسرال میں کوئی چیز ان کی پسند کے مطابق نہ ہو، تو وہ شوہر کے والدین کو بلیک میل کرتی ہیں کہ: "میں اپنا سارا سامان سمیٹوں گی اور آپ کے لاڈلے بیٹے کو آپ سے دور لے کر چلی جاؤں گی"۔

غرض یہ کہ جہیز نے اب صرف لڑکی کے والدین کو ہی پامال نہیں کیا، بلکہ اب یہ لڑکے کے بوڑھے والدین کو بھی نوجوان بیٹے کی جدائی کے ڈر سے سونے نہیں دیتا اسی طرح اپنے رعب اور ذہنی دباؤ تلے دبا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے تکبر اور احسان جتانے کی سخت مذمت فرمائی ہے:

{يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى}
"اے ایمان والو! اپنے صدقات (اور تحائف) احسان جتا کر اور دکھاوا کر کے ضائع نہ کرو۔" (سورۃ البقرہ: 264)

4) اسلام کا تصورِ شادی اور سادگی

دینِ اسلام زندگی کے ہر معاملے میں سادگی کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:
{إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً}
"سب سے زیادہ برکت والی شادی وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ اور سادگی ہو۔" (مسند احمد24529)

آپ ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ الزہراؓ کو رخصت کرتے وقت جو سامان دیا تھا، وہ انتہائی مختصر اور صرف ضرورت کے مطابق تھا۔ اسلام کے مطابق معاشی ذمہ داری مرد پر ہے، نہ کہ عورت کے گھر والوں پر:

{اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّـٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ ۚ }
"مرد عورتوں پر حاکم (نگران) ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔" (سورۃ النساء: 34)

عربی میں لالچ کی بنیاد پر شادی کرنے اور سسرال کے مال پر نظر رکھنے والے مردوں کی نفسیات پر یہ مقولہ بہت مشہور ہے:

"مَنْ تَزَوَّجَ المَرْأَةَ لِمَالِهَا قَلَّ، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِنَسَبِهَا ذَلَّ"

ترجمہ: "جس نے کسی عورت سے صرف اس کے مال (یا سسرال کی دولت) کی خاطر شادی کی، وہ ہمیشہ محتاج (کم تر) رہا، اور جس نے صرف بڑے نسب کے لالچ میں شادی کی، وہ (ان کے سامنے) ذلیل ہوا"۔

5) جہیز کے خاتمے میں لڑکے والوں کا اصل کردار

جب تک لڑکے والے اپنی سوچ نہیں بدلیں گے، یہ ناسور ختم نہیں ہو سکتا۔

لڑکے والوں کو درج ذیل باتوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا:

• کھلم کھلا انکار: شادی طے کرتے وقت لڑکی والوں کو واضح کہیں کہ ہمیں ایک روپے کا سامان یا جہیز نہیں چاہیے۔

• فرضی رسومات کا خاتمہ: منگنی، مایوں اور مہندی کے نام پر قیمتی کپڑوں اور زیورات کا دباؤ ڈالنا بند کریں۔

• بارات کے اخراجات سے گریز: ہزاروں لوگوں کی بارات لے جا کر لڑکی والوں کو لاکھوں کے اخراجات تلے نہ دبائیں، بلکہ سادگی سے نکاح کریں۔

• انسان کی قدر: یہ سمجھیں کہ وہ اپنے گھر کے لیے کوئی فرنیچر نہیں خرید رہے، بلکہ ایک انسان کو گھر کا حصہ بنا رہے ہیں۔

• غیرتِ مردانگی: کسی کے بوڑھے باپ کی کمائی پر نظر رکھنا مردانگی نہیں بلکہ بے غیرتی ہے۔

6) ہمارا کردار اور ذمہ داریاں

اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے:

نوجوانوں کا کردار: نوجوان لڑکوں کو سب سے پہلے آگے آنا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ بغیر کسی فرمائش یا جہیز کے سادگی سے نکاح کریں گے۔

والدین کی سوچ میں تبدیلی: لڑکوں کے والدین کو اپنی لالچ ختم کرنی چاہیے اور لڑکی کو "رحمت" سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ دولت کا ذریعہ۔

سماجی بائیکاٹ: معاشرے میں ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے جہاں جہیز کی نمائش کی جاتی ہے یا بڑی رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

علمائے کرام کا کردار: مسجد کے آئمہ اور علماء کو جمعہ کے خطبات میں اس لعنت کے خلاف کھل کر بات کرنی چاہیے تاکہ لوگوں کی ذہنیت بدلے۔

7) خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہیز ایک دو دھاری تلوار بن چکا ہے جو دونوں طرف سے خاندانی نظام کو کاٹ رہا ہے۔ یہ جہاں غریب کے لیے موت کا پیغام ہے، وہاں امیر کے لیے تکبر اور رشتوں میں دراڑ کا سبب ہے۔ اس لعنت کو ختم کرنے کی چابی لڑکے والوں کے ہاتھ میں ہے۔ جب لڑکے والے لالچ چھوڑ کر غیرت اور سادگی کا مظاہرہ کریں گے، تو لڑکی والوں کا رعب اور غریب والدین کا خوف دونوں خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو جہیز کے بھاری سامان کے بجائے تعلیم اور اچھے اخلاق
کا زیور دینا چاہیے۔

"اے ہمارے پروردگار! ہمارے معاشرے کو جہیز کے ناسور اور لالچ سے پاک فرما۔ مردوں کو خودداری اور حلال رزق کمانے کی توفیق دے تاکہ وہ سسرال کے مال پر نظر نہ رکھیں۔ ہماری بیٹیوں کے نصیب اچھے فرما اور ہمیں شریعتِ محمدیؐ کی سادگی اپنانے کی توفیق عطا کر۔ آمین یا رب العالمین!"

از قلم:- مبشرہ فطین الماسی صدیقی بنت محمد مدثر
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.