عنوان
جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
جہیز ایک معاشرتی ناسور :
آج کل لوگ شادیوں پر بے تحاشا مال خرچ کرتے ہیں اور بیٹیوں کو زیادہ سے زیادہ جہیز دیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ "شادی ایک ہی بار ہوتی ہے"، اس لیے زیادہ خرچ کرنا مناسب ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شادی ایک بار نہیں بلکہ بار بار آتی ہے، کیونکہ ایک شخص کے کئی بیٹے اور بیٹیاں ہوتے ہیں اور سب کی شادیاں کرنی ہوتی ہے، تو معلوم ہوا کہ شادی ایک بار نہیں بلکہ بار بار آتی ہے، انسان زندگی بھر کی جمع کی ہوئی پونجی ایک دن لگا دیتا ہے، اس کے بعد دوسری شادیوں کے اخراجات کے لیے دوبارہ جد و جہد اور بعض اوقات قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے ۔
جہیز: اسلامی تعلیمات کے خلاف ایک غیر شرعی رسم:
جہیز درحقیقت اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں بلکہ برصغیر میں رائج ایک قدیم ہندوانہ رسم ہے جسے ہندو معاشرے میں "دان" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندو مذہبی و معاشرتی نظام میں عموماً بیٹی کو باپ کی وفات کے بعد وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا، اس لیے شادی کے وقت اسے کچھ مال و اسباب دے کر گویا خاندان کی جائیداد سے اس کا آخری تعلق ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز وہاں ایک معاشرتی روایت کی حیثیت اختیار کر گیا۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان اس رسم کو کیوں اختیارکرتے ہیں، جبکہ اسلام نے عورت کو وہ مقام اور حقوق عطا کیے ہیں جو دنیا کے بہت سے نظاموں میں اسے حاصل نہیں تھے؟ اسلام نے بیٹی، ماں، بیوی اور بہن سب کے لیے وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر فرمایا ہے۔ بلکہ بعض صورتوں میں عورت کا حصہ مرد کے حصے سے زیادہ بھی ہو جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عورت کے مالی حقوق خود متعین فرما دیے ہیں تو پھر مسلمانوں کو ہندوانہ رسمِ جہیز کی کیا ضرورت ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ جہیز تو بڑے اہتمام سے دیتے ہیں، لیکن بیٹیوں کو ان کا شرعی وراثتی حق دینے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ بعض اوقات مکمل طور پر محروم کر دیا جاتا ہے اور کبھی ایسا معمولی حصہ دیا جاتا ہے جو شریعت کے مقرر کردہ حق کے برابر نہیں ہوتا۔ گویا وراثت کے فرض کو چھوڑ کر جہیز کی رسم کو اختیار کر لیا گیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جہیز کا حکم نہیں دیا بلکہ میراث کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے..."
(سورۃ النساء: 11)
اور میراث کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا:
﴿وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾
"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے، اللہ اسے ایسی آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔"
(سورۃ النساء: 14)
لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جہیز جیسی غیر شرعی رسموں کے بجائے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وراثتی نظام کو نافذ کریں۔ بیٹیوں کو جہیز کے نام پر چند سامان دینے کے بجائے ان کا شرعی حق ادا کریں، کیونکہ عزت اور نجات رسموں کی پیروی میں نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنے میں ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس چیز کا حکم اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا، یعنی جہیز، اس میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، لیکن جس چیز کا اللہ نے واضح حکم دیا ہے، یعنی بیٹیوں کو وراثت میں ان کا شرعی حصہ دینا، اس سے انہیں محروم کر دیا جاتا ہے۔ جہیز کا رواج پہلے محدود تھا، مگر آج یہ ایک رسم ہی نہیں بلکہ باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے جہیز کا حکم نہیں دیا بلکہ میراث کو فرض قرار دیا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے:
﴿لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾
"عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔"
(النساء: 7)
لہٰذا بیٹیوں کو جہیز کے نام پر چند سامان دے کر ان کے شرعی حقِ وراثت سے محروم کرنا ایک سنگین ناانصافی اور اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔
جہیز کی شرعی حیثیت:
جہیز نہ کوئی شرعی حکم ہے اور نہ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی تاکید ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چاروں صاحبزادیوں (حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت اُم کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ) کے نکاح فرمائے، لیکن کسی موقع پر موجودہ رائج معنوں میں جہیز دینا ثابت نہیں۔ اسی طرح صحابۂ کرامؓ کے دور میں بھی اس رسم کا کوئی وجود نہیں ملتا۔
حضرت محمد ﷺ نے اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہؓ کو چند چیزیں عطا فرمائیں ، وہ حسبِ ذیل ہیں:
ایک چارپائی ، ایک چادر، ایک تکیہ ریشہ بھرا ہوا ، ایک چکی ، ایک مشکیزہ اور دو مٹکے وغیرہ ۔ (البدایہ والنہایہ ص 337)
اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ یہ ساری چیزیں ، جو حضرت محمد ﷺ نے حضرت علیؓ کی ایک چادر (زرہ) فروخت کرکے خریدی تھیں، گویا یہ سامان حضرت علیؓ کی رقم سے تیار ہوا، حضرت فاطمہؓ کے جہیز کی اصل حقیقت یہ ہے ۔
"اس کا ہمارے مروجہ جہیز سے تقابل کیا جائے تو دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ لہٰذا اس سے مروجہ جہیز کا جواز یا اثبات ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔"
افسوس کہ آج جہیز کو نکاح کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ والدین کی نہ مالی حیثیت دیکھی جاتی ہے نہ ان کی مجبوری، بس مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ جہیز بھرپور ہونا چاہیے۔ نتیجتاً بہت سے لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور بے شمار لڑکیاں صرف جہیز کی لعنت کی وجہ سے شادی سے محروم رہ جاتی ہیں۔
شریعت کا معتدل موقف یہ ہے کہ اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق بیٹی کو کچھ تحفہ دینا چاہیں تو یہ جائز ہے، لیکن اس میں معاشرتی دباؤ، لڑکے والوں کا مطالبہ، یا وراثت سے محروم کرنے کا پہلو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
جہیز میں تین باتوں کا لحاظ رکھنا چاہیے:
اول: اختصار کہ گنجائش سے زیادہ تردد نہ کرو۔
دوسرے: ضرورت کا لحاظ کہ جن چیزوں کی سرِدست ضرورت ہو وہ دینا چاہیے۔
تیسرے: اعلان و اظہار نہ ہونا چاہیے۔
کیونکہ یہ تو اپنی اولاد کے ساتھ احسان و سلوک ہے دوسروں کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ ( بہشتی زیور)
تصرف کی ممانعت:
یہ بھی یاد رہے کہ جہیز یا تحفے میں دی گئی تمام اشیاء عورت کی ذاتی ملکیت ہیں۔ شوہر یا سسرال والوں کو اس میں بلا اجازت تصرف کا حق نہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾
"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔"
(البقرۃ: 188)
جہیز کے بے شمار نقصانات:
جہیز کی لعنت کی وجہ سے معاشرے میں لاکھوں لڑکیاں اپنے والدین کے گھروں میں اپنی قسمتوں پر رو رہی ہیں اور دعائیں کر رہی ہیں کہ اے اللہ! کوئی ایسا وقت بھی ہوگا کہ ہم اپنا گھر بسائیں گے۔
چند نقصانات ملاحظہ فرمائیں:
• انسان بیٹی بھی دے اور گھر بھی لٹا دے، یہ عقلاً ، شرعاً اور اخلاقاً غلط ہے۔
• جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں، شادی اور اولاد کے لطف سے محروم رہ جاتی ہیں۔
• والدین یا بھائی جہیز کی وجہ سے پریشان اور ذلیل ہوتے ہیں۔
• جہیز کی وجہ سے کتنے گھر اُجڑ گئے، کتنے بد حال ہوگئے، جہیز کے فساد فی الارض ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
• آج سسرال سے بھیک مانگ رہے ہیں، کل اپنی بیٹیوں کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی، جیسا کروگے ، ویسا بھروگے۔
اللہ پاک کا فرمان ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ﴾
"اللہ تعالیٰ انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔"
(سورۃ النحل:90)
اس کا فرض تھا کہ سسرال کے احسان کے بدلہ میں احسان کرتا، لیکن یہ اُلٹا جہیز مانگتا ہے، جو کہ موجودہ دور کا بہت بڑا فتنہ ہے ،جس نے بے شمار گھروں کو اُجاڑ دیا ہے۔
والدین کو بھکاری بنانے والی سماج کی لعنت جہیز ہے، احادیث نبویہ میں بھیک مانگنے کو بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
جہیز کو روکنے میں ہمارا کردار :
جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات سے آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی اس لعنت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ نہ ہم جہیز لیں گے اور نہ ہی اپنی بیٹیوں پر جہیز کا بوجھ ڈالیں گے۔ ہم اپنی شادیوں اور اپنے خاندان کی شادیوں کو سادہ، آسان اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنانے کی کوشش کریں گے۔ فضول رسم و رواج، بے جا اخراجات اور نمود و نمائش سے بچیں گے اور دوسروں کے لیے ایک عملی مثال بنیں گے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا﴾
"بیشک فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔"
(سورۃ الإسراء: 27)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام فضول خرچی اور بے جا اخراجات کو ناپسند کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں شادی بیاہ کے معاملات میں قرآن کے اس عظیم پیغام کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔"
(مسند احمد)
یہ حدیث ہمیں سادگی اختیار کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ جب ہم نکاح کو سادہ بنائیں گے تو جہیز جیسی برائی خود بخود ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔
جہیز کے خاتمے میں ہمارا کردار یہ ہے کہ:
• ہم اپنے خاندان میں جہیز لینے اور دینے سے انکار کریں۔
• سادہ اور سنت کے مطابق نکاح کو فروغ دیں۔
• شادیوں میں نمود و نمائش اور فضول رسومات سے بچیں۔
• دوسروں کے لیے عملی نمونہ بنیں۔
• نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں۔
• معاشرے میں جہیز کے خلاف شعور بیدار کریں۔
ہمیں ہمیشہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم ایسی شادی تو نہیں کر رہے جس سے ہمارا رب ہم سے ناراض ہو جائے۔ بسا اوقات ہم لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنے اللہ کو ناراض کر بیٹھتے ہیں، حالانکہ ایک مسلمان کی اولین ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کی خوشنودی۔
اگر ہم سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سادہ اور آسان نکاح کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوگا، ہمارے نکاح میں برکت عطا فرمائے گا، محبت اور سکون پیدا کرے گا، اور ہمارا معاشرہ جہیز جیسی لعنت سے پاک ہو سکے گا۔
"جہیز کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ضمیر کا زندہ کرنا ضروری ہے، اور معاشرے کی حقیقی اصلاح اس دن شروع ہوگی جب ہر شخص یہ اعلان کرے گا: "میں جہیز نہیں لوں گا، چاہے سارا معاشرہ ہی کیوں نہ لے رہا ہو۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے اور جہیز، فضول خرچی اور غیر اسلامی رسومات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین ۔