🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Anas Khan
07 Jun 2026
موضوع: جہیز — ایک سماجی ناسور
معاشرہ انسانوں کے باہمی تعلقات، اخلاقی اصولوں اور تہذیبی روایات سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر یہ تعلقات عدل، محبت، احترام اور سادگی پر قائم ہوں تو معاشرہ ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہتا ہے، لیکن جب انہی تعلقات میں غیر ضروری رسم و رواج، دکھاوا، لالچ اور سماجی دباؤ شامل ہو جائے تو یہی معاشرہ زوال، بے چینی اور ناانصافی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک خطرناک اور تباہ کن رسم "جہیز" ہے جو آج کے دور میں ایک سنگین سماجی ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
جہیز سے مراد وہ مال و اسباب، نقدی، زیورات اور گھریلو اشیاء ہیں جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی استطاعت یا معاشرتی دباؤ کے تحت دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک محبت بھرا تحفہ محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا سماجی دباؤ بن چکا ہے جس نے شادی جیسے مقدس بندھن کو لین دین، مقابلے اور نمائش کی دوڑ میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج یہ رسم محبت کی علامت نہیں رہی بلکہ ایک مجبوری اور سماجی معیار بن چکی ہے۔
جہیز کا تاریخی اور سماجی پس منظر
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف معاشروں میں جہیز کی مختلف شکلیں موجود رہی ہیں۔ بعض قدیم معاشروں میں اسے لڑکی کی نئی زندگی کے آغاز میں سہولت کے طور پر دیا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے گھر کی ضروریات آسانی سے پوری کر سکے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس تصور میں بگاڑ پیدا ہوا۔
برصغیر میں جاگیردارانہ نظام، طبقاتی تفاخر اور سماجی مقابلے کی فضا نے اس رسم کو مزید مضبوط کیا۔ شادی جو دراصل محبت، اعتماد اور رشتوں کے احترام پر مبنی ایک مقدس بندھن ہے، اسے آہستہ آہستہ ایک مالی لین دین اور اسٹیٹس سمبل بنا دیا گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ رشتہ دیکھتے وقت لڑکی کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے اس کے جہیز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جو ایک افسوسناک سماجی زوال کی علامت ہے۔
معاشی اثرات: غربت اور قرض کا بوجھ
جہیز کا سب سے بڑا نقصان معاشی دباؤ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات وہ قرض لیتے ہیں، زمینیں بیچتے ہیں یا اپنے ضروری اخراجات کم کر دیتے ہیں تاکہ معاشرتی دباؤ کا سامنا کر سکیں۔
یہ صورتحال ایک خاندان کی معاشی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔ شادی کی خوشی ایک طرف ہوتی ہے اور دوسری طرف قرضوں، پریشانیوں اور معاشی تنگی کا طوفان ہوتا ہے جو برسوں تک ان خاندانوں کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
نفسیاتی اور جذباتی اثرات
جہیز کا دباؤ صرف جیب تک محدود نہیں رہتا بلکہ ذہن اور دل پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ والدین ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ معاشرتی توقعات کے مطابق جہیز فراہم کر سکیں گے یا نہیں۔ یہ مسلسل اضطراب ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔
لڑکی بھی اکثر اس دباؤ کو محسوس کرتی ہے کہ کہیں وہ اپنے والدین کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔ یہ احساس اس کی نفسیات پر منفی اثر ڈالتا ہے اور اس کی زندگی میں غیر ضروری پریشانی پیدا کرتا ہے۔
لڑکی کی تذلیل اور صنفی ناانصافی
جہیز نے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ کو جنم دیا ہے کہ لڑکی ایک ذمہ داری یا بوجھ ہے۔ بعض گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو خوشی کے بجائے پریشانی سمجھا جاتا ہے، جو کہ ایک غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویہ ہے۔
یہ رویہ نہ صرف لڑکی کی عزتِ نفس کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی انصاف کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جب انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے مال سے کی جانے لگے تو یہ معاشرے کی اخلاقی پستی کی واضح علامت ہوتی ہے۔
ازدواجی زندگی پر اثرات
جہیز کے اثرات شادی کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے بلکہ ازدواجی زندگی میں مسلسل مسائل پیدا کرتے ہیں۔ کم جہیز کی صورت میں لڑکی کو طعن و تشنیع، حقارت اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ رویہ ایک نئے رشتے میں محبت، اعتماد اور سکون کے بجائے تلخی، بداعتمادی اور تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ کئی گھرانوں میں معمولی باتیں بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں اور بعض اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ یوں ایک غلط رسم کئی گھروں کی خوشیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
مذہبی اور اخلاقی پہلو
مذہبی تعلیمات کی روشنی میں جہیز کی کوئی لازمی حیثیت نہیں۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے، سادگی اختیار کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی سخت تاکید کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو"۔
اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں جہیز کو عزت، حیثیت اور معیار سے جوڑ دیا گیا ہے، جو نہ صرف دینی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
سماجی دکھاوا اور مقابلے کی دوڑ
آج کا معاشرہ دکھاوے اور مقابلے کی نفسیات میں مبتلا ہے۔ شادیوں میں سادگی کے بجائے مہنگا جہیز، بڑی تقریبات اور غیر ضروری اخراجات کو عزت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
یہ رجحان نہ صرف معاشی دباؤ بڑھاتا ہے بلکہ معاشرتی عدم توازن کو بھی بگاڑ دیتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، جس کا نتیجہ قرض، پریشانی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔
جہیز کے خاتمے کے عملی اور مؤثر حل
1. قانونی اقدامات
حکومت کو چاہیے کہ جہیز کے مطالبے کو ایک قابلِ سزا جرم قرار دے۔ ایسے قوانین بنائے جائیں جن پر سختی سے عمل درآمد ہو تاکہ کوئی شخص اس برائی کو فروغ نہ دے سکے۔
2. دینی و اخلاقی اصلاح
علماء کرام اور مذہبی رہنما نکاح میں سادگی اور جہیز کی ممانعت کو واضح طور پر بیان کریں۔ مساجد اور خطبات میں اس موضوع کو اجاگر کیا جائے۔
3. تعلیمی اصلاح
نصاب میں اخلاقی تعلیمات اور سماجی برائیوں کے ابواب شامل کیے جائیں تاکہ نئی نسل شروع ہی سے اس سوچ سے محفوظ رہے۔
4. میڈیا کی ذمہ داری
ڈراموں، اشتہارات اور پروگراموں میں جہیز کی حوصلہ افزائی کے بجائے سادہ شادیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ عوامی سوچ بدلے۔
5. معاشرتی بائیکاٹ
معاشرے کو چاہیے کہ ایسے خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے جو جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ یہ رویہ خود بخود کم ہو۔
6. انفرادی عزم
ہر فرد کو خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اگر ہر گھر یہ فیصلہ کرے کہ وہ نہ جہیز لے گا اور نہ دے گا تو یہ رسم چند سالوں میں ختم ہو سکتی ہے۔
اختتامیہ
جہیز ایک ایسا سماجی ناسور ہے جو ہمارے معاشرے کی اخلاقی، معاشی اور انسانی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ رسم نہ صرف غربت بڑھاتی ہے بلکہ انسانیت کی توہین بھی کرتی ہے۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب، خوشحال اور انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ سادگی، محبت اور اخلاص کو اپنائے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
حتمی پیغام یہی ہے:
جہیز نہیں، سادگی اپناؤ —
انسان کو عزت دو، دولت کو نہیں۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.