بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنوان : ”جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار“
تمہید : جہیزہندوستانی لغت میں گدائی یا مفت خوری کاہم معنی بن چکا ہے جو ایک ایسی قوم کے شایانِ شان ہرگز نہیں ہوسکتی جس کا ایمان ایک زندہ خدا اور ایک زندہ کتاب پر ہے۔ یہ ایک ایسا زہریلا انجکشن ہے جو ہمارے معاشرے کے بیشتر افراد کو موت کی نیند سلا چکا ہے۔ اس کی زہرناکی سے بے شمار خاندان جاں بلب ہوچکے ہیں۔ اس اعتبار سے ہندوستانی مسلمان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسلامی نظام تو دوسری طرف جاہلی نظام، ایک طرف زندگی تو دوسری طرف موت۔ یہ موت صرف افراد کی نہیں بلکہ قوموں اور ملّتوں کی موت ہے۔ بہر حال انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس نظام کو چاہے پسند کرے۔
ہمارے ملک ہندوستان میں جہیز یا Dowry اس ساز و سامان کوکہتے ہیں جو لڑکی شادی کے بعد اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہوتے وقت لے کر اپنے نئے گھر جاتی ہے۔
موجودہ دور میں ہزاروں نوبیاہتا لڑکیاں اس کی بھینٹ چڑہائی گئی ہیں۔ یہ لعنت صدیوں سے رائج ہے۔ آج بھی لڑکیوں کو جہیز نہ لانے یا کم لانے کی صورت میں انھیں یا تو گلا کھونٹ کرمار دیا جاتا ہے یا انھں نذرِ آتش کردیا جاتا ہے۔نتیجہ لاکھوں دوشیزائیں بن بیاہی اپنے گھروں میں بیٹھی رہ گئی یا اس ظالم سماجی رسم کی وجہ سے اپنی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنالیا۔
لہٰذا اس رواج کے خلاف اعلانِ جہاد کرنا ہر کسی کا اہم ترین اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ نے منکرات (برائیوں) کو مٹانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اس میدان میں ہمارے طبقہ کے دیندار اور صالح نوجوانون کو آگے آکر اس سماجی وبا کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کرنا چاہیئے۔
لفظ جہیز کے معنی اور تصورجو ہمارے معاشرے میں چل پڑا ہے اس کا نہ کوئی شرعی ثبوت ہے اور نہ عربی زبان و ادب میں، نہ عربی معاشرے میں یہ لفظ مُروّج ہے۔ معنی و مفہوم کے لحاظ سے عربی میں ایک لفظ ”جھاز“ مستعمل ہے، جو جیم کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ اگرچہ کہ یہ لفظ عربی زبان کا معلوم ہوتا ہے مگر عربی میں مستعمل نہیں ہے۔ بہرحال عربی میں لفظ ”جھاز“کے حسبِ ذیل معنی آتے ہیں۔ جَھاز العروس:دلہن کی ضرورت کی چیزیں
جھاز المسافر:مسافر کی ضرورت کی چیزیں
جھاز الجیش:فوج کی ضرورت کی چیزیں
جھاز ا لمیت: میت کی ضرورت کی چیزیں (لسان عرب)
یعنی ”جہاز“ وہ سامان ہے جو اس کے لئے ضروری ہو کے معنی میں آتا ہے۔
اسی معنی میں سورہ یوسف میں آیا ہے:
فلما جھزھم بجھازھم: جب یوسفؑ نے ان کا سامان تیار کر دیا۔ (سورہئ یوسف:۰۷)
جہیز کا غلط مفہوم اور رواج جو چل پڑا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ شایدہی دنیا کے کسی اور ملک میں پایاجاتا ہو۔اس کے برعکس سعودی عرب میں جہیز لڑکے یا دولہا کو فراہم کرنا پڑتا ہے۔ لڑکا جب تک ایک پرتکلف، تمام ضروریاتِ زندگی سے آراستہ گھر کا انتظام نہیں کرلیتا، اس وقت تک وہ اپنی شادی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
شرعی اعتبار سے لڑکے والوں کو جہیز کا مطالبہ کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے کا ناحق مال کھانے سے منع کیا گیا ہے۔
ارشادِ باری ہے:
سورہ النساء آیت نمبر ۹۲: ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
سورہ بقرہ آیت نمبر ۸۸۱: ترجمہ: اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ۔
بعض حدیثوں میں مذکور ہے کہ تم پر آپس میں ایک دوسرے کا خون، ایک دوسرے کا مال اور ایک دوسرے کی آبرو حرام ہے۔ (بخاری، مسلم)
نیز اسی طرح مانگنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ خواہ وہ بھیک مانگے یا جہیز دونوں برابرہیں۔
ایک اور حدیث میں مذکور ہے: فرمایا رسولؐ اللہ نے، سوال کرنا کسی مالدار یا تندرست شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔
نکاح کے لئے مال خرچ کرنا عورت یا لڑکی والوں کا کام نہیں بلکہ مرد کا ذمہ ہے۔اس کے برعکس مرد کو شرعی اعتبار سے ایک قابلِ لحاظ رقم نکاح کے فوراً بعد عورت سے تمتع کرنے کے لئے واجب الادا ہوتی ہے، وہ ہے مہر۔ یہ رقم عورت کو دینا فرض ہے۔ اور قرآن مجید میں کئی جگہ اس کی تاکید کی گئی ہے۔
مہرادا کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اسلامی شریعت کا لازمی جزو ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
سورہ النساء آیت نمبر۴: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔
سورہ النساء آیت نمبر ۴۲: پھر جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ (یعنی نکاح کرو)تو ان کا مقرر کیا ہوا مہر بطورِ فرض انھیں ادا کرو۔
مہر عورت کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے تاکہ اسے مالی تحفظ حاصل ہوسکے۔ مہر عورت کے احترام اور اس کی رضامندی کی علامت ہوتا ہے۔ یہ ایک واجب الادا فرض ہے تاکہ عورت کی مالی و سماجی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔اور نکاح محض ایک رسمی معاہدہ نہ رہے۔
اس کو زیادہ ٹال مٹول کر نے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے یہاں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مہر صرف طلاق یا موت پر ادا کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس رقم کو زیادہ تر مرد یا تو ادا نہیں کرتے یا پھر معاف کروالیتے ہیں۔ یا مرنے کے بعد رشتہ دار بخشوا دیتے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ وہ قوم جو اصلاحِ عالم کے لئے وجود میں آئی وہی جہیز جیسے خرافات میں مبتلا ہو کر رہ گئی۔ شادی کے بعد ولیمہ مسنون ہے۔ لڑکی چاہے کتنی ہی مالدار کیوں نہ ہو اس پر کوئی مالی بوجھ عائد نہیں ہوتا۔ لڑکی کا نان و نفقہ لڑکے پر واجب ہوتا ہے۔
لالچی اور حریص مرد جوڑا جہیز کے نام پر مختلف مطالبات کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ اپنی بے گناہ اور نیک سیرت شریکِ حیات کو طرح طرح سے اذیتیں دینے میں ذرا بھی عار نہیں سمجھتے۔یہ مرد کی شرافت اور مردانگی کے خلاف ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس ذلیل حرکت پر ایک کمزور اور نیک خصلت بیوی پر ہاتھ اٹھانا بزدلی کی انتہا ہے۔ آج کل اس غلط رسم و رواج کا افسوس ناک پہلو ان لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جو زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ جس کی ڈگری جتنی اونچی اس کے ”دام“ بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم کی بدولت انسان میں سمجھ داری اور روشن خیالی آنی چاہیئے تھی۔لہٰذا ان کی نظر میں لڑکی کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی کہ مال و دولت کی ہوتی ہے۔
وہ امت جو دوسروں کے لئے نمونہ تھی وہ خود اس خرافات کا شکار ہوگئی تو پھر سماجی برائیوں کی اصلاح کون کرے؟؟
حضرت فاطمہ ؓ کا جہیز کیاتھا؟ سرکار دوعالم ﷺ نے اپنی لختِ جگر کورخصتی کے وقت جو چیزیں عنایت فرمائی تھیں وہ نہایت درجہ معمولی تھیں جو جہیز کی تعریف میں نہیں آتیں۔ یہ چیزیں بھی وہ اپنی طرف سے نہیں دی تھیں بلکہ حضرت علی سے مہر معجل(وہ مہر جو فوری طور پر ادا کر دیا جاتاہے) لے کر خریدوائی گئی تھیں۔دراصل حضرت علیؓ کے پاس ایک ذرہ تھی، جسے انھوں نے بطورِ مہرِ معجل رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر کردیا۔ (دور رسالت کے رواج کے مطابق نکاح سے پہلے سونا یا کوئی چیز بطور مہر پیش کرنا ضروری تھا، جیسا کہ متعدد احادیث سے اس پر روشنی پڑتی ہے)۔چنانچہ حضورؐ نے اس کو فروخت کرنے کا حکم دیا۔اس سے حاصل رقم سے انھوں نے ان چیزوں کا انتظام کروایا۔اس میں ایک چادر، ایک مشک، ایک بستر اور تکیہ تھا جس میں (اذخر نامی) گھاس بھری ہوئی تھی۔ حضور ﷺ کی اور بھی بیٹیاں تھیں انھیں اس طرح کا کوئی سامان نہیں دیا گیا تھا۔ چونکہ آپ ؐ،حضرت علیؓ کے سرپرست اور پروردہ تھے اور آپ ؐ کے ساتھ ہی رہتے تھے، اس ناطے انھوں نے کچھ نہ کچھ انتظام کردیا تھا۔
خاتونِ جنت کی شادی اور رخصتی کس سادگی سے عمل میں آئی وہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ فاطمہؓ کو تیار کرکے علیؓ کے پاس پہنچا دیں۔لہٰذا ہم گھر گئے اور اس میں بطحاء کی نرم مٹی بچھائی (وہی فرش تھا)۔ پھر ہم نے دو تکئے رکھ دیئے جن میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ ان کو ہم نے ہاتھ سے ٹھیک کیا۔پھر ہم نے (ولیمے میں) کھجور اور منقی کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ پھر ہم نے ایک لکڑی لے کر اسے کمرے میں ایک طرف لگا دیا تاکہ اس پر کپڑے ڈالے جاسکیں اور مشک وغیرہ لٹکایاجاسکے۔ تو ہم نے فاطمہؓ کی شادی سے اچھی کوئی شادی نہیں دیکھی۔ اللہ اکبر! حد ہو گئی سادگی کی۔ پھر ان دونوں کا یہ کہنا کہ ہم نے اس سے بہتر شادی نہیں دیکھی کیا معنی رکھتا ہے؟؟
اس طرزِ عمل میں موجودہ دور والوں کے لئے ایک عبرت ہے وہ یہ کہ آپؐ نے داماد کو کچھ نہیں دیا۔ نہ جوڑا، نہ گھوڑا، نہ اونٹ، نہ سونا، نہ چاندی اور داماد نے بھی اپنے سسر سے کچھ مطالبہ نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ شریعت کی نظر میں اس قسم کے مطالبات ناجائز اور حرام ہیں۔ مرد اپنی عیاشیوں کے لئے ناجائز طریقوں سے لڑکی والوں کو لوٹتے ہیں۔ دراصل یہ ڈاکو ہیں جو دن دھاڑے سینہ ٹھوک کر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں۔ یہ ایک جونک کی طرح ہیں جو لڑکی والوں کا خون جوستے رہتے ہیں۔
غرض اسلام میں جہیز کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اگر اہمیت ہے تو مہر کی ہے۔ جو آج کے دور میں جہیز نقد اور مہر ادھار ہو کر رہ گیا ہے۔
نکاح کے بعد ولیمہ کرنا لڑکے کا ذمہ ہے نہ کہ لڑکی کے۔ ولیمہ میں ضروری نہیں کہ گوشت اور روٹی ہی کھلائی جائے بلکہ صرف کجھورکھلا دینا یا شربت وغیرہ پلا دینا بھی کافی ہے۔ایک حدیث کے مطابق
شادی انتہائی سادگی اور اپنی بساط کے مطابق کرنی چاہئے۔
آج ہم اپنی بد عملی کے باعث خواہ مخواہ ایک اچھی چیز کو اسراف اور فضول خرچی کی بنا پر رحمت کو زحمت بنالیا ہے۔ شادی دیگر ضروریاتِ زندگی کی طرح بالکل ایک آسان سی چیز ہے۔ شریعت میں شادی کی رسومات اور اخراجات کو کم سے کم رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
غرض ہماری سعادت اور خوش بختی اسی میں ہے کہ ہم اسلام کی عطا کردہ اس سادگی کو ایک رحمت سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اور ساری دنیا کو روشنی کی نئی راہ دکھائیں۔
اس بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کے لئے اللہ کے صالح بندے آگے بڑھ کر آئیں۔ انشاء اللہ آسانیاں خود بخود پیدا ہوجائیں گی۔
اس کے لئے نئے خون اور ایک نئی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔
ہم اسوہ رسول اللہؐ کو اپنا کر اس جھوٹی شان و شوکت اور جھوٹے وقار اور نمائش کو ترک کریں۔ اسی میں امیر غریب سب کی سعادت اور بھلائی کا سامان موجود ہے۔ ورنہ اس میں پوری قوم و ملت کی تباہی ہے۔
جہیز ایک سماجی ناسور ہے اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے۔جب تک نوجوان منظم طریقے سے اس کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔کیونکہ محض تقریروں اور اپیلوں سے کوئی سدھار نہیں آسکتا۔
سماج کے اس رستے ہوئے ناسور کو بند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان آگے آئیں۔
شہر شہر، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں ایک مخالف جہیز کمیٹی قائم کی جائے۔
باہمی صلاح و مشورے سے لائحہ عمل مرتب کریں۔
ہر محلے کے ذمہ دار اور بارسوخ لوگوں کی سرپرستی میں نوجوانوں کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔
اس راہ میں وہی نوجوان آگے بڑھ سکتے ہیں جو بذاتِ خود جہیز نہ لینے کا عہد کر رکھے ہوں۔
اسلامی قانون کی روح کو مدِنظر رکھتے ہوئے نکاح، جہیز وغیرہ کے سلسلے میں چند قواعد و ضوابط وضع کئے جائیں۔
اسلامی قوانین کو اپنے اپنے محلوں میں سختی سے نافذ کئے جائیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔
بہرحال یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔ ورنہ جہیزجیسے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔
یہ ایک سرطان کی طرح پورے معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
ہمارے قائدین کوچاہیئے کہ نوجوانون کی ہمت افزائی کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھائیں۔ کیونکہ اس تحریک کی کامیابی کے لئے ”گرم خون“کی ضرورت ہے۔
واعظ و نصیحت اور تقریریں بہت ہوچکی، جب تک قوانین وضع نہ کئے جائیں اصلاح ہونی مشکل ہے۔
مختصر یہ کہ جہیز ایک معاشرتی ناسور ہے جو ہماری اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس جیسی فرسودہ رسم کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔یہ معاشرے میں طبقاتی تفریق، لالچ اور عدم مساوات کو فروغ دیتی ہے۔ شادی بیاہ جیسے مقدس رشتے کی بنیادباہمی محبت اور احترام پر ہو۔اس کے لئے ہمیں سادہ شادیوں کو فروغ دینا ہے اور کھلے عام جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کر کے ایک صحت مند معاشرے کو تشکیل دینا چاہیئے۔
آئیے! آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے اور نہ ہی دوسروں سے اس کی توقع رکھیں گے۔ اپنی بیٹیوں کو جہیز کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے انھیں اچھی تعلیم اور اچھے اخلاق سے آراستہ کریں۔ تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اور آپ کی اس جھوٹی سی کوشش کو کامیاب بنائے۔ آمین۔