🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Sana Kousar
09 Jun 2026
جہیز : ایک ایسا مسئلہ جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا- یہ ایک ایسا سماجی دیمک ہے جس نے نہ صرف معاشرتی اقدار کو کھوکھلا کر دیا ہے بلکہ اس رسم نے اب تک نہ جانے کتنی معصوم بیٹیوں کی خوشیاں اور زندگیاں بھی نگل لی ہے، جہیز کا یہ نظام ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے جس نے ہمارے معاشرے کو کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ زخم ہی دیے ہیں؛ ایسے گہرے زخم جو شاید ہی کبھی بھرتے ہوں۔

اب یہ ناسور صرف جہیز جیسی خرافات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آج کل ہمارے معاشرے میں لوگ جہیز کے ساتھ ساتھ فیشن، بدعات اور غیر شرعی رسومات میں بھی ہزاروں لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں حتیٰ کہ ان فضولیات کے لیے پیسہ جمع کرتے اور قرضہ بھی لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے یہ حال بھی دیکھا ہے کہ ایک باپ جس کی چار بیٹیاں ہوں، تو وہ ہر بیٹی کی شادی کے لیے قرضے پر قرضہ لیتا ہے، صرف اس لیے کہ بیٹوں کے لئے جہیز جمع ہو جائے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی خوش رہے اور خاندان میں اس کی عزت برقرار رہے۔ مگر افسوس کہ ایسے والدین کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ جس نام نہاد عزت کو قائم رکھنے کے لئے وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور سکون قربان کر رہے ہیں، اس عزت کی ہمارے دین اسلام میں کوئی حیثیت نہیں۔
اب یہ صرف ایک والدین کی کہانی نہیں رہی، بلکہ آج کل کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اس سوچ کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ خود بھی بے جا خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں اور شوق کے نام پر اپنے نفس کی غلامی کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جب تک ان کی ہر خواہش، جیسے مہنگے لباس، قیمتی زیورات، شاندار تقریبات، اور فضول رسم و رواج ادا نہ کیے جائیں، تب تک شادی مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ میں نے ایسی لڑکیوں کو بھی دیکھا ہے جو خود بھی اپنے والدین سے جہیز لے نے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اور یہ خواہش شاید وہ اس لیے رکھتی ہیں تاکہ سسرال والوں کی نظروں میں عزت حاصل کر لیں۔ یہ بہت افسوس کرنے والی بات ہے کہ ایسی لڑکیوں کو عزت اپنے اخلاق اور کردار سے زیادہ جہیز جیسی خرافات میں نظر آتی ہے۔ مگر ان نوجوانوں کو کون سمجھائے؛ کیوں کہ جب کوئی اللہ کا بندہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ فوراً کہتے ہیں:
اللہ نے دیا ہے تو پھر خرچ کرنے میں کیا دقت ہے؟ اور شادی بھی کہاں بار بار ہوتی ہے اگر ہم نے شادی کے موقع پر اپنا تھوڑا سا شوق پورا کر لیا تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ "افسوس!

یہ لوگ جو "اللہ نے دیا ہے کے نام پر" شادیوں میں بے جا اخراجات اور فضول خرچی کرتے ہیں، اگر انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا حق ادا کر رہے ہیں تو یہ ان کی نہایت ہی فضول سوچ ہے۔ اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہاں وہ اللہ کے دیے ہوئے رزق کا حق ادا نہیں کرتے بلکہ اسے نمود و نمائش، دکھاوے اور اپنے نفس کی غلامی میں خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس! انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کو محض ایک نعمت ہی نہیں بلکہ ایک آزمائش اور امانت بھی قرار دیا ہے، لہٰذا اس کا استعمال بھی انہی حدود میں ہونا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمائی ہیں۔
"کاش ہم لوگ دین اسلام کو اس کے احکام کے ساتھ سمجھتے اور اس پر غور کرنے والے ہوتے۔ کیوں کہ دین اسلام نے نہ صرف ہمیں نکاح کو آسان اور سادہ بنانے کی تعلیم دی ہے، بلکہ انسان کو فضول قسم کے بوجھ سے بھی آزاد رکھا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم نے شادی جیسے مقدس رشتے کو بھی ایک معاشی بوجھ بنا دیا ہے۔ آج کتنے ہی بے شمار خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی کے نام پر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اور کتنی ہی لڑکیاں جو صرف اس وجہ سے شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین مطلوبہ جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی میں اصل اہمیت دین داری، اخلاق اور باہمی رضامندی کو حاصل ہے، نہ کہ مال و دولت یا قیمتی سامان کو۔
جب دین اسلام کو اتنا آسان بنایا گیا ہے تو پھر کیوں ہمارا معاشرہ اپنی سوچ کو نہیں بدلتا۔ کیا مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض نہیں کہ ہم اپنی شادیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق سادہ اور آسان بنائیں۔ اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ‌ جہیز کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ خاص طور پر والدین کو؛ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دیں، کیونکہ بہترین جہیز اچھی تعلیم، اخلاق اور خود اعتمادی ہے۔ یاد رکھیں کہ ایک والدین اپنی بیٹیوں کو دنیا کی تمام نعمتیں تو دے سکتا ہے، لیکن انہیں نصیب نہیں دے سکتا۔
اس کے ساتھ ہی معاشرے کے نوجوان لڑکوں کو بھی یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، بلکہ سادگی سے نکاح کریں گے۔ انہیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جہیز کی یہ روایت ایک خطرناک سماجی برائی ہے جو کہ صرف خاندانوں کی خوشیوں کو متاثر کرتی اور معاشرے میں بے شمار مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ زمیداری نوجوان لڑکیوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ خود آگے آکر سادگی کو اپنائیں، جہیز کے مطالبات کو مسترد کریں اور اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔
ہو سکتا ہے آپ کی کوششوں سے ایک بہترین، منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل ہوجائے، جہاں نکاح آسان ہو اور ہر بیٹی عزت و وقار کے ساتھ اپنے نئے گھر روانہ ہو سکے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی بہت ضرورت ہے کہ اصل عزت تو صرف تقویٰ، اخلاص اور سادگی میں ہے۔" اگر آپ اپنی دولت فضول چیزوں میں خرچ کرنے کے بجائے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، تو یہ سوچیں یہ کتنی بڑی نعمت ہوگی۔"

"اصل میں بات ساری یہ ہے کہ ہمیں اسلام وراثت میں ملا ہے، اور یہ تو انسانوں کی کم ظرفی ہے کہ انسان آسانی سے ملی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا شاید اسی لیے ہم اسلام اور اس کے احکام کی اصل حقیقت تک پہنچنے سے محروم ہیں۔ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طور طریقوں پر چلنے سے محروم ہیں، صرف اس لیے کہ ہم نے اسلام کو کبھی جانا ہی نہیں ہم نے تو مسلمان ہو کر آج تک دین سے زیادہ صرف اپنے شوق کو ترجیح دی ہے، اپنے نفس کی غلامی کی ہے اور نہ جانے کب تک کرتے رہیں گے۔"

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے، ہمیں سادگی اختیار کرنے والا بنائے، ہمیں رشتوں کو آسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دکھاوے کی آگ سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.