جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
"جہیز وہ زنجیر ہے جس نے بیٹی کی رخصتی کو آسانی کے بجائے آزمائش، اور شادی کو رحمت کے بجائے بسا اوقات معاشی مصیبت بنا دیا ہے۔"
تمہید:
انسانی معاشرہ مختلف رسوم و روایات کا مجموعہ ہے۔ بعض رسمیں معاشرے کی ترقی، خوش حالی اور استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں، جبکہ بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں لیکن درحقیقت پورے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ موجودہ دور میں ہماری سماجی اقدار کو جس سب سے بڑے اور خطرناک کینسر نے جکڑ رکھا ہے، وہ جہیز کی لعنت ہے۔
نکاح اس معاشرے کا وہ مقدس اور خوبصورت بندھن ہے جو دو روحوں اور دو خاندانوں کو ایک پاکیزہ رشتے میں پروتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو ایک مقدس عبادت، پاکیزہ تعلق اور انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے جس کا مقصد محبت، سکون اور باہمی تعاون کا رشتہ قائم کرنا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی ہوس، نمود و نمائش اور جاہلانہ رسومات کے باعث اس خوبصورت بندھن کو ایک انتہائی پیچیدہ، دردناک اور مادی سودے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ محض چند اشیاء کے لین دین کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی بیمار سوچ اور ذہنیت کا مظہر ہے جس نے شادی جیسے رفیع الشان رشتے کو بھی مادی مفادات کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔
شرعی نقطہِ نظر اور نکاح میں آسانی کا تصور:
شریعتِ اسلامیہ نے ہمیشہ نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی اور ہر اس چیز کی حوصلہ شکنی کی جو اس راہ میں رکاوٹ بنے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا عمومی ضابطہ اور ارشادِ گرامی ہے:
"يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ"
ترجمہ: "اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔" (سورۃ البقرہ: 185)
لیکن افسوس کہ آج ہم نے نکاح جیسی آسان سنت کو بے شمار رسومات، تکلفات اور فضول توقعات کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ ان ہی رسومات میں سب سے نمایاں رسمِ جہیز ہے۔ اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق بیٹی کو رخصت کرتے وقت کچھ ضروری سامان دے دیں تو یہ محبت اور شفقت کا ایک فطری اظہار ہے، لیکن جب یہی عمل مطالبے، شرط، دباؤ اور سماجی جبر کی شکل اختیار کر لے تو یہ ایک سنگین معاشرتی جرم اور ظلم بن جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے نکاح کی تمام تر مالی ذمہ داری مرد کے سپرد کی ہے۔ مہر مرد ادا کرتا ہے، بیوی اور بچوں کا نفقہ مرد کے ذمہ ہے اور خاندان کی کفالت بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے عورت یا اس کے غریب والدین پر جہیز کا کوئی بوجھ لازم نہیں کیا۔ اور حضور اکرم ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ الزہراؓ کی رخصتی کے وقت جو سامان دیا تھا (جس میں ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی)حضرت فاطمہ ؓ کے لیے حضور ﷺنے ان چیزوں کاانتظام حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان ہی کی طرف سے اور ان ہی کے پیسوں سے کیا تھا؛ کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھرمیں نہیں تھیں، روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہوجاتی ہے، بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا‘‘۔ (معارف الحدیث،7/660 ، ط: دار الاشاعت)
جہیز: ایک معاشرتی ناسور کیوں؟
کسی بھی برائی کو ناسور تب کہا جاتا ہے جب وہ جسم کے ایک حصے سے شروع ہو کر پورے وجود کو مفلوج کر دے۔ جہیز نے بھی ہمارے پورے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے چند بھیانک اثرات درج ذیل ہیں:
۱۔ غریب اور متوسط طبقے کا کرب:
جہیز کی موجودہ رسم نے سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کو پہنچایا ہے۔ ایک غریب باپ بیٹی کی پیدائش پر خوش تو ہوتا ہے، لیکن اس خوشی کے ساتھ مستقبل کی ایک گہری فکر بھی اس کے دل میں جنم لیتی ہے۔ وہ برسوں تک بیٹی کی شادی کے لیے پیسہ جمع کرتا ہے، اپنی جائز خواہشات قربان کرتا ہے، سود پر قرض لیتا ہے، اپنے جائیداد اور مکان بیچتا ہے تاکہ معاشرے کی بے جا توقعات پوری کر سکے۔ اس کے باوجود اگر جہیز دوسروں کے طے شدہ معیار کے مطابق نہ ہو تو اسے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کتنے ہی سفید پوش اور غیرت مند باپ صرف اس وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھے اور قبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۲۔ بیٹیوں کی بروقت شادی سے محرومی:
اس رسم کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بے شمار لڑکیاں صرف اس وجہ سے بروقت شادی کی نعمت سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین مطلوبہ جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کی جوانی انتظار کی سولی پر چڑھی رہتی ہے، ان کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور ان کے والدین مسلسل ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ یوں ایک غلط رسم نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اور سماجی خوشیوں کو نگل رہی ہے۔
۳۔ خواتین پر تشدد اور عزتِ نفس کی پامالی:
جہیز کی لعنت شادی کے بعد بھی اپنے خونی اثرات مرتب کرتی ہے۔ کتنی ہی خواتین ایسی ہیں جو کم جہیز لانے کے جرم میں سسرال میں طعنے سننے پر مجبور ہوتی ہیں۔ ان کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے، انہیں ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی ہے اور بعض اوقات ان پر ظلم و زیادہ کے ایسے دروازے کھلتے ہیں کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یا انہیں مٹی کا تیل چھڑک کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں وہ گھر جو محبت، رحمت اور سکون کا گہوارہ ہونا چاہیے، مادی ہوس کی وجہ سے تنازعات اور تلخیوں کا جہنم بن جاتا ہے۔
۴۔ فضول خرچی اور مقابلۂ نمائش:
یہ رسم معاشرے میں فضول خرچی، نمود و نمائش اور جھوٹی شان و شوکت کو بھی فروغ دیتی ہے۔ شادی بیاہ اب ایک سادہ اور بابرکت عمل کے بجائے "مقابلۂ نمائش" بن چکا ہے۔ لڑکے کی تعلیم اور نوکری کی "قیمت" لگائی جاتی ہے۔ جتنا بڑا افسر یا بزنس مین لڑکا ہوگا، جہیز کا مطالبہ اتنا ہی سنگین ہوگا۔ اس مادہ پرستی نے رشتوں کا تقدس پامال کر دیا ہے اور معاشرے میں رشوت خوری اور کرپشن جیسے جرائم کو جنم دیا ہے، کیونکہ ہر باپ یا بھائی اپنی بیٹی/بہن کا سر اونچا رکھنے کے لیے جائز و ناجائز ذرائع سے پیسہ کمانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں سادگی کا درس:
سید الانبیاء حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات اس مادی ہوس کی جڑ کاٹتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
"إن أعظم النكاح بركةً أيسره مؤنةً"
ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ (اور آسان) ہو۔" (مسند احمد)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نکاح کی برکت اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اس کی ظاہری شان و شوکت اور جہیز کے انبار میں۔ آج اگر ہم اپنی شادیوں کو اس فرمان کے مطابق سادہ بنا لیں تو بہت سے معاشرتی مسائل خود بخود دم توڑ جائیں۔
اسی طرح معاشرے میں جو دباؤ ڈال کر یا سماجی خوف کے تحت لڑکی والوں سے جہیز بٹورا جاتا ہے، اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی انتہائی سخت وعید ہے:
"ألا لا يحل مال امرئٍ مسلمٍ إلا بطيب نفسٍ منه"
ترجمہ: "خبردار! کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر (دوسرے کے لیے) حلال نہیں ہے۔" (مسند احمد)
جب جہیز مطالبے، شرط اور سماجی جبر کی صورت اختیار کر لے، جہاں لڑکی کا باپ برادری کے طعنوں کے خوف سے رو رو کر مال جمع کرے، تو وہ مال سسرال والوں کے لیے کبھی بابرکت نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ صریح حرام اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
اس ناسور کا تدارک: ہمارا کردار
جہیز جیسی معاشرتی برائی کا خاتمہ صرف حکومتی قوانین کے ذریعے ممکن نہیں، جب تک کہ معاشرے کا ہر فرد اپنی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری کا احساس نہ کرے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کی اصلاح دوسروں سے نہیں بلکہ خود ہماری اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا:
۱۔ نوجوان نسل کا انقلابی کردار:
اس تبدیلی کی اصل چابی نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔
* لڑکوں کا کردار: نوجوان لڑکوں کو غیرت اور خودداری کا ثبوت دینا ہوگا۔ انہیں سسرال کے ٹکڑوں پر یا لڑکی کے باپ کی مجبوری کی کمائی سے اپنے گھر کا فریج، موٹر سائیکل یا گاڑی لینے سے صاف انکار کرنا ہوگا۔ لڑکوں کو یہ عہد کرنا چاہیے: "میں اپنی دلہن لاؤں گا، اس کا سامان نہیں!" جب لڑکے خود کھڑے ہو کر جہیز لینے سے انکار کریں گے، تو یہ رسم ایک دن دم توڑ دے گی۔
* لڑکیوں کا کردار: لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے لالچی خاندانوں اور لڑکوں سے شادی کرنے سے انکار کر دیں جو ان کی سیرت، تعلیم اور اخلاق کے بجائے جہیز کے سامان کی لسٹ میں دلچسپی رکھتے ہوں۔
۲۔ والدین کی سوچ کا زاویہ:
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ مال و دولت کے بجائے اخلاق و کردار کو اہمیت دیں۔ بیٹوں کو سکھایا جائے کہ عزت جہیز کے سامان میں نہیں بلکہ خودداری، شرافت اور بیوی سے حسنِ سلوک میں ہے۔ دوسری طرف، بیٹیوں کے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بیٹیوں کو "جہیز" کا عارضی سامان دینے کے بجائے "تعلیم اور ہنر" کا مستقل زیور دیں، جو عمر بھر ان کا محافظ رہے گا۔
۳۔ علماء، اساتذہ اور میڈیا کا فرض:
* منبر و محراب: علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دینی محافل میں اس رسم کے نقصانات اور سادگیِ نکاح پر کھل کر بات کریں۔ جو شادیاں نمائش اور جہیز کے مطالبے پر مبنی ہوں، ان کا علامتی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔
* میڈیا اور دانشور: میڈیا کو چاہیے کہ وہ ڈراموں اور اشتہارات میں امیرانہ شادیوں کی نمائش دکھا کر غریبوں میں احساسِ کمتری پیدا کرنے کے بجائے ایسی کہانیاں پیش کرے جو سادگی کو فروغ دیں اور جہیز مانگنے والوں کو معاشرتی ولن کے طور پر ابھاریں۔
۴۔ بااثر اور خوش حال طبقے کا نمونہ:
معاشرے کے خوش حال اور صاحبِ ثروت افراد اگر اپنی اولاد کی شادیوں میں سادگی اختیار کریں، تو ان کا یہ عملی قدم دوسرے غریب اور متوسط لوگوں کے لیے ایک بہترین نمونہ اور آسانی کا باعث بن سکتا ہے۔
حاصلِ کلام:
حقیقت یہ ہے کہ جہیز ایک ایسی سماجی بیماری ہے جو محبت کے رشتوں کو مادی مفادات کی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے۔ اس نے بیٹی جیسی عظیم رحمت کو بوجھ، والدین کو مقروض اور معاشرے کو بے حس بنا دیا ہے۔ اگر ہم ایک باوقار، مہذب اور حقیقی اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس رسم کے بھیانک نقصانات کا سنجیدگی سے ادراک کرنا ہوگا اور نکاح کو دوبارہ اس کی اصل روح کے مطابق آسان اور سادہ بنانا ہوگا۔
جب کردار کو دولت پر، اخلاق کو سامان پر اور انسانیت کو رسم و رواج پر فوقیت دی جائے گی تو جہیز جیسی لعنت خود بخود اپنی اہمیت کھو دے گی۔ ایک صالح معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں بیٹی کو رحمت سمجھا جائے، بوجھ نہیں؛ اور جہاں رشتے مادی مال و متاع کے بجائے محبت اور احترام کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہیز کے خاتمے کی جدوجہد دراصل ایک عادلانہ اور باوقار معاشرے کی تشکیل کی جدوجہد ہے، اور یہی ہر باشعور فرد کا حقیقی کردار ہے۔