🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Muhammad Abrar Rasheed
07 Jun 2026
قرآنی تعلیمات کے اندر باطل طریقے سے مال کھانے کی ممانعت
اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرآنِ مجید میں واضح اور ابدی پیغام ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فريقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون.
اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس غرض سے لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہڑپ کرنے کا گناہ کرو۔(سورہ بقرہ: 188)
اسی طرح ایک دوسری آیتِ مبارکہ میں خالقِ کائنات فرماتا ہے:
يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل الا ان تكون تجاره عن تراض منكم ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحيما.
ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو (تو جائز ہے) اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ (سورہ نساء: 29)
ان آیاتِ بینات میں باطل اور ناجائز مال کی تمام شکلیں آ جاتی ہیں۔ خواہ کسی کا مال ناحق طریقے سے کھانا ہو، جھوٹ بول کر، چوری چھپے، یا زبردستی غصب کر کے، یا پھر وہ مال جو مالک کی سچی اور دلی رضامندی کے بغیر (صرف معاشرتی دباؤ میں) حاصل کیا جائے؛

غرض ۔ہر قسم کا مال اس وعید میں شامل ہے۔
تو ان احکامات الٰہی کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جہیز کی یہ قبیح رسم ہر طرح سے لڑکی کے والدین کی مجبوری اور ناراضگی پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے شرعاً یہ سراسر ناجائز اور حرام ہے۔ علمائے تفسیر نے اس معاشرتی بگاڑ پر لکھا ہے کہ جب معاشرے میں ناحق مال کھانے کا رواج عام ہو جائے، تو اس کا نتیجہ اجتماعی خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ (آسان ترجمہ مفتی تقی عثمانی سورہ نساء 27)۔
آج اسی قرآنی انتباہ کا تلخ منظر ہمیں اپنے اردگرد نظر آتا ہے، جہاں جہیز کی لعنت کے سبب، مال دینے یا نہ دینے کی بنیاد پر معصوم بیٹیوں کا خودکشی کرنا ایک عام سانحہ بن چکا ہے۔ حالانکہ جہیز ایک ایسی رسم ہے جو سراسر باطل، ناجائز اور بے بنیاد ہے اور اسلام کے پاک دامن میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس بیہودہ اور ظالمانہ رسم نے غریب خاندانوں اور سفید پوش طبقات کے غیور لوگوں کی زندگی کو کٹھن اور دشوار بنا رکھا ہے۔

رسمِ جہیز۔

جہیز کا مطالبہ کرنے والے اور اس گھناؤنے کاروبار کو تحفظ دینے والے عقل سے کورے لوگ اکثر یہ کمزور حوالہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رخصت کرتے وقت چادر، مشکیزہ ،اور تکیہ، کے طور پر جو چیزیں دی تھیں، وہ جہیز ہی کی شکل میں تھا۔
لیکن تاریخ کا سچا اور حقیقی مطالعہ اس مغالطے کو بالکل بے بنیاد قرار دیتا ہے دیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ سرپرستی اور زیرِ کفالت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف زندگی کا انتہائی ضروری سامان خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہی پیسوں سے (جو انہوں نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کیے تھے) انتظام فرمایا تھا۔
اور جہیز کے اصطلاحی معنی۔ (بھی کسی کو مال و دولت دینے کے نہیں، بلکہ وقتِ ضرورت سامان کا انتظام اور بندوبست کرنے کے ہیں)۔
تحقیقی کی بات تو یہ ہے کہ اُس پاکیزہ دور میں لڑکی کے نکاح کے وقت نہ جہیز کا کوئی رواج تھا اور نہ ہی اس لفظ کا کوئی تصور موجود تھا۔

روحِ نکاح: سادگی اور برکت ہے

حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
وعن عائشه قالت. قال النبي صلى الله عليه وسلم ان النكاح بركة ايسره مؤنة.
یقیناً سب سے زیادہ برکت والا نکاح
وہ ہے جس کا خرچ (یا بوجھ) سب سے آسان ہو ۔۔
(مشكوة المصابيح مسند احمد 3098)۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانِ عالی شان نے واضح کر دیا کہ نکاح کی اصلی روح اس کی سادگی اور فضول خرچیوں کے بوجھ سے پاک ہونا ہے۔ جو رشتہ جتنا سادہ اور بے ریا ہوگا، رحمتِ الٰہی اور برکتیں اتنا ہی اس کا احاطہ کریں گی۔

مگر افسوس صد افسوس! !!

آج اس نبوی اصول کو معاشرے کے مادہ پرست لوگوں نے یکطرفہ مسترد کر دیا ہے۔ آج شادی میں جتنی فضول نمائش کی جائے اور جہیز کے نام پر لڑکی والوں کو جتنا بوجھ کے تلے دبایا جائے، اندھے معاشرے میں اس کو اتنا ہی مایہ ناز اور کامیاب شادی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارا کردار اور عملی اقدامات۔۔۔۔۔۔۔

اور یہ بات خوب ذہن نشین کر لیں کہ اس ناسور کا خاتمہ کسی سرکاری قانون کے تحت نہیں ہوگا، بلکہ ہمارے اپنے ٹھوس فیصلے اور غیرت مندانہ کردار سے ہوگا۔
سب سے پہلے ہمارے نوجوانوں کو اپنی حمیت اور غیرت کا ثبوت پیش کرنا ہوگا اور کھلم کھلا اعلان کرنا ہوگا کہ ہم شادیوں میں جہیز کی بھیک نہیں لیں گے۔ نوجوانوں کو اپنے والدین کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ہمیں بازار کا کوئی بکاؤ مال، یا تجارت کا ذریعہ نہ بنائیں، اور انہیں بتانا ہوگا کہ گھر میں وہ ایک عزت دار، مخلص اور زندہ جاوید لڑکی بہو کی شکل میں لا رہے ہیں، کسی دکان یا فرنیچر کا بے جان شوروم نہیں!!!
اس کے ساتھ ساتھ، علماء کرام کو بھی اپنی ایمانی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایسے تمام نکاحوں کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا جس میں جہیز کا تکبر اور نمائش کی گئی ہو۔۔۔

غرض۔۔۔
جہیز کا خاتمہ مجھ سے اور آپ سے، یعنی ہمارے اپنے گھر سے شروع ہوگا۔ بیٹی اللہ کی رحمت ہے، معاشرے کا بوجھ نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی شادیاں آسان، سادہ اور پروقار نہ کیں، تو ہمارا معاشرہ مادہ پرستی کی اس دلدل میں غرق ہو جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
بقولِ شاعر:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔۔
۔۔۔۔۔یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔۔۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.