🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

طوفان احمری
08 Jun 2026
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
بیٹی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، گھر کی رونق اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ جب ایک بچی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کے دل میں ایک خوشحال گھر اور پاکیزہ ازدواجی زندگی کے خواب انگڑائی لینے لگتے ہیں۔ والدین بھی بیٹی کے اچھے نصیب اور باعزت رخصتی کے خواب دیکھتے ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں رائج "جہیز" نامی ناسور ان خوابوں کو نگل رہا ہے۔
جہیز بھی ایسا ہی مہلک ناسور ہے جو خاندانوں کی خوشیوں، والدین کے سکون اور بیٹیوں کی عزت و وقار کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ نکاح، جو اسلام میں عبادت اور رحمت کا ذریعہ ہے، آج نمود و نمائش اور مالی بوجھ کا سبب بن چکا ہے۔
ہمارے معاشرے کے متمول گھرانے سادہ طرزِ حیات اختیار کرنے کی بجائے بے جا اسراف کی طرف مائل ہیں۔ دوسری طرف اغیار کی نقالی اور مختلف اقوام کی غلط رسوم و رواج نے بھی جہیز کی لعنت کو مہمیز دی، اور یوں دیکھا دیکھی سفید پوش اور غریب گھرانوں سمیت پورا معاشرہ اس رسم کی گرفت میں آ گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کی خاطر اکثر اس رسم کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور لڑکے والوں کے مطالبات پورے کرنے پر مجبور پائے جاتے ہیں۔
بسا اوقات لڑکے والے لڑکی والوں کی مالی تنگی اور مخدوش حالات سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ وہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، جس سے لڑکی کے والدین کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ سفید پوش طبقے کو معاشرے میں اپنا بھرم رکھنے کے لیے کثیر مقدار میں قرض لینا پڑتا ہے۔ بڑھاپے میں عمر بھر کی کمائی لٹانے کے بعد بھی والدین قرض کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آج کل جہیز کے بغیر بیٹی کی شادی کا تصور محض دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
جہیز کے تباہ کن اثرات محض کتابوں اور اخبارات تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہیں۔
ایک گھر میں شادی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ والدین اپنی بیٹی کی رخصتی کے خواب سجائے ہوئے تھے اور گھر خوشیوں سے مہک رہا تھا۔ لیکن جب بارات پہنچی تو لڑکے والوں نے اچانک جہیز میں ایک کار کا مطالبہ کر دیا اور یہ شرط عائد کر دی کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو شادی نہیں ہوگی۔
لڑکی کے والد نے اپنی مالی مجبوری کا اظہار کیا، بہت منت سماجت کی اور ہر ممکن کوشش کی، مگر لڑکے والے اپنے مطالبے پر قائم رہے۔ بالآخر بارات واپس لوٹ گئی۔ چند لمحے پہلے تک جو گھر خوشیوں سے گونج رہا تھا، وہاں خاموشی اور غم کے سائے چھا گئے۔ اس سانحے نے والد کو اس قدر توڑ دیا کہ وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گیا۔ عزت و وقار کے مجروح ہونے کا احساس اور معاشرتی دباؤ اس کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا، اور یوں ایک ہنستا بستا گھر لمحوں میں بربادی کی تصویر بن گیا۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا ناسور ہے جو بعض اوقات خاندانوں کی خوشیاں، عزت اور زندگی بھر کی امیدیں نگل جاتا ہے۔ جب رشتوں کی بنیاد دین، اخلاق اور کردار کے بجائے مال و دولت پر رکھی جائے تو ایسے المناک سانحات جنم لیتے ہیں، جن کے زخم مدتوں نہیں بھرتے۔
ہماری معاشرتی گراوٹ کے ماتم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ لڑکی کو جہیز کے ترازو میں تولا جائے۔ عورت کو جہیز کے ترازو میں تولنا اس کے تقدس کو مجروح اور اس کی ہستی کو بے مایہ ثابت کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
قرآنِ مجید نے نکاح اور خاندانی نظام کے حوالے سے نہایت متوازن اور عادلانہ اصول عطا فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔" (سورۃ النساء: 4)
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو دینے کا حکم دیا ہے، اس سے لینے کا نہیں۔ شریعتِ مطہرہ میں مرد کو مہر ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ جہیز کا مطالبہ یا اسے شادی کی شرط بنانا اسلامی تعلیمات کے مزاج کے خلاف ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے مینارۂ ہدایت ہے۔ آپ ﷺ نے جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تو وہاں سادگی کا حسن، اخلاص کی خوشبو اور برکت کی بہار تھی؛ نہ نمود و نمائش کا شور تھا اور نہ تکلفات کا بوجھ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گھروں کی بنیاد سامانِ دنیا پر نہیں بلکہ ایمان، محبت، حسنِ اخلاق اور تقویٰ پر استوار ہوتی ہے۔
افسوس کہ ہم نے رسولِ اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کے بجائے نمود و نمائش اور رسم و رواج کو ترجیح دے دی۔ اس کے برعکس ہم نے جہیز کی خاطر دینی و معاشرتی اقدار کا رخ موڑ لیا ہے۔ لڑکی کی دینداری، سلیقہ مندی، حیا اور کردار جیسی بیش قیمت صفات ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہیں، جبکہ دولت اور سامان کو معیارِ فضیلت بنا لیا گیا ہے۔ یہ طرزِ فکر حقیقت سے فرار اور سراب کی جستجو کے مترادف ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فرسودہ رسم کے خلاف شعور بیدار کریں، سادگی کو شعار بنائیں اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔ جب تک نمود پرستی اور اندھی تقلید کے بت نہیں توڑے جائیں گے، جہیز کا یہ ناسور معاشرے کے جسم و جاں کو زخمی کرتا رہے گا۔

آئیے آج سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس ناسور کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنے خاندان سے اصلاح کا آغاز کریں گے، نوجوانوں کو جہیز نہ لینے کی ترغیب دیں گے، دوستوں اور عزیزوں میں شعور بیدار کریں گے اور مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اس پیغام کو عام کریں گے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کو بھی اصلاحِ معاشرہ کے لیے استعمال کریں گے تاکہ جہیز کے خلاف ایک مثبت رائے عامہ تشکیل پا سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں اور نوجوان اپنی ازدواجی زندگی کی بنیاد سادگی، محبت اور باہمی احترام پر رکھیں۔ اگر جہیز لینا ایک رسم بن چکا ہے تو ہمیں مل کر جہیز نہ لینے کو ایک قابلِ فخر روایت بنانا ہوگا۔ معاشرے میں حقیقی تبدیلی قانون سے زیادہ شعور اور کردار کے ذریعے آتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جہیز کو عزت کا معیار سمجھنے کے بجائے ایک معاشرتی برائی تصور کریں۔ اگر ہر فرد اپنے گھر سے اصلاح کا آغاز کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری بیٹیاں جہیز کے بوجھ کے بغیر عزت و وقار کے ساتھ رخصت ہوں گی۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ اس کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی اس ظالمانہ رسم کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
یاد رکھیے! معاشرے کی حقیقی خوبصورتی قیمتی فرنیچر، مہنگی گاڑیوں اور بیش قیمت سامان میں نہیں بلکہ اعلیٰ کردار، تقویٰ، باہمی احترام اور اسلامی تعلیمات پر عمل میں پوشیدہ ہے۔ جب ہم اپنی بیٹیوں کی عزت کو جہیز کے ترازو میں تولنے کے بجائے ان کے اخلاق، کردار اور انسانیت کی بنیاد پر قدر دینا شروع کر دیں گے، تبھی ایک مہذب، باوقار اور اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہماری دنیا کو بھی سنوار سکتا ہے اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.