جہیز، ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
انسانی معاشرہ بعض ایسی رسوم و روایات کا اسیر ہو جاتا ہے جو بظاہر تہذیب و تمدن کا حصہ محسوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں وہ معاشرتی تباہی، اخلاقی زوال اور انسانی اذیت کا باعث بنتی ہیں۔ انہی فرسودہ اور ظالمانہ رسوم میں ایک رسم "جہیز" بھی ہے، جو آج ہمارے معاشرے کے جسم پر ایک ناسور بن کر چمٹ چکی ہے۔ یہ ایسی لعنت ہے جس نے نکاح جیسے مقدس اور بابرکت عمل کو دشوار، مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بے شمار والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جبکہ ہزاروں بچیاں صرف جہیز کی استطاعت نہ ہونے کے سبب شادی جیسی بنیادی نعمت سے محروم رہ جاتی ہیں۔
اسلام، جو رحمت، عدل اور آسانی کا دین ہے، اس رسمِ بد کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ نکاح کو سادگی اور تقویٰ کی بنیاد پر استوار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
جہیز کی حقیقت
جہیز اس سامان کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اگر یہ محض محبت، استطاعت اور خوش دلی کے تحت بطورِ تحفہ دیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن جب اسے شادی کی شرط بنا دیا جائے، اس کا مطالبہ کیا جائے یا اسے عزت و وقار کا معیار سمجھا جائے تو یہی عمل ایک سنگین سماجی جرم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور جہیز
اسلام نے عورت کو عزت و تکریم کا مقام عطا کیا ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں مرد کو عورت کا محافظ اور کفیل قرار دیا گیا ہے، نہ کہ اس سے یا اس کے والدین سے مالی منفعت حاصل کرنے والا۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے
"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً"
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
(سورۃ النساء: 4)
یہ آیت اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کرتی ہے کہ اسلام میں عورت سے لینے کا نہیں بلکہ اسے دینے کا حکم ہے۔ اگر اسلام میں جہیز مطلوب ہوتا تو قرآنِ کریم اس کا ذکر ضرور کرتا، لیکن شریعت نے عورت کے لیے مہر کو لازم قرار دیا ہے، جہیز کو نہیں۔
ایک اور مقام پر ارشادِ ربانی ہے
"يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ"
"اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔"
(سورۃ البقرۃ: 185)
جہیز کی رسم آسانی نہیں بلکہ تنگی، پریشانی اور معاشی استحصال کا دوسرا نام ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی بارہا تلقین فرمائی۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔"
(مسند احمد)
ایک اور حدیث میں فرمای
"إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ"
"جب تمہارے پاس ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کا نکاح کر دو۔"
(جامع ترمذی)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے دین اور اخلاق کو معیار قرار دیا، مال و دولت، جہیز اور دنیاوی نمود و نمائش کو نہیں۔
ایک ایمان افروز واقعہ
تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب حضرت فاطمۃ الزہراءؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے نکاح کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ نکاح سادگی، قناعت اور برکت کا ایسا بے مثال نمونہ ہے جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
نہ کوئی پرشکوہ دعوت تھی، نہ قیمتی تحائف کی نمائش اور نہ ہی جہیز کی لمبی فہرست۔ چند ضروری گھریلو اشیاء کے ساتھ یہ نکاح انجام پایا، لیکن اسی گھر سے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ جیسی عظیم شخصیات نے جنم لیا اور یہی گھرانہ رہتی دنیا تک فضیلت و عظمت کی علامت بن گیا۔
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ گھروں کی خوشیاں سامان کی کثرت سے نہیں بلکہ ایمان، محبت، قناعت اور اخلاص سے وابستہ ہوتی ہیں۔
جہیز کے تباہ کن اثرات
والدین کی معاشی بدحالی
جہیز کی رسم نے خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور بعض اوقات اپنی جائیداد تک فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
شادیوں میں غیر ضروری تاخیر
آج بے شمار لڑکیاں صرف اس وجہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک نہیں ہو پاتیں کہ ان کے والدین جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔
گھریلو ظلم و ستم
جہیز کی کمی کو جواز بنا کر بہت سی خواتین کو ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
نمود و نمائش کا رجحان
جہیز نے معاشرے میں تفاخر، دکھاوے اور اسراف کی ایسی دوڑ شروع کر دی ہے جس میں انسان اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
جہیز کے خاتمے میں ہمارا کردار
کسی بھی معاشرتی برائی کا خاتمہ محض قوانین کے نفاذ سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، عملی جدوجہد اور انفرادی احساسِ ذمہ داری ناگزیر ہوتی ہے۔ جہیز جیسی لعنت بھی اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے اور اس کے خلاف عملی اقدام کرے۔
نوجوانوں کا کردار
معاشرے میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل ادا کر سکتی ہے، کیونکہ نکاح کے فیصلے کا براہِ راست تعلق انہی سے ہوتا ہے۔ اگر نوجوان یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنی شادی میں جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے والدین یا رشتہ داروں کو اس کی اجازت دیں گے تو اس برائی کی جڑیں خود بخود کمزور پڑ جائیں گی۔ ایک باکردار نوجوان کے لیے اس کی شریکِ حیات کا اخلاق، تعلیم، دینداری اور کردار اہم ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے ساتھ آنے والا سامان۔
والدین کا کردار
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق کریں اور انہیں سادگی، قناعت اور انسان دوستی کا درس دیں۔ بیٹیوں کے والدین کو معاشرتی دباؤ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنی حیثیت کے مطابق سادہ نکاح کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اسی طرح بیٹوں کے والدین کو بھی جہیز کی توقعات ترک کرکے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے، کیونکہ جو شخص آج دوسروں کی بیٹیوں کے لیے آسانی پیدا کرے گا، کل اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔
علماء اور ائمہ کا کردار
علمائے کرام معاشرے کے فکری رہنما ہوتے ہیں۔ ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خطبات، دروس اور بیانات کے ذریعے جہیز کی شرعی حیثیت واضح کریں، لوگوں کو اس کی قباحت سے آگاہ کریں اور سادگی پر مبنی اسلامی طرزِ نکاح کو فروغ دیں۔ جب مساجد کے منبر سے مسلسل اس موضوع پر آواز بلند ہوگی تو عوام کے ذہنوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔
خواتین کا کردار
معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ جہیز کو اپنی عزت کا معیار نہ سمجھیں۔ اسی طرح خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم، اخلاق اور کردار پر توجہ دیں اور جہیز کی نمائش کو فخر کا سبب نہ سمجھیں۔ اگر خواتین خود اس رسم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کر لیں تو اس کے خاتمے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔
تعلیمی اداروں اور اساتذہ کا کردار
اسکول، کالج اور جامعات نئی نسل کی فکری آبیاری کے مراکز ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں اسلامی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں، سماجی برائیوں پر مباحثے اور تقریری مقابلے منعقد کریں اور نوجوانوں میں جہیز مخالف شعور بیدار کریں۔ آج کے طلبہ ہی کل کے والدین اور معاشرتی قائدین ہوں گے۔
میڈیا اور اہلِ قلم کا کردار
میڈیا اور اہلِ قلم عوامی رائے کی تشکیل میں غیر معمولی اثر رکھتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ڈراموں، مضامین، کالموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جہیز کے نقصانات کو اجاگر کریں اور ان خاندانوں کو نمایاں کریں جو سادگی کے ساتھ بغیر جہیز کے کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ مثبت مثالیں معاشرے میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بنتی ہیں۔
اجتماعی ذمہ داری
ہمیں چاہیے کہ جہیز لینے والوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کے بجائے ان لوگوں کو عزت دیں جو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق سادہ نکاح کو اختیار کرتے ہیں۔ اگر معاشرہ اجتماعی طور پر جہیز کے مطالبے کو معیوب سمجھنے لگے تو یہ رسم زیادہ دیر باقی نہیں رہ سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز کا خاتمہ کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کا چراغ روشن کرے گا تو معاشرے سے اس ظلمت کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا اور نکاح دوبارہ اپنی اصل سادگی، پاکیزگی اور برکت کے ساتھ انجام پانے لگے گا۔
جہیز ایک ایسی معاشرتی لعنت ہے جو محبت کے رشتوں میں نفرت، آسانیوں میں دشواری اور خوشیوں میں غم پیدا کر رہی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنائیں، جہیز جیسی قبیح رسم کا اجتماعی بائیکاٹ کریں اور آنے والی نسلوں کو ایک پاکیزہ، متوازن اور اسلامی معاشرہ فراہم کریں۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
لہٰذا جس ہستی کو اسلام نے عزت و تکریم کا تاج پہنایا ہے، اسے جہیز جیسی ظالمانہ رسم کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنا کسی بھی مہذب اور باوقار معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔
اگر ہم آج عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ جہیز دیں گے اور نہ ہی اس لعنت کو فروغ دینے والے کسی عمل کا حصہ بنیں گے، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد سادگی، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ دولت اور سامان کی نمائش پر۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ناسور کے خاتمے، سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔