🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

صباحت فردس
07 Jun 2026
دینِ اسلام وہ واحد مذہب ہے جسے خدائے برحق نے سہولتِ زیست کا علمبردار بنایا ہے - اس دین کے امتیازی تشخص میں اس کی سادہ طبع فطرت ،بے جا تکلفات دنیا سے احتراز اور تصنع و بناوٹ سے پاک ہونا بھی شامل ہے- اسلام میں سادگی اور اعتدال کو پسند فرمایا گیا ہے- جس طرح زندگی کے دیگر معاملات میں سادگی اختیار کرنے کا حکم ہے بعینہ اسی طرح نکاح کے معاملے میں بھی اِسے اپنانے کی تلقین کی گئی ہے- موجودہ دور میں مختلف رسم و رواج کی وجہ سے نکاح ایک پیچیدہ عمل بن چکا ہے- ان رسم و رواج میں جہیز لینے اور دینے کا رواج سرِ فہرست آتا ہے- لفظ "جہیز" عربی لفظ "جہاز"سے ماخوذ ہے جس کے معنی "سامان" کے ہیں جو سفر کے لیے تیار کیا جاتا ہے ، کسی وفات پا جانے والے شخص کی تجہیز و تکفین کے لیے یا وہ سامان جو دلہن اپنے ساتھ نئے گھر لے جاتی ہے- سورۃ یوسف میں بھی لفظ "جہاز " سامان کے معنی و مطالب میں استعمال ہوا ہے-
*وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ* ......(سورۃ یوسف ،آیت 59 )
"اور جب یوسف نے ان کا سامان _انہیں مہیا کردیا........_ "
عرب معاشرہ کی تاریخ میں جہیز کا تصور نہ ہی قبل از اسلام نظر آتا ہے اور نہ ہی عہد اسلامی میں جہیز لینا یا دینا کسی سے منسوب ہے-اگر یہ لفظ کہیں مستعمل ہے بھی تو مفہوم کے اعتبار سے اس کے معنی "تیار " کرنا ہے - جس طرح ذیل میں درج ہے -
"جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ"
ام سلیم نے (صفیہؓ کو) تیار کیا- (صحیح بخاری:371)
جہیز کی روایت عوام الناس کے لیے مسلسل دردِسر بنی ہوئی ہے-یہ ایک سماجی ناسور بن چکا ہے، جس کا تدراک اسے کاٹ کر نکال پھیکنا ہے ورنہ اس کا پھیلاؤ پورے معاشرے کو اپنے تعفن کی زد میں لپیٹ سکتا ہے جہاں ممکن ہے سانس لینا بھی محال ہوجاۓ -شاہ ولی اللہ دہلوی اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں- "نکاح میں سختی کرنا لوگوں کے نکاح سے دور ہونے اور زمین میں فساد پھیلنے کا سبب بنتا ہے-"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے-
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو _"-(مسند احمد رقم: 24525)_
اسلام اپنی تمام تر جمالیت پسندی کے باوجود سادگی کا قاںٔل رہا ہے اور فضول خرچی سے روکتا ہے- ارشاد باری تعالیٰ ہے-
"اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے،اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا"-(سورۃ البقرہ،آیت 185)
جہیز دراصل ایک ہندوانہ رسم ہے اور چونکہ ہندوؤں میں خواتین کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا اسی لیے جہیز دے کر ان کے حقوق سے دستبرداری حاصل کر لی جاتی ہے- ہندو شاستروں کی روشنی میں، شادی سات جنموں کا بندھن تسلیم کی جاتی ہے-طلاق ممنوع قرار پاتی ہے -اگر کوئی خاتون بیوہ ہوجاۓ تو سماج اس سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ ساری زندگی بیوہ کی حیثیت سے گزارے-ایسی صورتحال میں والدین لڑکی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق معاشی تحفظ( جہیز کی شکل میں) فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں-ڈاکٹر سیتا کھرب اپنے ایک تحقیقی مقالے میں واضح کرتی ہے کہ ہندوازم میں جہیز کی رسم استری دھن،کنیا دان اور ورادکشنا جیسے تصورات کی پیداوار ہے-
• *استری دھن (Stridhan ):* اس سے مراد وہ ساز و سامان ہے جو لڑکی کے والدین ،دوست احباب یا قریبی رشتے دار اپنی مرضی سے لڑکی کو دیتے ہیں-
• *کنیا دان(Kanyadan* ): لڑکی کے والد کا اپنی بیٹی کسی شخص کو بطور تحفہ یا بھیک دینا کنیا دان کہلاتا ہے-
• *ورادکشنا( Varadakshina* ) : کنیا دان کرتے وقت لازمی طور لڑکے یا اس کے والد کو نقد رقم کی اداںٔیگی کرنا لڑکی کے والد کا فریضہ ہوتا ہے جسے ورادکشنا کہتے ہیں-
شادی کے بعد عورت کے لیے واپسی کے سارے راستے مسدود ہوتے ہیں- ورادکشنا اور استری دھن سبھی کچھ شوہر کے زیرِ تسلط چلا جاتا ہے کیونکہ ہندو معاشرہ میں عورت محکوم ہوتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ محکوم افراد ہمیشہ ہی مشقِ ستم کا نشانہ بنتے رہے ہیں- دورِ حاضر میں بذاتِ خود ہندو معاشرہ میں بھی رسمِ جہیز سے بیزاریت صاف طور پر محسوس کی جاسکتی ہے-
برِصغیر پاک و ہند میں تہذیبوں کے آپس میں مدغم ہونے کی وجہ سے رسم و رواج ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہے- ماہر سماجیات ملویل جے ہرسکووٹس کے مطابق : "ثقافتی انجذاب(Acculturation ) ان مظاہر کا نام ہے جو اس وقت رونما ہوتے ہیں جب مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے گروہ مسلسل یا براہِ راست رابطے میں آتے ہیں،جس کے نتیجے میں دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں گروہوں کے اصل ثقافتی نمونوں میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں"- تہذیبوں کا یہی انضمام برِ صغیر پاک و ہند میں دیکھنے کو ملا جس کے سبب بہت سے نئے رسم و رواج امت مسلمہ میں شمولیت پاتے گۓ-تحقیق کے مطابق، غیر تربیت یافتہ نو مسلم افراد کی برصغیر میں آمد اور ہندوؤں کا دین اسلام میں داخل ہونا جن کی ذہنی تربیت نہ ہوسکی وہ کارفرما اسباب رہے ہیں جس کے باعث دیگر رسم و رواج کے ساتھ جہیز کی رسم بھی پروان چڑھتی گئی - یوں مسلم معاشرہ میں بھی تقلیدِ ہنود کا آغاز ہوگیا -
*جہیز اور مادہ پرستانہ سوچ* : آج جہیز کا لین دین معاشرہ میں اس حد تک راسخ ہوچکا ہے کہ اس کا خاتمہ آگ کے دریا سے گزرنے کے مترادف ہے- ہمارے معاشرے کا المیہ تو یہ ہے کہ یہاں دلہن سے پہلے جہیز سے بھری گاڑیاں سسرال پہنچتی ہیں - مادہ پرست افراد کے لیے کسی کی بیٹی ایک ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے- ان کے نزدیک دلہن کچھ نہیں ہے سواۓجہیز کے ساتھ ملنے والے ایک By Product (ضمنی پیداوار) کے! لالچ و حرص کے ان پجاریوں کی ہوس جہنم کی آگ جیسی ہوتی ہے جو کبھی بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی- بے غیرتی کی انتہا دیکھیے! جہیز بھی کافی نہیں ہوتا بلکہ شادی کے بعد بارہا لڑکی کو میکے بھیج کر " مزید " کی تکرار جاری رہتی ہے- ماں باپ جہیز اس لیے دیتے ہیں تاکہ سسرالیوں کی جانب سے بیٹی کو لعنت و ملامت نہ جھیلنی پڑے- معاملہ بدترین شکل اس وقت اختیار کرتا ہے جب جہیز دینے کے باوجود لڑکے والوں کا دباؤ بڑھتا ہے اور ایک بیٹی کو بار بار ماں باپ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے - خوددار لڑکیوں کے لیے یہ ذلت ناقابلِ برداشت ہوتی ہے- اسی لیے عائشہ عارف سوساںٔڈ کیس جیسی روح فرسا خبریں آۓ دن سماعتوں کے پردے پھاڑ کر ہمیں آوازِ حق بلند کرنے پر مجبور کرتی ہے-کہیں جہیز کے نام پر ذہنی و جسمانی تشدد کیا جاتا ہے تو کہیں زندہ لڑکیوں کو سرِ عام نذرِ آتش کردیا جاتا ہے- نیشنل کراںٔم ریکارڈ بیورو کے مطابق :
"ہندوستان میں سالانہ ریکارڈ کیے جانے والے خواتین قتل کیسز کے کل واقعات میں سے چالیس سے پچاس فیصد اموات جہیز کے تنازع پر مشتمل ہوتی ہیں"-
ایسا نہیں ہے کہ قوانین کی عدم موجودگی اس لعنت کے سد باب کرنے کی راہ میں آڑ ہے- قوانین موجود ہیں -جہیز ممانعت ایکٹ 1961( Dowry Prohibition Act)اور تشدد سے خواتین کا تحفظ ایکٹ 2005 (Protection Of Women From Domestic Violence ) وغیرہ- مگر گندگی جب اندرونی طور پر موجود ہو تو بیرونی صفائی کی حیثیت صفر ہو کر رہ جاتی ہے -
*جہیز ایک دکھاوا* : آج جہیز کی وجہ سے نمود و نماںٔش کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے-کیا امیر اور کیا غریب ، سبھی اس مرض سے برابر متاثر ہیں-صاحبِ ثروت افراد کا مقصد دکھاوا ہوتا ہے جبکہ غریب معاشرے میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جہیز کا لین دین کرتے ہیں- غرباء و متوسط طبقات کے لیے امرا کا طرزِ زندگی معیاری و مثالی حیثیت رکھتا ہے-جب یہ طبقہ کسی براںٔی میں مبتلا ہو چاہے وہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو،سب انہی کی نقالی کرتے ہیں- یہ عمل بتدریج عزت اور سماجی ساکھ کا ایک نشان بن جاتا ہے- ہمارے یہاں جہیز دینا امیروں کے لیے مشکل نہیں ہوتا مگر جس رسمِ قبیح کو یہ لوگ فروغ دے رہے ہیں وہ بے شمار غریبوں پر قہر بن کر برستی ہے-شادی والے دن دلہن کے ساتھ جہیز کی بھی نماںٔش ہوتی ہے اور شادی والے دن کی کیا بات بھلا بیٹیاں خود بڑے طمطراق کے ساتھ اپنے جہیز پر ڈسکشن کرتی نظر آتی ہے کہ" میرے والدین نے فلاں چیز فلاں جگہ سے منگواںٔی ہے اور فلاں چیز کی قیمت فلاں روپے ہے وغیرہ وغیرہ"-جہیز آج دولت کو جانچنے کا ایک پیمانہ بن چکا ہے-اللہ کی عطا کردہ دولت کے زعم میں ہم بھول گئے ہیں کہ ایک دن ہم سبھی سے سوال ہونا باقی ہے۔اسلام میں دکھاوے کا شمار شرک اصغر میں کیا جاتا ہے-اللہ تعالی ہر گناہ معاف کرسکتے ہیں مگر شرک کی کوںٔی معافی نہیں! جانے انجانے میں جہیز بطور دکھاوا دے کر ہم اس گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں جو بڑے پیمانے پر نہ صحیح مگر شرک کے زمرے میں آتا ہے - رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے-
"مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ شرک اصغر کا ہے -" صحابہ نے پوچھا :یا رسول اللہﷺشرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:"ریاکاری"-(دکھاوا)
آج اگر کوںٔی فرد غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتو ہمارے نزدیک وہ مشرک ٹھہرتا ہے مگر جب ہم خود ان براںٔیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو ہمارے پاس حیلے بہانوں کا ایک انبار موجود ہوتا ہے- جو افراد گناہ کبیرہ سے بچتے ہیں شیطان ایک نںٔی چال کے ساتھ حاضر ہوکر گناہ صغیرہ کا پھندا ان کے گرد کسنے کی کوشش کرتا ہے-
*جہیز اور رشوت خوری* : ویکیپیڈیا کے مطابق: "رشوت خوری بدعنوانی کی ایک قسم ہے جس میں پیسے یا تحفہ دینے سے وصول کنندہ کا طرز عمل تبدیل ہوتا ہے"-
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ" نبی کریمﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرماںٔی ہے-(سنن ابن ماجه)
جہیز رشوت خوری ہی کی ایک قسم ہے جو لڑکے والوں کی خوشی مطمحِ نظر رکھ کر دیا جاتا ہے اور اس گناہ کا وبال لینے اور دینے والے دونوں کے لیے یکساں ہے- والدین اپنی دختر کے لیے کسی ایسے انسان کا انتخاب نہ کریں جو انہیں رشوت دینے پر مجبور کرے - اپنی بچیوں کو صبر اور پاکدامنی اختیار کرنا سکھاۓ - طویل انتظار، بے غیرت اور لالچی انسان کے ساتھ رہنے سے حد درجے بہتر ہے- والدین خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ ایک پاکیزہ اور نیک فطرت لڑکی اتنی بے مول نہیں ہوتی کہ اسے کسی رشوت خور کے پلے باندھ دیا جاۓ-
قرآن پاک میں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے سے منع کیا گیا ہے- ضروری ہے کہ اپنا دامن ان گناہوں سے جلد از جلد چھڑایا جاۓ-
*جہیز ایک بدعت* :بہت سے دین دار افراد بھی جہیز کا لین دین سنتِ نبوی سمجھ کر کرتے ہیں- بحث و مباحثہ میں بطور دلیل یہ کہا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جہیز دیا تھا حالانکہ یہ بات کسی حدیث سے ثابت شدہ نہیں ہے کہ آپﷺ نے اپنی بیٹیوں میں سے کسی کو جہیز دیا ہو- حقیقت ان باتوں کے بالکل برعکس ہے جو ہم اب تک سنتے آۓ ہیں - آپﷺ ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمہؓ دونوں ہی کے سرپرست تھے-حضرت علیؓ کی پرورش و نگہداشت آغوشِ نبوت میں انجام پاںٔی تھی-جب حضرت علیؓ آپﷺ کے پاس حضرت فاطمہؓ کے لیے پیغامِ نکاح لے کر پہنچے اس وقت آپ تنگ دست تھے-
"سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے نبیﷺ کی صاحبزادی کے لیے پیغام (نکاح) بھیجنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ،پھر یہ کیسے (ممکن) ہوگا؟ مجھے نبیﷺ کی مہربانی اور شفقت یاد آںٔی چنانچہ میں نے پیغامِ نکاح بھیج دیا،نبیﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے بھی؟ میں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: "تمہاری وہ حطمیہ کی زرہ کیا ہوںٔی جو فلاں دن دی تھی؟ عرض کیا کہ وہ تو میرے پاس ہے- فرمایا :"پھر وہی (بیچ کر مہر ) دے دو،"چنانچہ میں نے وہ لاکر انہی کو دے دی-"
[مسند احمد/سند الخلفاء الراشدین/حدیث:603]
نبی ﷺ کے حکم پر حضرت علیؓ نے وہ زرہ حضرت عثمانؓ کو چار سو اسی دراہم کے عوض بیچ دی جسے بعد ازاں حضرت عثمانؓ نے بطور ہدیہ انہیں واپس لوٹا دیا-پوری رقم لے کر حضرت علیؓ خدمت رسولﷺ میں پیش ہوۓ جہاں مہر کی اداںٔیگی کے بعد بچی بقیہ رقم رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ،حضرت بلال اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو سونپی تاکہ گھریلو بنیادی اشیاۓضروریات کا بندوبست کیاجا سکے- اس رقم سے مٹی کا گھڑا اور پانی کا مشکیزہ،ہاتھ سے چلانے والی چکی،چمڑے کا ایک تکیہ (اذخر گھاس سے بھرا ہوا)،ایک روںٔیں دار چادر یا بستر خریدا گیا- باقی کی رقم حضرت ام سلمہؓ کے حوالے کی گںٔی تاکہ وہ حضرت فاطمہ کے لیے خوشبو خرید کر لاۓ-
یہ وہ سامان ہے جو زرہ بیچنے کے بعد مہر کے علاوہ حضرت علیؓ کی جیب خرچ سے لایا گیا جسے بعض حضرات جہیز بر محمول کرتے ہیں- شادی کے ساتھ جہیز کو بھی لازم و ملزوم کردیا گیا ہے- جہیز ایک بدعتِ سیئہ ہے- ہر وہ برا عمل جسے سنتِ نبوی سمجھ کر کیا جاۓ حالانکہ شرعاً اسکی کوںٔی حیثیت نہ ہو "بدعت"کہلاتا ہے اور رسولﷺ نے فرمایا ہے کہ
"ہر بدعت (سیئہ) گمراہی ہے"-( _صحیح مسلم)_
ایک اور مقام پر فرمایا گیا ہے -
"سیدنا سہیل بن سعد ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : میں حوض کوثر پر تمہارا استقبال کروں گا -کچھ لوگ آںٔیں گے مگر انہیں میرے پاس آنے سے روک دیا جاۓ گا- مجھے بتایا جاۓ گا آپﷺ نہیں جانتے کے آپﷺ کے بعد ان لوگوں نے کیسی کیسی بدعتیں جاری کیں-پھر میں کہوں گا دوری ہو ،دوری ہو ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا _-"(صحیح بخاری: 7052 صیح مسلم :5974)
پس مومنین کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ جب حق بات ان تک پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں " سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا"(ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی) - اپنے غلط نظریات و روایات پر قاںٔم رہ کر حق بات کو ماننے سے انکار اور حجتیں کرنا تکبر ہوتا ہے اور بے شک اللہ متکبرین کو سخت ناپسند کرتا ہے- معاشرے کی یہ حالت دیکھ کر بے اختیار آنکھیں نم ہوجاتی ہیں جب ایک معصوم بچی جو ابھی پالنے میں سو رہی ہوتی ہے اور اس کی ماں جہیز کی فکر میں ساز و سامان اکھٹا کرنا شروع کردیتی ہے،جب ایک باپ بیٹی کے زیورات کی خاطر دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا کر مقروض ہوجاتا ہے اور جب ایک بیٹی سب کچھ صبر،تحمل اور برداشت سے دیکھ رہی ہوتی ہے مگر بے بسی سے اپنے آنسوں اندر ہی اندر پی کر رہ جاتی ہے- کیا اس براںٔی کو اب ختم نہیں ہوجانا چاہیے؟
*اندھی تقلید:* جہیز کا تصور ایک غیر اسلامی تصور ہے - یہ خرافات و مہمولات پر مبنی ایسی رسم ہے جس کی دینِ اسلام میں شرعاً کوںٔی حیثیت نہیں- مزید برآں یہ ہندو تہذیب کی دین ہے- تمام شواہد اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ یہ عمل کسی دوسری تہذیب کی اندھی تقلید ہے اور صاف واضح ہے کہ ہم بے جا رسومات میں خود کو جکڑ چکے ہیں-حدیث پاک ﷺ میں دوسری اقوام کی مشابہت اختیارکرنے کے تعلق سے ذکر آتا ہے -
"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے"- _[سنن ابی داود/کتاب اللباس/حدیث:4031]_
دین اسلام اپنے آپ میں ایک کامل دین کی حیثیت رکھتا ہے- ہمیں کسی تہذیب کے رسم و رواج کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت نہیں - ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کاملیت موجود نہ ہو - اللہ تعالی فرماتے ہیں:
"آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کردیا ،اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کرلیا ہے"-( _سورۃ الماںٔدہ ،آیت نمبر 3)_
اسلام صرف ایک مذہب نہیں ہے یہ زندگی گزارنے کے لیے ایک مکمل فریم ورک فراہم کرتا ہے - ہمیں حکم ہے کہ اپنی زندگی اسلام کے عطاکردہ ضابطہ حیات کے مطابق گزاریں ناکہ اسے جاہلانہ رسومات کی نذر ہونے دے- جب خداوندِ عالم کا فرمان ہے کہ ہمارا دین ہمارے لیے مکمل کردیا جا چکا ہے، پھر کس بیان کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے!
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی معظمﷺ نے اعلان کیا تھا-
آگاہ رہو! جاہلیت کا ہر کام میں اپنے دونوں قدموں کے نیچے دفن کر رہا ہوں"-
احکامِ الہی اور کلامِ نبی کے ذریعہ حجت تمام ہوچکی اگر کوںٔی شخص پھر بھی جاہلانہ رسومات سے دوری اختیار نہ کرے تو گویا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی روگردانی کا مرتکب ہو رہا ہے- بعض اوقات انسان لاعلم ہوتا ہے کہ کیسے کچھ رسومات اندھی تقلید کی رو میں بہتے بہتے پختہ روایات کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور زندگی کا ایک جزوِ لاینفک حصہ بن جاتی ہے. پھر ہم ان امور کے نقصانات جاننے کے باوجود بھی انھیں صرف اس لیے کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ عمل ہمارے خاندان،آباواجداد اور بڑوں کی روایت بن چکا ہوتا ہے-ابن خلدون کا مشہور قول ہے-
"روایات کی اندھی تقلید کا مطلب یہ نہیں کہ مردہ لوگ زندہ ہیں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ لوگ مرچکے ہیں"-
ہمیں جوابدہ مردہ یا زندہ افراد کے سامنے نہیں ہونا ہے - ہمارا معاملہ ہمارے رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس لیے معاشرے اور لوگوں کی فکر چھوڑ دیں-خوف کے زیرِ اثر غلط اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا انتہاںٔی غلط قدم ہے-ہمیں اپنے اعمال سے ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ "ہم ایک زندہ قوم ہیں-"
*جہیز جیسی فرسودہ رسم کی بیخ کنی میں ہمارا کردار:*
قرآن پاک میں اللہ تعالی امت مسلمہ سے خطاب کرتے ہوۓ فرماتے ہیں :
"تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت و اصلاح) کے لیے پیدا کی گئی ہے، تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو....."
[سورۃ آل عمران: آیت 110]
اپنی موجودہ صورتحال کو پیشِ نظر رکھ کر کیا ہم خود کو اس لقب "خَيْرَ أُمَّةٍ (بہترین امت)" کا مستحق قرار دے سکتے ہیں؟ آج ہم سرتاپا براںٔیوں کے سمندر میں ڈول رہے ہیں - امت مسلمہ کو روایات کے اس شنکجے سے چھڑانے کے لیے کوںٔی نہیں آۓ گا - اس فریضہ کو انجام دینے والے لوگ "ہم خود" ہیں -ہم چاہتے ہیں کہ پھر سے کوںٔی انقلاب آۓ اور امت مسلمہ پھر سے اپنی کھوںٔی ہوںٔی میراث پالے لیکن ان سب کے لیے داخلی تبدیلی کا آنا ناگزیر ہے- اگر معاشرہ فرسودہ رسومات کے آہنی شکنجے میں مقید رہا تو کوںٔی بھی انقلاب سودمند ثابت نہیں ہوسکتا -اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کچی بنیادوں پر کسی عمارت کی تعمیر کرنا- ہمیں اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہد کرنی ہے لیکن معاشرتی براںٔیوں پر بھی ہماری نظر ہونا چاہیے-آج "جہیز" جیسی براںٔی سے صرف مسلمان ہی نہیں جوجھ رہے بلکہ یہ سب کا اجتماعی مسںٔلہ بن چکا ہے -ایسے میں ہماری ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ پہلے اس براںٔی کو اپنے معاشرہ سے نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جاۓ (شروعات اپنے گھر سے کی جانی چاہیے) پھر دیگر قوموں کے سامنے اخلاق و کردار کا نمونہ بن کر ابھرا جاۓ - جاہلانہ رسم و رواج کی اس اندھیر نگری میں روشنی کی وہ پہلی کرن امت امسلمہ کو بننا چاہیے جو ہر طرف علم و آگہی کی روشنی بکھیر دے- چند عملی اقدامات ہیں جن پر عمل کرنے سے امید کی جاتی ہے کہ ہم ان رسومات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے-
• جہیز چاہے والدین اپنی مرضی سے دے یا معاشرے اور سسرالیوں کے خوف کی باعث،دونوں صورتوں میں یہ فعل غلط تصور کیا جاۓ گا - لوگوں کی زیادہ تعداد معاشرتی خوف کی وجہ سے جہیز دینے پر مجبور ہوتی ہے-بہت سی جگہ والدین یہ کہہ کر خود اصرار کرتے ہیں کہ جہیز ہماری بچی کا حق ہے یا ہم اپنی مرضی سے دے رہے ہیں-(اصل خوف معاشرہ کا ہوتا ہے ورنہ قرض میں ڈوب کر اتنے مہینگے تحفے کیسے دیے جاسکتے ہیں-) بنیادی طور پر یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ بیٹی کا حق جہیز نہیں بلکہ وراثت ہے اگر کچھ دینا ہی ہے تو پھر بیٹیوں کو وراثت میں ان کا حصہ دینا چاہیے -
• شادی کے بعد بیٹی کی ذمے داریاں اس کے شوہر پر عاںٔد ہوتی ہیں - مرد کو حاکم بمعنی محافظ اور ذمے دار اسی لیے بنایا گیا کیونکہ وہ معاشی تحفظ دیتا ہے- اگر کوںٔی شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنے کا حکم ہے یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اسے غنی کردے لیکن بالفرض کسی لڑکی کا نکاح بے انتہاںٔی مفلوک الحال شخص سے ہوجاتا ہے جس کے گھر بنیادی ضروریات زندگی کا سامان بھی موجود نہ ہو ،ایسی صورتحال میں بھی والدین کو چاہیے عین نکاح کے موقعہ پر معاشی امداد بطورِ جہیز دے کر اس براںٔی کو پھیلانے میں اپنا کردار ہرگز ادا نہ کرے -
• دخترانِ ملت سے گذارش ہے کہ کسی ایسے مرد کی زوجیت اختیار نہ کرے جو جہیز کے عوض بکتا ہو- رشتوں میں سب زیادہ اہم "عزت و احترام" ہوتا ہے جس شخص نے آپ کے والدین کا مال کھایا ہو کیا وہ شخص قابل عزت ہوسکتا ہے؟ کیا آپ ایسے شخص کی عزت کر پاۓ گی؟ جہیز کا مطالبہ کرنے والا انسان اخلاقی پستی کا شکار ہوتا ہے- اللہ نے آپ کو کسی ایسے کردار کے کچے شخص کے لیے ناپسندیدگی ظاہر کرنے کا حق دیا ہےاور جو حقوق اللہ نے کسی کو عطا کیے ہو انہیں نہ ہی کوںٔی چھین سکتا ہے اور نہ کسی کو چھینا چاہیے- والدین کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بیٹیوں کے اعتراضات کو نافرمانی یا گستاخی سے تعبیر نہ کیا جاۓ-
• ہمیں جہیز دینے کی بجاۓ بیٹیوں کو اعلی تعلیم کے زیورات سے آراستہ و پیراستہ کرنے کی ضرورت ہے-بچپن ہی سے والدین کو بیٹیوں کے جہیز اور بیٹوں کے لیے تعلیمی اخراجات پر خرچ ہونے والی رقم جمع کرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے- عصرِ حاضر میں تعلیمِ نسواں کے معاملے میں ترقی دیکھنے کو ملی ہے لیکن پھر بھی دیگر قوموں کے بالمقابل مسلمانوں کا تعلیمی رجحان تشویشناک حد تک کم ہے- بہت سے گھرانوں میں بیٹیوں کو کسی قربانی کے جانور کی طرح صرف اگلے گھر بھیجنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے-اگر جہیز جوڑنے کی بجاۓ انھیں انسان سمجھ کر تعلیم و تربیت پر خرچ کیا جاۓ تو ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا سہرا والدین کے سر جاۓگا-
•مشاہدے میں آیا ہے کہ لڑکیاں جہیز لینے سے انکار اور والدین وراثت میں حصہ دینے سے اس لیے کتراتے ہیں کیونکہ اس مال پر لڑکی کا شوہر کسی اژدھے کی مانند قابض ہوجاتا ہے-بیٹیوں کے حصے میں کچھ آکر بھی وہ خالی ہاتھ رہتی ہیں-کسی مرد کو اتنا بھی بے وقار نہیں ہونا چاہیے کہ جبراً کسی کے مال پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردے-
•انفرادی سطح پر ہم سبھی کو ایسی شادیوں میں شرکت کرنے سے گریز کرنا چاہیے جہاں جہیز کا لین دین ہوا ہو- پہلے ہی بغیر سوچے سمجھے باراتیوں کی شکل میں آدھا شہر اٹھا کر لے آنے کا رواج مروج ہے- بہتر ہے کسی کے لیے بوجھ نہ بنا جاۓ - ہمارا یہ عمل بظاہر بہت چھوٹا معلوم ہوتا ہے مگر جو عمل قابلِ استطاعت ہے ہم وہ ضرور انجام دیں گے تاکہ روزِ محشر اپنا سر شرمندگی سے جھکانا نہ پڑے-
•اجتماعی طور ہمیں ایسی تنظیموں کی داغ بیل ڈالنے کی ضرورت ہے جنہوں نے معاشرتی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہو اگر کہیں موجود ہو تو ہمیں چاہیے ان سے جڑ کر اپنا بھر پور تعاون پیش کریں-
•معلمین قوم کے معمار کہلاۓ جاتے ہیں- اسکول اور کالجز میں طلبہ و طالبات کی ذہنی تربیت اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ صرف کورس ختم کروانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ سماجی مصلح بھی ہوتے ہیں جو اپنے لفظوں سے علم و عمل کے چراغ جلاتے ہیں - بہت سے کالجز میں جہیز کے خلاف بیداری پھیلانے میں اساتذہ نے اپنا بہترین کردار ادا کیا ہے جس کے مثبت نتاںٔج سامنے آنے کی قوی امید ہے-
• آج ہم ٹیکنالوجی کے دور مں جی رہے ہیں -اس ٹیکنالوجی کا بھر پور انداز میں فائدہ اٹھاتے ہوۓ ہمیں چاہیے کہ مضبوط استدلال کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہیز مخالفت کی وسیع پیمانے پر تشہیر کریں تاکہ ہر انسان کی نظر میں جہیز ایک حقارت آمیز شۓ بن جاۓ-
• جہیز کے خلاف پر جوش انداز میں تحریکیں چلاںٔی جانی چاہیے صرف زبانی لفاظی کافی نہیں-
•ہر وہ ذریعہ استعمال کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے جس کے ذریعے ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اہل قلم حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے قلم تھام لیں، مقرر حضرات جہیز کے خلاف ایسی دھواں دھار تقاریر پیش کریں جسے سننے کے بعد لفظ 'جہیز' سے بھی کراہیت محسوس ہو، اور فنکار ایسے شاہکار پیش کریں جن سے جہیز کی ممانعت ظاہر ہو۔پوڈ کاسٹس ،ویڈیوز،اخبارات وجرائد،ٹیلی ویژن،سیمینارز اور ورکشاپس ہر جگہ جہیز جیسی براںٔی زیر بحث آنی چاہیے-
• اس براںٔی کے انسداد کے لیے سب سے زیادہ اہم کردار نوجوانانِ ملت کا ہے- تبدیلیاں لانا نوجوانوں کا شعار رہا ہے- نوجوان ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں- غیرت،خوداری ،عزتِ نفس اور حمیت جیسے جذبات ،شاہین صفت نوجوانوں کا خاصہ رہے ہیں- بقول اقبال
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ دگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سرِ دارا

جہیز میں ملا ساز وسامان کسی نہ کسی دن ختم ہو ہی جاتا ہے- چند سامان کے لیے اپنی غیرت کا سودا کرنا کلیتہً ایک گھاٹے کا سودا ہے-وہ انسان خود سے نظریں ملانے کے قابل کیسے رہ سکتا ہے جو اپنی غیرت جہیز کے عوض بیچ چکا ہو؟ فریج ،کولر ،واشنگ مشین،،گاڑی،موٹر ساںٔیکل وغیرہ یہ سب تو دھیرے دھیرے بھی آپ اپنی رزقِ حلال کی کماںٔی سے خرید سکتے ہیں مگر جہیز کے لیے اپنی" خودی" کا سودا نہ کرے- غیرت کا بھی کوںٔی مول ہوتا ہے؟اگر رہنے کے لیے چھت اور کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر ہو تو کسی کے بھی سامنے دستِ سوال دراز کرنا ایک باوقار انسان کو زیب نہیں دیتا - اور جہیز کی فرماںٔشیں کرکے بھکاری بالکل بھی نہ بنیں- اسلام میں مانگنے کی اجازت اسی صورت میں ہے جب کوںٔی مسلسل فاقوں سے گزر رہا ہو- والدین اپنی لختِ جگر کی پرورش کرتے ہیں ،اسے بڑا کرتے ہیں اور پھر ایک دن اسے کسی شخص کے ساتھ رخصت کردیتے ہیں -کیا یہ احسان کافی نہیں ہے جو جہیز کی صورت ان پر ظلم کے مزید پہاڑ توڑے جاۓ!داماد کو احسان مند ہونا چاہیے نا کہ بے غیرت اور احسان فراموش!
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین امت کہا ہے تو یقین رکھیے! ہم بہترین امت بن سکتے ہیں - چند رسم و رواج کی بیڑیاں ہمیں پسپاںٔی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی! ہمارا تعلق اس قوم سے ہے جس نے بلا خوف و خطر بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاۓ ہیں ، جو کشتیاں جلا کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتی ہے- تاریخ کے روشن ابواب امت مسلمہ کی عظمتِ رفتہ کا منہ بولتا ثبوت ہے- یہ چند رسم رواج کی زنجیریں ہمیں اسلامی تعلیمات سے دور نہیں کرسکتی- ہمیں ان زنجیروں سے خود کو آزاد کرنا ہوگا - کیونکہ ہم ہی ہیں جو اسلامی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں- ہم ہی ہیں جو جہیز کی صورت میں کیے جانے والے معاشی استحصال کو روک سکتے ہیں - کیونکہ ہم وہ امت ہیں جسے اچھاںٔیوں کو پھیلانے اور براںٔیوں کے خاتمے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے-
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.