"جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
"تمہید"
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، محمد ﷺ، وعلى آله و أصحابه أجمعین۔
أما بعد! فإن من أعظم المشكلات الاجتماعية التي ابتلي بها مجتمعنا في هذا العصر مشكلة الجهيز.
انسانی معاشرہ مختلف رسم و رواج اور اقدار سے تشکیل پاتا ہے۔ جب کوئی رسم انسانی فلاح، آسانی اور خوش حالی کا ذریعہ بنے تو وہ معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن جب کوئی رسم ظلم، ناانصافی، پریشانی اور استحصال کا سبب بن جائے تو وہ ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں جہیز ایک ایسی ہی رسم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک خطرناک معاشرتی بیماری بن چکی ہے۔
شادی، جو دراصل دو خاندانوں کے درمیان محبت، اعتماد اور رحمت کا بندھن ہے، آج بہت سے مقامات پر مال و دولت کی نمائش اور مطالبات کا میدان بن گئی ہے۔
نتیجتاً ہزاروں والدین قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، بے شمار لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور کئی گھرانے مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہیز نے نہ صرف معاشی مسائل کو جنم دیا ہے بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔
جہیز کا مفہوم اور حقیقت
جہیز سے مراد وہ سامان، نقدی، زیورات یا دیگر اشیاء ہیں جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین کی طرف سے دی جاتی ہیں۔ اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی کو کچھ تحائف دیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن جب یہ چیز معاشرتی دباؤ، مطالبے یا شرط کی شکل اختیار کر لے تو یہی رسم ایک سنگین برائی بن جاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج بعض خاندان لڑکی کے کردار، تعلیم اور اخلاق کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی سوچ اس ناسور کی جڑ ہے۔
اسلام کا تصور نکاح
اسلام نے نکاح کو عبادت، پاکیزگی اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کو آسان بنانے پر زور دیا ہے اور غیر ضروری بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾
"اور تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دو، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔" (سورۃ النور: 32)
اس آیت میں نکاح کو آسان بنانے اور غربت کو نکاح میں رکاوٹ نہ بننے دینے کی تعلیم دی گئی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾
"اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا۔"(البقرہ:185)
جہیز کے نام پر بے جا مطالبات اس اسلامی اصولِ آسانی کے خلاف ہیں۔
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
(مسند احمد)
"سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔"
عہدِ نبوی ﷺ کی روشن مثال
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح اسلامی سادگی کی بہترین مثال ہے۔ اس مبارک نکاح میں نہ فضول خرچی تھی، نہ نمود و نمائش اور نہ ہی جہیز کے مطالبات۔ یہی وہ نمونہ ہے جسے اختیار کر کے مسلمان اپنے معاشرے کو بہت سی برائیوں سے پاک کر سکتے ہیں۔
اگر آج مسلمان اسی سادگی کو اپنا لیں تو جہیز کا مسئلہ بڑی حد تک خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ» "بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔"
(ابن حبان)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نکاح میں آسانی، سادگی اور اعتدال کو پسند کرتا ہے، جب کہ جہیز کے نام پر بے جا مطالبات اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔
اگر ہم اسوۂ نبوی ﷺ کو چھوڑ کر رسم و رواج کے پیچھے چلتے رہیں گے تو مشکلات بڑھتی جائیں گی، اور اگر سنتِ نبوی ﷺ کو اپنائیں گے تو آسانیاں پیدا ہوں گی
ایک تاریخی واقعہ
تاریخِ اسلام میں بے شمار ایسے نکاح ملتے ہیں جو نہایت سادگی کے ساتھ انجام پائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جب نکاح کیا تو رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع بعد میں ہوئی۔ آپ ﷺ نے صرف فرمایا:
«أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» "ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔"
(صحیح البخاری)
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان رکھا ہے اور اس میں نمود و نمائش، فضول خرچی اور غیر ضروری بوجھ کو پسند نہیں کیا۔
جہیز کے معاشی نقصانات
جہیز نے ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں، زمینیں فروخت کرتے ہیں یا زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔
بعض خاندان صرف اس خوف سے بیٹی کی شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں کہ ابھی مطلوبہ جہیز تیار نہیں ہو سکا۔ اس طرح ایک خوشی کا موقع پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔
جہیز کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ان کے لیے شادی ایک عبادت کے بجائے مالی آزمائش بن جاتی ہے۔
جہیز کے سماجی اور نفسیاتی اثرات
جہیز کی رسم صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی نہایت خطرناک ہیں۔
بعض گھروں میں جہیز کم ہونے کی وجہ سے لڑکی کو طعنے دیے جاتے ہیں، اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال ازدواجی زندگی کے سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔
بعض اوقات جہیز کی خواہش رشتوں میں محبت کے بجائے لالچ کو فروغ دیتی ہے۔ نتیجتاً خاندانوں کے درمیان اعتماد اور خلوص متاثر ہوتا ہے۔
کسی مفکر نے بجا کہا ہے:
"جہیز وہ آگ ہے جو شادی کے چراغ کو روشن کرنے کے بجائے اسے جلانے لگتی ہے۔"
جہیز اور معاشرتی تفاخر
ہمارے معاشرے میں جہیز کو بعض لوگ عزت اور وقار کی علامت سمجھتے ہیں۔ شادیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سامان دینے اور دکھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔
یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ اسلام سادگی، اعتدال اور تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ نمود و نمائش کی۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
"اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔" (سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔
ہمارا کردار
قال الله تعالى:
«وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى» "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔"(سورۃ المائدہ:2)
جہیز کے خاتمے کے لیے معاشرے کے تمام افراد کو باہمی تعاون کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے۔
وقال تعالى:
«إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ» "بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"(سورۃ الاعراف:31)
لہٰذا شادیوں میں فضول رسومات اور بے جا اخراجات سے اجتناب ضروری ہے۔
وقال بعض الحكماء:
«إِصْلَاحُ الْمُجْتَمَعِ يَبْدَأُ مِنْ إِصْلَاحِ الْفَرْدِ» "معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔"
اگر ہر شخص اپنی ذات سے جہیز جیسی برائی کے خلاف عملی اقدام کرے تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔
جہیز ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس کے خاتمے کے لیے صرف تنقید کافی نہیں، بلکہ عملی اقدام ناگزیر ہے۔ «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» یعنی "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" لہٰذا اس ناسور کے خاتمے میں ہم سب کی ذمہ داری شامل ہے۔
نوجوانوں کی ذمہ داری
نوجوان کسی بھی معاشرے کا سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، اس لیے جہیز کے خاتمے میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہ کریں اور سادہ نکاح کو فروغ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ»
"بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔" (ابن حبان)
لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جہیز جیسی رسموں سے اجتناب کر کے آسان اور سنت کے مطابق نکاح کی راہ ہموار کریں۔
والدین کی ذمہ داری
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں اور شادی کے معاملات میں سادگی کو فروغ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
"اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔" (سورۃ التحریم: 6)
لہٰذا والدین بیٹوں کو جہیز کے مطالبات سے روکیں اور بیٹیوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں۔
علماء اور اساتذہ کی ذمہ داری
علماء اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کی برائی کو واضح کریں اور سادہ نکاح کی ترغیب دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾
"اور نصیحت کرتے رہیں، بے شک نصیحت مؤمنوں کو فائدہ دیتی ہے۔" (سورۃ الذاریات: 55)
میڈیا کا کردار
میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ سادہ نکاح اور اسلامی اقدار کو فروغ دے اور جہیز جیسی برائیوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾
"نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔" (سورۃ المائدہ: 2)
اجتماعی شعور کی ضرورت
جہیز جیسی معاشرتی برائی کا خاتمہ صرف قانون سازی یا چند افراد کی کوششوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کے اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ جب نوجوان جہیز لینے سے انکار کریں، والدین سادگی کو اختیار کریں، علماء اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیں اور عوام اس رسم کو عزت کا معیار سمجھنا چھوڑ دیں، تو اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ معاشرے کی اصلاح ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ایک مثبت قدم بھی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
«إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ»
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔"(الرعد:11)
اشعار
؎ سادگی میں بھی محبت کی بہاریں ہیں بہت
رسمِ دنیا نے مگر دل کو الجھا رکھا ہے
؎ رسمِ جہیز چھوڑ دو، سنت کو عام کرو
آسانیوں کے راستے ہر خاص و عام کرو
نتیجہ✨
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جہیز ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے جس نے ہماری معاشرتی زندگی کو گہرے زخم دیے ہیں۔ یہ رسم غریبوں کے لیے بوجھ، والدین کے لیے پریشانی، نوجوانوں کے لیے رکاوٹ اور معاشرے کے لیے اخلاقی تنزلی کا سبب بن رہی ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان اور بابرکت بنایا، مگر ہم نے اپنی غلط روایات اور بے جا توقعات سے اسے مشکل بنا دیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائیں، سادگی کو فروغ دیں، جہیز کے مطالبات کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنی عملی زندگی سے اس برائی کے خلاف مثال قائم کریں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب ہماری بیٹیاں جہیز کے بوجھ کے بغیر عزت و احترام کے ساتھ رخصت ہوں گی اور معاشرہ اس ناسور سے نجات حاصل کر لے گا۔
کیا ہم اپنی بیٹیوں کی عزت کو سامان کے ترازو میں تولتے رہیں گے یا قرآن و سنت کے مطابق ان کے لیے آسان نکاح کا راستہ ہموار کریں گے؟
آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے:
اللّٰهُمَّ أَصْلِحْ أَحْوَالَنَا وَأَحْوَالَ الْمُسْلِمِينَ، وَوَفِّقْنَا لِاتِّبَاعِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، وَاجْعَلْ نِكَاحَنَا سَهْلًا مُبَارَكًا۔
آمين يا ربّ العالمين۔
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں جہیز جیسی تمام معاشرتی برائیوں سے محفوظ رکھے، نکاح کو آسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو سنتِ نبوی ﷺ کا حقیقی گہوارہ بنا دے۔ آمین۔
`وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ`