♣ تمہید
♠ جہیز کا تعارف
جہیز برصغیر کے معاشرے میں رائج ایک قدیم رسم ہے جس کے تحت والدین اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر مختلف اشیاء، زیورات، نقد رقم یا گھریلو سامان دیتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں یہ محض محبت، خیر خواہی اور ضرورت کے تحت دیا جانے والا تحفہ سمجھا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس نے ایک سماجی روایت اور پھر ایک لازمی مطالبے کی شکل اختیار کر لی۔ آج جہیز کا تصور اس حد تک بدل چکا ہے کہ اکثر اوقات لڑکے والے اسے اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ اسلام نے نکاح کو سادگی، آسانی اور باہمی رضامندی پر قائم کیا ہے، نہ کہ مادی مطالبات پر۔
♠ مسئلے کی سنگینی
جہیز کا مسئلہ صرف ایک رسم تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سنگین سماجی ناسور بن چکا ہے۔ اس کی وجہ سے بے شمار والدین شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ایک شادی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات جہیز کی عدم فراہمی یا کمی کی بنا پر لڑکیوں کو ذہنی و جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رسم نے شادی جیسے مقدس بندھن کو تجارت کا رنگ دے دیا ہے اور معاشرے میں عدم مساوات، احساسِ محرومی اور بے چینی کو فروغ دیا ہے۔
♠ موجودہ معاشرے میں اس کی صورتِ حال
موجودہ دور میں تعلیم، ترقی اور شعور میں اضافے کے باوجود جہیز کی رسم مختلف شکلوں میں معاشرے میں موجود ہے۔ بہت سے خاندان اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز دینے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ سماجی دباؤ اور طعن و تشنیع سے بچ سکیں۔ خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کی بیٹیوں کی شادی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں جہیز کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ کئی گھرانے معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جہیز نہ صرف ایک فرسودہ رسم ہے بلکہ ایک ایسا سماجی مرض بھی ہے جس کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
♣ جہیز کی تعریف اور تاریخی پس منظر
♠ جہیز کا مفہوم
جہیز سے مراد وہ سامان، مال و دولت، زیورات یا دیگر اشیاء ہیں جو والدین اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر دیتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے یہ ایک تحفہ یا معاونت کی صورت ہے جو نئی زندگی کے آغاز میں دلہن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کا مفہوم تبدیل ہوتا گیا اور آج بہت سے معاشروں میں یہ ایک سماجی تقاضے اور بعض اوقات لازمی مطالبے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نتیجتاً جہیز اپنی اصل روح کھو بیٹھا ہے اور ایک ایسی رسم بن گیا ہے جو معاشی و سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے۔
♠ قدیم معاشروں میں اس کا تصور
قدیم تہذیبوں اور معاشروں میں جہیز کا تصور مختلف صورتوں میں موجود تھا۔ بعض اقوام میں والدین اپنی بیٹی کو جائیداد، زیورات یا گھریلو سامان دیتے تھے تاکہ وہ ازدواجی زندگی کا آغاز بہتر انداز میں کر سکے۔ اس زمانے میں جہیز کا مقصد عموماً بیٹی کی مالی معاونت اور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوتا تھا۔ تاہم بعض معاشروں میں یہ رسم رفتہ رفتہ سماجی حیثیت اور خاندانی وقار کے اظہار کا ذریعہ بن گئی، جس کے باعث اس کی اصل افادیت پسِ پشت چلی گئی اور نمود و نمائش کا عنصر غالب آ گیا۔
♠ برصغیر میں جہیز کی روایت
برصغیر میں جہیز کی روایت صدیوں پرانی ہے اور اس کی جڑیں مقامی سماجی و ثقافتی روایات میں پیوست ہیں۔ اگرچہ اسلام نے نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کی تعلیم دی ہے، لیکن برصغیر کے مسلمانوں میں بھی مقامی رسوم و رواج کے اثرات کے باعث جہیز کا رواج عام ہو گیا۔ وقت کے ساتھ یہ رسم اس قدر مضبوط ہو گئی کہ شادی کی کامیابی اور خاندانی عزت کا معیار سمجھی جانے لگی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سے خاندان اپنی معاشی استطاعت سے بڑھ کر جہیز فراہم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف مالی مشکلات جنم لیتی ہیں بلکہ معاشرے میں طبقاتی تفاوت، احساسِ محرومی اور دیگر سماجی برائیاں بھی فروغ پاتی ہیں۔
♣ قرآنِ مجید کی روشنی میں نکاح اور سادگی
♠ نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم
قرآنِ مجید نے نکاح کو ایک پاکیزہ، فطری اور بابرکت عمل قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اس کے فروغ کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ﴾ (سورۃ النور: 32)
ترجمہ: "اور تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نکاح کو آسان بنانے اور معاشرے میں اس کے فروغ کا خواہاں ہے۔ نکاح میں غیر ضروری اخراجات، بے جا مطالبات اور جہیز جیسی رسمیں اس اسلامی تعلیم کے منافی ہیں، کیونکہ یہ شادی کو آسان بنانے کے بجائے مشکل اور بوجھل بنا دیتی ہیں۔
♠ فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت
قرآنِ مجید نے زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے اور فضول خرچی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾ (سورۃ الإسراء: 26-27)
ترجمہ: "اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔"
جہیز کی رسم اکثر اوقات نمود و نمائش، تفاخر اور غیر ضروری اخراجات کا سبب بنتی ہے۔ لوگ معاشرتی دباؤ کے تحت اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، جو قرآن کے بتائے ہوئے اصولِ اعتدال کے خلاف ہے۔ اسلام ایسی تمام رسوم کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو اسراف اور تکلف کو فروغ دیں۔
♠ باہمی تعاون اور حسنِ معاشرت کی تلقین
قرآنِ مجید ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جو محبت، ہمدردی، تعاون اور حسنِ سلوک پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾ (سورۃ المائدہ: 2)
ترجمہ: "اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔"
نکاح دو خاندانوں کے درمیان محبت اور رفاقت کا ذریعہ ہے، نہ کہ مالی بوجھ اور مطالبات کا۔ جب لڑکے والے جہیز کی توقعات وابستہ کرتے ہیں یا لڑکی والوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالتے ہیں تو باہمی تعاون اور حسنِ معاشرت کی روح مجروح ہوتی ہے۔ قرآن کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور ایسی تمام رسموں سے اجتناب کیا جائے جو معاشرتی ناانصافی اور مشکلات کو جنم دیتی ہوں۔
♣ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں جہیز کا تصور
♠ سادہ نکاح کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی نمونے کے ذریعے امت کو سادگی، اعتدال اور آسانی کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے نکاح کو ایک مقدس عبادت قرار دیا اور اس میں غیر ضروری رسم و رواج سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً" (مسند أحمد)
ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ اور بوجھ کم ہو۔"
اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نکاح کو آسان اور سادہ رکھنے کا خواہاں ہے۔ جتنا نکاح سادگی کے قریب ہوگا، اتنا ہی وہ برکت، محبت اور سکون کا باعث بنے گا۔ اس کے برعکس جہیز کے نام پر بھاری اخراجات اور غیر ضروری مطالبات اسلامی مزاج کے خلاف ہیں۔
♠ نکاح میں تکلفات سے اجتناب
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں سادگی کو اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ نے نکاح کے معاملے میں بھی نمود و نمائش، فخر و مباہات اور بے جا تکلفات کو پسند نہیں فرمایا۔ حضرت سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابیؓ نکاح کرنا چاہتے تھے، مگر ان کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے نہایت آسانی پیدا فرمائی اور معمولی چیز کو بھی مہر قرار دے کر نکاح کروا دیا۔ (صحیح البخاری)
یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اسلام نکاح میں آسانی پیدا کرنے کا دین ہے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کا۔ افسوس کہ آج جہیز اور دیگر رسومات نے نکاح کو مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بے شمار خاندان پریشانیوں کا شکار ہیں۔
♠ کم خرچ نکاح کی برکت
اسلام کی نگاہ میں نکاح کا مقصد پاکیزہ خاندانی زندگی کا قیام اور معاشرتی استحکام ہے، نہ کہ مال و دولت کی نمائش۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ" (مستدرک حاکم)
ترجمہ: "بہترین مہر وہ ہے جو آسان ہو۔"
جب اسلام مہر جیسے شرعی حق میں بھی آسانی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے تو جہیز جیسے غیر شرعی مطالبات کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کم خرچ اور سادہ نکاح محبت، الفت اور برکت کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ فضول رسمیں اور بے جا اخراجات گھریلو زندگی میں مشکلات اور تلخیوں کو جنم دیتے ہیں۔
لہٰذا احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام سادگی، آسانی اور اعتدال کا دین ہے۔ جہیز کی موجودہ رسم، جس میں مطالبات، تفاخر اور غیر ضروری اخراجات شامل ہوں، اسلامی تعلیمات اور نبوی مزاج کے سراسر منافی ہے۔
♣ حضرت فاطمہؓ کے جہیز کی حقیقت اور اسلام کا موقف
معتبر سنی و شیعہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے نکاح کے موقع پر جو سامان تیار کیا گیا وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بطورِ جہیز عطیہ نہیں تھا، بلکہ حضرت علیؓ کی فروخت شدہ زرہ کی قیمت سے خریدا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو زرہ فروخت کرنے کا حکم دیا، جس کی قیمت تقریباً چار سو اسی یا پانچ سو درہم حاصل ہوئی۔ اس رقم سے خوشبو، ولیمہ اور گھر کی بنیادی ضروریات کا سامان خریدا گیا۔
اس سامان میں ایک قمیص، اوڑھنی، چادر، چارپائی، بستر، تکیہ، مشکیزہ، گھڑا، پیالہ اور چند دیگر ضروری گھریلو اشیاء شامل تھیں۔ خریداری کے عمل میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ اور دیگر صحابہؓ نے بھی تعاون کیا۔ سامان دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:
«بارك الله لأهل البيت» "اللہ اہلِ بیت کے لیے برکت عطا فرمائے۔"
سنی اور شیعہ دونوں مکاتبِ فکر کی کتابوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے نکاح میں سادگی اختیار کی گئی اور سامانِ خانہ داری حضرت علیؓ کے مال سے فراہم کیا گیا۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے حضرت فاطمہؓ کو خصوصی جہیز دیا ہوتا تو پھر دیگر صاحبزادیوں حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ کے ساتھ مساوات کا سوال پیدا ہوتا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان عدل و مساوات کا حکم دیا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں واضح طور پر آیا ہے:
«اعدلوا بين أولادكم» "اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
اسی لیے فقہ، حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجودہ دور کے رائج اور بھاری بھرکم جہیز کو نہ فرض قرار دیا گیا ہے، نہ واجب اور نہ سنت۔ اسلام نکاح میں سادگی، آسانی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ موجودہ جہیز کی رسم اکثر اوقات فضول خرچی، معاشرتی دباؤ، ظلم اور بے شمار خاندانی مسائل کا سبب بنتی ہے۔
♣ جہیز: ایک معاشرتی ناسور کیوں؟
♠ رسم سے لعنت تک کا سفر
جہیز اپنی ابتدائی صورت میں ایک اختیاری تحفہ اور والدین کی جانب سے اپنی بیٹی کے لیے محبت و شفقت کا اظہار تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ رسم اپنی اصل روح سے محروم ہو گئی۔ جو چیز کبھی ضرورت اور خیر خواہی کی بنیاد پر دی جاتی تھی، وہ آج ایک لازمی تقاضے اور سماجی دباؤ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بہت سے خاندان لڑکے والوں کی توقعات پوری کرنے کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات جہیز کی کمی یا عدم فراہمی ازدواجی تنازعات، ظلم و ستم اور خاندانی انتشار کا سبب بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جہیز اب محض ایک رسم نہیں رہا بلکہ ایک ایسی سماجی لعنت بن چکا ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ اس کے باعث والدین قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، بیٹیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں اور معاشرے میں بے چینی اور عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے۔ یوں ایک بظاہر معمولی رسم رفتہ رفتہ ایک خطرناک معاشرتی ناسور میں تبدیل ہو گئی ہے۔
♠ معاشرتی دباؤ اور نمود و نمائش
جہیز کے فروغ میں معاشرتی دباؤ اور نمود و نمائش کا رجحان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ آج بہت سے لوگ اپنی حقیقی ضرورت کے بجائے دوسروں کی دیکھا دیکھی شادیوں میں بے جا اخراجات کرتے ہیں اور اپنی سماجی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے قیمتی سامان، مہنگی اشیاء اور پرتعیش انتظامات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے شادی جیسے مقدس رشتے کو سادگی اور برکت کے بجائے مقابلہ آرائی اور دکھاوے کا میدان بنا دیا ہے۔
خصوصاً متوسط اور غریب طبقے کے افراد اس دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے طعنوں اور تنقید سے بچنے کے لیے اپنی محدود آمدنی کے باوجود بھاری اخراجات کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی مشکلات اور ذہنی پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دوڑ میں انسانی اقدار، اخلاقی معیار اور اسلامی تعلیمات پسِ پشت چلی جاتی ہیں، جبکہ دولت اور ظاہری شان و شوکت کو اہمیت دی جانے لگتی ہے۔
لہٰذا جہیز ایک معاشرتی ناسور اس لیے بن چکا ہے کہ اس نے محبت، اخوت اور سادگی کی جگہ لالچ، تفاخر اور معاشرتی دباؤ کو فروغ دیا ہے۔ اس لعنت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ سادگی کو اپنائے، اسلامی تعلیمات کو اپنا شعار بنائے اور شادی کو آسان بنانے کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرے۔
♣ جہیز کے معاشی نقصانات
♠ غریب خاندانوں پر بوجھ
جہیز کی رسم کے سب سے زیادہ منفی اثرات غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ بیٹی کی شادی کے نام پر والدین برسوں تک رقم جمع کرتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات تک قربان کر دیتے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنی محدود آمدنی کے باوجود معاشرتی توقعات کو پورا کرنے کے لیے مہنگا سامان، زیورات اور دیگر اشیاء فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً شادی جیسی خوشی کی تقریب ان کے لیے ذہنی دباؤ اور معاشی پریشانی کا سبب بن جاتی ہے۔
♠ قرض اور مالی بحران
جہیز کے بڑھتے ہوئے مطالبات نے بہت سے خاندانوں کو قرض لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بعض والدین اپنی زمین، جائیداد یا دیگر قیمتی اثاثے فروخت کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ سودی قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ شادی کے بعد بھی یہ قرض برسوں تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور ان کی معاشی حالت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ یوں ایک وقتی رسم خاندانوں کو طویل المدت مالی بحران میں مبتلا کر دیتی ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
♠ غربت میں اضافہ
جہیز کی لعنت معاشرے میں غربت کے فروغ کا بھی ایک اہم سبب ہے۔ جب لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ محض شادی کی رسومات اور جہیز پر خرچ کر دیتے ہیں تو ان کے پاس تعلیم، صحت، کاروبار اور دیگر ضروری شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے وسائل نہیں بچتے۔ اس طرح مالی وسائل کا ضیاع معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ مزید برآں، قرضوں اور غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے بہت سے خاندان غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں، جس سے معاشرے میں معاشی عدم مساوات بڑھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز نہ صرف ایک سماجی برائی ہے بلکہ ایک سنگین معاشی مسئلہ بھی ہے۔ یہ خاندانوں کی مالی استحکام کو کمزور کرتا، غربت میں اضافہ کرتا اور معاشی ترقی کے مواقع کو محدود کر دیتا ہے۔ اس لیے اس فرسودہ رسم کے خاتمے کے لیے اجتماعی بیداری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
♣ جہیز کے سماجی اثرات
♠ رشتوں میں دشواریاں
جہیز کی رسم نے معاشرے میں نکاح کے عمل کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج بہت سے خاندان لڑکی کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے جہیز کو اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے بے شمار مناسب رشتے محض اس وجہ سے مسترد کر دیے جاتے ہیں کہ لڑکی کے والدین مطلوبہ جہیز فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس طرزِ فکر نے ازدواجی تعلقات کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے اور رشتوں کے انتخاب میں مادی مفادات کو اخلاقی اقدار پر ترجیح دی جانے لگی ہے۔
♠ تاخیر سے شادیاں
جہیز کے بڑھتے ہوئے مطالبات شادیوں میں تاخیر کا ایک بڑا سبب بن چکے ہیں۔ بہت سے والدین مطلوبہ سامان اور اخراجات کا انتظام کرنے کے لیے برسوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث لڑکیوں کی شادیاں مناسب وقت پر نہیں ہو پاتیں۔ بعض اوقات یہ تاخیر نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ذہنی دباؤ، بے چینی اور مختلف سماجی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان اور جلد انجام دینے کی ترغیب دی ہے، لیکن جہیز کی رسم اس مقصد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔
♠ خاندانی تنازعات
جہیز اکثر ازدواجی زندگی میں اختلافات اور تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ بعض اوقات شادی کے بعد جہیز کی کمی یا توقعات پوری نہ ہونے پر لڑکی کو طعنے دیے جاتے ہیں یا اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات گھریلو سکون کو تباہ کر دیتے ہیں اور خاندانوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض معاملات میں یہ تنازعات علیحدگی، گھریلو تشدد اور خاندانوں کے باہمی تعلقات کے خاتمے تک جا پہنچتے ہیں۔
مختصراً، جہیز ایک ایسی سماجی برائی ہے جو رشتوں میں رکاوٹیں پیدا کرتی، شادیوں میں تاخیر کا سبب بنتی اور خاندانی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ اگر معاشرہ اس رسم سے نجات حاصل کر لے تو نکاح آسان ہوں گے، خاندانی تعلقات مضبوط ہوں گے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
♣ خواتین پر جہیز کے منفی اثرات
♠ ذہنی دباؤ
جہیز کی رسم کا سب سے زیادہ منفی اثر خواتین، خصوصاً لڑکیوں اور ان کے والدین پر پڑتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں کم عمری ہی سے یہ احساس لے کر پروان چڑھتی ہیں کہ ان کی شادی والدین کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ یہ سوچ ان کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور احساسِ جرم، بے چینی اور عدمِ تحفظ کو جنم دیتی ہے۔ شادی کے بعد بھی اگر جہیز کے حوالے سے توقعات اور مطالبات برقرار رہیں تو عورت مسلسل ذہنی دباؤ، پریشانی اور اضطراب کا شکار رہتی ہے، جس سے اس کی شخصیت اور گھریلو زندگی متاثر ہوتی ہے۔
♠ گھریلو تشدد
جہیز کی کمی یا مطلوبہ سامان فراہم نہ کرنے کی صورت میں بعض خواتین کو گھریلو سطح پر نامناسب رویوں اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں طعنے دیے جاتے ہیں، تحقیر آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کے حقوق بھی سلب کیے جاتے ہیں۔ ایسے حالات نہ صرف ازدواجی زندگی کے سکون کو تباہ کرتے ہیں بلکہ خاندان کے ماحول کو بھی کشیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ عطا کیا ہے، لیکن جہیز کی لعنت ان اسلامی اقدار کو پامال کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
♠ خواتین کی عزتِ نفس کی مجروحی
جہیز کا مطالبہ درحقیقت عورت کی شخصیت اور وقار کی نفی ہے۔ جب کسی لڑکی کی قدر و منزلت کو اس کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے مال و سامان سے جوڑا جائے تو اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کی اہمیت اس کی ذاتی خوبیوں میں نہیں بلکہ جہیز کی مقدار میں پوشیدہ ہے۔ یہ رویہ نہ صرف خواتین کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ان کے مقام و مرتبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز کی رسم عورت کو عزت و احترام دینے کے بجائے اسے ایک معاشی بوجھ کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ اسلام نے عورت کو معاشرے کا معزز اور باوقار فرد قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک صحت مند اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے جہیز جیسی فرسودہ رسم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
♣ جہیز اور انسانی حقوق
♠ عورت کی وقعت کا مسئلہ
انسانی حقوق کی بنیاد ہر فرد کے احترام، وقار اور مساوی حیثیت پر قائم ہے، لیکن جہیز کی رسم اکثر عورت کی عزت و وقعت کو متاثر کرتی ہے۔ جب کسی لڑکی کی قدر و منزلت کا معیار اس کے کردار، تعلیم، صلاحیت اور اخلاق کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے مال و سامان کو بنا دیا جائے تو اس کی شخصیت پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس طرح عورت ایک باوقار انسان کے بجائے مادی مفادات کے حصول کا ذریعہ محسوس ہونے لگتی ہے، جو انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
مزید برآں، جہیز کے مطالبات اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ شادی ایک معاشی لین دین ہے، حالانکہ نکاح باہمی محبت، اعتماد اور احترام پر قائم ایک مقدس رشتہ ہے۔ عورت کو اس کی ذاتی خوبیوں کے بجائے جہیز کی مقدار سے پرکھنا اس کے مقام و مرتبے کو کم کرنے کے مترادف ہے اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔
♠ مساوات اور انصاف کے تقاضے
انسانی حقوق کا ایک بنیادی اصول مساوات اور انصاف ہے۔ اسلام اور عالمی انسانی اقدار دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام انسان عزت و احترام کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک کیا جانا چاہیے۔ جہیز کی رسم اس اصول کے برعکس معاشرتی تفریق اور ناانصافی کو فروغ دیتی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے امیر اور غریب خاندانوں کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔
بہت سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندان صرف مالی کمزوری کی بنا پر سماجی دباؤ، تحقیر اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ دوسری طرف، لڑکیوں کے حقوق اور جذبات کو نظر انداز کر کے ان پر مالی بوجھ کا تاثر مسلط کیا جاتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شادی کے معاملات میں دولت اور سامان کے بجائے اخلاق، کردار، تعلیم اور باہمی ہم آہنگی کو ترجیح دی جائے۔
لہٰذا جہیز نہ صرف ایک سماجی برائی ہے بلکہ انسانی حقوق، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ ایک مہذب اور منصف معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کے وقار کا تحفظ کرے، امتیازی رویوں کا خاتمہ کرے اور نکاح کو سادگی، احترام اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر استوار کرے۔
♣ جہیز کے فروغ کی بنیادی وجوہات
♠ جہالت
جہیز کے فروغ کی ایک اہم وجہ دینی اور سماجی شعور کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف ہونے کے باعث جہیز کو نکاح کا لازمی جزو سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب معاشرے میں علم کی جگہ جہالت اور غلط تصورات رائج ہو جائیں تو غیر اسلامی رسمیں مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسی جہالت کے نتیجے میں لوگ جہیز کے نقصانات کو جانتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔
♠ رسم و رواج کی اندھی تقلید
بہت سی معاشرتی برائیوں کی طرح جہیز بھی اندھی تقلید کے سبب نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ اکثر لوگ کسی رسم کے درست یا غلط ہونے پر غور کرنے کے بجائے صرف اس لیے اسے اپناتے ہیں کہ یہ ان کے خاندان یا معاشرے میں رائج ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف افراد کو اپنی خواہش اور سوچ کے خلاف بھی انہی فرسودہ روایات پر عمل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ایک غلط رسم معاشرتی روایت کا روپ دھار کر مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
♠ سماجی مقابلہ بازی
موجودہ دور میں نمود و نمائش اور سماجی برتری کی خواہش نے جہیز کی رسم کو مزید فروغ دیا ہے۔ لوگ دوسروں سے بڑھ کر شادی کرنے اور زیادہ سامان دینے کو عزت و وقار کی علامت سمجھنے لگے ہیں۔ ایک خاندان دوسرے خاندان کی نقل کرتا ہے اور یوں فضول اخراجات اور غیر ضروری مطالبات کا سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ مقابلہ بازی خصوصاً متوسط طبقے کے لیے شدید مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
♠ لالچ اور مادہ پرستی
جہیز کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ لالچ اور مادہ پرستی بھی ہے۔ بعض لوگ نکاح کو ایک مقدس رشتے کے بجائے مالی فوائد حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دولت، قیمتی سامان اور دیگر مادی اشیاء کے حصول کی خواہش انہیں جہیز کے مطالبات پر آمادہ کرتی ہے۔ جب معاشرے میں اخلاقی اقدار کی جگہ مادہ پرستی کو اہمیت ملنے لگے تو انسانی رشتے بھی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہی لالچ جہیز جیسی برائی کو زندہ رکھنے اور اسے مزید مضبوط کرنے کا سبب بنتی ہے۔
مختصراً، جہالت، اندھی تقلید، سماجی مقابلہ بازی اور مادہ پرستی وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے جہیز جیسی فرسودہ رسم کو معاشرے میں جڑ پکڑنے کا موقع دیا ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ شعور بیدار کیا جائے، اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے اور معاشرے میں سادگی، قناعت اور اخلاقی اقدار کو عام کیا جائے۔
♣ جہیز کے خاتمے میں والدین کا کردار
♠ سادہ شادیوں کا فروغ
والدین معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے میں بھی ان کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ شادی کو آسان اور سادہ بنانے کی کوشش کریں اور اسے نمود و نمائش، فضول خرچی اور غیر ضروری رسومات سے پاک رکھیں۔ اگر والدین خود سادگی کو اختیار کریں اور جہیز کو عزت و وقار کا معیار نہ سمجھیں تو معاشرے میں ایک مثبت مثال قائم ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی شادی کے موقع پر جہیز کا مطالبہ نہ کریں اور نہ ہی اس کی توقع رکھیں۔ اسی طرح بیٹیوں کی شادی میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے کے بجائے اعتدال اور میانہ روی کو اپنائیں۔ جب والدین عملی طور پر سادہ شادیوں کو فروغ دیں گے تو جہیز کی رسم آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو دے گی اور نکاح آسان ہوتے جائیں گے۔
♠ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت
جہیز کے خاتمے کے لیے بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم اور بہترین تربیت بھی نہایت ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو قیمتی سامان اور مال و دولت فراہم کرنے کے بجائے علم، اخلاق، دینی شعور اور عملی صلاحیتوں سے آراستہ کریں۔ تعلیم یافتہ اور باکردار بیٹیاں نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر ہوتی ہیں۔
جب والدین اپنی توجہ جہیز جمع کرنے کے بجائے بیٹیوں کی شخصیت سازی، تعلیم اور ہنر مندی پر مرکوز کریں گے تو معاشرے کا نظریہ بھی تبدیل ہوگا۔ اس سے یہ شعور عام ہوگا کہ لڑکی کی اصل دولت اس کا کردار، علم اور صلاحیت ہے، نہ کہ وہ سامان جو شادی کے وقت اس کے ساتھ دیا جائے۔ یوں ایک صحت مند، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔
لہٰذا والدین اگر سادگی کو فروغ دیں، جہیز کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں تو وہ اس معاشرتی ناسور کے خاتمے میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
♣ نوجوان نسل کا کردار
♠ جہیز نہ لینے کا عزم
جہیز جیسی فرسودہ رسم کے خاتمے میں نوجوان نسل کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ نوجوان ہی معاشرے کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی سوچ اور طرزِ عمل معاشرتی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ خصوصاً نوجوان مرد اگر یہ عزم کر لیں کہ وہ اپنی شادی میں جہیز نہ لیں گے اور نہ ہی اس کا مطالبہ کریں گے تو اس برائی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یہ امر نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ اعلیٰ اخلاق اور انسانی وقار کا بھی تقاضا ہے۔ جب نوجوان اپنی ذاتی خواہشات اور معاشرتی دباؤ سے بالاتر ہو کر جہیز سے انکار کریں گے تو وہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثالی نمونہ بنیں گے۔ اس طرح نکاح آسان ہوں گے، والدین پر مالی بوجھ کم ہوگا اور معاشرے میں سادگی و اعتدال کا رجحان فروغ پائے گا۔
♠ مثبت سماجی شعور کی بیداری
نوجوان نسل صرف اپنے ذاتی فیصلوں تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے میں مثبت شعور بیدار کرنے کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کرے۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، علمی نشستوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے جہیز کے نقصانات کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو اس کے خلاف آمادہ کیا جا سکتا ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور معاشرے کے دیگر افراد کو یہ باور کرائیں کہ شادی کی کامیابی کا انحصار جہیز پر نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، باہمی احترام، محبت اور دینی اقدار پر ہے۔ جب نوجوان نسل شعوری طور پر جہیز کے خلاف آواز بلند کرے گی اور سادگی کو اپنا شعار بنائے گی تو معاشرتی رویّوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی۔
مختصراً، نوجوان نسل اگر جہیز نہ لینے کا پختہ عزم کر لے اور معاشرے میں بیداری و اصلاح کی مہم چلائے تو وہ اس ناسور کے خاتمے میں ایک مؤثر اور تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی شعور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جہاں نکاح آسان، رشتے مضبوط اور انسانی وقار محفوظ ہو۔
♣ علماء، تعلیمی اداروں اور میڈیا کی ذمہ داریاں
♠ آگاہی مہمات
جہیز جیسی معاشرتی برائی کے خاتمے کے لیے علماء، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کا کردار نہایت اہم اور مؤثر ہے۔ یہ وہ طبقات ہیں جو عوام کی سوچ، رویّوں اور ترجیحات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کے نقصانات اور اس کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے منظم آگاہی مہمات چلائیں۔
مساجد، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں جن میں جہیز کی حقیقت، اس کے نقصانات اور اس کے متبادل اسلامی طرزِ فکر پر روشنی ڈالی جائے۔ اسی طرح میڈیا کو چاہیے کہ وہ ڈراموں، دستاویزی پروگراموں، مضامین اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرے اور سادہ نکاح کی حوصلہ افزائی کرے۔ جب مسلسل اور مؤثر انداز میں آگاہی فراہم کی جائے گی تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہوگی اور لوگ اس رسم کے خلاف سنجیدگی سے سوچنے لگیں گے۔
♠ اسلامی اور اخلاقی تعلیمات کا فروغ
علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں نکاح کی اصل روح کو لوگوں کے سامنے واضح کریں اور یہ باور کرائیں کہ اسلام نے جہیز کو نکاح کی شرط قرار نہیں دیا بلکہ سادگی، اعتدال اور حسنِ معاشرت کی تعلیم دی ہے۔ خطباتِ جمعہ، دینی اجتماعات اور اصلاحی مجالس میں اس موضوع کو مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ عوام میں صحیح دینی شعور پیدا ہو۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ و طالبات کی اخلاقی اور سماجی تربیت پر توجہ دیں اور انہیں یہ تعلیم دیں کہ انسان کی عزت و عظمت کا معیار اس کا کردار، علم اور اخلاق ہیں، نہ کہ مال و دولت یا ظاہری نمود و نمائش۔ میڈیا بھی اپنی سماجی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایسے مثبت پیغامات عام کرے جو سادگی، قناعت، مساوات اور انسانی احترام کے جذبات کو فروغ دیں۔
اگر علماء، تعلیمی ادارے اور میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری اور سنجیدگی سے ادا کریں تو جہیز کے خلاف ایک مضبوط عوامی رائے تشکیل دی جا سکتی ہے۔ یہی اجتماعی کوشش اس معاشرتی ناسور کے خاتمے اور ایک صحت مند، باوقار اور اسلامی معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
♣ حکومت اور قانون کا کردار
♠ مؤثر قانون سازی
جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے میں حکومت کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ معاشرتی اصلاح کے لیے شعور اور اخلاقی تربیت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم بعض مسائل کے حل کے لیے مؤثر قانون سازی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جہیز کے مطالبات، اس کی جبری وصولی اور اس سے متعلق دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف واضح اور سخت قوانین وضع کرے تاکہ اس رسم کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
ایسے قوانین نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے حقوق کا تحفظ کریں بلکہ معاشرے کو یہ پیغام بھی دیں کہ جہیز ایک قابلِ مذمت عمل ہے۔ مزید برآں، قانون سازی کے ساتھ عوامی آگاہی پروگرام بھی شروع کیے جائیں تاکہ لوگ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے واقف ہو سکیں اور اس برائی کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں حصہ لے سکیں۔
♠ قوانین پر عمل درآمد
قوانین کی کامیابی صرف ان کے وجود میں نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر قوانین موجود ہوں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہو تو ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔ اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کے خلاف بنائے گئے قوانین پر سختی اور دیانت داری کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
اس مقصد کے لیے شکایات کے اندراج کا آسان نظام، فوری قانونی کارروائی اور متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ عدالتی اور انتظامی اداروں کو بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ قانون کی عملداری قائم ہو اور مجرم عناصر کو مناسب سزا مل سکے۔ جب قانون بلا امتیاز نافذ ہوگا تو معاشرے میں اس برائی کے خلاف خوف اور احتساب کا احساس پیدا ہوگا۔
مختصراً، حکومت مؤثر قانون سازی اور اس کے سخت نفاذ کے ذریعے جہیز کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم پائیدار کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب قانونی اقدامات کے ساتھ سماجی شعور، دینی تعلیمات اور اخلاقی تربیت کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں پر قائم ہو۔
♣ جہیز سے پاک معاشرے کی تشکیل
♠ اجتماعی شعور
جہیز سے پاک معاشرے کی تشکیل محض انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جب معاشرے کے تمام طبقات، خواہ وہ والدین ہوں، نوجوان ہوں، علماء ہوں، اساتذہ ہوں یا سماجی رہنما، اس برائی کے خلاف متحد ہو جائیں تو مثبت تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اجتماعی شعور کا تقاضا ہے کہ لوگ جہیز کو عزت، وقار اور سماجی مرتبے کا معیار سمجھنے کے بجائے ایک نقصان دہ رسم تصور کریں اور اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
مزید برآں، معاشرے کے باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ جہیز کے خلاف رائے عامہ ہموار کریں، سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کریں جو جہیز کے بغیر نکاح کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب اجتماعی سطح پر سوچ میں تبدیلی آئے گی تو یہ فرسودہ رسم خود بخود کمزور پڑنے لگے گی اور ایک صحت مند سماجی ماحول پروان چڑھے گا۔
♠ سادگی اور اعتدال کا فروغ
اسلامی تعلیمات سادگی، اعتدال اور میانہ روی کو زندگی کے ہر شعبے میں پسند کرتی ہیں۔ نکاح بھی ایک ایسی عبادت ہے جس میں سادگی اور آسانی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا جہیز سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات، نمود و نمائش اور فضول رسومات سے اجتناب کیا جائے۔
جب لوگ سادگی کو عزت اور فخر کا باعث سمجھیں گے اور اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات کریں گے تو معاشرتی دباؤ اور مقابلہ بازی کا خاتمہ ہوگا۔ اس سے نہ صرف نکاح آسان ہوں گے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندان بھی معاشی بوجھ سے محفوظ رہ سکیں گے۔ سادگی اور اعتدال کا فروغ درحقیقت اسلامی اقدار کی طرف واپسی ہے، جو ایک خوش حال، پُرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
مختصراً، جہیز سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے اجتماعی شعور، سماجی تعاون اور سادگی و اعتدال کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ جب افراد اور ادارے مل کر اس مقصد کے لیے کوشش کریں گے تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں نکاح آسان، رشتے مضبوط اور انسانی وقار محفوظ ہوگا۔
♣ نتیجہ
♠ اہم نکات کا خلاصہ
مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جہیز ایک فرسودہ رسم اور سنگین معاشرتی ناسور ہے جس نے معاشرے کے اخلاقی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ رسم نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کے لیے مالی مشکلات کا سبب بنتی ہے بلکہ شادیوں میں تاخیر، خاندانی تنازعات، خواتین کے استحصال اور انسانی وقار کی پامالی کا بھی باعث بنتی ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ نکاح میں سادگی، اعتدال اور آسانی کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ حضرت فاطمہؓ کے نکاح کا مبارک نمونہ بھی اسی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا دارومدار مادی وسائل پر نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی اقدار پر ہے۔
♠ جہیز کے خاتمے کی اپیل
آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات—والدین، نوجوان، علماء، تعلیمی ادارے، میڈیا اور حکومت—مل کر اس لعنت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جہیز لینے اور دینے دونوں کی حوصلہ شکنی کریں، سادہ نکاح کو فروغ دیں اور آنے والی نسلوں کو اس برائی کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے گا تو یقیناً ایک مثبت سماجی تبدیلی رونما ہوگی۔
♠ امید افزا اختتامی پیغام
مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر خلوصِ نیت، مضبوط ارادے اور اجتماعی شعور کے ساتھ جدوجہد کی جائے تو جہیز جیسی گہری جڑیں رکھنے والی رسم کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی غلط روایات کو ترک کرنے کا عزم کر لیتی ہیں تو مثبت تبدیلی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ شعور، تعلیم اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں نکاح آسان، خاندان مضبوط اور خواتین باعزت و باوقار ہوں گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے بہتر ہو۔" (سنن الترمذی، کتاب المناقب، حدیث: 3895)
یہ حدیث اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ ازدواجی زندگی کی کامیابی حسنِ سلوک، محبت اور اچھے اخلاق میں ہے، نہ کہ مال و اسباب کی کثرت میں۔
♠ مؤثر اختتامی جملہ
"جہیز نہیں، اخلاق اور کردار ہی ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی اصل بنیاد ہیں۔"