🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Mohammad Tanveer
09 Jun 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنوان ،۔۔۔۔۔ جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار ۔
تمہید ۔
اللہ رب العزت نے انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ۔
قال تعالى . انا خلقناكم من ذكر وانثى .(الحجرات )
اور یہ نظام عالم قیام عالم سے چلا ارہا ہے ۔
ہر دور میں شریعتیں بدلتی رہیں، قوانین بدلتے رہے،
لیکن یہ نظام نہیں بدلا ۔
اللہ تعالی نے رشتہ ازدواجیت کو ایک پاکیزہ اور عفت ماب رشتہ قرار دیا ہے ۔
دنیا کی ہر قوم ہر نسل عربی ،عجمی، سفید، سیاہ ،مسلم ،غیر مسلم سب اس رشتے پر عمل پیرا رہے ہیں ۔
جسے ہم ،،نکاح ،،کہتے ہیں ۔
عالم انسانیت کے مقتدا ابو البشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔
تکمیل دین۔
اللہ تبارک و تعالی نے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کی تکمیل فرما دی اور قران یوں گویا ہوا ۔اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا. (مائده )
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین منتخب کر لیا ۔
محترم قارئین‌۔ اسلام واحد ایسا مذہب ہے جس نے تمام معاملات دینی ،دنیاوی، انفرادی، اجتماعی ،سیاسی ،سماجی ،معاشرتی غرضیکہ کے تمام کو واضح اور مکمل انداز میں بیان کر دیا ہے۔ کوئی ایسا گوشہ اور پہلو تشنہ نہیں رکھا جس میں اسلامی تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ نہ ہوں ۔
۔ہمارا معاشرہ ۔
لیکن افسوس آج اسلامی تعلیمات سے دور ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن میں ہم غیر اسلامی رسم و رواج پر عمل کرنے لگے ہیں ۔
نتیجتا ہم بہت سی خرابیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اور بسا اوقات یہ خرابیاں ناسور کی شکل اختیار کر جاتی ہے ۔
شارع اسلام پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نکاح کو ایک آسان اور سیدھا سادہ بنا کر پیش کیا تھا اور اپنی پیاری حدیث میں ارشاد فرمایا تھا ۔
ان اعظم النكاح بركة ايسره مؤنة.(مسند احمد )
(سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں اخراجات سب سے کم ہوں )
لیکن دنیا پرست اور زرپرست لوگوں نے دیگر مذاہب سے متاثر ہو کر اور اپنی نفسانی ہوس میں ڈوب کر مال و متاع کی لالچ میں نکاح کو انتہائی دشوار اور مشکل بنا دیا ہے ۔
ہمہ قسم کے خرافات نت نئے طریقے بےجا فضول خرچیاں اس قدر داخل کر دی ہیں کہ الامان والحفیظ ۔
۔مسلم نوجوان ۔
وہ مرد جس کو اللہ رب العزت نے قوام کے خطاب سے نوازا تھا ۔الرجال قوامون على النساء (النساء )
جس کو عورت کی عزت و آبرو کا محافظ بنایا تھا وہی مرد آج انتہائی ذلت کے ساتھ اپنی غیرت انسانی کو پس پشت ڈال کر شادی نکاح کے موقع پر جہیز کی مانگ کرتا ہے ۔
۔۔جہیز کیا ہے ۔۔
آج کل مسلمانوں میں جہیز کی جو رسم ہے وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک کے نام سے رائج ہے ۔
پہلے جہیز کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لڑکی کا سرپرست لڑکی کو نیا گھر بسانے کے لیے اپنی خوشی سے ضروری سامان دے دے جس کے ذریعے وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کو بسہولت انجام دے سکے ۔
لیکن ۔۔۔ اب جہیز نے باقاعدہ خرید و فروخت کی صورت اختیار کر لی ہے لڑکا جتنا زیادہ بڑی تعلیمی ڈگری رکھتا ہو یا جتنا زیادہ کمانے والا ہو اتنی ہی زیادہ شادی کے مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔
ظلم بالائے ظلم یہ کہ ان عزت دار گھرانوں کے باعزت فقیر بلا جھجک اپنی ناجائز مانگ سامنے رکھتے ہیں اور حد تو تب ہو جاتی ہے کہ جب دولہے کے اندرون جامہ سے لے کر پگڑی اور پیر کی جوتی تک دلہن والوں کی بھیک کی مرہون منت ہوتی ہے۔
خدانخواستہ اگر نکاح ٹوٹ جائے تو دولہے کو مادر زاد برہنہ ہو کر شامیانے سے نکلنا پڑے گا ۔
الغرض۔۔ جہیز ہمارے معاشرے کا ایسا خطرناک وائرس اور رستہ ہوا ناسور بن گیا ہے کہ
نہ سنبھالے بنتا ہے نہ نکالے بنتا ہے۔
یہ ملعون جہیز کی رسم لڑکے والوں کی ہوس اور لالچ کو بڑھاتی ہے اور نکاح جیسے مقدس رشتہ کی بنیاد محبت اور اخلاق کے بجائے دولت اور سامان پر رکھی جاتی ہے ۔
جس قدر زمانہ آگے بڑھ رہا ہے اسی قدر یہ رسم قبیح ہمارے معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہے ۔
عجیب ماجرہ ہے حضرات دیکھیے
داماد مانگتا ہے خیرات دیکھیے
۔۔ذہنی معاشی تناؤ ۔۔
حال یہ ہو گیا ہے کہ گھروں میں لڑکی کی پیدائش ایک مصیبت بن گئی ہے جس گھر میں لڑکی پیدا ہو جاتی ہے مانو اس گھر والوں کی نیند، چین، سکون سب ختم ہو جاتا ہے ۔
شب و روز بس یہی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ نکاح کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟
جہیز کے مطالبات کیسے پورے ہوں گے ؟
جہیز کے مطالبات پورے کرنے کے لیے غریب اور متوسط درجہ کے والدین کو اپنی کل جمع پونجی ختم کرنا پڑتی ہے
یا پھر بینک سے سودی قرض لینا پڑتا ہے
جس کی وجہ سے وہ تاحیات معاشی بدحالی اور ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں ۔
اور اگر جہیز کے وسائل مہیا نہ ہو پائے تو کنواری اور نوجوان لڑکیوں کی عمریں ڈھلنے لگتی ہے رشتے نہیں ہو پاتے شادی میں تاخیر ہوتی چلی جاتی ہے ۔
اور بسا اوقات لڑکیوں میں نفسیاتی مسائل جنم لینےلگتے ہیں ۔
۔۔۔۔تشدد /طلاق/ قتل/ خودکشی ۔۔۔۔۔۔
اور اگر کسی نہ کسی درجے میں نکاح ہو جائے تو سسرال کی جانب سے جہیز نہ لانے یا کم لانے پر طعنے دیے جاتے ہیں دلہن کو ذہنی وہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے
اور بسا اوقات نوبت طلاق تک آجاتی ہے ۔
جہیز کے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں دلہن کو جلا دینے، یا قتل کر دینے کے افسوس ناک واقعات پیش آتے ہیں ذہنی تناؤ کے باعث بسا اوقات لڑکیاں خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم قارئین جہیز کوئی شرعی چیز نہیں ہے۔
مذہبی نقطہ نظر سے بھی شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ ایک رسم قبیح ہے جس کو ختم کرنا ہر فرد بشر کی ذمہ داری اور ضرورت ہے یہ صرف تقریر و تحریر اور زبانی جمع خرچ سے ختم نہیں ہوگی۔
بلکہ معاشرہ میں ذمہ داری کا احساس اور بیداری مہم پیدا کرنی ہوگی ۔
اور سمجھدار نوجوانوں کو سامنے آ کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم معاشرے سے اس جہیز جیسی ملعون رسم کو ختم کریں گے۔
نہ ہم خود شادیوں میں جہیز لیں گے اور نہ کسی کو جہیز لینے دیں گے ۔
۔۔۔۔۔دعاء۔۔۔۔۔۔۔
باری عز اسمہ سے دست بستہ یہ دعا ہے کہ ہم کو اپنے دین مبین پر مکمل عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اور ہمیں اپنے پاک ارشاد ۔۔
يا ايها الذين امنوا ادخلوا في السلم كافه ولا تتبعوا خطوات الشيطان (بقره)
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آمين يا رب العالمين ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.