"جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار"
بعض رسمیں بظاہر خوشیوں کا لباس اوڑھے معاشرے میں داخل ہوتی ہیں، مگر اپنے دامن میں محرومیوں، آہوں، حسرتوں اور بربادیوں کا ایسا طوفان چھپائے رکھتی ہیں جس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ جہیز بھی ہمارے معاشرے کا ایک ایسا ہی ناسور ہے جس نے نہ جانے کتنے گھروں کی خوشیاں نگل لیں، کتنے باپوں کی کمر جھکا دی، کتنی ماؤں کی آنکھوں سے نیند چھین لی اور کتنی بیٹیوں کے خوابوں کو تعبیر سے پہلے ہی دفن کر دیا۔
کتنے ہی باپ ایسے ہیں جو اپنی بیٹیوں کی رخصتی سے پہلے ہی اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں، اور کتنی ہی بیٹیاں ایسی ہیں جن کے خواب جہیز کی فہرستوں کے نیچے دب کر دم توڑ دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی رسم ہو جس نے خاموشی کے ساتھ اتنے گھر اجاڑے ہوں، جتنے جہیز نے اجاڑے ہیں۔
عجیب تماشا ہے!
ہم جہیز کے خلاف مضامین بھی لکھتے ہیں، تقریریں بھی کرتے ہیں، سیمینار بھی منعقد کرتے ہیں، مگر جب اپنے گھر کی باری آتی ہے تو ساری دانشوری، ساری روشن خیالی اور ساری مذہبیت مصلحت کی چادر اوڑھ لیتی ہے۔ ضمیر سو جاتے ہیں اور وہی لوگ جو اس رسم کے خلاف تقریریں کر رہے تھے، وہ بھی رسمی مطالبات کی فہرست مرتب کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
ہر دن موبائیل کی اسکرینوں پر دل دہلا دینے والی سرخیاں استقبال کرتی ہیں۔ کہیں کم جہیز لانے کے جرم میں ایک نئی نویلی دلہن کو آگ کے حوالے کر دیا گیا، کہیں سسرال کی اذیتوں سے تنگ آکر کسی بیٹی نے اپنی زندگی کا چراغ خود بجھا لیا، کہیں گاڑی نہ ملنے پر نکاح سے انکار کر دیا گیا اور کہیں مطالبات پورے نہ ہونے پر ایک آباد گھر ویران ہوگیا۔ شہر بدلتے ہیں، نام بدلتے ہیں، کردار بدلتے ہیں، مگر المیہ اپنی پوری سنگینی کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔
معاشرے میں پنپنے والی برائیاں انسانیت، رواداری، اخوت اور باہمی محبت جیسی عظیم نعمتوں کو آہستہ آہستہ نگل جاتی ہیں۔ جہیز بھی ایسا ہی ایک سماجی ناسور ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اور ہماری اجتماعی زندگی کو تباہ و برباد کردیا۔ اس نے رشتوں کی پاکیزگی کو مجروح کیا، محبتوں کو لین دین میں بدل دیا اور نکاح جیسے مقدس بندھن کو خواہشات کے بازار میں لا کھڑا کیا۔
ایک طرف ایک غریب باپ اپنی عمر بھر کی کمائی جمع کر رہا ہوتا ہے، دوسری طرف خواہشات کے سوداگر رشتوں کی قیمت لگا رہے ہوتے ہیں۔ کسی کو گاڑی چاہیے، کسی کو زیورات، کسی کو لاکھوں نقد، کسی کو قیمتی سامان۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نکاح سے قبل، بولی لگانے کا بازار سجا ہوا ہو۔ رشتہ کم اور سودا زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
معاشرے کا پڑھا لکھا کہلانے والا طبقہ بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ زبان پر ایک ہی جملہ رہتا ہے: "ہماری حیثیت تھی، اس لیے دے دیا۔" مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہی سوچ کتنے غریب گھروں کے لیے عذاب بن چکی ہے، کتنے باپوں کو قرض کے اندھیروں میں دھکیل چکی ہے اور کتنی بیٹیوں کی آنکھوں سے خوشیوں کی چمک چھین چکی ہے۔
شادی ہال جگمگا رہے ہوتے ہیں، اسٹیج روشنیوں سے نہا رہے ہوتے ہیں، اور مہنگے مہنگے جہیز یوں سجا کر رکھے جاتے ہیں گویا خاندانوں کی عزتیں جہیز کے انبار سے تولی جا رہی ہیں۔ مگر انہی چمکتی ہوئی روشنیوں کے پیچھے کتنے باپوں کی نیندیں دفن ہو چکی ہوتی ہیں، کتنی ماؤں کی دعائیں آہوں میں بدل چکی ہوتی ہیں اور کتنی بیٹیوں کے خواب قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہوتے ہیں، اس کا حساب کوئی نہیں رکھتا۔
جہیز کا المیہ رخصتی کے دن ختم نہیں ہوتا، اکثر وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ آج اگر لڑکی حسبِ منشا جہیز نہیں لاتی تو ظلم و زیادتی کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے۔ طعنوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے، اذیتوں کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے اور نت نئی فرمائشیں جنم لینے لگتی ہیں۔ کبھی ستواسہ، کبھی چھٹی، کبھی نام رکھائی، کبھی چھلہ اور کبھی کسی اور رسم کے نام پر مطالبات کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔
حرص و لالچ کی بھی عجیب فطرت ہے؛ ایک مرتبہ سر اٹھا لے تو پھر جھکنے کا نام نہیں لیتی۔ جو لوگ رشتے کے آغاز میں مطالبات کرتے ہیں، ایسے بھیک منگے بعد میں بھی کسی نہ کسی بہانے ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں۔ پھر جب خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو ایک معصوم لڑکی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ اس کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ بھیک منگو کے گھر بیاہی گئی۔
کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی جوانی انتظار میں ڈھل جاتی ہے۔ کتنی ہی بیٹیاں اپنے والدین کی بے بسی دیکھتے دیکھتے اندر سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ کتنی ہی مائیں اپنی بچیوں کے مستقبل کی فکر میں رات بھر جاگتی ہیں۔ کتنے ہی باپ قرض کی دلدل میں اتر جاتے ہیں اور کتنے ہی گھر اس ایک رسم کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
اور سچ تو یہ ہے کہ جہیز مانگنے والا اپنی زبان سے کچھ بھی کہے، اس کا پھیلا ہوا ہاتھ اس کی حقیقت بیان کر دیتا ہے۔ جو شخص نکاح جیسے مقدس بندھن سے پہلے ہی مطالبات کی فہرست تھما دے، جو اپنی خواہشات کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر لاد دے، جو اپنے بیٹے کی تعلیم، ملازمت اور حیثیت کو تجارت کا ذریعہ بنا لے، وہ رشتہ نہیں جوڑتا بلکہ سودے بازی کرتا ہے۔ ایسے لوگ عزت کا لبادہ اوڑھ کر کھڑے ہوتے ہیں مگر ان کے مطالبات چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ کردار کی دولت سے محروم لوگ ہی سامان کی دولت پر فخر کیا کرتے ہیں۔
رسمِ جہیز نے خلع و طلاق کے دروازوں کو بھی وسیع کیا ہے۔ ناجائز مطالبات جب پورے نہیں ہوتے تو رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ کہیں طلاق دھمکی بن جاتی ہے اور کہیں حقیقت۔ حالانکہ شریعت نے طلاق کو آخری چارۂ کار قرار دیا تھا، مگر خواہشات کے غلاموں نے اسے بھی اپنی حرص کا ہتھیار بنا لیا۔
بعض لوگ اس رسم کے دفاع میں دین کا نام لیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دین نے نکاح کو آسان بنایا اور ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔ دین نے سادگی سکھائی اور ہم نے نمائش اختیار کر لی۔ دین نے ذمہ داری کا سبق دیا اور ہم نے مطالبات کی فہرستیں تیار کر لیں۔
میر تقی میرؔ کے گھر سے اٹھنے والی آہ آج بھی فضا میں معلق محسوس ہوتی ہے۔ روایت ہے کہ بیٹی کی شادی کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جب حقیقت آشکار ہوئی تو درد شعر بن کر لبوں پر آ گیا:
اب آیا دھیان اے آرامِ جاں اس نا مرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسبابِ شادی میں
ادب نے اسے یاد کر لیا، محفلوں نے اسے سن لیا، داد دینے والوں نے اسے دہرا لیا، مگر اس کے پس منظر میں کھڑے ہوئے باپ کے درد کو معاشرہ آج تک محسوس نہ کر سکا۔ دو صدیاں گزر گئیں، مگر یہ شعر آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے۔
اور اب ذرا رک کر سوچو!
شاید اس وقت بھی کسی گھر میں ایک باپ حساب لگا رہا ہوگا۔ کاغذ پر کچھ اعداد لکھے ہوں گے، کچھ کاٹے ہوں گے، کچھ جوڑے ہوں گے۔ شاید وہ اپنی ضرورتوں کو بیٹی کی شادی کے اخراجات کے مقابلے میں قربان کر رہا ہوگا۔ شاید اس نے اپنی کئی خواہشوں پر مٹی ڈال دی ہوگی۔ شاید وہ قرض لینے کے لیے کسی دروازے کا رخ کرنے والا ہوگا۔
اور ہم؟
ہم اب بھی رسموں کے محافظ بنے بیٹھے ہیں۔
ہم اب بھی معاشرتی وقار کے قصے سنا رہے ہیں۔
ہم اب بھی اپنی خواہشات کو رسموں کا نام دے رہے ہیں۔
آج اگر اس ناسور کو دفن کرنا ہے تو فیصلے ایوانوں میں نہیں، گھروں میں ہونے چاہیے۔ اعلان جلسوں میں نہیں، نکاح کی مجلسوں میں ہونے چاہیے۔ انقلاب تقریروں سے نہیں، اُس نوجوان کے انکار سے آئے گا جو اپنی عزت کو جہیز کے ترازو میں تولنے سے انکار کر دے۔
ورنہ کل کوئی اور میرؔ اپنے دل کا ملبہ لفظوں میں ڈھالے گا، کوئی اور باپ خاموشی سے ٹوٹ جائے گا، کوئی اور بیٹی اپنے والد کی بے بسی دیکھ کر آنسو پی جائے گی، اور ہم پھر ایک نئے مضمون، ایک نئی تقریر اور ایک نئی مذمتی نشست میں مصروف ہوں گے۔
تب جرم صرف جہیز کا نہیں ہوگا۔
جرم اُن ہاتھوں کا ہوگا جو مانگتے رہے۔
جرم اُن زبانوں کا ہوگا جو مطالبات کو رسم کہتی رہیں۔
جرم اُن ضمیروں کا ہوگا جو سچ جان کر بھی خاموش رہے۔
جرم ہم سب کا ہوگا کہ ہمارے سامنے کتنے گھر اور خاندان اجڑ گئے، معاشرہ تباہ ہوا اور قوم بربادی کی طرف بڑھتی رہی۔ جہیز کی لعنت ناسور بنتی رہی اور ہم جانتے ہوئے بھی اس کے مقابل کھڑے ہونے کی ہمت نہ کر سکے۔