*جہیز ، ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار*
اسلام دین فطرت اور آسانیاں پیدا کرنے والا مذہب ہے ، اس نے فطری تقاضوں کے پورا کرنے کو نہ صرف جائز قرار دیا بل کہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے، دین اسلام نے جہاں بندگی کا طریقہ بتایا وہاں عائلی اور سماجی زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے آج اسلام کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد نے غلط رسومات رواجوں کو اپنا کر اپنی زندگی کو انتہائی مشکل بنادیا ہے، جس کی وجہ سے امن،سکون، انسانیت ،الفت ومحبت، رواداری اور بھائی چارگی کی لازوال دولت ختم ہوتی جارہی ہے، اور معاشرہ طرح طرح کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔
آج مسلم سماج کو متاثر کرنے میں جہیز کا سب سے بڑا دخل ہے جسے اسلامی روایات کا حصہ بنایا گیا ہے، حالاں کہ اسلام روز اول سے ہی غلط رسومات کا خاتمہ چاہتا ہے تاکہ زندگی آسان اور سادہ ہو جائے، نبی علیہ السلام نے فرمایا: انّ أعظم النکاحِ برکۃً أیسرہٗ مؤونۃً (وہ نکاح زیادہ بابرکت ہے جس میں اخراجات کم سے کم ہوں!)
لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم نے غیروں سے متاثر ہوکر روپیہ پیسہ اور جہیز کو نکاح کا لازمی حصہ بناکر نکاح کو مشکل بنالیا ہے۔
امام راغب اصفہانی علیہ الرحمہ نے جہیز کے لغوی معنی یوں بیان کیے ہیں! *الجھاز مایعد من متاع وغیرہ* جہاز اس سامان وغیرہ کو کیاجاتا ہے جو کسی کے لیے تیار کیا جاتا ہے
اور *تجہیز* باب تفعیل سے ہے۔ *معنی* سامان تیار کرنا، مہیا کرنا
فقہ السنہ میں جہیز کی تعریف ان الفاظ میں ذکر کی گئی ہے *الجھاز ھو الاثاث الذی تعدہ الزوجۃ ھی واھلھا لیکون معھا فی البیت، ادا دخل بھا الزوج* جہیز وہ سامان ہے جسے عورت خود یا اس کے ورثاء تیار کرتے ہیں تاکہ وہ بیاہ کر خاوند کے گھر جائے تو سامان اس کے ساتھ ہو۔
*جہیز کا پس منظر*
ہمارے ہاں شادی بیاہ کی بیشتر رسومات ہندوانہ کلچر سے مستعار لی گئی ہیں کیونکہ برصغیر میں مسلمانوں کی فتوحات اور آمد سے پہلے ہندوئوں کا راج تھا جو ان گنت خدائوں کے پجاری اور بری رسومات میں جکڑے ہوئے تھے اور کسی بھی سماوی مذہب سے کوسوں دور تھے حتی کہ بے شمار ہندوئوں کے اسلام میں داخل ہونے کے باوجود ان کے ہندوانہ کلچر کے اثرات ان سے محو نہ ہوسکے اور بے شمار قبیح رسومات اور فضول روایات مسلسل ان میں رواج پذیر رہیں۔ اگرچہ مسلمانوں نے ہمیشہ اسلامی تشخص کا امتیاز برقرار رکھنے کی ہی کوشش کی لیکن تہذیب و تمدن، معاشرت اور ثقافت میں جب ترقی ہوتی ہے تو دولت و ثروت کی فراوانی ہونے لگتی ہے۔ بچے کے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک نئی نئی رسوم اور طریقے ایجاد ہوتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ مہد سے لے کر لحد تک کئی رسومات ہونے لگتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی اس کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔
ہندوستان میں زیادہ تر مغل فرمان روا شہنشاہ اکبر اور دکن میں سلطان محمد قطب شاہ نے مسلمانوں اورہندوئوں کو آپس میں ملانے، اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے اور یگانگت کی فضاء قائم کرنے کے لئے بہت سی ہندوانہ رسومات کو آپس میں ملادیا تھا۔ یکجہتی پیدا کرنے کی خاطر ایسی ایسی رسومات اختیار کرلیں، نکاح اور شادی کے موقعہ پر رسم مہندی رتجگا، مانجھا، حلوہ اور بری وغیرہ جن کا اسلامی تہذیب یا مسلمانوں سے کہیں وجود نہ تھا۔
انہی رسومات میں سے ایک رسم جہیز کی تھی چونکہ لڑکیوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتے تھے اس لئے شادی کے وقت اکٹھا ہی جو میسر ہوسکا جہیز کے نام سے لڑکی کے حوالے کردیا۔ ہندوئوں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی آہستہ آہستہ اس رسم کو اپنالیا حتی کہ جہیز شادی کا جزو لاینفک بن گئی اور غریب والدین کے لئے مستقل درد سر بن گئی جس نے اب آسان دین کے آسان احکام میں اتنی تنگی پیدا کردی کہ بظاہر چھٹکارے کی کوئی صورت ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔
*عزیز قارئین*
آج کتنی جوانیاں گھر بیٹھے مرجھا رہی ہیں؟ آج کتنی عصمتیں سر بازار نیلام ہورہی ہیں ؟ آج کتنے نوجوان اپنے ہاتھوں سے خود کو تباہ کر رہے ہیں؟ اگر جہیز کی لعنت کو چھوڑ کر نکاح کو آسان اور سستا نہ بنایا گیا تو ہر طرف بے راہ روی کہ ایسا سیلاب آئے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا
آج مسلم معاشرہ نے جہیز کی لعنت کو گلے کا طوق بنا لیا ہے. انھیں صرف کافرانہ اور ظالمانہ رسموں کی فکر ہے۔ جہیز کے نام پر شادی بیاہ میں جو خرافات اور مشرکانہ رسوم رائج ہیں ان کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔ جہیز کے نام پر نقدی اور لین دین غیر مسلموں کا طریقہ ہے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔ حقیقت تو یہ ہے جہیز ایک لعنت ہے اور ہم مسلمانوں نے اس لعنت کو تہذیب و تمدن سمجھ کر قبول کر لیا ہے اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس لعنت نے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔
*خلاصہ*
مختصر یہ کہ معاشرہ میں رائج شدہ جہیز کی شکل، رسم، بدعت، خلاف سنت، رشوت اور دیگر ناجائز امور کا سبب ہے۔ اسلامی نقطئہ نظر سے یہ نہ صرف غلط طریقہ بل کہ ناجائز وحرام ہے۔ شرعی اعتبار سے بیوی کے جملہ ضروریات اور اخراجات کا ذمہ دار شوہر ہے، لیکن اگر والدین اپنی اولاد کو بطور ہدیہ اور صلہ رحمی کی بناء پر کچھ ضروری سامان دیدیں تو اُس میں کوئی قباحت نہیں ہے، برخلاف اس کے معاشرہ میں جو جہیز کا تصور و رواج چل پڑا ہے یہ اسلامی تعلیم نہیں بل کہ معاشرتی ناسور ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلمان اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کریں، نکاح کو آسان بنائیں اور اِس لعنت کے خلاف عملی جدو جہد کریں، تاکہ معاشرہ پاکیزگی، عفت محبت اور سکون کی نعمتوں سے دربارہ آراستہ ہوسکے۔
*رب ذوالجلال ہم سب کو توفیق عمل نصیب فرمائے!*