جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
تمہید
انسانی معاشرہ محبت، ہمدردی، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں ایسی رسمیں رائج ہو جائیں جو انسانوں کے لیے آسانی کے بجائے مشکلات پیدا کریں تو وہ رفتہ رفتہ ایک سماجی برائی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جہیز بھی ہمارے معاشرے کی ایسی ہی ایک رسم ہے جو بظاھر محبت اور تعاون کا اظہار معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ آج شادی جیسا مقدس اور بابرکت رِشتہ، جو سادگی، محبت اور باہمی اعتماد کا تقاضا کرتا ہے، جہیز کی وجہ سے ایک معاشی سودا بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز کا مسئلہ صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے اجتماعی شعور اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
جہیز کی حقیقت اور موجودہ صورتِ حال
جہیز سے مراد وہ سامان، نقدی یا دیگر اشیاء ہیں جو شادی کے موقع پر لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔ اگر والدین اپنی خوشی، محبت اور استطاعت کے مطابق کچھ تحائف دیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن جب یہ ایک لازمی رسم، سماجی دباؤ یا لڑکے والوں کے مطالبے کی شکل اختیار کر لے تو یہ ظلم اور ناانصافی بن جاتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم نے ایک خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ لڑکے کی تعلیم، ملازمت اور معاشی حیثیت کے مطابق جہیز کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔ فرنیچر، گاڑی، الیکٹرانک سامان اور بھاری نقد رقم جیسے مطالبات عام ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً غریب اور متوسط طبقے کے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے برسوں تک پریشان رہتے ہیں اور بعض اوقات قرض کے بوجھ تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح شادی کی خوشی ایک معاشی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسلام کا تصورِ نکاح اور جہیز کی نفی
اسلام نے نکاح کو ایک مقدس، آسان اور بابرکت عمل قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اسلام نے شادی کو سہل بنانے اور غیر ضروری بوجھ سے بچانے کی تعلیم دی ہے۔ اسلام میں عورت کے خاندان پر مالی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی بلکہ مرد کو مہر ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
(سورۃ النساء: 4)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مالی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ عورت کے والدین پر۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے نے اس اسلامی اصول کو نظر انداز کر کے الٹا لڑکی کے خاندان کو بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
قرآنِ مجید اسراف اور فضول خرچی سے بھی منع کرتا ہے:
"اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"
(سورۃ الاعراف: 31)
جہیز کی موجودہ رسم اکثر اسی فضول خرچی اور نمود و نمائش کی ایک شکل بن چکی ہے، جو اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ سادگی اور آسانی کو پسند فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔
(مسند احمد)"
یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ نکاح کی برکت اخراجات کی کثرت میں نہیں بلکہ سادگی میں پوشیدہ ہے۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"جب تمہارے پاس ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کر دو۔۔ ( سنن ترمذی)"
اس ارشادِ نبوی ﷺ میں شادی کے معیار کے طور پر دین، اخلاق اور کردار کو پیش کیا گیا ہے، نہ کہ مال و دولت اور جہیز کو۔ افسوس کہ آج ہم اخلاق اور کردار کے بجائے مادی چیزوں کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی
رسول اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی محبوب صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے نہایت سادگی کے ساتھ کیا۔ نہ کوئی شاہانہ تقریب منعقد ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کے غیر ضروری مطالبات کیے گئے۔ یہ نکاح اس بات کی روشن مثال ہے کہ شادی کی اصل خوبصورتی اخلاص، محبت اور سادگی میں ہے، نہ کہ مہنگے سامان اور دکھاوے میں۔
اگر آج مسلمان سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنا معیار بنا لیں تو جہیز جیسی بہت سی معاشرتی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔
جہیز کے تباہ کن اثرات
غریبوں کا استحصال: غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ کئی باپ اپنی زمین یا مکان بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
خواتین پر تشدد: اکثر لڑکے والے جہیز کی کمی کا بہانہ بنا کر لڑکی کو ہراساں کرتے ہیں، مارتے ہیں یا گھر سے نکال دیتے ہیں۔ یہ ظلمِ عظیم ہے۔
مطلب پرستی: شادی جیسا پاک رشتہ اب 'تجارت' بن چکا ہے۔ رشتے لڑکی کی "سیرت" اور "دینداری" سے نہیں، بلکہ "جہیز کے سامان" سے طے کیے جاتے ہیں۔
جہیز: ایک رسم نہیں، ایک ذہنیت
درحقیقت جہیز صرف سامان لینے یا دینے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سوچ کا مسئلہ ہے۔ جب بیٹی کو رحمت کے بجائے بوجھ سمجھا جانے لگے، جب شادی کو کاروبار بنا دیا جائے اور جب انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کے مال سے کی جائے تو ایسی سوچ معاشرے کو اخلاقی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
جہیز کا مسئلہ انسانی وقار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب کسی لڑکی کی قدر و قیمت اس کے اخلاق، تعلیم اور کردار کے بجائے اس کے ساتھ آنے والے سامان سے لگائی جائے تو یہ انسانی عظمت کی توہین ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور باوقار مقام عطا کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹی کو اللہ کی رحمت اور امانت سمجھیں، نہ کہ ایک معاشی ذمہ داری۔
جہیز کے خاتمے میں ہمارا کردار
جہیز کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شادی میں جہیز لینے سے انکار کریں اور اپنے عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔ ایک باوقار نوجوان وہ ہے جو اپنی محنت، کردار اور صلاحیتوں پر اعتماد رکھتا ہو، نہ کہ لڑکی والوں کے مال پر۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ جہیز کو اپنا حق نہ سمجھیں۔ علماء، اساتذہ اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ عوام میں شعور پیدا کریں اور قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کو عام کریں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ سادگی سے ہونے والی شادیوں کو فروغ دیں اور فضول رسومات کی حوصلہ شکنی کریں۔
اصلاحی تجاویز اور عملی حل
صرف تنقید کافی نہیں، ہمیں عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔
• رشتے کے معیار میں تبدیلی: جب ہم اپنے بیٹوں کے رشتے ڈھونڈیں، تو لڑکی کے گھر والوں سے یہ سوال نہ کریں کہ "آپ کیا دیں گے؟" بلکہ یہ دیکھیں کہ لڑکی کتنی دیندار اور باکردار ہے۔ یہ ایک چھوٹا قدم ہے جو بڑا بدلاؤ لا سکتا ہے۔
• سادہ شادی کا عہد: ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی شادیوں میں کوئی جہیز نہیں لیں گے۔ اگر لڑکا ضد کرے کہ وہ جہیز نہیں لے گا، تو لڑکی والے خود بخود اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں گے۔
• سوشل میڈیا اور ماحول سازی: "صدائے قلم " وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ہمیں ایک تحریک چلانی چاہیے۔ اپنے محلوں اور خاندانوں میں "بغیر جہیز شادی" کرنے والوں کو سراہا جائے اور انہیں عزت دی جائے۔
• اصلاحی کمیٹیاں: ہر علاقے میں ایسی کمیٹیاں ہوں جو شادیوں میں فضول خرچی اور جہیز کے خلاف آواز اٹھائیں۔
نتیجہ
جہیز بلاشبہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف خاندانوں کو معاشی طور پر کمزور کرتا ہے بلکہ انسانی رشتوں کی پاکیزگی، عورت کے وقار اور معاشرتی توازن کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا، عورت کو عزت دی اور مرد پر مالی ذمہ داری عائد کی، لیکن ہم نے اپنی خود ساختہ رسموں کے ذریعے اس مقدس نظام کو مشکل بنا دیا ہے۔
آج ضرورت صرف قانون سازی کی نہیں بلکہ اجتماعی بیداری اور عملی اقدام کی ہے۔ جب نوجوان جہیز لینے سے انکار کریں گے، والدین سادگی کو اپنائیں گے، علماء شعور بیدار کریں گے اور معاشرہ اس رسم کو عزت کے بجائے عیب سمجھے گا تو یقیناً اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کریں گے، کیونکہ ایک خوشحال اور باوقار معاشرے کی بنیاد دولت اور سامان پر نہیں بلکہ انصاف، اخلاق اور انسانی احترام پر قائم ہوتی ہے۔
"جس دن معاشرہ بیٹی کو رحمت اور نکاح کو عبادت سمجھ لے گا، اسی دن جہیز جیسی لعنت خود بخود ختم ہو جائے گی۔"