جہیز اور اسلامی معاششرہ
بیٹی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ وہ گھر کی رونق، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور خاندان کی عزت و وقار کی علامت ہوتی ہے۔
جب ایک بچی گڑیا سے کھیلتے کھیلتے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کے دل میں بھی ایک خوبصورت گھر، ایک باوقار زندگی اور ایک صالح شریک حیات کے خواب جنم لینے لگتے ہیں۔ ماں اس کے لیے دعائیں مانگتی ہے، باپ اس کے مستقبل کے لیے فکر مند رہتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں ایک ایسا ظالمانہ رواج بھی پروان چڑھ چکا ہے جس نے نہ جانے کتنی بیٹیوں کے خوابوں کو آنسوؤں میں بدل دیا ہے۔ اس ناسور کا نام جہیز ہے ۔
جہیز اپنی موجودہ صورت میں صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جس نے غریب خاندانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ یہ وہ زنجیر ہے جس میں بے شمار والدین کی خوشیاں قید ہو چکی بیٹیاں اپنے نصیب کے فیصلے کا انتظار کرتے کرتے جوانی کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہیں۔
غریب باپ کا بوجھ
شام ڈھل رہی ہوتی ہے۔ ایک غریب مزدور اپنے تھکے ہوئے جسم کے ساتھ گھر لوٹتا ہے۔ اس کی جیب میں چند سکے ہوتے ہیں مگر دل میں ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ گھر کے کونے میں بیٹھی اس کی جوان بیٹی خاموش نظروں سے اسے دیکھتی ہے۔ باپ اس کی نگاہوں میں چھپی ہوئی خواہش کو پڑھ لیتا ہے، لیکن بے بسی اس کے قدم روک دیتی ہے ۔
رشتہ آتا ہے ، بات آگے بڑھتی ہے، مگر پھر سوال کیا جاتا ہے
* "جہیز میں کیا دیں گے؟"*
یہ ایک ایسا سوال ہے جو غریب باپ کے دل پر خنجر کی طرح چلتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کرنا چاہتا ہے مگر معاشرہ اس کی محبت نہیں، اس کی جیب کا وزن دیکھتا ہے۔ چنانچہ کوئی اپنی ہے، کوئی قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، اور کوئی زمین زیر ہی مؤخر کرتا چلا جاتا ہے۔
اسلام کی روشن تعلیمات
نکاح اسلام میں ایک نہایت آسان اور بابرکت عبادت ہے۔ شریعت نے نکاح کو سہولت کا ذریعہ بنایا ہے، مشکل کا نہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ملی ایام میں کہیں بھی لڑکی والوں پر جہیز کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔
بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر پر بیوی کا مہر اور نان و نفقہ واجب ہے۔ رسول اللہ لی ہم نے نکاح میں سادگی کو پسند فرمایا اور ایسے نکاح کو بابرکت قرار دیا جس میں تکلفات کم ہوں۔
آج المیہ یہ ہے کہ ہم نے سنت کو چھوڑ کر رسموں کو دین کا درجہ دے دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نکاح جو عبادت تھا تجارت بن گیا ہے؛ اور رشتہ جو محبت کا نام تھا، لین دین کا معاہدہ محسوس ہونے لگا۔
ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار بیٹیاں موجود ہیں جو ہر روز کسی نہ کسی رشتے کے انکار کا زخم سہتی ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ ان کے والد امیر نہیں ہوتے۔ کتنی ہی بچیاں رات کے اندھیروں میں اپنے رب کے حضور آنسو بہاتی ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتی ہیں کہ یااللہ میرے والدین کی پریشانی دور فرما۔ ان کے دلوں کی یہ خاموش سسکیاں آسمان تک پہنچتی ہیں، مگر افسوس کہ زمین پر رہنے والے انسانوں کے دل اکثر ان آوازوں سے بے خبر رہتے ہیں۔
جہیز کا انجام
جہیز کی لعنت صرف شادی تک محدود نہیں رہتی بلکہ شادی کے بعد بھی گھروں کا سکون برباد کرتی ہے۔ کہیں کم جہیز کا طعنہ دیا جاتا ہے، کہیں مطالبات بڑھتے چلے جاتے ہیں، اور کہیں اسی وجہ سے گھریلو جھگڑے جنم لیتے ہیں ۔
یہ رسم محبتوں کو نفرتوں میں بدل دیتی ہے اور خاندانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتی ہے۔ جس معاشرے میں انسان کی قدر اس کے کردار کے کے جہیز سے کی جانے لگے، وہاں اخلاقی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
نوجوان اگر عزم کرلیں کہ وہ بغیر جہیز کے نکاح کریں گے تو معاشرے کی ایک بڑی برائی ختم ہو سکتی ہے۔ مساجد کے منبروں سے، مدارس کے درس گاہوں سے اور تعلیمی کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اداروں کے پلیٹ فارم سے اس شعور کی عام ضرورت ہیں۔
جہیز صرف ایک رسم نہیں، یہ غریب باپ کی آہوں، مجبور ماں کی دعاؤں اور بیٹیوں کے ٹوٹتے ہوئے خوابوں کی داستان ہے۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو معاشرے کے جسم پر برسوں سے لگا ہوا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک پاکیزہ، مہذب اور اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم نکاح کو آسان بنائیں گے، بیٹیوں کو بوجھ نہیں رحمت سمجھیں گے، اور ایسے معاشرے کی تعمیر کریں گے جہاں کسی غریب لکھ اپنے بیٹی کی شادی کے فکر میں اشکبار نہ ہو، اور کوئی بیٹی سرت جہیز نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں کا گلا گھٹتا ہوا نہ دیکھے۔
الله تعالٰی جہیز سے ہماری اور پوری امت کی حفاظت فرما۔ آمین