اللہ رب العزت نے اس کائنات کو کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوّا کو اس زمین پر اتارا کہ بنی نوع انساں کی افزائش ہو، اور یہ بنجر زمین انسانوں کے وجود سے روشن ہو؛ نسل انسانی کی نشو نما اور بڑھوتری کے لیے کے کیے اللہ رب العزت نے نکاح جیسے پاکیزہ طریقہ کو مشروع کیا۔ نکاح حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی سنت ہے، نکاح کو تمام امت کے لیے سنت اور باعث ثواب قرار دیا گیا، نکاح انسان کو جسمانی راحت کے ساتھ روحانی سکون بھی عطا کرتا ہے۔
نکاح جس کو عام زبان میں شادی، بیاہ کہا جاتاہے، شادی زندگی کا خوبصورت بندھن، مذیب اسلام میں نکاح کو پسندیدہ اور مستحسن عمل قرار دیا ہے جبکہ رہبانیت اور تجرد پسندانہ زندگی کو ناپسند اور مذموم قرار دیا ہے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
” اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَ جَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ؕ (سورہ رعد ایت ٣٨) ترجمہ: اور ہم نے یقیناً آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں اور بچے دیے۔“
کتب حدیث و فقہ میں مصنفین رحمہم اللہ علیہ نے نکاح کے تعلق سے ایک مستقل باب رقم کیا، جس کے ذریعے نکاح کی اہمیت یا پتہ چلتا ہے؛ اگر ان ابواب کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نکاح بہت بابرکت اور آسان عمل ہے، اس میں جہیز یا دیگر کسی بھی قسم کے رسم و رواج یا بےجا تکلفات و اخراجات کا کوئی تعلق نہیں حدیث مبارکہ میں ہے ” وہ نکاح زیادہ بابرکت ہے جس میں اخراجات کم سے کم ہوں “
دور موجود میں معاشرے میں نکاح و شادی میں جہیز کا لین دین بھی مروج ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے نکاح مشکل سے مشکل ترین ہوتا جارہا ہے؛ اول اول تو یہ ناسور غیر مذہب قوموں میں مروج تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے مسلم معاشرے کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔
واقعہ یوں ہے والدین بیٹی کی پیدائش کی خبر سنتے ہی ذہن و دماغ میں جہیز نامی ناسور کے لیے تدابیر اختیار کرنے لگتے ہیں، بیٹی بڑی ہو رہی ہے ساتھ ہی والدین کے کندھوں پر ناحق جہیز کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے، ایک دہائی یا دو دہائی قبل مسلم معاشرہ اس ناسور کی زد میں نا تھا، مگر فی الوقت المیہ یہ ہے کہ مذہب اسلام کے پیروکار اس اس بیماری میں اس قدر ملوث ہو گئے ہیں کہ اگر خدا ناخواستہ بفضل الہی کوئی خاندان اس مرض سے محفوظ رہ جائے کہ وہ اس ناسور کا شکار نہ بنا ہو ، اس وقت معاشرہ یوں دیکھتا ہے گویا دنیا کا آٹھواں عجوبہ دیکھ لیا ہو۔
معاشرہ انسانی اس ناسور کی زد میں اس قدر مبتلا ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں۔
جہیز کا آغاز
ہندو قوم میں اس رسم کا ویدک کے دور سے آغاز ہوا اور پرانوں کے دور میں اسے بہت فروغ حاصل ہوا ، ہندوزم میں معزز مانے والی جانے والی دیویاں جن کو جہیز دیا گیا ، بعد میں ان کے متبعین نے اس کی پیروی کی۔
پاروتی کا جہیز
”وید اور پرانوں پاروتی کے جہیز کے بارے میں ملتا ہے کہ ان کے والد تلسی داس نے اپنے داماد شیو جی کو غلام، لونڈیاں، گھوڑے، رتھ، ہاتھی، گائیں، کپڑے اور ہیرے جواہرات کے علاوہ بہت سی اشیاء ، چھکڑوں میں بھر کر غلہ اور سونے کے برتن دیے۔ غرض پاروتی کے والد نے اپنے داماد کو اتنا جہیز دیا کہ وہ حد بیان سے باہر ہے۔ “
سیتا جی کا جہیز
”شریمد بھاگوت پُران شری کرشن کی سوانح عمری پر مشتمل ایک کتاب ہے، جس میں سن کی شادی کابھی تذکرہ ہے، وہیں جہیز کا تذکرہ بھی ملتا ہے شادی کے موقع پر جو جہیز دیا گیا وہ لباس و زیور سے مزین تیں ہزار حسین لونڈیاں، مزین تین ہزار گائیں نو ہزار ہاتھی، نو لاکھ رتھ ، نو کروڑ گھوڑے اور گھوڑوں سے سو گنا غلاموں پر مشتمل تھا۔ “
درج بالا واقعات ان واقعات کی ایک جھلک ہے جو بھگوانوں اور دیوتاؤں سے متعلق ہے، یہ روایات شریمد بھاگوت پُران ، مہابھارتاور رامائن میں بیان کی گئی ہے۔
(منقول :جہیز ایک ناسور صفحہ ٣١ از مولانا شمشاد ندوی )
ہندو تہذیب سے اس تاثر کو لے کر مسلم معاشرہ نے خود جو جہیز کی جہنم میں جھونک دیا اور دونوں جہاں کی نامرادی اور ناکامی کو اپنے سر لے لیا۔
ہندو دھرم میں ترکہ اور وراثت کے تعلق سے بیٹی کا کوئی حق نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے وہ اپنے مال کا ایک حصہ بیٹی کو دے کر اس کے حق سے بری ہوجاتے ہیں؛ جبکہ مذہب اسلام ایک مکمل اور مسلم دین ہے یہاں مرد و عورت کے حقوق الگ الگ ہیں ۔
مگر افسوس! عصر حاضر میں مسلمانوں نے خود کو اس مصیبت میں جھونک دیا ہے اور وراثت کے حقوق سے محروم کر دیا ہے، جب کہ یہ بات واضح ہے کہ عورت کو وراثت سے محروم رکھنے والا اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناتا ہے۔
مروجہ جہیز کسی بھی صورت جائز نہیں
یہ بات یاد رہے کہ جہیز محض ایک رسم ہے اس کا مذہب اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، دور حاضر میں مروج جہیز کسی صورت جائز نہیں، کیونکہ جہیز نا ہی وراثت کا حق ہے اور نا ہی نام نہاد عطیہ ہے کیونکہ وراثت والدین کے انتقال کے بعد ملتی ہے اور عطیہ مطالبہ پر یا زبردستی کہیں نہیں دیا جاتا ہے۔
مطالبہ جہیز اور اس کے مضر اثرات
دور موجود میں مطالبہ جہیز اس قدر بڑھتا جا رہا ہےکہ والدین استطاعت نہ ہونے کے باوجود مختلف قسم کے قرضوں کے بوجھ تلے رب کر اپنی بیٹی کو جہیز(نام نہاد عطیہ) دیتے ہیں۔
مطالبہ دو طرح کا ہوتا ہے
اولاً تو صراحتاً مطالبہ کرنا یعنی صاف صاف الفاظ کے ساتھ میں جہیز (نام نہاد عطیہ ) کا مطالبہ کرنا ۔
ثانیاً اشارۃً اور کنایۃً جہیز نامی ناسور کا مطالبہ کرنا ۔ مثلاً یوں کہنا فلاں فلاں سامان بیٹی کو اپنی بیٹی کو دینا بہت زیادہ عام ہے، یہ جو لاۓ گی اسی لڑکی کا تو ہوگا وغیرہ
ناجانے عقل انسانی میں یہ بات کیوں نہیں آتی ؟ کہ مطالبہ جہیز کبھی عطیہ یا ہدیہ نہیں ہوسکتا، پھر ستم یہ کہ نکاح و رخصتی بعد بھی جب جہیز نامی جہنم کی آگ نہیں بجھتی تو بیٹی کو سسرال میں ذہنی اور جسمانی دباؤ دے کر مزید عطیہ(جہیز) مانگا جاتا ہے
قابل تشویش بات تو یہ کہ اس جہیز نامی ناسور کو معاشرہ عطیہ اور ہدیہ سے کیوں تعبیر کرتا ہے؟ یہ جہیز نامی ناسور عطیہ کیسے ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے بیٹی کے والدین سودی قرضے کے تلے دبے ہوں، اپنی جوانی اس سوچ کے ساتھ گزاریں کہ ان کہ یہ ننھی بیٹی بڑی ہوگی اور اس کی شادی کے لیے جہیز جمع کرنے کی ضرورت ہے، والدین اپنی بیٹیوں کے لیے اپنے زیورات ، مال اور نقد رقم کو جوڑ کر سنبھال کر رکھتے کہ اس کے ذریعے جہیز کے جمع کرنے میں آسانی ہوگی۔ سوال اب بھی یہی ہے جس نام نہاد عطیہ (جہیز) کو جمع کرنے میں والدین کی عمر، کاروبار، قیمتی سامان الغرض مکان وغیرہ سب داؤ پر لگ جاتے ہیں اسے دیتی وقت والدین خوش کیسے ہو سکتے ہیں، معاشرہ کا جہیز نامی ناسور کے حوالے سے یہ تاثر دینا کہ یہ والدین کی خوشی اپنی بیٹی کے لیے ہوتی ہے تو یہ درست نہیں ۔
بعض والدین اس طرح کے حالات میں مبتلاء ہوتے ہیں کہ وہ اتنی بھی استطاعت نہیں رکھتے نتیجۃً ان کی بیٹیاں اپنے ہی والدین کے سامنے اپنے بالوں کو چاندی کرتی نظر آتیں ہیں۔ بمشکل تمام ان بیٹیوں سے کوئی بغیر جہیز کے شادی کر بھی لے تو وہ بھی بہت دیر تک راہ راست پر نہیں رہتا، معاشرہ میں پھیلا ناسور اس کو زیر اثر لے لیتا ہے، کہ والدین نے اپنے بیٹی کو جہیز (نام نہاد عطیہ) نہیں دیا ، پھر وہی سسرال میں طعن و تشنیع کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، بیٹی کی عزت و وقت کو مجروح کیا جاتا ہے، اور ستم بالاۓ ستم یہ کہ بعض مرتبہ زندہ آگ لگادی جاتی ہے یا پھر قتل کر دیا جاتا ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جہیز _____ اہم نکتہ
امت مسلمہ کا ایک گروہ پچھلے کئی سال سے ایک نکتے کے ارد گرد بڑی جدوجہد سے گھوم رہا ہے، اور وہ نام نہاد حضرات اس بات کو جائز کرنے میں لگے ہوۓ ہیں ، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا ، اس لیے جہیز دینا درست ہے۔
واضح ہو کہ احادیث مبارکہ میں جہاں حضرت فاطمہ کے نکاح کا ذکر آتاہے وہیں اس بات کی بھی صراحت آتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی سرپرستی میں تھے، واقعہ یوں ہے کہ جب حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما کا نکاح ہوا، اسوقت ایک انصاری صحابی نے اپنا مکان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا، اب چونکہ مکان خالی تھا تو اس وقت نبی کریمﷺ نے اس مکان کو آباد کرنے کے لیے چند ضروری اشیاء کا انتظام فرما دیا، جس کی ادائیگی آپ ﷺ نے اس رقم سے کی جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بطور پیشگی مہر ادا کی تھی
نوٹ:اس بات کی وضاحت مولانا برہان الدین سنبھلی صاحب کی کتاب ” موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل صفحہ ١٤٢“ میں ہے۔
لہذا اس مبارک شادی کے حوالے سے کیا جانے والا یہ اشکال کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کیا تھا یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، اہل السنہ والجماعة تمام مکتبہ فکر میں یہ بات صراحتاً ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کی مہر کی پیشگی ادا کی گئی رقم سے سامان کا انتظام کیا۔
یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنھا کا و ہ ہار جو حضرت خدیجہ رض نے انہیں شادی موقع پر دیا تھا، وہ جہیز نہیں تھا ؛ اس ہار سے جہیز نامی ناسور کو جائز قرار دینا سراسر گمراہی ہے ، اسی طرح جب اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی دو بیٹیاں حضرت ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما کی شادی کی، ان کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہیز تیار نہیں کیا۔
جہیز ایک ناسور۔۔۔۔۔۔۔ بذریعہ میڈیا رپورٹ
قومی بین جرائم کے ریکارڈ کے مطابق جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں وہ عقل کو حیران اور روح کو کانپنے پر مجبور کردیتے ہیں، قومی جرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بذریعہ رپورٹ بتاتی ہیں کہ بر صغیر میں سسرالی دباؤ اور مطالبہ جہیز (نام نہاد عطیہ) کی وجہ سے بے انتہا موتیں ہوتی ہیں، صرف ملک ہندوستان میں روزانہ اوسطاً ١٦ خواتین جہیز نامی ناسور کے مطالبات اور سسرالی دباؤ کی وجہ سے خود کشی کا شکار ہو کر جان گنوا دیتی ہیں۔ سن ٢٠٢٤کی رپورٹ کے مطابق تقریباً سال بھر میں ٥٧٣٧ اموات صرف مطالبہ جہیز کی وجہ سے ہوئیں ہیں۔
اگر میڈیا رپورٹ کے اعداد وشمار کو کھنگالا جاۓ تو بہت سی ایسی غیر درج موتیں ہیں جن کا کوئی شمار نہیں۔ لکین معاشرۂ انسانی کی بے حسی اور بےغیرت دکھانے کے لیے ایک رپورٹ ہی کافی ہے، جہیز نامی یہ ناسور بلا تفریقِ مذہب و برادری ہر جگہ اپنی آب وتاب سے پھیل چکا ہے؛ جس کے نتیجے میں صنف نازک کو گاڑی اور چند روپیوں کے لیے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔
ہمارا عملی کردار
اب چوں کہ یہ جہیز نامی ناسور جتنی برق رفتاری سے پھیل رہا ہے یہ معاشرۂ انسانی کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے، یہ بات بھی ظاہر ہے جب وبا اتنی بڑی ہے، اتنی برق رفتاری سے پھیل رہی ہے؛ اور معاشرے لو اپنے چپیٹ میں لے رہی ہے تو اس کے لیے صرف کاغذی کاروائی قابل قبول نہیں، بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر عملی میدان میں کچھ کیا جانا چاہیے۔
چند ضروری باتیں ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو امید ہے کہ جہیز کی وبا میں مبتلا اس معاشرے کو کچھ راحت نصیب ہو۔
١-پہلی بات تو یہ کہ سب سے پہلے غیر مذہبی تاثر سے نکل کر اسلامی تعلیمات میں نکاح کو مروج کرنے کا انتظام کریں، جس کے لیے مرد و عورت ہر ایک کو نکاح کے سنت ہونے کی تعلیم دی جائے اور بتایا جاۓ کہ مذہب اسلام میں کم خرچ میں کیا جانے والا نکاح زیادہ پسندیدہ ہے، مسلمان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو نبی کریم ﷺ کے طریقۂ نکاح کی تعلیم دی جائے، نوجوان نسل کو نکاح کی برکت اور جہیز کی لعنت سے آگاہ کیا جائے۔
دھیان رہے! یہ عمل لفاظی اور جوشیلی تقریر کے ذریعے تو ممکن نہیں ، بلکہ مسلم معاشرے میں جگہ جگہ اداروں کے قیام کی ضرورت ہے جہاں اصلاحی انداز سے تعلیم دی جا سکے؛ تاکہ نوجوان نسل متنفر ہونے کے بجائے غور سے باتوں کو سنیں، اور ان میں نکاح اور اس میں مروج بے جا رسومات کے تئیں بیداری پیدا ہو۔
٢-دوسری بات یہ جہیز نامی یہ ناسور معاشرے کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے، اس کا علاج صرف باتوں اور کاغذی قوانین سے نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تبدیلی سے ہوگی، معاشرے کو اس بات کے تئیں لوگوں کو بیدار کیا جائے کہ مطالبہ جہیز کا مکمل بائیکاٹ کریں، اور نکا ح وشادی کو اپنے اصل مقصد کی طرح صاف رہنے دیں۔
٣- تیسری اور آخری بات یہ کہ معاشرے میں جہیز مخالف تنظیم یا کمیٹی کا انتظام کیا جائے، جس میں بلا تفریقِ مذہب سب کو مدعو کیا جائے، اور جہیز نامی ناسور کی خرابیوں اور تباہ کاریوں سے آگاہ کیا جائے؛ لوگوں اس طرز پر ذہن سازی کی جاۓ کہ ہ وہ جہیز نامی انسانیت سوز رسم کا مکمل خاتمہ کریں۔
یاد رہے! اگر ہم آج بیدار نہیں ہوۓ، آئندہ دنوں میں ہم اس ناسور کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں کو روک نا سکیں گے۔ اور ہماری آئندہ نسلیں اس کا خمیازہ صدیوں تک بھگتتی رہیں گی ، ان کے پاس چھٹکارے کی کوئی راہ نا ہوگی ۔۔۔
ختم شد