جس معاشرے میں بیٹیاں بوجھ اور جہیز کامیابی کا معیار بن جائے، وہاں اخلاقیات دم توڑ دیتی ہیں اور مادیت پسندی راج کرتی ہے۔
انسان نے جب جنگلوں سے نکل کر تہذیب کی بستیوں میں قدم رکھا، تو اس کا مقصد ایک ایسے پرامن اور عادلانہ معاشرے کا قیام تھا جہاں ہر فرد عزت، سکون اور برابری کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہاں انسان نے مادی ترقی کی، وہاں کچھ ایسی جاہلانہ رسومات کو بھی گلے لگا لیا جو پورے معاشرے کے جسم کے لیے کینسر یا ناسور بن گئیں۔ انہی مہلک اور تباہ کن رسومات میں سے ایک بدترین رسم "جہیز" ہے۔
جہیز، جو کبھی شاید ایک علامتی تحفہ یا بیٹی کی نئی زندگی کی شروعات کے لیے ایک مخلصانہ مدد ہوا کرتا تھا، آج ایک وحشیانہ مطالبہ، تجارتی سودا اور ایک ایسا معاشرتی ناسور بن چکا ہے جو غریب اور سفید پوش والدین کی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون غارت کر چکا ہے۔ یہ صرف ایک رسم نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی سماجی لعنت بن چکی ہے جو بیٹی کی پیدائش پر خوشی کے گیتوں کو خاموش ماتم میں تبدیل کر دیتی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہیز کی یہ موجودہ شکل خالصتاً اسلامی یا عرب ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اس رسم کی جڑیں یہاں کی قدیم ہندو برادری اور "منو سمرتی" (قدیم ہندو قوانین) کے نظام سے ملتی ہیں۔
پرانے وقتوں میں ہندو معاشرے میں عورت کو والدین کی جائیداد میں وراثت کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ چونکہ بیٹی کو جائیداد سے محروم رکھا جاتا تھا، اس لیے شادی کے وقت اسے "استری دھن" (عورت کا مال) کے نام پر کچھ کپڑے، زیورات اور نقدی دے کر رخصت کیا جاتا تھا تاکہ وہ سسرال میں کسی حد تک خود کفیل رہ سکے۔
لیکن جب مسلمانوں نے برصغیر پر حکومت کی اور صدیوں تک یہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ رہے، تو ثقافتی اختلاط کے نتیجے میں مسلمانوں نے بھی اس رسم کو اپنا لیا۔ المیہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اسلام کا دیا ہوا "وراثت کا حق" اور "حقِ مہر" تو پسِ پشت ڈال دیا، لیکن ہندووانہ معاشرے کی اس فرسودہ رسم کو اپنے گلے کا ہار بنا لیا۔ جہیز کی یہ بدترین رسم ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ گہرے نفسیاتی اور سماجی ہیں۔
ایک غریب یا متوسط طبقے کا باپ پوری زندگی محنت مزدوری کر کے جتنی رقم جمع کرتا ہے، وہ بیٹی کے جہیز کی نذر ہو جاتی ہے۔ بیٹیوں کی شروعاتی زندگی کو "پُرآسائش" بنانے کے لیے باپ کو اپنی زمینیں بیچنی پڑتی ہیں، سود پر قرضے لینے پڑتے ہیں یا عمر بھر کی پینشن داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ کئی باپ بیٹی کی رخصتی کے بعد زندگی بھر قرض خواہ کے طعنے سنتے سنتے قبر میں اتر جاتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں لاکھوں ایسی لڑکیاں موجود ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں، اور بہترین اخلاق کی مالک ہیں، لیکن صرف اس لیے اپنے والدین کے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کیونکہ ان کے والدین کے پاس سسرال والوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے لاکھوں روپے کی نقدی اور گاڑی دینے کی سکت نہیں ہے۔ یہ صورتحال معاشرے میں مایوسی اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہے۔
اگر کوئی مجبور باپ اپنی حیثیت سے بڑھ کر بھی جہیز دے دے، تب بھی لالچی سسرال والوں کی ہوس ختم نہیں ہوتی۔ اگر جہیز توقعات کے مطابق نہ ہو، تو معصوم لڑکی کو طعنے دیے جاتے ہیں، اسے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جہاں کم جہیز لانے پر دلہن کو زندہ جلا دیا گیا یا اسے خودکشی پر مجبور کر دیا گیا۔
جب معاشرے میں یہ معیار بن جائے کہ بڑی گاڑی اور بھاری جہیز کے بغیر بیٹے کی شادی نہیں ہوگی، تو لوگ اپنے بیٹوں کے لیے جہیز کا انتظام کرنے یا بیٹیوں کو جہیز دینے کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ رشوت خوری، کرپشن اور چوری چکاری کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ سماجی دباؤ بھی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے اگر بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کیا؟"
محض رونے دھونے یا تقریریں کرنے سے یہ نظام تبدیل نہیں ہوگا۔ اگر ہم واقعی اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، تو ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کو خود کرنا ہوگا۔ آج کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ "بکاؤ مال" نہیں بنیں گے۔ نوجوان لڑکوں کو اپنے والدین کے سامنے کھڑے ہو کر واضح کہنا چاہیے: "میں اپنی تعلیم اور صلاحیت کے بل بوتے پر کماؤں گا، مجھے کسی کی بیٹی کے باپ کی کمائی پر عیاشی نہیں کرنی۔" جس دن نوجوانوں نے جہیز لینے سے انکار کر دیا، یہ رسم خود بخود دم توڑ دے گی۔
ہمیں شادیاں ہالز کے بجائے سادگی سے مسجدوں میں کرنے کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ معاشرے کے امیر اور متمول طبقے پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی شادیوں پر کروڑوں روپے اڑانے کے بجائے سادگی کا مظاہرہ کریں۔ جب تک امیر لوگ نمائش بند نہیں کریں گے، غریب طبقہ احساسِ کمتری کی آگ میں جلتا رہے گا۔ ہمیں ایسی شادیوں کا علامتی بائیکاٹ کرنا چاہیے جہاں جہیز کی نمائش کی جا رہی ہو۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹی کے جہیز کے لیے پیسے جوڑنے کے بجائے، وہ پیسہ اس کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت پر لگائیں۔ بیٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں تاکہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بیٹیوں کو شادی کے وقت سامان دینے کے بجائے، اسلام کے قانون کے مطابق والد کی جائیداد میں ان کا شرعی حصہ (وراثت) دیا جائے، تاکہ وہ قانونی طور پر مستحکم ہوں۔
منبر و محراب سے صرف عبادات پر نہیں، بلکہ ان معاشرتی برائیوں پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ خطبات میں جہیز کو ایک "غصب شدہ مال" اور گناہ قرار دیں۔ اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی کہانیاں سامنے لائی جائیں جو جہیز کی طلب گار ذہنی بیماروں کی مذمت کریں اور سادگی کو بطور "ہیرو ازم" پیش کریں۔
جہیز ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے معاشرتی تانے بانے کو بکھیر رہی ہے۔ یہ ہمارے ایمان، ہماری غیرت اور ہماری انسانیت پر ایک بدنما داغ ہے۔ ہم ایک ایسے رسول ﷺ کے امتی ہیں جنھوں نے بیٹی کو زحمت نہیں بلکہ رحمت قرار دیا ہے۔ رحمت کو زحمت بنا دینا انسانیت کی سب سے بڑی تذلیل ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہوں۔ ہمیں بدلنا ہوگا، اپنے رویے بدلنے ہوں گے اور اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ آئیں مل کر عہد کریں کہ ہم نہ جہیز کی مانگ کریں گے، نہ اس کی نمائش کا حصہ بنیں گے، اور نہ ہی اپنی بیٹیوں کو اس مادی ترازو میں تولنے دیں گے۔ جب تک ہم خود قدم نہیں بڑھائیں گے، کوئی قانون، کوئی حکومت اس ناسور کو ختم نہیں کر سکتی۔
اٹھو! کہ اب بیدار ہونا فرض ہے تم پر،
بیٹی کو رحمت ہی رہنے دو، اسے بازار نہ بناؤ۔