*بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمان الرحیم *
*وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ*
_"نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو"_
*[المائدہ: 2]*
اسلام ایک ایسا نظام ہے جو ہر شعبے میں جامع اور مکمل ہدایات دیتا ہے - چونکہ معاشرت بھی اسی کا ایک اہم ترین شعبہ ہے - اس لئے اسلام نے مسلمانوں کو پرامن زندگی گزارنے کے لئے بعض احکام و اصول دئیے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو کامل سکون کی زندگی عطا کرتا ہے۔
آج ہندوستانی مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت سے دوری کے بنا پر متعدد غیر اسلامی اور مکروہ رسمیں ایک ناگزیر شکل اختیار کر گںٔی ہیں ۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ہر شخص یہ جان کر بھی کہ یہ رسم غیر اسلامی اور دیگر اقوام کی ہیں - اپنائے ہوئے ہیں اور جو لوگ قومی روایات سے پچنا اور گریز کرنا چاہتے ہیں تو دوسرے متعلقہ افراد ان کو مجبور کر دیتے ہیں یا ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ خود بخود مجبور ہو جاتے ہیں - ان غیر اسلامی رسموں میں ایک رسم جہیز ہے - جن لوگوں کو اللہ تعالی نے کچھ خوش حالی اور فراغ البالی عطا کی ہے وہ اپنے بچوں کو اپنی حیثیت سے زیادہ مال و اسباب جہیز کے نام پر دے دیتے ہیں، کچھ دکھاوا اور نام و نمود کے لئے اور کچھ اس لئے کہ اگر ان کی بیٹی کی خاطر خواہ جہیز لے کر سسرال نہیں جائے گی تو اسے طعنہ سننا پڑے گا اور سسرال میں اسے وہ پذیرائی اور حیثیت نہیں ملے گی جس سے وہ مطمئن اور خوش و خرم زندگی گزار سکے ۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ بہت سی لڑکیوں کی زندگی سسرال میں عذاب بن کر رہ گئی ہیں اور زندگی کی تمام خوشیوں سے محروم ہو گئی ہیں ، یہ دور حاضر کا پرفتن شر ہے جو آج مسلمانوں کے اندر بھی داخل ہو چکا ہے اور اس کا دائرہ روز بروز پھیلتا ہی جا رہا ہے مسلمانوں کا غریب طبقہ اس بلا سے کافی حد تک متاثر ہو چکا ہے ۔غریب والدین کے لیے جہیز ایک دشوار گزار اور پریشان کن گھاٹی ہے ، اس کی وجہ سے نیک سیرت خواتین اور معصوم بچے کی زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔ جہیز کم لانے کی صورت میں لڑکی کا شوہر خود اور لڑکی کے سسرالی رشتہ دار اسے دن رات ذہنی و جسمانی تکلیف پہنچاتے ہیں ، اسے تشدّد کا نشانہ بناتے ہیں ان کی زندگی خود ان کی نظروں میں کھٹکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ خواتین اپنے والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہیں ،خوشحال گھرانے کے لوگ اپنی لڑکیوں کو جہیز دے سکتے ہیں لیکن غریب کے پاس اتنا جہیز نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بچیوں کو اتنے اہتمام سے رخصت کرے کہ اس زندگی ایک خوشحال گھرانے کی طرح گزرے ۔ حال یہ ہوتا ہے کہ یہ غریب بچیاں اپنے والدین کے لیے درد سر بنی بیٹھی رہتی ہیں ،ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا جو ان کے زخم پر مرہم رکھے اور ان کی مایوس زندگی کو روشن و تابناک زندگی میں تبدیل کر دے ۔
ہندو معاشرے کے تاریخی مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہیکہ یہ رسم جہیز مسلم معاشرے میں ہندوانہ رسم ورواج سے درآںٔی ہے ۔ اِسی کے ساتھ ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ بسا اوقات لڑکا مطالبہ تو نہیں کرتا لیکن لڑکی کے سرپرست واہ واہی میں لوٹنے اور نام و نمود کے لیے وسعت سے زیادہ اس قدر جہیز دیتے ہیں کہ جو دوسرے کے لیے نمونہ اور ترغیب کا باعث ہوتا ہے نتیجہ کے طور پر پاس پڑوس کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہو کر اس سے بڑھ کر دینے اور بعض لینے کے خواہشمند ہو جاتے ہیں۔
پورے ہندوستانی سماج کے لیے لمحہ فکریہ ہیں ،اور اگر ہم قرآن مجید میں دیکھیں تو قرآن کا حکم "مہر" کے بارے میں ہے "جہیز" کے بارے میں نہیں ۔
سورۃ النساء میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: واتُوالنّساءَ صَدَقاتِھِنَّ نِخْلَۃً ۔ " اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو"۔
مہر کا حکم تھا ،تحفے کا رواج تھا
کب سے لالچ نے اوڑھا رسم کا تاج تھا؟
بیٹیاں بوجھ نہیں ،رحمت کا پیمانہ ہیں
کیوں ان کے دم سے گھر میں ماتم کا فسانہ ہے؟
غور کیا جائے تو یہی مفاسد کی جڑ ہے جہیز ایک ایسی لعنت ہے جو آج معصوم جوانی کا گلا گھونٹ رہی ہے ۔جہیز خزاں کا وہ جھونکہ ہے جس نے ان گنت کلیوں کو قبل از وقت پژ مردہ کر دیا ہے ، آج حالت ایسی ہو چکی ہے کہ غریب والدین جہیز کے تصور سے کانپ اٹھتے ہیں ، خوشی و مسرت کے حسین لمحات سکنڈوں میں مایوسی وغم میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔لڑکے والے اپنے لڑکے کی اعلی ڈگریوں پر فخر محسوس کرتے ہوئے یہ امید لگائے رہتے ہیں کہ بوقت نکاح قارون کا خزانہ تو ملے گا ہی ،حالانکہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے لڑکے کی قیمت لگا کر ایک بکاؤ مال کے مانند فروخت کر رہے ہیں اور حرام کی دولت سے اپنی جہنم کو بھر رہے ہیں، شاید آج کے دور میں ذرہ برابر دل کے اندر خدا کا خوف نہیں ہے ان کے قلوب مسلسل گناہ پر قائم رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکے ہیں۔
قرآن مجید میں سورۃ النور میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : "اور تم میں سے جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو اور تمہارے غلاموں اور لوڈیوں میں سے جو نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی اگر وہ غریب ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا"۔
یعنی غربت نکاح میں رکاوٹ نہیں ، جہیز کا مطالبہ کر کے رکاوٹ نہ بناؤ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کو جہیز میں کیا دیا تھا اگر آپ چاہتے تو دنیا کی دولت ان کے قدموں میں رکھوا سکتے تھے، قیمتی و بیش بہا زیورات سے ان کو رخصت کر سکتے تھے لیکن چونکہ آپ کی ذات گرامی ہادی ملت ،رہبر قوم، اور معلم انسانیت تھی۔ آپ نے حالات کے نزاکت کو سمجھا اور ایک مٹی کا پیالہ، ایک چٹائی اور ایک چکی دے کر اپنی لاڈلی بیٹی کو رخصت کر دیا جب کہ آپ نے ان کو انتہائی محبت سے پالا پوسا تھا ۔ایسی لخت جگر نور نظر کا عقد آپ جتنی دھوم دھام سے کرتے کم تھا ۔ نہ مہندی کی رسم نہ منگنی کی مجلس لگی ، حضرت علی نے بذات خود جا کر نکاح کا پیغام دیا آپ نے منظور فرما لیا ۔نہ انگوٹھی پہنائی گئی نہ دعوت کا اہتمام کیا گیا ، یہ اس عورت کی شادی تھی جو انبیاء کے سردار کی صاحبزادی تھیں جو جنتی عورتوں کی سردار ہیں ۔
ہمارا کردار :- ہمیں خود سے شروعات کرنی ہوگی ، ہمیں اپنی آواز اٹھانا ہوگا ، اگر ہر نوجوان یہ عہد کرے کہ "میں جہیز نہیں لوں گا ، نہ دونگا " تو ایک نسل میں یہ ناسور ختم ہو سکتا ہے ۔ نکاح میں سادگی اپناںٔیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہترین نکاح وہ ہے جو زیادہ آسان اور کم خرچ ہو۔(ابوداؤد) لہذا اے امت مسلمہ! نکاح کو آسان اور سستا بناؤ ، غیر شرعی اور بے جا اخراجات اور مشرکان رسومات سے بچتے ہوئے شرعی شادی کرو ، اللہ خیر و برکت دے مال و دولت، موٹر گاڑی اور بنگلے مانگ کر اپنے آپ کو فقیروں ، بھکاریوں میں شامل نہ کرو بلکہ صحیح عقیدہ عمل اور دیندار گھرانے کی باخلاق لڑکی تلاش کرو اور اپنی استطاعت کے مطابق نقد مہر ادا کر کے نکاح کرو ،نیک عورت ہی دنیا کی سب سے بڑی دولت اور راحت و سکون کا سامان ہے۔ خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے بندے۔
عہد کرو آج ، کہ کل بدلے گا زمانہ
نہ بکے گی کوںٔی بیٹی ، نہ روۓ گا باپ دیوانہ
جہیز نہیں ۔ محبت سے گھر بساںٔیں گے
ہم نںٔی رسم ، نںٔی سوچ سے دنیا سجاںٔینگے۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے سماج سے جہیز جیسی لعنت کو ختم کر دے۔آمین