🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Iram Naaz
09 Jun 2026
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

تمہید: معصوم امنگوں کا قتل اور سسکتی ہوئی انسانیت کا المیہ

جہیز ایک لفظ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک سب سے بڑا ناسور ہے۔ ایسا ناسور، جس نے کتنی لڑکیوں کی سانسیں روند کر رکھ دیں، کتنے والدین کو قرضے کے وزن کے نیچے دبا کر مار ڈالا! ایسا ناسور، جو جسم پر چھوٹا دکھائی دیتا ہے لیکن اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایسا ناسور، جس کے کیڑے کوئی دوسری مخلوق نہیں، بلکہ وہ مخلوق ہے جسے رب العزت نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے، یعنی خود انسان ہوتے ہیں!

انسان جو فرشتوں سے افضل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جب اس مادی دنیا کے بازار میں اترتا ہے تو ایک خونخوار شکاری بن جاتا ہے۔ اس ناسور کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ اس نے ہماری سوسائٹی کے پورے اخلاقی ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جو انسان دوسروں کے دکھ درد کا مرہم بننے کے لیے پیدا کیا گیا تھا، وہی انسان آج اپنی ہی بیٹیوں کی زندگیوں کے لیے زہرِ قاتل بن چکا ہے؟

جس معاشرے میں رشتوں کی بنیاد محبت، خلوص اور عزتِ نفس پر ہونی چاہیے تھی، وہاں اب انسانی کردار کا گراف اس بات سے طے ہوتا ہے کہ کس نے کتنا بڑا بزنس کیا، کس نے کتنی بڑی فرمائش پوری کی، اور کس نے کتنا بڑا مادی سودا کیا۔

جہیز کے نام پر مانگی جانے والی ایک ایک چیز دراصل اس اشرف المخلوقات کے ضمیر پر ایک ایسا داغ ہے، جسے دنیا کا کوئی برانڈ اور کوئی مہنگی گاڑی کبھی چھپا نہیں سکتی۔
جہیز کیا ہے؟ اس کا آغاز کیسے ہوا؟

جہیز کا حقیقی مفہوم:
جہیز عربی زبان کے لفظ جھاز سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی سفر کا سامان یا ضرورتِ زندگی کی اشیاء کے ہیں۔ اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک شفیق باپ کا اپنی بیٹی کے لیے الوداعی تحفہ تھا۔ یہ وہ انتہائی مختصر، سادہ اور لازمی سامان تھا جو ایک باپ اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے، بغیر کسی سماجی دباؤ کے، اپنی دلی خوشی اور حیثیت کے مطابق سونپ دیتا تھا۔ اس پاکیزہ جذبے میں نہ تو سسرال کی طرف سے کوئی فرمائش شامل ہوتی تھی اور نہ ہی والدین کی طرف سے کوئی مادی دکھاوا یا نمود و نمائش!

آج کے دور میں جہیز کا مطلب اور اس کی بھیانک حقیقت:

اگر آج کے اس جدید معاشرے میں جہیز کا حقیقی مطلب نکالا جائے، تو یہ اب کوئی الوداعی تحفہ یا محبت کی نشانی ہرگز نہیں رہا۔ آج کے دور میں جہیز دراصل لڑکے والوں کی طرف سے ایک غریب اور سفید پوش باپ پر مسلط کیا گیا ایک ظالمانہ معاشی ٹیکس ہے! یہ ایک ایسا تجارتی سودا ہے جس کی آڑ میں انسانی رشتوں کی باقاعدہ بولیاں لگائی جاتی ہیں، جہاں ضمیر خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

آج کی اس مادی دنیا اور نفسا نفسی کے عالم میں شادی جیسے پاکیزہ اور مقدس رشتے کا تصور پوری طرح مسخ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اب نکاح کا خطبہ بعد میں پڑھا جاتا ہے، پہلے لڑکے کے روزگار، اس کی ماہانہ آمدنی اور اس کے خاندانی وقار کا باقاعدہ ایک نرخ نامہ یعنی ریٹ کارڈ طے کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے کہ ایک معصوم لڑکی کی اعلیٰ تعلیم، اس کی پاکیزہ سیرت، اس کا بلند کردار اور اس کی لائقِ تحسین صلاحیتیں سب کی سب اس وقت مٹی میں ملا دی جاتی ہیں، جب سسرال والے ایک بے حسی کی انتہا کو چھوتے ہوئے، گاہک کی طرح فرمائشوں کی ایک طویل فہرست اس کے بوڑھے باپ کے لرزتے ہوئے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں!

پرکھنا جانچنا یوں ہی حیات مت دینا
ضمیر بیچنے والوں کا ساتھ مت دینا
جہیز مانگنے والا بھکاری ہوتا ہے
تم ایسے شخص کو بیٹی کا ہاتھ مت دینا!

مکافاتِ عمل کا کوڑا: کیا آج کا دولہا کل کسی بیٹی کا باپ نہیں بنے گا؟

ذرا ٹھہر کر سوچو! آج جو لوگ ایک معصوم بیٹی کے بوڑھے اور مجبور باپ کے لرزتے ہوئے ہاتھوں میں فرمائشوں کی طویل فہرست تھماتے ہیں، کیا وہ اندھے ہو چکے ہیں؟ کیا وہ بھول گئے ہیں کہ وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا؟ آج جو شخص دولہا بن کر کسی کی بیٹی اور اس کے بوڑھے باپ کی بے بسی کا تماشہ بنا رہا ہے، کیا وہ کل خود کسی معصوم بیٹی کا باپ نہیں بنے گا؟ کیا اس کے آنگن میں رحمت کی وہ کلی نہیں کھلے گی؟ کیا اسے اپنی زندگی میں کبھی اپنے جگر کا ٹکڑا، اپنی جان سے پیاری بیٹی، اسی جہیز کے خونی ترازو میں تول کر کسی دوسرے کے حوالے نہیں کرنی ہوگی؟
خدا کے لیے تھام لو اپنے ہاتھوں کو اور روک دو اس ظلم کو یہیں پر! تاکہ جب کل تمہیں ایک رحمت یعنی بیٹی کے والد بننے کا شرف حاصل ہو، تو تم اپنے دل کے ٹکڑے اور اپنی روح کے حصے کو بغیر کسی مادی بوجھ اور خوف کے عزت کے ساتھ رخصت کر سکو۔
روک دو جہیز کی اس لعنت کو! اپنے قدم پیچھے ہٹا لو، تاکہ کل تمہاری اپنی بیٹی کے معصوم دل کو سسرال میں طعنوں کے نوکیلے نشتر نہ چوبھائے جائیں، اور وہ کسی کے گھر جا کر جیتے جی نہ مرے۔

مٹا دو اپنی رحم دلی کے مرہم سے اس جہیز کے ناسور کو! اپنے ضمیر کو بیدار کرو تاکہ کل تمہاری بیٹی کسی گھٹن زدہ ماحول میں نہیں، بلکہ عزت اور خودداری کی کھلی فضا میں سانس لے سکے۔ اس انقلاب کا آغاز کہیں اور سے نہیں، بلکہ تمہیں خود اپنے آپ سے کرنا ہوگا! آج تمہیں خود آگے بڑھ کر اس مکروہ رسم کے خلاف عہدِ بغاوت کرنا ہوگا، تاکہ کل تمہاری بیٹی اپنی زندگی کے نئے آغاز میں سرخرو ہو سکے اور کامیابی حاصل کر سکے۔

قرآنِ پاک کی روشنی میں:

۱۔ ناحق طریقے سے دوسروں کا مال کھانا حرام ہے:
جہیز کی فرمائش کرنا، یا لڑکی والوں کو مجبور کر کے ان کا مال سمیٹنا قرآنی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
"وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ"
ترجمہ: اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق یعنی ناجائز طریقے سے مت کھاؤ۔ (سورہ البقرہ: ۱۸۸)

سماجی دباؤ، خاندانی ضد یا طعنوں کا خوف دلا کر لڑکی کے بوڑھے باپ سے گاڑی، سونا یا نقدی وصول کرنا بدترین قسم کا ناحق مال ہے، جو کسی بھی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔

۲۔ مال کا لالچ اور کثرت کی ہوس ہلاکت کا سبب ہے:

آج جہیز کی شکل میں جو برانڈز، الیکٹرانکس اور مادی چیزوں کو جمع کرنے کا جنون مرد والوں پر سوار ہے، قرآن اس لالچی مائنڈ سیٹ کو ان الفاظ میں جھنجھوڑتا ہے:

"اَلْهٰىكُمُ التَّکَاثُرُۙ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ"

ترجمہ: تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی دھن نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ (سورہ التکاثر: ۱-۲)

جب تک انسان لالچ کے اس اندھے کنویں سے باہر نہیں نکلے گا، وہ مادی اشیاء کے پیچھے اندھا ہو کر کسی کی معصوم بیٹی کی زندگی اور بوڑھے باپ کی سفید پوشی کو پامال کرتا رہے گا۔

خاتونِ جنت اور صحابیات کا حقیقی جہیز: غیرتِ مسلم کو ایک للکار!

آج جہاں بازاروں میں گاڑیوں، سونے کے ٹکڑوں اور برانڈز کے نام پر بیٹیوں کی عزتوں کی بولیاں لگتی ہیں، وہاں تاریخِ اسلام کا یہ روشن سچ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے اور غیرت مندوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں! ذرا دیکھو کہ کائنات کے سب سے عظیم باپ ﷺ کی چہیتی بیٹی، خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ الزہراؓ اور ان کے دور کی پاکیزہ صحابیاتؓ کا اصل جہیز کیا تھا؟ ان کا جہیز یہ دنیاوی ساز و سامان ہرگز نہیں تھا، بلکہ ان کے اپنے ہاتھوں کی مقدس محنت اور راتوں کی عبادات کا نچوڑ تھا!

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ عفت، حیا اور پاکدامنی کی وہ شہزادیاں اپنے مبارک ہاتھوں سے قرآنِ مجید کی کتابت کیا کرتی تھیں! وہ دنیا کے جھوٹے رواجوں سے بے نیاز ہو کر، مہینوں راتوں کی نیندیں قربان کرتیں، اپنے مصلوں پر بیٹھ کر عشقِ الٰہی کے آنسوؤں سے وضو کرتیں، اور کلامِ پاک کا ایک ایک حرف اپنے ہاتھوں سے کاغذ پر بکھیرتیں۔ وہ کسی دکان یا بازار کے سامان کو نہیں، بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے لکھے ہوئے اس قرآن کو اپنے سسرال لے جانے کے لیے کائنات کا سب سے قیمتی توشہ اور عظیم ترین جہیز سمجھتی تھیں!
اللہ اکبر! کتنا پاکیزہ تھا وہ دور، اور کتنی عظیم تھیں وہ اسلام کی بیٹیاں! جن کا جہیز دکانوں کی رونق اور بازاروں کے ڈھیر سے نہیں سجتا تھا، بلکہ ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہوئے کلامِ الٰہی کی خوشبو سے کائنات کو معطر کرتا تھا!

ذرا گریبان میں جھانک کر سوچو! ایک طرف وہ پاکباز بیٹی ہے جو اپنے گھر سے تقویٰ، حیا، علم اور قرآن کی دولت لے کر سسرال کی دہلیز پار کر رہی ہے، اور دوسری طرف آج کا اندھا اور لالچی معاشرہ ہے جس کی نظریں بیٹی کے اخلاق، اس کے قرآن اور اس کے کردار پر نہیں، بلکہ اس کے بوڑھے باپ کی چمچماتی گاڑی، بینک بیلنس اور سونے کے تولوں پر ٹکی ہوئی ہیں! یہ تمہاری مادی ہوس نہیں تو اور کیا ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ تاریخِ اسلام کے اس سنہرے باب کو اپنے گھروں میں زندہ کیا جائے اور جہیز کے نام پر لگی اس مادی منڈی کو ہمیشہ کے لیے آگ لگا دی جائے!

الہامی عدالت کا فیصلہ: جہیز کے بھکاریوں کے لیے نشانِ عبرت

۱۔ مانگ کر پیٹ بھرنے والوں کا حشر:
جو لوگ دولہا بن کر لڑکی والوں کے سامنے فرمائشوں کا دامن پھیلاتے ہیں اور گاڑی، نقدی یا سامان کی شکل میں سفید پوش باپ کی کمائی پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، ان کے لیے یہ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ایک ہلا دینے والی تنبیہ ہے:

"لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ"
ترجمہ: انسان ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری: ۱۴۷۴، صحیح مسلم: ۱۰۴۳)

ذرا گریبان میں جھانک کر سوچیے! آج جو لوگ سسرال کے مال پر اپنی جھوٹی شان و شوکت کا بھرم قائم کرتے ہیں، کل مقتدرِ اعلیٰ کی عدالت میں وہ کس منہ سے کھڑے ہوں گے؟ اپنی غیرت و خودداری کا سودا کرنے والے ان چہروں پر قیامت کے دن کوئی رونق نہیں ہوگی، بلکہ وہ مادی لالچ کا ایک خوفناک اشتہار بن کر رہ جائیں گے۔

معاشرتی دباؤ کا فائدہ اٹھا کر لڑکی کے بوڑھے باپ کو مجبور کرنا ایک بدترین فریب ہے۔ آقا کریم ﷺ کا

ارشادِ گرامی ہے:

"مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ"

ترجمہ: وہ شخص اللہ کی رحمت سے دور یعنی ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر و فریب کرے۔ (جامع ترمذی: ۱۹۳۸)
قرآنِ مجید کی سب سے سخت وعید:
مال و زر کی ہوس میں اندھے ہو کر سسرال کی جائیداد پر نظریں جمانے والوں پر کلامِ الٰہی کی یہ آیت بجلی بن کر گرتی ہے:

"وَالَّذِینَ یَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُونَهَا فِی سَبِیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِیمٍ۔ یَوْمَ یُحْمَىٰ عَلَیْهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ"

ترجمہ: اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ جس دن اس مال کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، پس اب اپنے سمیٹے ہوئے مال کا مزہ چکھو! (سورہ التوبہ: ۳۴-۳۵)

المیہ یہ بھی ہے: اس ظلم کے پیچھے خود عورت کا ہاتھ!
معاشرے کا سب سے بڑا سچ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جہیز کی اس مادی منڈی کو گرم رکھنے میں خود خواتین کا ایک بڑا طبقہ شامل ہے۔ ایک عورت جب تک لڑکی کی ماں ہوتی ہے، جہیز کو لعنت کہتی ہے؛ لیکن وہی عورت جب لڑکے کی ماں یا بہن بنتی ہے، تو سسرال کا ترازو بدل جاتا ہے! وہ بھول جاتی ہے کہ جس بوڑھے باپ کی سفید پوشی کا تماشہ آج وہ بنا رہی ہے، کل خود اس کا باپ بھی اسی آگ سے گزر چکا ہے۔

شادی کی محفلوں میں عورتوں کا بیٹھ کر جہیز کے ایک ایک سامان کو پرکھنا، نمائش کرنا اور لڑکی والے کیا لائے ہیں؟ جیسے زہریلے جملے کسنا ہی اس ناسور کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ نندوں اور ساسوں کے یہی طعنے لڑکی کے باپ کو قرض کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔

خواتین کے نام ایک للکار!
اے ماؤں اور بہنوں! بند کرو اس مادی ہوس کا تماشہ! دوسروں کی بیٹیوں کو اپنے گھر کی ملکہ بناؤ، بازار کی بکاؤ کٹھ پتلی نہیں۔ اٹھو اور اس مادی دکھاوے کے خلاف بغاوت کا اعلان کرو، کیونکہ جب تک تم خود اس ظلم کے آگے دیوار نہیں بنوگی، یہ خونی کھیل کبھی ختم نہیں ہوگا!

تانع کبھی نہ دیتے مجھے کم جہیز کا
اگر دیکھ لیتے آپ چھالے میرے بابا کے ہاتھ پر
حقیقت کا آئینہ: والدین کی غلطی اور معیارِ انتخاب
آج کا دور گواہ ہے کہ اس ناسور کو پالنے میں خود لڑکی کے والدین کی فکری کجی بھی شریک ہے! ذرا سوچیے، جو انسان آج بھکاری بن کر جہیز مانگ رہا ہے، وہ کل آپ کی بیٹی کا قاتل بھی بن سکتا ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے تو داماد میں سیدنا علیؓ اور عثمانؓ جیسی حیا اور تقویٰ تلاش کرنے کا حکم دیا تھا، مگر افسوس! آج ہمیں نمازی نہیں بلکہ ہائی اسٹیٹس والا داماد چاہیے۔
آج کی بیٹیوں کو چہرے پر سجی سنتِ رسول ﷺ نہیں بھاتی۔ والدین کو قرآن سمجھنے والا نہیں، انگلش بولنے والا چاہیے۔ عالم اور حافظ کے بجائے صرف انجینئر اور ڈاکٹر چاہیے۔ پردے میں رکھنے والا غیور مرد نہیں، بلکہ آزادی کے نام پر بے پردہ چھوڑنے والا ہمسفر چاہیے۔

اے میری بہن! ذرا اپنے ضمیر سے پوچھ...
یہ کیسی آزادی ہے جو تجھے جیتے جی موت کا جام پلا دے؟ یہ کیسا ہمسفر ہے جو تجھے نامحرموں کی نگاہوں کے لیے فیشن کی نمائش گاہ بنا دے؟
آج ہر والدین اور بیٹی کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا کہ انہیں کیسا داماد چاہیے؟ یاد رکھیے، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر آج نیتوں میں مادی لالچ ہوگا، تو کل بیٹی کا نصیب کبھی سرسبز نہیں ہو سکتا!
طواغیتِ رسم کا خاتمہ: قرآنی صاعقہ اور غیرتِ مسلم کی یلغار:

مصلحت پسندی کے غلاف چاک کیجیے! جہیز کے اس ابلیسی کاروبار کو اب صرف تہذیبی بغاوت کے کوڑے سے ہی مٹایا جا سکتا ہے:

۱۔ استحصالی جہیز بمقابلہ قرآنی وراثت:
ہم نے بیٹی کو لکڑی کا فرنیچر تھما کر جائیداد سے بے دخل کرنے کی مکروہ سازش رچی، حالانکہ کائنات کے مقتدرِ اعلیٰ کا یہ اٹل فرمان ہے:

"لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ کَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا"

ترجمہ: مردوں اور عورتوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ۔ یہ حصہ اللہ کی طرف سے قطعی طے شدہ ہے۔ (سورہ النساء: ۷)
فکری یلغار: رسم و رواج کے ان بتوں پر غیرتِ ایمانی کی کلہاڑی چلائیے! بیٹیوں کو دکانوں کا مادی کچرا مت دیجیے، انہیں قرآن کے مطابق ان کا شرعی حقِ وراثت دیجیے تاکہ ان کی خودداری مادی لٹیروں کے آگے یرغمال نہ بنے۔

۲۔ مادی دجالیت کا مسمار:
نکاح کو دجالی نمائش گاہ بنانے والے ہالوں اور ہوٹلوں کے اسراف پر تھوکیے!
دین کا صاف اعلان ہے کہ نکاح جتنا آسان ہوگا، معاشرہ فتنوں سے اتنا ہی پاک ہوگا۔ جب نکاح مسجد کی سادگی اور سنتِ نبوی ﷺ کے حصار میں واپس آئے گا، تو جہیز کے ان پجاریوں کی مادی ہوس خود بخود دم توڑ دے گی۔

حقدار کو ہی پہنچے گا حق اس لیے،
اس میں نہیں ہے بات کوئی بھی گریز کی!
فطرہ، زکوٰۃ ان کو ہی دلواؤ اب کے سال،
جو لوگ مانگ کرتے ہیں آپ سے جہیز کی!

خلاصۂ کلام:
اس پوری تحریر کا حاصل یہ ہے کہ جہیز کا یہ ناسور شریعتِ اسلامی کے قوانین سے صریح انحراف کا نتیجہ ہے۔ اس ابلیسی رسم کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے ہمیں معاشرے میں ایک تہذیبی بغاوت برپا کرنی ہوگی، جس کے دو بنیادی ستون ہیں:
قرآنی وراثت کا نفاذ: بیٹیوں کو فرنیچر کے نام پر جائیداد سے بے دخل کرنے کے بجائے، انہیں سورہ النساء کے مطابق ان کا شرعی حقِ وراثت دیا جائے، تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم اور خوددار بنیں۔
احیاءِ سنتِ نکاح: نکاح کو ہوٹلوں کی مادہ پرستی سے نکال کر، مسجد کی سادگی اور سنتِ نبوی ﷺ کے حصار میں واپس لایا جائے۔

میری آخری پکار:
یہ تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ میرے دل کے وہ نشتر ہیں جنہیں میں روز محسوس کرتی ہوں— کبھی کسی معصوم لڑکی کو جہیز کی خاطر زندہ جلانے پر، کبھی چھت سے نیچے پھینک دیے جانے پر، کبھی پھانسی کے فندے پر لٹکتے ہوئے اس بے جان جسم کو دیکھ کر جو اس ہوس کی بھینٹ چڑھ گیا، اور کبھی جہیز کے لالچ میں کسی مظلوم بیٹی کے حق میں طلاق کے وہ دردناک الفاظ سنتے ہوئے، جن سے کانپتے دل کے ساتھ رب العزت کا عرش تک ہل جاتا ہے!

میں امید کرتی ہوں کہ میرے یہ الفاظ آپ کے دل پر اثر انداز گزرے ہوں گے، اور آپ کے دل کے تالے کو کھول کر کچھ ایسی جگہ بنا چکے ہوں گے، جس سے آنے والے وقت میں کچھ معصوم جانیں اور اجڑتے ہوئے گھر بچ سکیں۔
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
ترجمہ: یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں۔ (سورہ الرعد: ۱۱)
خَتْم شُدَہ
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.