🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Maimoona Afreen
09 Jun 2026
*مضمون*
*"جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار"*

*جہیز* عربی کے لفظ *"جھز"* سے آیا ہے جس کے معنی ہیں انتظام اور بندوبست کرنا۔
آج کل ہمارے معاشرے میں جہیز نامی ناسور اس طرح پھیل چکا ہے کہ تقریبا ہر طبقہ اس کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ بلا اتنی تیزی سے پھیلتی کیوں چلی جا رہی ہے؟ تو اس کی وجہ بالکل صاف ہے "لڑکے والوں کی مانگ"( یوں لگتا ہے جیسے اپنے بیٹے پہ آج تک انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہے اب سب وصول کر لیں گے)! لیکن ان سب میں صرف ان کا قصور نہیں ہے، بلکہ قصور ان مالدار بیٹیوں کے باپ کا بھی ہے جو اپنی دولت کی نمائش کی خاطر اپنی بیٹیوں کو گاڑیاں بھر بھر کر جہیز دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اپنی خوشی سے دے رہے ہیں اور ان سب میں ایک غریب باپ کے احساسات اور اسکے ارمان خاموشی سے کچل دیئے جاتے ہیں۔
یہ ہمارے معاشرے کی سفاکی اور سنگ دلی کی ایک مثال ہے اور اس پر طُرّہ یہ کہ جہیز لیتے اور دیتے ہوئے ڈھال اس بات کو بناتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی پیاری بیٹی کو جہیز دیا تھا۔ ابھی ہم نے اوپر دیکھا ہے کہ جہیز عربی کے لفظ "جھز" سے آیا ہے جس کے معنی ہیں "انتظام یا بندوبست کرنا"۔ حضرت ابو طالب کی وفات کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ ابھی کم عمر تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی کفالت میں لے لیا تھا اور اب جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کرنا چاہ رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا خود کا مال و متاع کچھ نہ تھا اور اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے کچھ انتظامات کئے تھے جب کہ ایسا اپنی دیگر بیٹیوں کے لئے نہیں کیا تھا۔

لہذا جو حضرات جہیز کے نام پہ فورا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ہیں انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئے۔
جہیز کے نقصانات سے ہم سبھی واقف ہیں لہذا اس کا ذکر یہاں نہیں کیا جاتا ہاں البتہ چند باتیں جن سے شاید معاشرہ اس کے تئیں بیدار ہو سکے یہاں ذکر کی جا رہی ہیں:-

●اگر آپ بھی ایک مالدار شخص ہیں اور اپنی بیٹی کو بہت سارے تحائف دے سکتے ہیں تو خدارا اسے اعلانیہ طور پر نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کا مقصد تو ضرور پورا ہو جائے گا لیکن آپ کے ہی جیسے کسی باپ کا دل دکھے گا۔
● اگر آپ بیٹے کے والد ہیں تو اس کے نکاح کےوقت یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ نے اپنے بچے پہ جو کچھ بھی خرچ کیا ہے آپ اسے بیٹی کے باپ سے وصول نہیں کرنے جا رہے ہیں۔ شادیاں تو انسانوں کی ہوتی ہیں تو پھر کیوں آپ کو بچی سے زیادہ اس کے ساتھ آنے والی فرج ، بائک اور دیگر اشیاء کی فکر ہوتی ہے؟ اور ایک اور بات اگر آپ میں اتنی استطاعت نہیں کہ آپ اپنی بچے کو خود بائک یا گاڑی دلا سکیں یا آپ کا بیٹا ابھی اس قابل نہیں کہ خود لے سکے تو اس کا بار اس بیٹی کے باپ پر ہرگز نہ ڈالیں اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔
●نوجوانوں سے میرا خطاب ہیکہ انہیں خود اس چیز سے دست برداری اختیار کرنی چاہیے۔یہ خود کو پڑھا لکھا انسان بتاتے ہیں تو کسی بیٹی کے باپ کے سامنے دست سوال دراز کرنے میں انہیں ذرا جھجھک نہیں محسوس ہوتی؟ وہ شخص آپ کو اپنی بیٹی، اپنے جگر کا ٹکڑا دے رہا ہے اس سے قیمتی شئے وہ دے بھی کیا سکتا ہے؟ شرم نہیں آتی؟ ذرا عار محسوس نہیں ہوتا کہ ایک باپ اپنے گھر کی رحمت آپ کو دے رہا ہے اور آپ اس سے سوال پہ سوال کئے جا رہے ہیں؟

میرا تو یہ خیال ہے کہ یہ مطالبات زیادہ تر انہیں گھرانوں سے آتے ہیں جن کی تربیت پختہ نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر واقعی کسی گھر کی عورت تربیت یافتہ ہے تو وہ اس بچی کے درد کو سمجھتے ہوئے کبھی اس چیز کا مطالبہ نہیں کرے گی اور اگر گھر کا مرد تربیت یافتہ ہوگا تو وہ اس طرح مانگنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھے گا اور سب سے اہم یہ کہ اگر گھر کا بیٹا تعلیم اور تربیت یافتہ ہے تو اسے زندگی گزارنے کے لئے کسی ساتھی کی ضرورت ہوگی اسے ایک انسان چاہیے ہوگا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ زندگی انسانوں کے ساتھ گزاری جاتی ہے نہ کہ پلاسٹک اور لکڑی کے آلات کے ساتھ!

اب اس جانب آتے ہیں کہ ہم نے اس مصیبت کو ختم کرنے کے لئے کیا کِیا ہے؟ ہمارے معاشرے کے چند لوگوں نے مل کر کچھ تنظیمیں بنا لی ہیں جو غریب لڑکیوں کی شادیاں اور ان کے جہیز کے انتظامات کرتے ہیں۔ بعض امراء حضرات اپنی جیب خاص سے کچھ لڑکیوں کے جہیز کا خرچ برداشت کرتے ہیں اور اس میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیمرے کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے تاکہ پوری دنیا ان کی سخاوت اور دریا دلی کی گواہ بن جائے۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ اگر ہمارے کسی بہادر نوجوان نے بغیر جہیز لئے نکاح کر بھی لیا تو خاندان والوں کے غائبانہ میں خود اپنے خرچ سے جہیز کی اشیاء خرید کر گھر لاتے ہیں تاکہ خاندان میں بدنامی نہ ہو۔
یعنی کہ اس سلسلے میں کوئی اہم قدم ہم اب تک نہیں اٹھا سکے ہیں۔ اور اب ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ صرف لمبی لمبی تقریریں اور امدادی تنظیمیں قائم کر کے ہم اس مصیبت کو ختم نہیں کر سکتے اور اس سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکتے۔ اس کے لئے ہمیں ہمارے سوئے ہوئے، اور دنیا کی رنگینیوں میں مدہوش نوجوانوں کو جگانا اور انہیں ہوش میں لانا ہوگا کیونکہ جب تک وہ دنیا میں یوں کھوئے ہوئے ہیں ان سے کسی خیر کے کام کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

*غرض یہ کہ اس سلسلے میں بہتری لانے کے لئے ذہنی بیداری ضروری ہے کیونکہ جب تک ہمارا ذہن سویا ہوا ہے ہمارا معاشرہ ہرگز نہیں جاگ سکتا۔*
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.