جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو عدل، مساوات، ہمدردی اور آسانی کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو ایک مقدس عبادت اور آسان عمل قرار دیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی، محبت اور خاندانی استحکام قائم رہے۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض غیر اسلامی رسم و رواج مسلمانوں میں رائج ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطرناک رسم "جہیز" ہے، جو آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا ناسور بن چکی ہے۔ اس رسم نے نہ صرف غریب خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ کئی سماجی اور اخلاقی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔
جہیز سے مراد وہ سامان، نقد رقم یا دیگر اشیاء ہیں جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کے ساتھ دیتے ہیں۔ اگر والدین اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، لیکن جب اسے لازمی سمجھا جائے یا لڑکے والوں کی طرف سے اس کا مطالبہ کیا جائے تو یہ ظلم اور ناانصافی بن جاتا ہے۔
اسلام نے نکاح میں آسانی کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾
(سورۃ النور: 32)
ترجمہ: "اور تم میں جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نکاح کو آسان بنانا چاہتا ہے، نہ کہ اس میں مالی بوجھ اور مشکلات پیدا کرنا۔
جہیز کی رسم نے آج بے شمار والدین کو پریشان کر رکھا ہے۔ غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتا ہے، زمین فروخت کرتا ہے اور برسوں کی جمع پونجی خرچ کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود اگر جہیز کم ہو تو لڑکی اور اس کے والدین کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔ یہ ایک ایسی ناانصافی ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
نبی کریم ﷺ نے سادہ اور کم خرچ نکاح کی ترغیب دی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً»
(مسند أحمد)
ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔"
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح میں فضول اخراجات اور بے جا مطالبات کے بجائے سادگی اختیار کرنی چاہیے۔
اسلام میں عورت پر نہیں بلکہ مرد پر مالی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾
(سورۃ النساء: 4)
ترجمہ: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔"
یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں مرد عورت کو مہر دیتا ہے، نہ کہ عورت کے گھر والے مرد کو جہیز دیتے ہیں۔ لہٰذا جہیز کا مطالبہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
جہیز کی رسم کے نتیجے میں بہت سی لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بعض والدین مطلوبہ جہیز کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کر پاتے۔ اس کے علاوہ کئی خواتین شادی کے بعد جہیز کم لانے کے الزام میں ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار بنتی ہیں۔ یہ سب اس رسم کے تباہ کن اثرات ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ»
(سنن الترمذی)
ترجمہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔"
اس حدیث کی روشنی میں شوہر اور اس کے گھر والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بہو کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور جہیز کے نام پر اسے پریشان نہ کریں۔
جہیز کے خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین اپنی اولاد کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں اور انہیں سادگی کی اہمیت سمجھائیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہ کریں اور سادہ نکاح کو ترجیح دیں۔ علمائے کرام، اساتذہ اور سماجی رہنما عوام میں شعور بیدار کریں اور لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہ کریں۔
اگر ہم واقعی اس معاشرتی ناسور کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ عزت اور وقار کا معیار جہیز نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاق اور کردار ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
(سورۃ الحجرات: 13)
ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جہیز ایک ایسی برائی ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اس رسم کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کرے تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں نکاح آسان، خاندان خوشحال اور معاشرہ ظلم و ناانصافی سے پاک ہو۔