اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور معاشرے کو خوبصورت بنانے کے لیے مرد اور عورت کا رشتہ قائم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو نکاح کا حکم دیا ہے۔ اور نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو اسلام میں آسان بنایا گیا ہے۔
لیکن افسوس! ہمارے معاشرے نے اس پاکیزہ رشتے کو ایک انتہائی مشکل اور سنگین کاروبار بنا دیا ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی اور خطرناک برائی 'جہیز ' ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
آج کے اس مضمون میں ہم آپ کو بتائینگے کہ جہیز کی رسم کیا ہے؟ ہمارا اسلام جہیز کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ جہیز کو ناسور کیوں کہا گیا ہے؟اس رسم سے ہمارے معاشرے میں کیا کیا نقصان ہوئے ہیں؟ جہیز کی رسم کو کیوں بائیکاٹ کرنا چاہئے؟ اور ہمیں اس رسم کو ختم کرنے میں کیا کردار ادا کرنا چاہئے ؟
جہیز کی رسم کیا ہے ؟
سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ جہیز کیا ہے؟ جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب یہ سامان ؛ یہ وہ سامان ہوتا ہے جو نکاح کے وقت لڑکی کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جہیز سے مراد وہ سامان،نقدی، گھر،زیورات ہیں جو نکاح کے موقع پر لڑکی کے گھر والے لڑکے کے گھر ،یا خاندان والے کو دیتے ہیں ۔شروع میں یہ ایک رسم تھی جس کے ذریعے والدین اپنی بیٹی کو نئے گھر میں بسنے کے لیے کچھ اپنی طرف سے تحائف دیتے تھے؛ لیکن وقت کےساتھ یہ ایک "مطالبہ" بن گیا اور یہ مطالبہ اب معاشرے میں عروج تک پہنچ چکا ہے ۔
جہیز کی رسم کیوں ہے؟ اس کی وجہ؟
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ رسم ہندو سماج سے ہمارے یہاں آئی ہے،کیوں کہ ہندو سماج میں لڑکی کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ اس لیے ان کے والدین اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر ہی پورا ساز، و سامان دے دیتے ہیں۔ مگر ہمارے اسلام میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ اسلام میں جہیز کا کہیں بھی تصور نہیں ہے۔ لیکن ہم نے اسلامی تعلیمات کو بھول کر غیروں کا طریقہ اپنا لیا ہیں ۔ ہمارے اسلام میں نکاح کو آسان بنایا گیا ہے۔
جہیز کی رسم کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہے:
1۔سماجی حیثیت اور دکھاوا (سوشل اسٹیٹس)
2۔سسرال میں لڑکی کا تحفظ
3۔معاشرتی دباؤ اور رسم رواج
4۔سماجی دباؤ اور خوف
اسلام جہیز کے بارے میں کیا کہتا ہے
اسلام میں جہیز کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔اسلام میں تمام ذمےداری مرد کو دی گئی ہے۔مرد کو گھر کا سربراہ بنایا گیا ہے۔
مرد پر معاشی ذمےداری (نان و نفقہ)
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"مرد عورتوں کے نگران ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔اور کیوں کہ مردوں نے اپنا مال خرچ کیے ہیں"۔
(سورہ نساء ۔آیت نمبر:34)
قرآن پاک کے مطابق مرد عورتوں کے نگران اور ذمے دار ہیں کیوں کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔اسلام میں شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو نان نفقہ، گھریلو سامان اور اس کی ضروریاتِ کو پوری کریں۔
سادگی کو فروغ (نکاح کو آسان بنانا)
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کہیں بھی جہیز کا ذکر نہیں ہے۔ ہمارے نبی نے نکاح میں سادگی کو پسند فرمایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں خرچ (اخراجات) سب سے کم ہو"۔
( مسند احمد)
یعنی جس نکاح میں سب سے کم خرچ,اخراجات ہونگے وہ نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہونگی۔
اسلام میں حق مہر کی ادائیگی
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
"اور عورتوں کو اُن کے مہر خوشی سے دیا کرو"
(سورہ نساء۔آیت نمبر:4)
قرآن کے مطابق جب بھی آپ نکاح کرو تو اپنے ہونے والی بیوی کو ایک تحفہ دو جسے ہم 'مہر' کہتے ہیں ۔بیوی کو نکاح کے وقت مہر دینا فرض ہے۔
اسلام نے نکاح کے وقت مرد پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مہر ادا کرے۔ لیکن افسوس! ہم نے اسلامی تعلیمات کو بھول کر غیروں کا طریقہ اپنا لیا ہے۔ اسلام میں لڑکی والے سے زبردستی مال،گھر، گاڑی ،یا جہیز کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔
بیٹی کا وراثت میں حصہ
جہیز دینے کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بیٹی کو رخصت کرتے وقت اس کا حصہ دیا جا رہا ہے،جو کہ شرعی طور پر غلط ہے۔ اسلام میں تو لڑکی وارث ہے۔نکاح کے موقع پر کوئی جہیز اسلام میں نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ:
"اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ: مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے اور اگر(صرف) عورتیں ہی ہوں،دو یا دو سے زیادہ,تو مرنے والے نے جو کُچھ چھوڑا ہو، انہیں اس کا دو تہائی حصہ ملےگا۔اور اگر صرف ایک عورت ہو تو اسے (ترکے کا) آدھا حصہ ملےگا"۔
(سورہ نساء ۔آیت نمبر 11)
حکم: اسلام میں عورتوں (بیٹی) کا والدین کی جائیداد اور وراثت میں حصہ مقرر ہے۔جہیز کے نام پر بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا گناہ ہے۔
یہ رسم ہندو معاشرے سے ہمارے یہاں آئی ہے اُن کے معاشرے میں بیٹیوں کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا؛ اس لیے انھیں اپنی بیٹی کو جو کچھ دینا ہو وہ رخصتی کے وقت جہیز کی صورت میں دے دیتے تھے ۔
جہیز کو ناسور کیوں کہا گیا ہے
لفظ ناسور عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لفظی مطلب "ناسور"، "پرانا زخم" یا "ایسا زخم جو گہرا ہو ،اورکبھی نہ بھرے"۔
جہیز کو معاشرتی ناسور (ایسا گہرا زخم جو معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے،برباد کر رہا ہے) اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ رسم ہمارے معاشرے کو اخلاقی،اور معاشی طور پر تباہ و برباد کر رہا ہے ۔
اس ناسور کی وجہ سے معاشرے میں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
غریب باپ قرض میں ڈوب جاتا ہے اور عمر بھر قرض ادا کرتے رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ معاشی طور پر کمزور ہو جاتا ہے
اس ناسور کی وجہ سے بیٹیوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جہیز نہ ہونے کی وجہ سےبہت سی لڑکیوں کی شادی وقت پر نہیں ہو پاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن، اور انجائٹی جیسی بیماری کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس ناسور کی وجہ سے نکاح جیسے پاکیزہ رشتے میں مشکل ہوتی ہے اور نکاح میں تاخیر ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ گناہوں میں ملوث ہو جاتاہے۔
اور بھی بہت سی ایسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے جہیز کو ایک ناسور (کبھی نہ بھرنے والا زخم) کہا گیا ہے۔
جہیز کی رسم سے ہمارے معاشرے میں کیا کیا نقصانات ہوئے ہیں
بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا
جہیز کی رسم سے سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو رحمت کے بجائے بوجھ سمجھاجاتا ہے۔ لیکن کیوں ؟ کیوں کہ جب ایک غریب باپ کے گھر بیٹی جیسی رحمت آتی ہے تو ایک باپ کی سوچ یہی ہوتی ہے کے اس کے لیے جہیز جمع کرنا ہوگا۔ایک باپ کی ایسی سوچ کیوں ہوئی ہے؟ معاشرے میں جہیز کی بڑھتی مانگ کی وجہ سے؛ اس لیے بیٹیاں اُن کے لیے بوجھ ہو جاتی ہے صرف اور صرف جہیز کی بڑھتی مانگ کی وجہ سے وہ اسے بوجھ سمجھتا ہے۔
مالی بوجھ
اس مہنگائی کے دور میں ایک باپ اپنی بیٹی کے جہیز جمع کرنے کے لیے اپنی زنگی کی کمائی ہوئی تمام جمع پونجی لگا دیتا ہے۔قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ معاشی طور پر کنگال ہو جاتا ہے تب جاکر یہ معاشرہ ایک لڑکی کو قبول کرتا ہے۔ جہیز ناسور کی وجہ سے ایک باپ معاشی طور پر تباہ ہو جاتا ہے ۔قرض کی دلدل میں ڈوبتے چلا جاتا ہے۔ اس لیے یہ رسم معاشرے پر ایک بوجھ ہے۔
خواتین پر ظلم تشدد
جہیز ناسور کی وجہ سے کتنی ہی خواتین جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی رہتی ہے اُن کا وقت پر نکاح نہیں ہوتا۔
کم جہیز کی وجہ سے بہت سی خواتین کو سسرال میں کم جہیز کے طنز ،طعنے سننے پرتے ہے۔ اُن پر ظلم و تشدد کرتے ہیں ۔
کچھ جاہل گھرانوں میں تو خواتین کو مار پیٹ کے علاوہ بعض دفعہ اُن کو جلا دیا جاتا ہے۔
آج کل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لعنت اور بڑھ گئی ہے۔
جو خواتین زیادہ جہیز لاتی ہے اُن کی زیادہ عزت کی جاتی ہے؛ اور جو خواتین جہیز کم لاتی ہے اُن کو طنز ،طعنے اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے،اور ذہنی طور پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے۔
نکاح میں تاخیر
جہیز کی وجہ سے نکاح میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے نوجوان طبقہ گناہ میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔
جہیز کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کی وقت پر نکاح نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے وہ ٹینشن ،اور ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں ۔
جہیز کی رسم کو کیوں بائیکاٹ کرے۔
جہیز کی رسم کو بائیکاٹ کرے کیوں کہ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔
اسلام میں جہیز کو حرام کہا گیا ہے۔اسلام میں جہیز لینا اور دینا دونوں حرام ہے۔
اسلام میں نکاح کو آسان بنایا گیا ہے تاکہ لوگ آسانی سے نکاح کر کے اپنی جنسی خواہشات کو جائز طریقے سے پوری کر سکے؛ اور زنا سے بچے۔
جہیز کی رسم کو بائیکاٹ کرے کیوں کہ اسلام میں بیٹیوں کو رحمت کہا گیا ہے۔ اور جہیز ناسور کی وجہ سے بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
جہیز کی رسم کو بائیکاٹ کرے تاکہ ایک باپ معاشی طور پر کنگال نہ ہو اور نہ قرض کے دلدل میں پھنسے ۔
جہیز کی رسم کو بائیکاٹ کرے تاکہ سسرال میں خواتین کو احساس کمتری،ڈپریشن جیسی بیماریاں نہ ہو بلکہ وہ سادہ نکاح کرکے امن وسکون والی زندگی گزارے ۔
جہیز ناسور کی وجہ سے کتنی عورتیں غم میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورت کو غم نہ کرنے کی تلقین دی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا کہ:
"اُن کی آنکھیں ٹھنڈى ہوں اور وہ غم نہ کریں۔"
اورسورہ مریم میں فرمایا:
"غم نہ کرو"
اس آیات نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "عورت غم نہ کریں کیوں کہ اس کا غم گہرا ہوتا ہے اور اس کے جذبات نازک ہوتے ہیں۔ غم اس کے حسن کو کھو دیتا ہے اور اسے کمزور بنا دیتا ہے" اس لیے ہمیں جہیز جیسی رسم کا بائیکاٹ کرنا چاہئیے۔
جہیز کی رسم کو ختم کرنے میں ہمارا کردار:-
اگر ہمیں اس جہیز جیسی ناسور رسم کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو ہمیں انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے ۔
جہیز کی رسم کو ختم کرنے میں ہمارا کردار:-
نوجوانوں کا کردار:-
سب سے پہلے نوجوان نسل کو یہ قدم اٹھانا ہوگا۔لڑکوں کو خود غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے عام اور سختی سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ، وہ اپنی شادی میں کسی بھی قسم کا جہیز یہ نقد رقم نہیں لیں گے ۔انہیں جہیز لینے سے صاف انکار کرنا ہوگا۔
لڑکوں کو آگے آکر بولنا ہوگا کے جہیز لینا ہمارے غیرت کے خلاف ہے؛ بے غیرتی ہے۔
صرف لڑکوں کو نہیں بلکہ نوجوان لڑکیوں کو بھی ایسے رشتوں کو ٹھکرانے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی جہاں شادی کی شرط ہی مال و دولت پر رکھی گئی ہو۔
لڑکیوں کو بہادر اورہمت والا بننا ہوگا کہ اگر کوئی جہیز کا مطالبہ کرے تو نکاح سےصاف انکار کر دیں۔ اور بولے کہ جہاں اخلاق کے بجائے مال و دولت کو ترجیح دی جائے ہمیں وہاں نکاح نہیں کرنا ہے۔
نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت کو اجاگر کرنا ہوگا۔ ہمارے نبی نے سب سے برکت والا نکاح وہ بتایا ہے؛ جس میں خرچ سب سے کم ہو۔
نوجوان طبقے کو سنت پر عمل کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے اصولوں پرسادگی سے نکاح کرنا ہوگا۔
اکثر والدین اپنی سماجی روایت کے دباؤ میں آکر جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں یا جہیز دیتے ہیں۔ نوجوان کی یہ ذمےداری ہے کہ وہ اپنے والدین کو سمجھائے کہ یہ رسم اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے۔
والدین کا کردار:-
جہیز کی رسم کوختم کرنے کے لیے والدین کو بھی قدم اٹھانا ہوگا۔کیوں کہ شادیاں اور اُن کے لین دین کے فیصلے زیادہ تر خاندان کے بڑے ہی طے کرتے ہیں۔جب تک والدین اپنی سوچ نہیں بدلینگے؛ یہ سماجی برائی معاشرے سے ختم نہیں ہو سکتی۔
ماں اور باپ بیٹے کی شادی طے کرتے وقت لڑکی کے والدین کو صاف لفظوں میں انکار کرے کہ ہم کوئی قسم کا جہیز ،يا نقد رقم قبول نہیں کریں گے۔ اُن کے والدین کو بتائے کے ہمیں صرف آپ کی بیٹی چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے۔ تمام خرچ کی ذمےداری میرے بیٹے کی ہیں۔
اپنے اولاد کو یہ تربیت دیں کہ وہ جہیز کے خلاف آواز اٹھائیں۔جہیز کو ختم کرنے کے لیے مہم چلائے۔ اور اگر بیٹا بغیر جہیز کے شادی کر رہا ہے تو والدین کو اس کا ساتھ دینا چاہئے ۔
والدین کو اپنی اولاد کو بتانا چاہیے کہ اسلام میں جہیز کا کہی تصور نہیں ہے۔اور کسی سے زبردستی مال کا مطالبہ کرنا ایک جرم اور گناہ ہے۔
گھر کی خواتین کا کردار:-
سب سے اہم بات یہ ہے کہ! عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جہیز کا مطالبہ صرف مرد کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گھر کے اندر اس رسم کو برقرار رکھنے میں، يا اس پر دباؤ ڈالنے میں غیر ارادی طور پر خواتین کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔
اگر گھر کی عورتیں یہ عزم کر لیں،تو وہ اس برائی کو جڑ سے ختم کر سکتی ہے۔
گھر کی خواتین کو چاہیے کہ شادی کے بعد دلہن کو کم جہیز لانے پر طعنے دینا، اس کے سامان کا دوسروں سے موازنہ کرنا, یا اسے کمتر یہ حقیر سمجھنا یہ سب بند کر دینا چاہئے۔
بلکہ عورت کو چاہیے کہ وہ دوسرے عورت کے جذبات کا احترام کرے۔اس کے درد کو سمجھے اس کا احترام کرے،اس سے اخلاقی رویہ رکھے۔تاکہ وہ اپنے سسرال میں آرام سے سکون کی زندگی گزار سکے۔
جب دلہن گھر آئے تو اس کے سامان کی نمائش کرنا یا رشتےداروں کو بلا کر اُس کا سامان دکھانا بند کریں۔کیوں کہ یہ عمل معاشرے میں مقابلے بازی,اور دکھاوے کو جنم دیتا ہے۔
علماء اور سماجی رہنماؤں کا کردار:-
مزہبی رہنماؤں اور علماء کرام کو اپنے بیان میں جہیز جیسی ناسور رسم کی مخالفت کرنے چاہیے۔اور لوگوں کو بتانا چاہئے کہ اسلام میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
علماء کرام کو ایسے نکاح پڑھانے سے انکار کر دینا چاہیے،جہاں جہیز کا مطالبہ یا دکھاوا کیا جا رہا ہو۔
مسجدوں،اور مدرسوں میں جہیز کی لعنت کے بارے میں بتانا چاہیے کے کس طرح یہ رسم ہمارے معاشرے کو اندر سے تباہ کر رہا ہے اور گناہوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔
سماجی رہنماؤں کو اسکول اور کالج کے سلیبس میں جہیز کے خلاف اسباق شامل کرنا چاہیئے۔تاکہ نئی نسل کی ذہنیت بدلی جا سکے۔
حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ لڑکیوں کو اُن کا شرعی اور قانونی وراثت کا حصہ لازمی ملے،تاکہ جہیز کی ضرورت ہی نہ ہو۔
جہیز مانگنے یا دینے پر بھاری جرمانہ اور قید کی سزا کو یقینی بنایا جائے ۔صرف قانون بنانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس قانون پر عمل بھی کیا جائے۔
جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کا عہد
یہ عہد کیجئے کہ ہم قانون شریعت پر چلیں گے، ہم نکاح کے موقع پر کوئی بھی مطالبہ نہیں کرینگے،اور آگر کوئی جہیز کا مطالبہ کرے یا پھر جہیز دے؛ تو نکاح کرنے سے صاف انکار کریں گے۔اور اس رسم کا بائیکاٹ کرینگے۔لڑکوں اور اُن کے بزرگوں کو یہ عہد کرنا چاہیئے کہ ہم اپنے یہاں تو کیا بلکہ اس ملک سے اس رسم کو ختم کریں گے ۔اور خواتین کواپنے گھروں میں یہ عہد کرنا چاہیئےکہ جہیز نہ لانے پر کسی بھی عورت کو کسی قسم کا طنز طعنے نہیں دیں گے۔ بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی رویہ رکھیں گے ۔
اختتام
مختصر یہ کہ جہیز ایک لعنت،ایک ظلم،اور سماجی ناسور ہے۔ہمارے دین میں اس کا کوئی تصوّر نہیں ہے۔ہمارا دین سادگی کو فروغ دیتا ہے۔ہمارے دین میں نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو آسان بنایا گیا ہے۔اور ہمیں اپنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
جب تک ہم اس کا جڑ سے خاتمه نہیں کریں گے ،تب تک ہمارے معاشرے میں امن و سکون نہیں آئے گا۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں؛ بلکہ تمام مشترکہ، قومی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس برائی کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی بیٹیوں کو 'جہیز' کے بجائے 'اعلیٰ تعلیم اور اچھے اخلاق' کا تحفہ دے کر رخصت کریں۔
اللہ ہمیں جہیز جیسی برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔(آمین)