🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

عبد اللہ یوسف
08 Jun 2026
جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

آج کل ہم دین سے جس قدر دور ہوتے جا رہے ہیں، ہر آۓ روز ایک نیا فتنہ سانپ کی طرح منہ کھولے ہمارا منتظر ہے جو ہمیں ڈس جانا چاہتا ہے، ہمیں اندر سے کھوکھلا کر کے تہ وبالا کر دینا چاہتا ہے، خاص طور پر دین سے دوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہم معاشرتی مسائل کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ اس سے نکلنے کی نہ ہمیں کوئی راہ نظر آتی ہے نہ کوئی سبیل، مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نکلنے کا راستہ شریعت کی راہ سے ہو کر گزرتا ہے اور ہمیں اس کے علاوہ چاہیے، چناں چہ معاشرتی مسائل میں نکاح شادی کی جملہ رسومات وبدعات میں سے ایک جہیز بھی ہے جو نہ صرف از روۓ شرع کراہت اور حرمت کے درجہ کو پہنچا ہوا ہے بل کہ اس سے ہٹ کر دنیوی مفسدات اور گھریلو لڑائی جھگڑے کا باعث بھی، کتنی بیٹیاں ہیں جو صرف جہیز کی بناء پر اپنے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں، کتنے رشتے ہیں جو جہیز کی وجہ سے ٹوٹ چکے ہیں یا ٹوٹنے کی منڈار پر ہیں، بیٹیوں کا نکاح والدین کے لیے ایک مستقل مسٔلہ بن چکا ہے، سر کا ایسا درد بن چکا ہے جس کی کوئی دوا قریب میں نظر نہیں آ رہی ہے، غریب والدین خون کے آنسوں رو رہے ہیں، وہ فقیر ماں باپ جن کے گھروں پر پکی چھت تک نہیں ہے، اپنی بیٹیوں کی وجہ سے دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہیں۔

ویسے تو آج کل کی نکاح شادیوں میں کتنی ہی ایسی رسوم وبدعات ہیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں، مگر جہیز ان میں بہت زیادہ قبیح اور شنیع عمل ہے جو کہ در اصل ایک ہندوانہ رسم ہے اور رفتہ رفتہ ہمارے مسلم معاشرہ میں گھن کی طرح لگ چکی ہے، اہل ہنود کے یہاں چوں کہ بیٹیوں کی وراثت کا کوئی تصور نہیں، اس لیے وہ لڑکی کے نکاح کے ساتھ ہی کچھ مال دے کر ہمیشہ کے لئے فارغ کر دیتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم مسلمان جن کے پاس وراثت کا اس قدر مضبوط اور مستحکم نظام ہے کہ جس میں ذرا بھی جھول نہیں ہے، ہم بھی اسی ہندوانہ رسم کی اتباع وتقلید کر بیٹھے اور اس کے پسِ پردہ ایک شرعی فریضہ (وراثت) کو ایسے بھلایا کہ بھولنے کا احساس تک بھی ختم ہو گیا، وراثت کی اہمیت اور باریکی کے پیشِ نظر وراثت کی جزئیات تک کو قرآن شریف میں ہی ذکر کر دیا گیا ہے، حدیث نبوی میں علم الفرائض کو نصفِ علم سے موسوم کیا گیا ہے۔

خلاصہ
جہیز کی رسم میں جہاں شریعت کے اصول سے غداری ہے تو وہیں فقراء وغرباء کے لیے شرم وعار کا باعث بھی، جہاں اس میں ایکا قسم کا دکھلاوا ہے، ریا ہے اور نمود ہے تو وہیں رشوت کا دخل بھی، غرض یہ کہ جہیز بہ یک وقت ایک نہیں کئ کئ برائیوں کا مجموعہ اور بہت سے نت نئے امراض ومسائل کی جڑ اور بنیاد ہے۔ اللہ تعالی ہمارے معاشرہ کو جہیز جیسی جملہ امراض سے محفوظ رکھے آمین۔
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.