🏆 جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

Muzzammil Faizi
07 Jun 2026
*غربت کے صلیب پر لٹکی ہوئی شہزادیاں*

کبھی کسی مزدور کے چہرے کو غور سے دیکھیے، اس کی پیشانی پر چمکتا ہوا پسینہ صرف محنت کی نمی نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اس کے ادھورے خواب، ٹوٹتی ہوئی امیدیں اور زندگی بھر کی قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں، وہ صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے، ہاتھوں میں چھالے لیے، پیٹ پر پتھر باندھے، اس امید کے ساتھ کہ شام کو اپنے بچوں کے لیے چند نوالے لے کر لوٹے گا، مگر اس کی سب سے بڑی فکر روٹی نہیں ہوتی، بلکہ وہ بیٹی ہوتی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ جوان ہو رہی ہوتی ہے، وہی بیٹی جسے اسلام نے رحمت کہا، جس کے لیے جنت کی بشارت دی، مگر ہمارے معاشرے نے اسے جہیز کے ترازو میں تول کر ایک بوجھ بنا دیا، افسوس *ہم نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو بازار کی منڈی میں بدل دیا، جہاں لڑکے والے خریدار اور لڑکی والے بیوپاری بن گئے ہیں۔*
میں اپنے گھر سے جامعہ آ رہا تھا، راستے میں اچانک ایک برقع پوش خاتون نظر آئیں، ان کے ہاتھ میں تقریباً چھ یا سات ماہ کا ایک معصوم بچہ تھا، وہ بچہ شاید بھوک، تھکن یا بے بسی سے سو رہا تھا، وہ خاتون میرے قریب آئیں اور نہایت شکستہ لہجے میں امداد کی درخواست کی، میں نے پوچھا بہن آپ اس حال میں کیوں ہیں؟ کیا آپ کا شوہر نہیں ہے؟
میرا سوال سنتے ہی ان کی آنکھیں نم ہو گئیں، آواز بھرائی اور کہنے لگیں بھائی شوہر تو ہے، لیکن اس نے مجھ سے محبت کی شادی کی تھی، میں اس کے وعدوں پر یقین کرکے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اس کے ساتھ آ گئی تھی، ایک سال تک تو اس نے مجھے ٹھیک رکھا، پھر آہستہ آہستہ جہیز کے طعنے شروع ہو گئے، روز کہتا ہے کہ تمہارے گھر والوں نے کیا دیا؟ کیا لائی ہو اپنے ساتھ؟وہ چند لمحے خاموش رہیں، پھر روتے ہوئے بولیں میں اسے کہتی تھی کہ اگر تم باقاعدہ رشتہ لے کر آتے، میرے والدین میرا نکاح کرتے تو شاید وہ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق کچھ دے بھی دیتے، لیکن تم تو مجھے بھگا کر لائے تھے، اب میرے غریب والدین سے کیا مانگتے ہو؟ان کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
پھر انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے میرے دل کو چیر کر رکھ دیا،کہنے لگیں، بھائی کل اس نے مجھے اتنا مارا، اتنا مارا کہ جسم پر کوئی جگہ سلامت نہیں رہی، میرا یہ معصوم بچہ سو رہا تھا، اس نے اسے بھی زمین پر پھینک دیا اور مجھے مار مار کر گھر سے نکال دیا،میں نے حیرت سے پوچھا، *کیا وہ مسلمان نہیں؟* وہ بولیں، مسلمان ہے بھائی، نماز بھی پڑھتا ہے، روزہ بھی رکھتا ہے، لوگوں کے نزدیک بڑا دیندار اور ایمان والا ہے، لیکن اس کے سر پر جہیز کا ایسا بھوت سوار ہے کہ اس نے انسانیت، رحم اور خوفِ خدا سب کچھ بھلا دیا ہے۔
پھر وہ اپنی زندگی کی داستان سنانے لگیں، بھائی میرے دو بھائی ہیں، دونوں اپنی شادیوں کے بعد والدین سے الگ ہو گئے، میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، میری والدہ لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتی ہیں، میری دو بہنیں اور بھی ہیں جن کی شادی ابھی باقی ہے، ہم سب محنت مزدوری کرکے گھر چلاتے تھے، میں خود بھی کام کرتی تھی، لیکن گھر کے حالات بہت خراب تھے،انہوں نے آہ بھری اور بولیں ایک بہن کی جلدی شادی کرنی پڑ گئی، اس کے لیے قرض لیا گیا، پھر گھر میں چوری ہو گئی، قرض الگ، غربت الگ، بیماری الگ، اب میرے والد کے پاس اتنے پیسے کہاں کہ جہیز دے سکیں؟یہ کہتے کہتے ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
پھر انہوں نے وہ جملہ کہا جو بھی تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے بھائی میرے باپ کے پاس جہیز کے پیسے نہیں ہیں میں کہاں سے لا کر دوں؟یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں، *میں سوچتا رہا ہوں کہ آخر قصور کس کا ہے؟* اس عورت کا؟اس کے بوڑھے باپ کا؟اس کی مزدور ماں کا؟یا اس معصوم بچے کا جو ابھی دنیا کو پہچاننا بھی نہیں سیکھا؟تو بات واضح طور پر سمجھ آئی کہ قصور اس ظالم معاشرے کا ہے جس نے جہیز کو عزت کا معیار بنا دیا ہے، قصور ان لوگوں کا ہے جو بیٹوں کی بولی لگاتے ہیں،قصور ان مردوں کا ہے جو عورت کو گھر لانے کے بعد بیوی نہیں بلکہ اے ٹی ایم(ATM) سمجھتے ہیں،قصور ان سنگ دلوں کا ہے جو ایک غریب باپ کے سفید بالوں، جھکی ہوئی کمر اور زندگی بھر کی محنت کا مذاق اڑاتے ہیں۔
کسی شاعر نے بہت خوب کہا تھا:
مال و زر کے اسیر لگتے ہو
بخدا بے ضمیر لگتے ہو
مانگتے ہو جہیز شادی میں
خاندانی فقیر لگتے ہو۔
ایک اور شاعر کہتا ہے:
باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا
اس لیے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے۔
یہ اشعار صرف کنواری بیٹیوں کا نوحہ نہیں، بلکہ ان شادی شدہ عورتوں کا بھی مرثیہ ہیں جو جہیز نہ لا سکنے کی سزا روزانہ تشدد، ذلت اور طعنوں کی صورت میں بھگت رہی ہیں،ذرا سوچیے ایک مزدور باپ جو سارا دن دھوپ میں جل کر چند سو روپے کماتا ہے، اس سے لاکھوں کے جہیز کی امید رکھنے والے آخر کس منہ سے خود کو انسان کہتے ہیں؟جو مرد اپنی بیوی سے جہیز مانگتا ہے، درحقیقت وہ اپنی غیرت کا جنازہ نکال رہا ہوتا ہے،جو سسرال والے بیٹی کو اس لیے ذلیل کرتے ہیں کہ وہ مال و دولت ساتھ نہیں لائی، وہ حقیقت میں اپنے کردار کی غربت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں،بیٹی کا جہیز نہیں، اس کی عزت دیکھی جاتی ہے،بیٹی کا سامان نہیں، اس کا کردار دیکھا جاتا ہے۔
*جس معاشرے میں نکاح آسان اور جہیز حرام سمجھا جائے، وہاں نہ کوئی باپ قرضوں تلے دبے گا، نہ کوئی شہزادی اپنے باپ کی غربت کی وجہ سے رلائی جائے گی، اور نہ کوئی معصوم بچہ اپنی ماں کے ساتھ سڑکوں پر بے سہارا پھرے گا،* خدا کے لیے بیٹیوں کو بوجھ بنانا چھوڑ دیجیے، ورنہ ایک دن ان مزدور باپوں کے آنسو، ان مظلوم عورتوں کی سسکیاں اور ان معصوم بچوں کی آہیں تاریخ کے صفحات پر ہمارا تعاقب کریں گی، اور آنے والی نسلیں لکھیں گی کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب لوگ بیٹیوں سے نہیں، ان کے جہیز سے محبت کرتے تھے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*
© صدائے قلم پلیٹ فارم - تمام حقوق محفوظ ہیں۔
© 2026 SADA E QALAM. ALL RIGHTS RESERVED.