🌸
*آزادی کی نعمت*
ایک شکاری نے ایک ہرن کو قیدی بنا لیا اور اس کو گدھوں کے اصطبل میں بند کر دیا۔ ہرن چونکہ آزادی کا مزہ چکھ چکا تھا اور جنگل میں آزادانہ گھومنے پھرنے کا عادی تھا، اس لیے اسے اس قید سے بڑی پریشانی ہوئی۔ وہ اس اصطبل میں وحشت زدہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگتا مگر رہائی کے لیے کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ اس شکاری نے رات کے وقت گدھوں کے سامنے گھاس ڈالی۔ گدھے خوشی خوشی گھاس کھانے لگے مگر ہرن کو چین نہ تھا، وہ کبھی ادھر دوڑتا کبھی اُدھر دوڑتا۔ گدھوں کی خوراک کی طرف اس نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس قید کو اس نے اپنی موت خیال کیا۔
ہرن بہت دن تک گدھوں کے اصطبل میں قید رہا۔ جان کنی کی حالت میں اس طرح بے چین تھا جیسے مچھلی خشکی پر بے چین ہوتی ہے۔ اس کی حالت اس مشک کی طرح تھی جس کو مینگنی کے ساتھ رکھ دیا گیا ہو۔ ایک گدھے نے ہرن کی یہ حالت دیکھی تو اس سے کہنے لگا: اے ہرن! تیرا مزاج تو شاہانہ اور امیرا نہ ہے مگر تو بالکل خاموش ہے، اپنے منہ سے کوئی بات نہیں کرتا، آخر کیا وجہ ہے؟
دوسرا گدھا ہرن کا مذاق اُڑاتے ہوئے بولا: اس کی بات تو موتی ہے، یہ اس کو ستا کب فروخت کر سکتا ہے۔ ایک اور گدھے نے لقمہ دیتے ہوئے کہا: اے ہرن! اگر تجھ میں اتنی ہی نازک مزاجی ہے تو تو شاہی تخت پر تکیہ لگا کر بیٹھ جا۔ ایک اور گدھا جس کو بدہضمی کی شکایت ہو گئی تھی اور وہ اپنے حصے کی گھاس نہ کھا سکا تھا، اس نے ہرن کو گھاس کھانے کی دعوت دی۔
ہرن نے انکار میں سر ہلا دیا۔ وہ گدھا کہنے لگا: مجھے معلوم ہے کہ تو یہ انکار نخرے سے کر رہا ہے یا پھر غرور کی وجہ سے پرہیز کر رہا ہے۔
ہرن نے کہا: اے گدھے! تو ہی یہ خوراک کھا کیونکہ اس سے تیرے اعضاء تازہ اور زندہ ہیں۔ میں تو جنگل کی زندگی سے مانوس تھا، میں نے سایوں اور باغوں میں آرام کیا ہے۔ اگرچہ میں تقدیرِ خداوندی سے عذاب میں پھنس گیا ہوں لیکن اس آزادانہ مزاج کو نہ بدلنا تو میرے اختیار میں ہے۔ اگر میں اس وقت مصیبت میں گرفتار ہوں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اپنا آزادانہ مزاج ہی بدل ڈالوں۔
گدھا کہنے لگا: ہمیں کیا پتہ کہ تو جنگل میں کیا کرتا تھا۔ دوسرا گدھا بولا: یہ ہرن تو ایسے ہی لاف زنی کر رہا ہے، پردیس میں چونکہ ناواقف لوگ ہوتے ہیں اس لیے شیخی بگھارنے اور کہیں مارنے کا موقع ہوتا ہے۔
ہرن نے کہا: میری بات پر یقین کرو۔ میرا نافہ میرا سب سے بڑا گواہ ہے جو کہ عود و عنبر سے بھی بڑھ کر خوشبودار ہے، لیکن اس نافہ کی خوشبو تو صرف وہی سونگھ سکتا ہے جو صاحبِ دماغ ہو۔ گوبر سونگھنے والا گدھا اس کو کیسے سونگھ سکتا ہے۔
اس حکایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آزادی کی نعمت کی قدر وہی جان سکتا ہے جو اس نعمت سے بہرہ مند ہو چکا ہو۔
🌼🌸♥️🤲🌹