*جانے وہ کیسے لوگ تھے*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_____________________________

 وہ کیسے لوگ تھے اور کیسا وہ زمانہ تھا ایک ایسا دور تھا جب لوگوں کے دلوں میں سادگی اپنائیت اخلاص پیار محبت اور بھائی چارہ بسا کرتا تھا۔ رشتے صرف نام کے نہیں ہوتے تھے بلکہ دلوں سے نبھائے جاتے تھے۔ ہر شخص دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتا تھا اور خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ زمانے نے کروٹ لی حالات بدلے ترجیحات بدل گئیں اور انسان بھی بدلتا چلا گیا۔ وہ محبتیں وہ خلوص وہ بے تکلفی اور وہ اپنائیت رفتہ رفتہ ماضی کا حصہ بنتی گئی۔
پہلے اگر محلے میں کوئی بیمار ہوجاتا تھا تو ایک ایک کرکے پورا محلہ اس کی عیادت کے لیے پہنچ جاتا تھا۔ کوئی خیریت دریافت کرتا کوئی دعا دیتا کوئی دوائی لے آتا اور کوئی صرف تسلی دینے کے لیے چند لمحے اس کے پاس بیٹھ جاتا۔ مریض کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ پورا محلہ اس کے ساتھ ہے۔ لیکن آج کا حال یہ ہے کہ بعض اوقات مہینوں بلکہ برسوں تک ایک دوسرے کی خبر نہیں لی جاتی اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ کبھی کبھی انتقال کی خبر سن کر بھی لوگ صرف تعزیتی پیغام بھیج کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔
پہلے لوگوں کی زندگی کتنی سادہ ہوا کرتی تھی۔ کھانے پینے میں سادگی لباس میں سادگی رہن سہن میں سادگی مگر دل محبت سے بھرے ہوئے تھے۔ اس وقت نہ موبائل فون تھے نہ سوشل میڈیا کی چکاچوند نہ مصنوعی مصروفیات۔ شام ڈھلتے ہی گھر کے سب افراد ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ ماں باپ دادا دادی نانا اور نانی بچوں کو اپنے پاس بٹھاتے ہاتھ کے پنکھے سے ہوا کرتے اور پھر پیار بھرے انداز میں قصے کہانیاں نصیحتیں اور اپنے زمانے کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ ان کہانیوں میں صرف تفریح ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ زندگی کے قیمتی اسباق بھی پوشیدہ ہوتے تھے۔ آج بھی جب وہ لمحے یاد آتے ہیں تو دل عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔
مگر اب نہ وہ لوگ رہے نہ وہ محفلیں رہیں نہ وہ راتیں رہیں نہ وہ قصے نہ وہ ہاتھ کے پنکھے اور نہ ہی وہ بچپن والی بے فکری۔ موبائل فون سوشل میڈیا اور مصروف زندگی نے انسان کو انسان سے دور کردیا ہے۔ آج ہر شخص سینکڑوں لوگوں سے آن لائن جڑا ہوا ہے لیکن اپنے ہی گھر والوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
جب کبھی وہ لوگ یاد آتے ہیں تو بے اختیار ان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ کچھ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور کچھ ابھی زندہ ہیں مگر حالات نے فاصلے اتنے بڑھا دیے ہیں کہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ہی ملاقات ہو پاتی ہے۔ جب ملاقات ہوتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ وقت وہیں رک جائے باتیں ختم ہی نہ ہوں پرانی یادیں تازہ ہوتی رہیں بچپن کے قصے دہرائے جائیں ہنسی مذاق ہو اور وہی پرانا ماحول دوبارہ لوٹ آئے۔
کاش وہ دن پھر واپس آجاتے۔ کاش ہم پھر سے اسی بے تکلفی اسی محبت اور اسی اپنائیت کے ساتھ ایک دوسرے کے درمیان رہتے۔ کاش وہ بزرگ پھر ہمارے درمیان بیٹھ کر ہمیں کہانیاں سناتے دعائیں دیتے شفقت کرتے اور بچپن کی طرح ہمیں ہنساتے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ گزرے ہوئے دن کبھی واپس نہیں آتے۔
وقت بڑی خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ انسان یہ سمجھتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بچپن جوانی میں جوانی بڑھاپے میں اور ملاقاتیں صرف یادوں میں بدل جاتی ہیں۔
اس لیے جب تک ہمارے اپنے ہمارے ساتھ ہیں ان کی قدر کیجیے ان کے ساتھ وقت گزاریے ان کی باتیں سنیے ان سے محبت کیجیے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کیجیے۔ کیونکہ جب وقت گزر جاتا ہے تو پھر انسان کے ہاتھ میں صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور یادیں کبھی کسی کی کمی پوری نہیں کر سکتیں۔
اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں میں محبت اخلاص صلہ رحمی اور اپنائیت پیدا فرمائے ہمارے بزرگوں پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں اپنے رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6txDBBfxoDaQrJ5u12