الوقتُ أثمنُ مِنَ الذَّهَب
(وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے)

یہ جملہ ہم نے نہ جانے کتنی بار سنا اور پڑھا ہوگا، لیکن افسوس کہ اس پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے، ان کے معاملات پر تبصرہ کرنے، اور بےمعنی گفتگو میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔

اگر یہی وقت ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، یا کسی دینی کتاب کے مطالعے میں صرف ہو تو نہ صرف دل کو سکون میسر آتا ہے بلکہ ربِّ کریم کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے۔

کون کیا کر رہا ہے؟
کہاں جا رہا ہے؟
کس کی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟
ان سوالات میں خود کو الجھانا اپنی ذات پر ظلم کے مترادف ہے۔

اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کی فکر کیجیے۔ نیک اعمال میں وقت صرف کیجیے۔ کیونکہ جب وقت ہاتھ سے نکل جائے تو انسان کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔

جیسے سورج غروب ہو جانے کے بعد دن واپس نہیں آتا، ویسے ہی وقت بھی ایک بار گزر جائے تو پلٹ کر نہیں آتا۔ گھڑی کی سوئی آگے بڑھتی ہے، پیچھے نہیں جاتی۔ یہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

لہٰذا، جو وقت میسر ہے، اسے غنیمت جانیے۔ اسے نیک کاموں، عبادت، اور مفید مشاغل میں لگایئے۔ خالی وقت کو غیبت، تجسس یا فضول باتوں میں ضائع نہ ہونے دیجیے۔

وقت کو سونا مت سمجھئے، یہ اس سے کہیں قیمتی ہے۔

از قلم: بنتِ دانش