آنے والا زمانہ ہمارے تخیل سے بھی آگے ہوگا
19 جنوری، 2026
زمانہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا؛ وقت ایک دریا ہے جو بہتا ہے تو منظر بدل جاتے ہیں، رک جائے تو زندگی رک جائے۔ انسان ہمیشہ آنے والے کل کے دہانے پر کھڑا رہتا ہے، ایک سوال کے ساتھ چند سالوں کےبعد دنیا کیسی ہوگی؟ یہ سوال محض پیشین گوئی نہیں، بلکہ انسان کے مستقبل کا آئینہ ہے۔ آج ہم اسی آئینے میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید آنے والا زمانہ ہمارے تخیل سے بھی آگے ہو،دنیا کا چہرہ بدل رہا ہے۔ ٹیکنالوجی اب گھوڑے کی طرح نہیں، بجلی کی طرح دوڑ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت مددگار نہیں رہی؛ اب وہ رہبر بنتی جا رہی ہے۔ روبوٹ صرف گھروں میں جھاڑو نہیں لگائیں گے، وہ انسان کے ساتھ بیٹھ کر فیصلے کریں گے۔ شہر خودکار ہو جائیں گے۔ سڑکیں گاڑیوں سے بات کریں گی۔ گھڑیاں جسم کا حال بتائیں گی۔ موبائل فون قصہ ہو جائیں گے؛ ان کی جگہ چہرے سے جڑی شیشے، جلد میں پیوست باریک چپس، یا گردن پر پہنی جانے والی شفاف اسکرینیں لے لیں گی۔ انٹرنیٹ آکسیجن بنے گا،نظر نہ آئے مگر ہر جگہ موجود ہوگا۔ فاصلے مٹ جائیں گے، مگر دلوں کی دوریاں بڑھ سکتی ہیں۔
آنے والی دنیا کی عمارتیں وہ نہیں رہیں گی جو آج ہیں۔ اینٹ اور پتھر کی جگہ ایسے سمارٹ میٹریل آئیں گے جو خود درجہ حرارت سمجھیں گے، فضا صاف کریں گے، اور سورج کی روشنی جذب کر کے رات میں نرم روشنی بکھیر دیں گے۔ شہر اوپر اٹھیں گے اور کچھ عمارتیں نیچے اتر آئیں گی۔ فضاؤں میں جھولتے پل، زیرِ زمین تجارتی راستے، اور ہوا میں تیرتی برقی بسیں روزمرہ کا منظر ہوں گے۔ کھڑکیاں روشنی خود ایڈجسٹ کریں گی، دروازے حفاظتی نظام خود فعال کریں گے، اور کمروں کی ہوا خودکار طور پر تازہ ہوتی رہے گی۔ چھتوں پر باغات ہوں گے اور دیواروں میں سولر خلیے نصب ہوں گے۔ گھروں کے سامان خود صفا ہوں گے؛ آگ سے پہلے پانی کا نظام فعال ہو جائے گا؛ موسم سخت ہو تو عمارتیں حرارت اپنے اندر محفوظ رکھ لیں گی،گاؤں اور قصبے بھی بدلے ہوں گے۔ چھوٹے گھروں میں سمارٹ آلات عام ہوں گے۔ آبپاشی خودکار ہوگی۔ کھاد ڈرون کے ذریعے دی جائے گی۔ بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کے نظام پھیل جائیں گے۔ کھیت مٹی سے الگ، مشینوں سے جڑیں گے۔ فصلیں عمودی کھیتوں میں اگیں گی۔ پودے عمارتوں میں لٹکیں گے۔ بیج لیبارٹری میں بنیں گے۔ بغیر زمین کے زراعت، بغیر سورج کے روشنی، بغیر بارش کے پانی ، یہ نئی کاشتکاری کا چہرہ ہوگا،صحت کا انقلاب قریب ہے۔ مصنوعی دل، مصنوعی گردے، مصنوعی آنکھیں عام ہوں گی۔ جین ایڈیٹنگ بیماریوں کو جنم لینے سے پہلے مٹا دے گی۔ کینسر جیسے موذی امراض پیچھے ہٹیں گے۔ مگر علاج کی یہ طاقت اخلاقی سوالات کو جنم دے گی: انسان علاج میں آگے ہے،لیکن اخلاق کہاں ہے؟ سہولتیں بڑھیں گی، مگر سوال باقی رہے گا کہ کیا آسانی روح کو کند کر دے گی؟
تجارت کا منظر بھی بدل جائے گا۔ نوٹ کم ہوں گے؛ کرنسی ڈیجیٹل ہو جائے گی۔ دکانیں سکڑیں گی، آن لائن بازار بڑھیں گے۔ روزگار بدل جائے گا۔ ڈگری کی جگہ مہارت قیمت بن جائے گی۔ جن کے پاس ہنر ہوگا، وہ بچیں گے؛ جو پیچھے رہیں گے، وقت کے دھکے کھائیں گے۔ دولت کم ہاتھوں میں جمع ہونے کا امکان بڑھے گا، مگر ٹیکنالوجی نئی نوکریاں بھی لائے گی ،موسم کا مزاج خراب ہے۔ زمین ناراض ہو رہی ہے۔ گرمی بڑھے گی، بارشیں بے وقت ہوں گی، سمندر بلند ہوں گے، فصلیں کم ہوں گی۔ اگلے دس سال یہ بحران گہرا ہو سکتا ہے۔ انسان کو قدرت کے ساتھ نرمی و انصاف سے پیش آنا ہوگا ورنہ آزمائش سخت ہوگی،خلائی دور بھی قریب ہے۔ چاند پر بستیاں بنیں گی، مریخ پر تجربات ہوں گے، خلا کی سیاحت عام ہوتی جائے گی۔ زمین کے بعد اگلا گھر تلاش کرنے کی کوشش بڑھے گی۔ انسان اوپر دیکھے گا، اوپر چلے گا، اور اوپر سوچے گا۔
فلمی دنیا کا بھی رنگ بدل جائے گا۔ پردہ ایک دیوار تک محدود نہیں رہے گا۔ فلم دیکھتے وقت کردار کمرے میں چلتے پھرتے محسوس ہوں گے۔ ورچوئل اداکار انسانوں سے زیادہ مقبول ہوں گے۔ اسٹوڈیوز خلا میں سیٹ بنائیں گے۔ ڈرامے صرف اسکرین پر نہیں، کبھی کبھار انسان کے ذہن میں براہِ راست داخل ہوں گے،لباس کا تصور بدل جائے گا۔ کپڑے صرف جسم ڈھانپنے کے لیے نہیں، جسم سنبھالنے کے لیے ہوں گے۔ ماحول کے مطابق رنگ بدلنے والے کپڑے، تھکن کو چوس لینے والے ریشے، اور گرمی سردی کو خود ایڈجسٹ کرنے والے ملبوسات عام ہوں گے۔ سواریاں آسمان پر اڑیں گی۔ سڑکوں کا بوجھ کم ہوگا؛ گاڑیاں خاموشی سے خود چلیں گی۔ ڈرون ٹیکسیاں چھتوں سے اڑان بھریں گی۔ ذاتی اڑن گاڑیاں امیروں کا شوق نہیں رہیں گی، عام انسان کی ضرورت بن جائیں گی۔ لمبے سفر خلا کے کنارے سے گزرتے ہوئے چند گھنٹوں میں مکمل ہوں گے،جنگوں کا چہرہ سب سے زیادہ بدل جائے گا۔ میدان خالی ہوں گے؛ کمپیوٹر میدانِ جنگ بن جائیں گے۔ فوجیں کم ہوں گی، مشینیں زیادہ۔ جنگیں بندوق سے نہیں بلکہ ڈیٹا سے لڑی جائیں گی۔ سائبر حملے توپوں سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ بغیر پائلٹ کے جہاز، بغیر سپاہی کے ٹینک، بغیر حکم کے حملے ، یہ سب ممکن ہوگا۔ مگر سوال یہی رہے گا: کیا انسان سیکھے گا کہ امن ہی اصل قوت ہے؟
شادیوں کا انداز بھی بدلے گا۔ دعوتیں مختصر، فیصلے تیز، رسومات سادہ ہوں گی۔ لوگ فاصلے کے باجود جڑ جائیں گے، مگر رشتوں کی گہرائی کا امتحان سخت ہوگا۔ نکاح آن لائن ممکن ہوگا؛ مشاورت ڈیجیٹل ہوگی؛ مگر اعتماد اور محبت ہمیشہ دل سے ہی جنم لیں گے۔ سیاست کا نقشہ مٹ کر نئے سرے سے بنے گا۔ جمہوریت میں ٹیکنالوجی کا دخل بڑھے گا۔ مصنوعی ذہانت پالیسیوں کا تجزیہ کرے گی۔ بادشاہتیں کم ہوں گی مگر طاقت کے نئے مراکز وجود میں آئیں گے — ڈیٹا کے بادشاہ، الگورتھم کے حاکم، اور ٹیکنالوجی کے فرعون ،کتابیں اپنی خوشبو نہیں کھوئیں گی، مگر شکل بدل جائے گی۔ کاغذ کم ہوگا، اسکرین زیادہ۔ کتاب کا دل زندہ رہے گا۔ انسان پڑھے گا، چاہے صفحہ انگلی سے پھیرے یا ہوا میں۔ تعلیم کا نظام مزید کھل جائے گا۔ بچے دیواروں والی کلاس میں کم بیٹھیں گے۔ اساتذہ کا ساتھ ہمیشہ ضروری رہے گا، مگر علم کا سفر گھر سے، دنیا سے، اور حتیٰ کہ خلا سے بھی ممکن ہوگا۔ اسکولوں کی دیواریں کمزور ہوں گی، علم کا دروازہ وسیع ہوگا۔
ہتھیاروں کی نسل بھی آگے بڑھے گی۔ آواز سے تیز، روشنی سے تیز، اور سوچ سے تیز ہتھیار وجود میں آئیں گے۔ دشمن دور بیٹھ کر ہرا دیا جائے گا۔ یہ ترقی خوفزدہ بھی کرتی ہے اور چیلنج بھی۔ سوال ہمیشہ ذی روح ہے: تکنیک کا استعمال انسانیت کے لئے ہوگا یا تباہی کے لئے؟
دولت اور غربت کا تنازعہ بڑھ سکتا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہوگی۔ مگر سہی حکمت عملی اور مہارت رکھنے والوں کے لیے نئے راستے کھلیں گے۔ مہارت والے اوپر جائیں گے؛ صرف ڈگری والے پیچھے رہ جائیں گے۔ اسی ساری دوڑ میں انسان کھڑا سوچ رہا ہوگا: میں کہاں ہوں؟ میری اصل کیا ہے؟ ترقی تو مل گئی، مگر سکون کہاں گیا؟
روحانی تلاش بڑھے گی۔ مساجد آباد ہوں گی۔ قرآن دلوں میں اترے گا۔ نوجوان دین کو نئی آنکھ سے دیکھیں گے۔ وقت کا دریا بہتا رہے گا، مستقبل بدلتا رہے گا۔ مگر کامیابی انہی کو ملے گی جو اپنی روح کی آگ بجھنے نہ دیں، اپنے اخلاق کا چراغ روشن رکھیں، علم کو زادِ سفر بنائیں، اور تبدیلی کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھیں۔
دنیا بدلے گی، حالات پلٹیں گے، سائنس ترقی کرے گی، نظام تبدیل ہوں گے، مگر اسلام کا راستہ ہمیشہ سیدھا، محفوظ اور روشن رہے گا۔ قرآن ہمیں روشنی دیتا ہے، سنت ہمیں چلنا سکھاتی ہے، اور ایمان ہمیں کھڑا رکھتا ہے۔ آنے والے دس سال کچھ بھی لائیں، اگر ہم علم، اخلاق، تقویٰ اور توکل کے ساتھ چلیں گے تو دنیا سنور جائے گی اور آخرت میں سکون ملے گا۔ مستقبل اللہ کے ہاتھ میں ہے؛ ہمارا کردار ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہی اسلام کا سب سے پیغام ہے۔