جڑیں کٹیں تو نسلیں بانجھ ہو جاتی ہیں
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
“قدرت کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ جب بھی آپ کسی کی جڑیں کاٹتے ہیں، آپ کے اپنے درختوں پر پھل آنا بند ہو جاتا ہے۔”
یہ بات صرف درخت اور جڑ کی تمثیل نہیں، بلکہ انسانی معاشرے کی ایک گہری حقیقت ہے۔ جڑیں اصل میں وہ بنیادیں ہوتی ہیں جن پر کوئی فرد، خاندان، ادارہ یا قوم کھڑی ہوتی ہے:
اخلاق، احترام، روایات، رشتے، اساتذہ، بزرگ، والدین، محنت کرنے والے طبقات، اور وہ لوگ جنہوں نے قربانیاں دے کر نظام کو مضبوط کیا۔
جب کوئی معاشرہ اپنے بزرگوں کی توہین کرتا ہے، اساتذہ کی قدر کھو دیتا ہے، محنت کش کو کمتر سمجھتا ہے، یا اپنے ماضی کی قربانیوں کو مذاق بنا دیتا ہے، تو وہ دراصل اپنی ہی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔ بظاہر وقتی طور پر شاید ترقی، طاقت یا آزادی کا احساس ہو، مگر فطرت کا قانون ہے:
جس درخت کی جڑیں کمزور ہوں، اس پر پھل زیادہ دیر نہیں لگتے۔
آج ہمارے معاشرے میں یہی منظر ہے۔ ہم شکایت کرتے ہیں کہ:
نوجوان بے ادب ہو گئے
رشتوں میں برکت نہیں رہی
تعلیم بے اثر ہو گئی
قیادت نااہل ہو گئی
معاشرہ بداعتمادی کا شکار ہے
لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے خود کن کن کی جڑیں کاٹی ہیں:
والدین کے احترام کو “پرانا خیال” کہہ دیا
اساتذہ کو صرف تنخواہ دار ملازم سمجھ لیا
علماء کو متنازع بنا دیا
محنت کو کمتر اور شارٹ کٹ کو ذہانت کہہ دیا
اخلاق کو کمزوری اور بدتمیزی کو اظہارِ رائے کہہ دیا
یہ سب دراصل اجتماعی طور پر اپنی ہی بنیادوں کو کاٹنے کے طریقے ہیں۔
قدرت کسی قوم کو فوراً سزا نہیں دیتی، بلکہ آہستہ آہستہ اس کے ثمرات چھین لیتی ہے: اخلاق ختم → اعتماد ختم
اعتماد ختم → نظام کمزور
نظام کمزور → ترقی کھوکھلی
اور آخرکار درخت تو کھڑا رہتا ہے، مگر پھل آنا بند ہو جاتا ہے۔
یہ قانون بہت سیدھا ہے اور بہت سخت بھی:
جو معاشرہ اپنی جڑوں کی حفاظت کرتا ہے وہ دیرپا ترقی کرتا ہے، اور جو اپنی جڑیں خود کاٹتا ہے وہ کچھ عرصہ شور تو مچاتا ہے، مگر پھر صرف سوکھے پتوں کے ساتھ کھڑا رہ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اصل اصلاح نعروں سے نہیں،
جڑوں کی طرف واپسی سے ہوتی ہے: احترام، اخلاق، علم، محنت اور سچائی۔
کیونکہ قدرت کا قانون بدلتا نہیں، صرف کردار بدلنے کا موقع دیتا ہے۔
آخر میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ
قدرت کا قانون انتقام نہیں لیتا، وہ نتیجہ دیتا ہے۔
وہ چیخ کر نہیں بتاتا کہ تم غلط ہو،
وہ خاموشی سے تمہارے ہاتھ خالی کر دیتا ہے۔
جب معاشرہ جڑوں سے کٹ جاتا ہے تو سب سے پہلے
الفاظ کھوکھلے ہو جاتے ہیں،
وعدے بے وزن ہو جاتے ہیں،
اور پھر خواب بھی دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں ہم بہت آگے نکل گئے ہیں،
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی بنیادوں سے پیچھے ہٹ چکے ہوتے ہیں۔
اور جو قومیں بنیادوں سے پیچھے ہٹ جائیں،
وہ تاریخ میں آگے نہیں بڑھتیں،
صرف خبروں میں نظر آتی ہیں۔
اس لیے اصل انقلاب یہ نہیں کہ ہم سب کچھ بدل دیں،
بلکہ یہ ہے کہ ہم وہ نہ بدلیں جو ہمیں انسان بناتا ہے:
احترام، شکر، حیا، علم، محنت اور سچائی۔
کیونکہ جو درخت اپنی جڑوں کو سنبھال لیتا ہے،
قدرت اس کے پھل خود سنبھال لیتی ہے۔