🍂 جب خاموشی چیخ بن جائے 🍂


کبھی کبھی زندگی چیختی نہیں — بس خاموش ہو جاتی ہے۔
اور وہ خاموشی اتنی بھاری ہوتی ہے کہ روح کو اندر سے کچل دیتی ہے۔
ایک مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک درد بھری کہانی چھپی ہوتی ہے —
ایک ہوسٹل کی لڑکی کی کہانی، جس کی آنکھوں میں کبھی امید چمکتی تھی
مگر وہ روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہوتی گئی
اور ایک دن… مکمل طور پر بجھ گئی۔
وہ اس دنیا سے چلی گئی، ہمارے دلوں میں ایک سوال چھوڑ کر

کیا ہم نے کبھی اس کی خاموشی کو سنا؟

ہم اکثر سمجھ لیتے ہیں کہ جو لوگ خاموش ہیں، وہ ٹھیک ہیں
جو مسکراتے ہیں، وہ خوش ہیں۔
لیکن کیا یہ سچ ہے؟
کتنے ہی لوگ اپنے اندر طوفان لیے پھرتے ہیں
ایسے طوفان جنہیں وہ کسی سے کہہ نہیں سکتے۔

یاد رکھی
ہوسٹلز کی دیواروں کے پیچھے صرف کتابیں نہیں ہوتیں —
وہاں بے شمار جذبات، خوف اور تنہائیاں بھی بسی ہوتی ہیں۔
کوئی گھر کی یاد میں ٹوٹ رہا ہوتا ہے
کوئی خود سے جنگ لڑ رہا ہوتا ہے
اور کوئی بس ایک جملے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے —
“میں تمہیں سمجھتا ہوں۔”

ایسے دلوں کو نصیحت نہیں چاہیے
انہیں سمجھنے والا دل چاہیے۔
انہیں وعظ نہیں چاہیے
انہیں ہمدردی چاہیے۔
انہیں صرف ایک کندھا چاہیے —
جہاں وہ بغیر الفاظ کے رو سکیں۔

کچھ آنکھیں ہنستی ہیں، مگر درد ان میں بولتا ہے۔
کچھ ہونٹ مسکراتے ہیں، مگر دل رو رہا ہوتا ہے۔
کاش ہم وہ چیخیں سن پاتے جو ہونٹوں تک نہیں پہنچتیں
جو روح کے اندر دفن ہو جاتی ہیں۔

ہر اُس شخص کے لیے جس کے پاس کوئی قریبی ہے —
میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں
اگر کوئی اچانک خاموش ہو جائے، تو جاننے کی کوشش کریں کیوں۔
شاید آپ کا ایک “کیسے ہو؟”
کسی کے دل میں بجھتی امید کو پھر سے جلا دے۔
شاید آپ کی ایک مسکراہٹ
کسی کے فیصلے کو بدل دے۔
اور شاید…
آپ کی ایک چھوٹی سی پرواہ
کسی کی خاموش چیخ کو
پھر سے زندگی کا نغمہ بنا دے۔