یومِ جمہوریہ: یاد، محاسبہ، عہد
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدر الاسلام بیگوسرائے، بہار
26 جنوری، یومِ جمہوریہ، محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ہندوستان کی اجتماعی روح، اس کے ضمیر اور اس کے آئینی شعور کی علامت ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب اس سرزمین نے ایک ایسے دستور کو نافذ کیا جو انسان کی عزت، مساوات، انصاف اور آزادی کا ضامن ہے۔ آئینِ ہند نے ذات، نسل، رنگ، زبان، تہذیب اور مذہب کی تمام تفریق سے بلند ہو کر ہر ہندوستانی کو اپنے عقیدے، روایت اور ثقافت کے مطابق آزادی کے ساتھ جینے، سوچنے، بولنے اور عمل کرنے کا حق عطا کیا، بالخصوص اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کو اپنی بنیادی روح قرار دیا۔
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں 15 اگست 1947 اور 26 جنوری 1950 کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ 15 اگست وہ دن ہے جب "بھارت آزادی ایکٹ" کے تحت ہم نے انگریزوں کی غلامی سے نجات پائی، اور 26 جنوری وہ دن ہے جب 1935ء کے نوآبادیاتی دستور کو منسوخ کرکے ایک خودمختار، جمہوری اور آئینی ریاست کے طور پر ہندوستان نے اپنے سفر کا باضابطہ آغاز کیا۔ اگرچہ دستور ساز اسمبلی نے آئین کو 26 نومبر 1949ء کو منظور کر لیا، مگر اس کے نفاذ کے لیے 26 جنوری کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ 26 جنوری 1930ء کو انڈین نیشنل کانگریس نے پہلی بار مکمل آزادی کی قرارداد منظور کی تھی۔ یوں یہ دن غلام ہندوستان کی جدوجہد اور آزاد ہندوستان کے آئینی وقار، دونوں کا امین بن گیا۔
اس موقع پر ہم ان عظیم معمارانِ آئینِ ہند کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ایک کثیر مذہبی، کثیر تہذیبی اور کثیر لسانی سماج کے لیے ایسا دستور مرتب کیا، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی بنیاد بنا۔ اسی کے ساتھ ہم ان جانباز مجاہدینِ آزادی کو بھی عقیدت کے پھول پیش کرتے ہیں جن کے خون پسینے سے آزادی کی شمع روشن ہوئی۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی مالٹا کی اسیری، بھگت سنگھ کی انقلابی قربانی، سردار ولبھ بھائی پٹیل کی آہنی قیادت، مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری رہنمائی، اشفاق اللہ خان کی شہادت اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کی عدم تشدد پر مبنی جدوجہد—یہ سب ہماری قومی تاریخ کے درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ہم ان تمام معروف اور گم نام مجاہدینِ آزادی کو یکساں عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان، اپنا سکون اور اپنے خواب قربان کر دیے۔
یومِ جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں منعقد ہونے والی شاندار پریڈ، ترنگے کی شان دار لہر، اور دنیا کے معزز مہمانوں کی موجودگی ہماری طاقت، خودمختاری اور عالمی وقار کا مظہر ہوتی ہے۔ پورے ملک میں خوشی، فخر اور مسرت کا ماحول ہوتا ہے، اور کچھ لمحوں کے لیے ہم اپنی روزمرہ کی تلخیوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ مگر درحقیقت یہ دن صرف جشن کا نہیں، بلکہ یومِ یاد، یومِ محاسبہ اور یومِ عہد ہے۔
یہ دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ان مجاہدینِ آزادی کو یاد کریں جن کے نام تاریخ کے اوراق میں درج ہیں، اور انہیں بھی جنہیں دانستہ یا نادانستہ فراموش کر دیا گیا۔ آزادی کے پچاس سال مکمل ہونے پر قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کا “کاروانِ آزادی” اسی شعور کی ایک روشن مثال تھا، جس کے ذریعے گم نام مجاہدین کو تاریخ کے افق پر دوبارہ نمایاں کیا گیا۔ آج ضرورت ہے کہ اس کام کو مزید آگے بڑھایا جائے، مضامین، مقالات اور تحقیقی کام کے ذریعے ان شہیدوں کو تاریخ میں ان کا جائز مقام دلایا جائے، خصوصاً اس دور میں جب تاریخ کو مسخ کرنے اور بعض طبقوں، بالخصوص مسلم مجاہدینِ آزادی، کو نصاب اور قومی حافظے سے مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آیا ہماری جمہوری اقدار اور عملی رویّوں میں واقعی ہم آہنگی باقی ہے یا نہیں؟ کیا پارلیمان اور اسمبلیاں واقعی عوام کی آواز ہیں یا محض سیاسی کشمکش کے میدان؟ کیا جمہوریت اور سیکولرزم ہمارے طرزِ فکر اور طرزِ عمل میں زندہ ہیں یا صرف نعروں تک محدود ہو چکے ہیں؟ آزادی کے بعد ہم نے تعلیمی، اقتصادی اور سماجی میدان میں کہاں کامیابی حاصل کی، اور کہاں ہم پیچھے رہ گئے—یہ سب سوالات ہمارے سنجیدہ محاسبے کے طالب ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ دن ہم سے ایک واضح عہد چاہتا ہےکہ ہم آئینِ ہند کے تحفظ و بقا کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں گے؛ جمہوری روایت، آئینی قدروں اور قومی یکجہتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے؛ تعلیم کو ترقی کی کنجی بنا کر ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں گے؛ اور یہ کہ ہر سطح—ریاست، ضلع، تعلیمی اداروں، اسکولوں اور مدارس—میں یومِ جمہوریہ کو محض رسم نہیں بلکہ شعوری تربیت اور اجتماعی عہد کا دن بنائیں گے۔
اسی امید، شعور اور محبتِ وطن کے جذبے کے ساتھ ہم پورے ملک کے باشندگان کو یومِ جمہوریہ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، اور یہ عہد دہراتے ہیں کہ ایک مضبوط، منصف، پرامن اور خوشحال ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے۔ 26/02026