تربیت کا الزام:ایک صنفی ہتھیار
30 جنوری، 2026
تربیت کا الزام: ایک صنفی ہتھیار
ہمارے معاشرے میں تربیت کوئی اخلاقی قدر نہیں، بلکہ ایک ہتھیار ہے اور افسوس کہ یہ ہتھیار ہمیشہ عورت، خاص طور پر بہو، کے خلاف ہی استعمال ہوتا ہے۔
ساس، بہو اور نند کے رشتے اگر کہیں محبت کی مثال بنتے ہیں تو یہ خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے، ورنہ عمومی منظرنامہ وہی ہے جس میں بہو کی خاموشی کو شرافت، اس کے صبر کو تربیت، اور اس کے سوال کو بدتمیزی قرار دے دیا جاتا ہے۔ بہو تب تک قابلِ قبول رہتی ہے جب تک وہ سننے والی مشین بنی رہے جو حکم مانے، طعنہ برداشت کرے، اور اپنے جذبات کو دفن رکھے۔
ذرا سی لغزش ہو جائے، انجانے میں کوئی کوتاہی سرزد ہوجائے، یا وہ بار بار کی روک ٹوک پر “کیوں” کہہ دے تو فوراً فیصلہ صادر ہو جاتا ہے :
“اس کے ماں باپ نے یہی سکھایا ہے۔”
یہ جملہ محض الفاظ نہیں، ایک پورا نظریہ ہے ایسا نظریہ جو عورت کو اس کے والدین سمیت کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے، مگر مرد کو ہمیشہ بچا کر نکال لیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ
اگر بیٹا شادی کے بعد بیوی کا خرچ نہ دے،
اگر وہ ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے،
اگر وہ لاپرواہی، غصہ یا بے حسی دکھائے
تو کیا کبھی اس کے والدین کہتے ہیں:
“ہم نے تربیت میں کمی کی ہے”؟
نہیں۔
وہاں تربیت اچانک “ذاتی معاملہ” بن جاتی ہے،
اور بہو کے معاملے میں “خاندانی مسئلہ”۔
یہی وہ دوہرا معیار ہے جو رشتوں کو کھوکھلا کرتا ہے میکے جانا بھی بہو کے لیے ایک آزمائش بن جاتا ہے ، جیسے وہ سسرال نہیں، کسی سرکاری دفتر میں درخواست دینے آئی ہو۔ پہلے شوہر کو راضی کرو، پھر ساس کی مہرِ منظوری لو، اور اس پورے عمل میں اگر بہو ذہنی طور پر ٹوٹ جائے، تو بھی اس کی تکلیف غیر اہم سمجھی جاتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ یہ سب صرف نام نہاد روایتی گھروں میں نہیں ہوتا۔ خود کو “دینی گھرانہ” کہنے والے بھی اکثر اسی ظلم کو مذہب کا لبادہ اوڑھا دیتے ہیں، حالانکہ دین نے تو عورت کو عزت، اختیار اور عدل دیا تھا مگر ہم نے اسے صرف صبر کا سبق تھما دیا۔
یہ کہنا آسان ہے کہ “ہر گھر ایسا نہیں”،
مگر سچ یہ ہے کہ اکثر گھروں میں یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔
جب تک تربیت کا الزام صرف بہو کے لیے مخصوص رہے گا،
جب تک بیٹوں کی کوتاہی کو نظرانداز اور بہو کی خاموشی کو فرض سمجھا جائے گا،
تب تک یہ معاشرہ رشتے نہیں نبھائے گا صرف طاقت آزمائے گا۔
اور طاقت کے بل پر چلنے والے رشتے،
آخرکار رشتے نہیں رہتے…
زخم بن جاتے ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں:
کیا تربیت واقعی صرف بہو کی ذمہ داری ہے؟
یا پھر بیٹوں کی پرورش پر بھی اتنی ہی ایماندار نظرِثانی کی ضرورت ہے؟
---