🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

لوگ کہتے ہیں غصے میں کہے ہوئے جملوں کو یاد مت کیا کرو
مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ دل کو نہ یاد رکھنے سے روکا کیسے جائے۔
دل تو وہ کاغذ ہے جس پر ہر لفظ بے اجازت لکھا جاتا ہے،

غصہ چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے مگر اس میں کہے گئے لفظ برسوں
دل کے گوشوں میں ٹھہر جاتے ہیں۔
وہ لفظ جو شاید کہنے والے کے لیےصرف وقتی بھڑاس ہوتے ہیں
سننے والے کے لیے پوری ایک کہانی بن جاتے ہیں۔

لہجہ معمول پر آ جاتا ہے
چہرے پر مسکراہٹ بھی لوٹ آتی ہے
رشتے کی ظاہری گرہیں بھی کھل جاتی ہیں

مگر وہ جملہ وہ ایک جملہ
خاموشی سے دل پر نقش ہو جاتا ہے۔
نہ وہ شور مچاتا ہے
نہ شکایت کرتا ہے
بس موقع ملتے ہی خاموشی کو بوجھ بنا دیتا ہے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ “بھول جاؤ”
مگر ہر دل اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ تلخ لفظوں کو
یوں ہی ہوا میں تحلیل کر دے۔
کچھ دل آئینے کی طرح ہوتے ہیں ایک دراڑ پڑ جائے تو عکس بکھر تو جاتا ہے
مگر نشان باقی رہتا ہے۔
کچھ باتیں آواز بن کر نہیں یاد بن کر اذیت دیتی ہیں۔
وہ یادیں جو رات کی تنہائی میں بغیر اجازت لوٹ آتی ہیں
اور دل سے سوال کرتی ہیں
کہ کیا واقعی میں اتنی ہی بے وقعت تھی؟

اصل ضرورت یہ نہیں کہ غصے کی باتیں یاد نہ کی جائیں
بلکہ یہ ہے کہ غصے میں بات ہی نہ کی جائے۔

کیونکہ زبان سے نکلے ہوئے لفظ تیر کی طرح ہوتے ہیں،
واپس لوٹا تو لیے جائیں مگر زخم اپنا وجود مانگ لیتا ہے۔
معافی ایک خوبصورت عمل ہے
یہ دل کو ہلکا ضرور کر دیتی ہے

مگر ہر بار
یادوں کا وزن مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتی۔
اسی لیے خاموشی اکثر غصے سے زیادہ مہربان ثابت ہوتی ہے،
اور برداشت بہت سے ٹوٹتے دلوں کو جڑنے کا موقع دے دیتی ہے۔