آج کے معاشرے میں بے نمازی کا ایک بڑھتا ہوا اور عام رجحان بنتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ غفلت ،دنیاوی مصروفیات،اور دینی شعور کی کمی ہے۔ نماز کو عملی زندگی سے الگ کر دیا گیا ہے اور اسے اہم ترجیح نہیں سمجھا جاتا۔رسول اللہ ﷺ نے اس خطرے کی طرف واضح اشارہ فرمایا ہے:
"بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کا چھوڑنا ہے۔" (صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نماز ترک کرنا محض سستی نہیں بلکہ ایمان کے لیے شدید خطرہ ہے، اور اسی غفلت کے باعث آج بے نمازی کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مسئلہ : لوگ نماز اور جماعت سے کیوں دور ہو رہے ہیں؟ 

 دل کی غفلت:
جب دل اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے تو سب سے پہلے نماز چھوٹتی ہے۔
( امام غزالی – احیاء علوم الدین)
"غفلتِ قلب تمام عبادات کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔"

 دینی علم و تربیت کی کمی:
اکثر گھروں میں بچوں کو دنیاوی تعلیم تو دی جاتی ہے ،مگر نماز کی عادت بچپن سے نہیں ڈالی جاتی۔ والدین خود نمازی نہ ہوں تو اولاد سے نماز کی توقع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

 دنیا کی محبت اور مصروفیات:
مال، موبائل، کاروبار اور خواہشات نے نماز کو ثانوی بنا دیا۔
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ : ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔
 یعنی دنیا سمیٹنے کی دھن میں لگ کر تم آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔
 (سورۃ اتکاثر:1)

 شیطانی وسوسے اور سستی: 
شیطان نماز کو ٹالتا ہے یہاں تک کہ چھوڑوا دیتا ہے۔
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ : یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے،
(سورۃ فاطر:6)
 
 ماحول اور صحبت کا اثر:
اگر دوست، ساتھی اور آس پاس کے لوگ نماز کے پابند نہیں ہوں تو انسان آہستہ آہستہ نماز کو ترک کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتا۔ برائی جب عام ہو جائے تو گناہ گناہ نہیں لگتا۔

اثرات:نماز چھوڑنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات
  1️⃣دینی نقصانات 
 ایمان کا کمزور ہونا:
   نماز دین کا ستون ہے،سو جس نے نماز کو اچھی طرح پڑھا، اس نے دین کو ٹھیک رکھا اور جس نے اس ستون کو گرا دیا (یعنی نماز کو نہ پڑھا) اس نے دین کو برباد کر دیا ۔ 

 گناہوں میں اضافہ:
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ:
بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
(سورۃ العنکبوت:45)
 اور اسے چھوڑنے سے گناہ بڑھ جاتے ہیں۔ جیسے : جھوٹ ، دھوکہ، بددیانتی ، بے حیائی وغیرہ عام ہونے لگتی ہے اور کردار کمزور ہو جاتا ہے۔  
 أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي: اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔
 ( سورۃ طه:14)
نماز اللہ کی یاد کے لیے فرض ہے؛ اس کو چھوڑنا بندے کو اللہ سے دور کرتا ہے۔

 قیامت میں بے نمازیوں کا حشر اور عذاب کا خطرہ: 
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت میں سب سے پہلے نماز ہی کی پوچھ ہوگی اور نمازیوں کے ہاتھ، پاؤں اور منھ قیامت میں آفتاب کی طرح چمکتے ہونگے اور بے نمازی اس دولت سے محروم رہیں گے۔
بے نمازیوں کا حشر فرعون ،ہامان،قارون اور بڑے بڑے کافروں کے ساتھ ہوگا۔ (بہشتی زیور)
  قرآن میں نماز چھوڑنے والوں کے لیے سخت وعید موجود ہے:
    فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ: پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔
(الماعون: 4-5)
 جو لوگ اپنی نماز سے غافل ہیں، ان پر عذاب ہے۔
جہنم کا عذاب: 
• جہنم کے لوگوں سے پوچھا جائیگا....
 *ما سلککم فی سقر* 
تمہیں دوزخ میں كس چیز نے ڈالا ؟
 *قالو لم نک من المصلین*
وہ جواب دینگے کہ ہم نمازی نہ تھے۔
( سورۃ المدثر42-43)

2️⃣دنیاوی نقصانات
 دل کی بے چینی اور سکون کی کمی:
   نماز روح کو سکون دیتی ہے، اور اسے چھوڑنے سے دل میں اضطراب بڑھتا ہے۔

 اخلاقی کمزوری اور برائیوں کی طرف رجحان: 
   نماز انسان کو صبر، نظم اور اچھے اخلاق سکھاتی ہے۔ اسے چھوڑنے سے جھوٹ، غیبت اور خود غرضی بڑھ جاتی ہے۔
 اذان کا پیغام: 
حي علی الصلوٰۃ: آؤ نماز کی طرف(2بار) 
حي علی الفلاح: آؤ کامیابی کی طرف (2بار)
یہ نہیں کہا کہ "جہاں ہو وہاں نماز پڑھ لو" ، بلکہ "نماز کی طرف آؤ" کہا گیا، یعنی اپنے تمام کاموں کو چھوڑ دو اور مسجد میں آجاؤ ۔
• نماز کو آؤ گے تو ہر قسم کی فلاح ملے گی اور فلاح کا راستہ بھی۔ 
 امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
 "نماز انسان کو اللہ کے قریب اور گناہوں سے دور رکھتی ہے۔ اسے چھوڑنا دل کو کینہ، حسد اور دنیاوی خواہشات میں مبتلا کر دیتا ہے۔" (احیاء علوم الدین، کتاب الصلاۃ)

 حل (اہم ترین): ہم نوجوانوں کو مسجد کی طرف واپس کیسے لا سکتے ہیں
مسجد اسلامی معاشرے کا روحانی، اخلاقی اور تربیتی مرکز ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تعلیم، اصلاح اور اجتماعی زندگی کا محور رہی ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے کہ نوجوان طبقہ مسجد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم سنجیدگی سے غور کریں کہ نوجوانوں کو مسجد کی طرف کیسے واپس لایا جائے۔
سب سے پہلے مسجد کے ماحول کو نوجوانوں کے لیے پُرکشش اور دوستانہ بنانا ضروری ہے۔ اگر نوجوان مسجد میں آ کر خود کو اجنبی یا ناپسندیدہ محسوس کریں گے تو وہ دوبارہ آنے سے گریز کریں گے۔ اس لیے مسجد کے منتظمین اور نمازیوں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ نرمی، محبت اور خوش اخلاقی کا رویہ اختیار کریں اور ان کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو برداشت کے ساتھ درست کریں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ مساجد میں ہونے والے خطبات اور دروس نوجوانوں کی ذہنی سطح اور موجودہ مسائل کے مطابق ہوں۔ آج کا نوجوان تعلیم، روزگار، سوشل میڈیا، اخلاقی الجھنوں اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اگر دینی رہنمائی ان موضوعات سے جڑی ہو تو نوجوان خود بخود مسجد کی طرف متوجہ ہوں گے۔
نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنے کے لیے انہیں مسجد کی سرگرمیوں میں شامل کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ جب نوجوانوں کو صفائی، انتظام، تعلیم یا فلاحی کاموں کی ذمہ داریاں دی جائیں گی تو ان میں احساسِ ملکیت پیدا ہوگا اور وہ مسجد کو اپنا گھر سمجھنے لگیں گے۔ 
 نماز کو مسجد میں آکر پڑھنے کے چند فائدے بتائیں جیسے:
• دل اور دماغ کو فائدے: نماز کامل ذکر ہے اللہ کے ذکر سے سکون ملے گا۔ نماز میں قرآن پر غور کروگے تو ہدایت میں ، ایمان میں، عقل و حکمت نے اضافہ ہوگا۔ آخرت پر غور کرنے سے دل اور دماغ کو دنیاوی فکروں سے آزادی ملے گی۔
• جسمانی فائدے: وضو کے ذریعے صفائی، جسم کے لیے ورزش نماز کے لیے آنا ،جانا، اٹھنا، جھکنا، سجدہ کرنا، بیٹھنا وغیرہ۔
• وقت کی پابندی کی عادت بنے گی: مثلاً صحیح وقت پر سونا اور اٹھنا، نمازوں کے حساب سے اپنے کاموں کا پلان بنانا وغیرہ۔
• اجتماعی فائدے: روزانہ دوستوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی ان کی خوشی و غمی کی خبریں ملتی رہیں گی اور وقت ضرورت ہم ان کی مدد کر سکیں گے تعلقات مضبوط ہوں گے معاشرہ بہتر بنے گا وغیرہ۔
• سب سے اہم فائدہ: آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فلاح نصیب ہوگی۔ 
یہ کامیابی کی یاد دہانی اس لیے بھی کی انسان نماز کو نہیں آتا یہ سوچ کر کہ میری فلاح کا کام رک جائے گا اس نادان شخص کی طرح جو کسی چیز کی تلاش میں الٹی سمت بھاگے۔ 
اذان کی پکار پر لبیک کہنے سے تم ہی دنیا اور آخرت کی فلاح پا جاؤ گے۔
اس کے علاوہ آج کے جدید دور میں سوشل میڈیا کو بھی ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مسجد سے متعلق پیغامات، اصلاحی ویڈیوز اور اعلانات نوجوانوں تک آسانی سے پہنچائے جا سکتے ہیں، خصوصاً اگر یہ کام خود نوجوانوں کے سپرد کیا جائے۔
نہایت اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کی اصلاح کے لیے صبر، دعا اور اچھے کردار کو اپنایا جائے۔ زبردستی یا سختی وقتی اثر تو ڈال سکتی ہے مگر دیرپا نتیجہ نہیں دیتی۔ محبت، حکمت اور عملی نمونہ ہی نوجوانوں کے دل جیت سکتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔" 
(صحیح بخاری)
اسی طرح قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ:
اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ،
 (سورۃ النحل: 125)
یہی حکمت اور حسنِ اخلاق نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔