مشہور محدث عبداللہ بن مبارک (وفات:181 هہ) کا ایک واقعہ ہے- خلیفہ ہارون رشید اپنے محل میں تها- اس وقت محل کی ایک کنیز بازار کی طرف دیکهہ رہی تهی- اس نے دیکها کہ عبداللہ بن مبارک کے استقبال کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد امڈ کر بازار کی طرف جا رہی ہے- خلیفہ نے کنیز سے پوچها کہ کیا ماجرا ہے- کنیز کہا امیرالمومنین، آج عبداللہ بن مبارک بغداد آ رہے ہیں- اصل بادشاہی آپ کی نہیں، اصل بادشاہی عبداللہ بن مبارک کی ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کر رہے ہیں- آپ کی بادشاہی تو صرف فوج کے زور پر قائم ہے- (مجلہ الشارق، اعظم گڑهہ، مارچ - اپریل 2014)-

تاریخ کے اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے، یہ کہ سیاسی بادشاہت سے زیاده بڑی چیز علم کی بادشاہت ہے- سیاسی بادشاہت کے لیے زوال ہے، لیکن علم کی بادشاہت کے لیے کوئی زوال نہیں- سیاسی بادشاہت ایک محدود بادشاہت ہے، لیکن علم کی بادشاہت ایک ایسی بادشاہت ہے جو کسی جغرافی حد کی پاپند نہیں- موجوده زمانے میں اس معاملے کی اہمیت بہت زیاده بڑھ گئی ہے- موجوده زمانہ ٹکنالوجی کا زمانہ ہے- آج اگر آدمی ایک کتاب کو لکهہ کر اس کو چهاپے اور اس کے مطبوعہ نسخے تیار کرے تو یہ مطبوعہ کتاب وہاں بهی هو گی جہاں آدمی جسمانی طور پر موجود نہ هو گا- موجوده زمانہ ٹکنالوجی کا زمانہ ہے- آج یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک جگہ بولے اور اس کی آواز زمین کے ہر حصے میں سنائی دے، حتی کہ عین اسی وقت اس کی متحرک تصویر بهی لوگوں کے سامنے آجائے- کسی بادشاہت کا ایک زمینی رقبہ هوتا ہے، لیکن اہل علم کے اثر کی وسعت کسی زمینی رقبے کی پاپند نہیں، وه ہر جگہ اور ہر مقام پر یکساں طور پر پہنچ سکتی ہے- علم کی اہمیت بلاشبہہ تمام چیزوں سے زیاده ہے، عالم کی اپنی ذات کے اعتبار سے بهی دوسروں کے اعتبار سے بهی- انسان کو چاہئے کہ وه سیاست میں اعلی مقام حاصل کرنے کے بجائے علم کے میدان میں اعلی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرے- سیاست کے میدان میں ہمیشہ مزاحمت کا اندیشہ هوتا ہے، لیکن علم کے میدان میں کسی مزاحمت کا کوئی اندیشہ نہیں- علم کا میدان ایک ایسا میدان ہے جو ہمیشہ خالی رہتا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالیہ نمرہ قریشی ✍️