🔴غداری "قسامی، کمانڈر دجال کے حوالے"🔴
غز،ہ کے جنوبی شہر رفح میں غداری کا ایک بدترین اور تشویش ناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں غسان الدہینی نامی اسرائیلی ایجنٹ اور بدنام زمانہ غدار نے مزاحمتی بریگیڈ کے ایک اہم کمانڈر کو اسرائیلی فوج کے حوالے کیا ہے۔ جس کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہیں۔ کئی دن تک بھوک کی وجہ سے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا ہے۔ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق غسان الدہینی، جو مشرقی رفح میں ایک مسلح گروہ کی قیادت کرتا ہے، اس نے اسرائیلی فوج سے روابط استوار کر کے مقاومتی عناصر کی نشاندہی، گرفتاری اور حوالگی میں بدترین کردار ادا کیا۔
مذکورہ شخص نے مزاحمت کے ایک کمانڈر، جنہیں بریگیڈ سطح کا اہم قائد قرار دیا جا رہا ہے، کو گرفتار کر کے اسرائیلی فوج کے حوالے کیا۔ تاہم مزاحمتی ذرائع نے باضابطہ طور پر اس کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔
وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں غسان الدہینی کو ایک مسلح گروہ کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ مزاحمت مخالف بیانات دیتا نظر آتا ہے اور بعض افراد کو دجال کے حوالے کرنے کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ غزہ میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ یہ گروہ دجالی فوج کے زیرِ سایہ یا اس کی معاونت سے سرگرم ہے۔
چند دن قبل ایک ویڈیو میں ادھم العکّر نامی شخص کی حراست بھی سامنے آئی تھی، جسے بعد ازاں اسرائیلی فوج کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وہ مشرقی رفح میں ق،،ام سے وابستہ ایک فیلڈ کمانڈر تھے۔ اسی واقعے کے بعد غسان الدہینی کے کردار پر سوالات نے شدت اختیار کی۔
غزہ کے قبائلی و سماجی حلقوں کی جانب سے جاری بیانات میں اس عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے فلسطینی معاشرتی اقدار اور قومی مزاحمت کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ بعض قبائلی اتحادوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعاون ناقابلِ قبول ہے۔
ادھر بعض سیاسی حلقوں، خصوصاً فتح سے منسوب اکاؤنٹس نے بھی وضاحت جاری کی ہے کہ غسان الدہینی کا فتح یا کسی قومی دھارے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کسی صورت فلسطینی نمائندگی کا حق دار نہیں۔ بہرحال غسان الدہینی کا کردار انتہائی متنازع ہے اور اسے فلسطینی سوشل میڈیا پر اسرائیلی ایجنٹ، مقامی ملیشیا لیڈر اور غدار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ 
ادھم العکر
جب دنیا اپنی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی، وہ زمین کے اندھیرے سینوں، سرنگوں کی گہرائیوں میں صبر کی ایک لازوال داستان رقم کر رہا تھا۔ محاصرے اور بھوک کے طویل مہینے اس کے عزم کو توڑ نہ سکے، بلکہ انہوں نے اس کی روح کو اس چٹان سے بھی زیادہ سخت بنا دیا جس نے اسے اپنی آغوش میں لے رکھا تھا۔ جب زادِ راہ نایاب ہوا اور سانسوں کا دائرہ تنگ پڑ گیا تو وہ روشنی کی طرف نکلا، نہ سلامتی کی تلاش میں، بلکہ تقدیر کی تکمیل کے لیے۔ مگر وہاں اس کے انتظار میں وہ غدار ہاتھ تھے جو کبھی آمنے سامنے کی زبان نہیں جانتے، صرف جبر اور تذلیل کی لغت میں بات کرتے ہیں۔
انہوں نے اسے اس کے کپڑوں سے محروم کیا تاکہ اسے شکستہ اور بے بس کی تصویر بنا سکیں، مگر اس سے ان کی پستی کے سوا کچھ ظاہر نہ ہوا اور اس کے وقار میں مزید بلندی آ گئی۔ کیونکہ عقیدے کی حضوری میں برہنگی بھی کامل ہیبت بن جاتی ہے اور ظاہری کمزوری دراصل اس الٰہی قوت کا پردہ ہوتی ہے جو اس کے دل کے گوشے گوشے کو بھر دیتی ہے۔
یہ شخص، زنجیروں اور سخت ترین حالات کے باوجود، انسان کی سربلندی کی ایک دائمی علامت بن کر رہے گا، ایسی علامت جو ظالم ترین جبر کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتی۔ کہ قوت تو صرف اللہ ہی کی ہے، وہی غالب اور عزت والا ہے اور اس کے سوا ہر شے محض خش وخاشاک، محض سراب ہے۔
(ضیاء چترالی)