اطمینان کی تین صورتیں ذکر کریں گے ۔
1
ایک صورت تو یہ ہے کہ کفار مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور مسلمانوں کی رعایا بن کر اور جزیہ دے کر اسلامی حکومت کے زیر سایہ رہنا منظور کریں۔یا بجائے جزیہ ادا کرنے کہ مسلمانوں کے رقیق یعنی غلام بن کر رہیں ۔
2
دوسری اطمینان کی صورت یہ ہے کہ کافر مسلمانوں سے پر امن معاہدہ کریں
3
"تیسری صورت اطمینان کی یہ ہے "استیمان ہے
یعنی کفار مسلمانوں سے امن اور پناہ طلب کرکے ان کی پناہ میں آجائیں ۔ان صورتوں میں ایسے کافروں سے جہاد وقتال کا حکم آٹھ جاتا ہے ،شریعت اسلامی میں جہاد کا حکم کفار محاربین کے ساتھ مخصوص ہے ۔
کافر ذمی اور مستأمن کے احکام دوسرے ہیں۔
(سیرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم/حصہ دوم/ سلسلہ غزوات و سرایا )
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ دفاعی جہاد ہمیشہ فرض عین ہو تا ہے ۔
فرض کفایہ نہیں ہوتا ۔
(تکملہ فتح الملک/ ج9/ص10/ کتاب الجہاد والسیر/ ط،داراحیاءالتراث العربی،بیروت)
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫٫٫