محبت: جذبہ یا ذمہ داری؟
محبت انسانی فطرت کا ایک مضبوط جذبہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محبت صرف ایک وقتی احساس کا نام ہے یا اس کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے؟ موجودہ دور میں محبت کو اکثر ایک دن، ایک تحفے یا ایک تعلق تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہے۔اہلِ علم کے نزدیک محبت محض دل کی کیفیت نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر محبت صرف خواہش کا نام ہو تو وہ خود غرضی میں بدل جاتی ہے، اور اگر اس میں قربانی، وفاداری اور حدود کی پاسداری شامل ہو تو وہ کردار کو سنوارتی ہے۔ اسی لیے شریعت اور عقل دونوں ایسی محبت کی رہنمائی کرتی ہیں جو انسان کو بہتر بنائے، نہ کہ اسے اپنی خواہشات کا غلام بنا دے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت کا اصل امتحان دعووں میں نہیں بلکہ رویّوں میں ہوتا ہے۔ جو محبت انسان کو والدین کے حقوق بھلانے، ذمہ داریوں سے فرار یا اخلاقی حدود توڑنے پر آمادہ کر دے، وہ محبت نہیں بلکہ نفس کا دھوکا ہے۔ اس کے برعکس جو محبت صبر سکھائے، خود احتسابی پیدا کرے اور دوسرے کے حق کو مقدم رکھے، وہی محبت قابلِ احترام ہے۔
لہٰذا یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ محبت کا تعلق صرف جذبات سے نہیں، بلکہ شعور سے بھی ہے۔ جب جذبہ ذمہ داری کے تابع ہو جائے تو محبت فساد نہیں، اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر محبت کو پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ محض رسموں اور نعروں کی بنیاد پر۔
🌸 از قلم عالمہ فضہ صباحت 🌷