سحری وہ مبارک ساعت ہے جب شب کی تاریکی اپنے دامن کو سمیٹنے لگتی ہے اور افقِ مشرق پر نورِ سحر کی پہلی کرنیں نمودار ہوتی ہیں۔ یہ لمحہ محض کھانے پینے کا نہیں بلکہ روح کی بیداری، دل کی صفائی اور بندگی کی تجدید کا وقت ہے۔ فضا میں ایک عجب سکون و وقار ہوتا ہے، گویا کائنات سراپا ذکر بن کر اپنے ربِّ کریم کے حضور سر بسجود ہو۔
اس ساعتِ پُرنور میں مؤمن اپنے بسترِ غفلت سے اُٹھ کر وضو کی ٹھنڈی پھوار سے جسم و جاں کو تازگی بخشتا ہے۔ دسترخوانِ سحری پر سادگی کی بہار ہوتی ہے مگر اس میں برکتوں کا بے پایاں خزانہ پوشیدہ رہتا ہے۔ چند لقمے اور چند گھونٹ آبِ حیات، مگر نیتوں کی صداقت اسے عبادت کا درجہ عطا کر دیتی ہے۔ یہی وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کے در وا ہوتے ہیں اور آسمانِ رحمت سے انوار و برکات کا نزول ہوتا ہے۔
سحر کی خاموشی میں جب تسبیح کے دانے گردش کرتے ہیں اور لبوں پر حمد و استغفار کی سرگوشی ہوتی ہے تو دل کا آئینہ صیقل ہونے لگتا ہے۔ یہ لمحہ بندۂ مومن کے لیے سرمایۂ ابدی ہے؛ یہاں اشکِ ندامت بھی گوہرِ نایاب بن جاتا ہے اور آہِ سوزاں بھی نسیمِ رحمت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ سحری دراصل خود احتسابی کا وقت ہے، جب انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کر کے عزمِ نو کے ساتھ روزۂ فردا کی تیاری کرتا ہے۔
یہ ساعت ہمیں صبر و استقامت کا درس دیتی ہے۔ سحری کی مختصر سی محنت پورے دن کی مشقت کو آسان بنا دیتی ہے، جیسے ابتدایِ سحر کی روشنی پورے دن کے اجالے کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ پس جو شخص اس وقت کو غنیمت جانتا ہے، وہ فیضِ ربانی سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس کے دل میں یقین و اطمینان کی شمع فروزاں رہتی ہے۔
الغرض، سحری ایک نعمتِ عظمیٰ اور تحفۂ ربانی ہے؛ یہ وہ ساعت ہے جس میں خاکی انسان افلاک کی وسعتوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔ کاش ہم اس نورانی لمحے کی قدر پہچان لیں اور اسے محض رسم نہیں بلکہ رازِ بندگی سمجھ کر اپنالیں، تاکہ ہماری زندگی بھی سحر کی طرح روشن، منور اور معطر ہو جائے۔
بقلم ۔ محمد مصعب پالنپوری